رکن کی درجہ بندی: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active
 
پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں ۷؍ ستمبر ایک عہد ساز دن ہے۔ ہم اسے یوم تحفظ ختم نبوت اور یومِ تجدید عہد قرار دیتے ہیں۔ اس روز عقیدہ ختم نبوت اور ناموس رسالت کے تحفظ کی سو سالہ طویل ترین جد وجہد ، فتح مبین سے ہمکنار ہوئی۔ ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس میں متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔
عقیدۂ ختم نبوت، مسلمانوں کے ایمان کی اساس اور روح ہے۔ اگر اس پر حرف آجائے تو اسلام کی ساری عمارت دھڑام سے نیچے آگرے گی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سرِ اقدس پر تاجِ ختمِ نبوّت سجایا اور تختِ ختم نبوّت پر بٹھا کر دنیا میں مبعوث فرمایا۔ حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے بنی نوعِ انسان کو عقیدۂ توحید کی عظیم نعمت عطا فرمائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منصبِ ختم نبوّت پر ایمان، نجات و مغفرت اور حصولِ جنت کا ذریعہ ہے۔
حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کے آخری زمانے میں بعض جھوٹے مدعیان نبوت نے سراٹھایا اور کفر وارتداد پھیلانے کی مذموم کوشش کی مگر نبی ختمی مرتبت سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت یافتہ جماعت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آپ ہی کے حکم پر ان فتنوں کے خلاف جہاد کر کے انہیں کچل کر رکھ دیا۔ اسود عنسی، طلیحہ اور مسیلمہ کذاب کو اُن کے انجام تک پہنچایا۔ امیر المؤمنین خلیفۂ بلافصلِ رسول سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مسیلمہ کذاب کے ارتداد کے خلاف جہاد کر کے قیامت تک تحریکِ تحفظ ختم نبوّت کا علم بلند کر دیا۔
    ماضی کے مختلف ادوار میں کئی بد بخت افراد نے دعویٰ نبوت کرکے مسلمانوں میں افتراق پیدا کرنے اور انہیں گمراہ کرنے کی سعی مذموم کی۔ مگر ہر دور میں اہل ایمان اور حق کے طرف داروں نے ان کے خلاف بھرپور مزاحمت کی، منصب ختم نبوت کی حفاظت کی اور مسلمانوں کو گمراہی اور ارتداد سے بچایا۔
 برصغیر میں فرنگی اقتدار کے خلاف ہندوستان کی تمام اقوام متحد ہوئیں اور سامراج کی غاصب وظالم حکومت کے خلاف ہر محاذ پر زبردست جدوجہد کی۔ خاص طور پر مسلمانوں نے انگریز کے خلاف بغاوت کو جہاد قرار دیا اور اسے توشۂ آخرت سمجھ کر اس محاذ پر سرگرم رہے۔ قربانی و ایثار سے معمور مسلمانوں کی جدوجہد تاریخِ آزادی میں منفرد و بے مثال ہے۔انگریز… دانا اور عیار دشمن تھا۔ یہ بات ہمیشہ اس کے پیش نظر رہی کہ ہم نے اقتدار مسلمانوں سے چھینا اور مسلمان ہی ہمارے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ علمائِ حق نے نہ صرف انگریز کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا بلکہ اس فریضہ کی ادائیگی کے لیے مسلمانوں کی قیادت بھی کی۔
انگریز نے اسی جذبۂ جہاد کو مسلمانوں کے دل ودماغ سے نکالنے کے لیے جعلی اور جھوٹا نبی پیدا کیا۔ ’’قادیان‘‘ کے ایک لالچی اور بدکردار شخص ’’مرزا غلام احمد‘‘ کو دعویٰ نبوت کے لیے آمادہ وتیار کیا اور آخر کار اس بدبخت نے نبوت کا دعویٰ کردیا۔ مرزا قادیانی نے پہلا کام یہ کیا کہ انگریز کے خلاف جہاد کو حرام قرار دیا اور انگریز کی اطاعت وفرمانبرداری کو ہی اصل ایمان قراردیا۔
 یہ لمحہ مسلمانوں کے لیے بہت بڑی آزمائش تھا۔ تب علمائِ حق نے مسلمانوں کا حوصلہ بڑھایا اور اس فتنہ کی سرکوبی کے لیے میدانِ عمل میں آئے۔ فتنۂ قادیانیت کو انگریز کی مکمل سرپرستی حاصل تھی اور آج بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس فتنے کو کچلنے کے لیے مسلمانوں کے نوے سال صرف ہوئے۔
۱۹۲۹ء سے پہلے فتنۂ قادیانیت کے خلاف جتنی جدوجہد ہوئی وہ انفرادی نوعیت کی تھی۔ حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑویؒ، حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ، حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ اور سب سے پہلے علماء لدھیانہ نے علمی محاذ پر اپنی زبان و قلم سے فتنۂ قادیانیت کے تار و پود بکھیر رکھ دیے۔ انہی علمائِ حق کی انفرادی محنت آگے چل کر اجتماعی جدوجہد میں تبدیل ہوئی۔ ۱۹۲۹ء میں حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے مجلس احرارِ اسلام کی بنیاد رکھی اور اس کے اغراض و مقاصد میں فتنۂ قادیانیت کا تعاقب و احتساب کلیدی حیثیت کا حامل تھا۔ چنانچہ مجلس احرارِ اسلام نے قادیانیت کا عوامی اور سیاسی احتساب شروع کیا۔ ۱۹۳۰ء کی ’’کشمیر کمیٹی‘‘ قادیانیوں کی کمین گاہ تھی۔ مجلس احرار نے اس کشمیر کمیٹی کا بائیکاٹ کیا۔ علامہ محمد اقبال، جو قادیانی لابی کے دھوکے سے اس کمیٹی کے سیکرٹری بن گئے تھے۔ اکابرِ احرار خصوصاً امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے ملاقاتیں کر کے قادیانی عقائد و نظریات اور اُمّتِ مسلمہ کے خلاف ان کی سازشتوں سے باخبر کیا۔ علامہ مرحوم نے نہ صرف اس کمیٹی سے استعفیٰ دیا بلکہ قادیانی عقائد کی تردید میں انگریزی میں چار مقالے تحریر کیے۔ اقبال مرحوم نے قادیانیوں کو ’’اسلام اور وطن کا غدار‘‘ قرار دیا۔ ۱۹۳۴ء میں مجلس احرار نے اس جدو جہد کو وسیع تر کرتے ہوئے شعبۂ تبلیغ تحفظ ختمِ نبوت قائم کیا۔ اسی شعبہ کے تحت ’’قادیان‘‘ میں اپنا دفتر قائم کیا۔ قادیان… مرزائیت کا مرکز اور انگریز کی سرپرستی میں بظاہر اُن کی خود مختار ریاست تھی۔ احرار رہنمائوں اور کارکنوں نے مرزائیوں کے ریاستی جبر و تشدد اور اقتدار کی نخوت کو خاک میں ملا دیا۔ مقامی مسلمانوں کو معاشی و سیاسی اور دینی تحفظ فراہم کیا۔ ۱۹۳۴ء میں قادیان میں ’’احرار تبلیغ کانفرنس‘‘ منعقد کی اور ہندوستان بھر کے مسلمانوں کو مرزائیت کے خلاف ہم زبان اور ہم قدم کر کے ارتداد کی تبلیغ کا راستہ پوری قوت سے روک دیا۔
 قیامِ پاکستان، مرزائیوں کے لیے سب سے بڑا سانحہ اور صدمہ تھا۔تقسیم ملک کے وقت بائونڈری کمیشن میں مسلم لیگ کے قادیانی نمائندہ سر ظفر اللہ خان آنجہانی نے بھرپور وار کیا اور پٹھانکوٹ، فیروز پور، گورداس پور، قادیان اور آدھے کشمیر کو پاکستان میں شامل نہ ہونے دیا۔ 
 قیامِ پاکستان کے بعد اس وقت کے گورنر پنجاب سر فرانسس موڈی نے چنیوٹ سے متصل دریائے چناب کے کنارے ایک پوری بستی اپنے اس چہیتے اور پالتو بچے کے نام الاٹ کر دی ۔ جو آج چناب نگر (ربوہ) کے نام سے معروف ہے۔ یہاں قادیانیوں نے اپنا ہیڈ کوارٹر اور بیس کیمپ بنایا اور پاکستان کے خلاف سازشیں شروع کر دیں۔ مرزا بشیر الدین  نے پاکستان کے اقتدار پر قبضہ کا پروگرام بنایا اور بلوچستان کو ’’احمدی سٹیٹ‘‘ بنانے کی منظم منصوبہ بندی مکمل کر لی۔ سر ظفر اللہ (قادیانی) وزیرِ خارجہ تھا۔ اس نے نہ صرف داخلی محاذ پر قادیانیوں سے مکمل تعاون کیا بلکہ خارجی محاذ پر بھی مکمل سیاسی تحفظات فراہم کیے۔ یہ ۱۹۵۲ء بات ہے تب مجلس احرارِ اسلام نے گہرے غور و خوض کے بعد تحریکِ تحفظِ ختمِ نبوّت آغاز کیا۔ پاکستان کے تمام مکاتبِ فکر کے علما کو دعوت دی اور انہیں عقیدۂ ختمِ نبوّت کے تحفظ کی عظیم الشان اساس پر متحد و منظم کر دیا۔ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی قیادت و سیادت میں زور دار تحریک چلی مگر وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کی لیگی حکومت نے گولی کے زور پر تحریک کو کچلنے کی کوشش کی۔ جنرل اعظم خان نے۶؍ مارچ ۱۹۵۳ء کو جنرل ایوب خان کی ہدایت پرلاہور میں پہلا مارشل لاء لگا کر ہزاروں فدائین ختمِ نبوّت کے سینے گولیوں سے چھلنی کردیے۔ بظاہر تحریک کو تشدد کے ذریعے کچل دیا گیا مگر… مسلمانوں کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے ایک جوش، ولولہ اور جذبہ بیدار کر گیا۔حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، حضرت مولانا ابوالحسناتؒ، حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ، حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ، مولانا لال حسین اخترؒ، مولانا محمد حیاتؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ، شیخ حسام الدینؒ، ماسٹر تاج الدین انصاریؒ، مولانا سید ابوذر بخاریؒ اور دیگر علماء و قائدین نے تمام صعوبتوں کو برداشت کر کے تحفظِ ختمِ نبوّت کی جدوجہد جاری رکھا۔ 
    ۲۲؍ مئی ۱۹۷۴ء میں مرزائیوں نے پھر سر اٹھایا۔ ربوہ ریلوے سٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج ملتان کے مسافر طلباء پر حملہ کر کے انہیں زدو کوب کیا۔ یہ حادثہ شعلۂ جوالہ بن گیا۔ اور پورا ملک تحریک تحفظ ختمِ نبوّت کا میدان بن گیا۔ تحریک اتنی شدید اور طاقت ور تھی کہ اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اس مسئلہ کو قومی اسمبلی میں حل کرنے کا فیصلہ کیا۔
    اسمبلی سے باہر کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختمِ نبوّت، محدث العصر مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ کی قیادت میں سرگرم عمل تھی۔ حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ، قائد احرار جانشین امیر شریعت مولانا سید ابوذر بخاریؒ، نواب زادہ نصر اللہ خانؒ، آغا شورش کاشمیریؒ، حافظ عبدالقادر روپڑیؒ، میاں طفیل محمدؒ، غلام احسان الٰہی ظہرؒ، مولانا سید عطاء المحسن بخاریؒ، مولانا سید عطاء المؤمن بخاری، مولانا سید عطاء المہیمن بخاری اور تحریک کے دیگر مرکزی رہنمائوں نے قدم بہ قدم شب و روز ایک کر کے تحریک کو بامِ عروج پر پہنچایا۔ ادھر اسمبلی کے اندر مولانا غلام غوث ہزارویؒ، مولانا مفتی محمودؒ، مولانا عبدالحق، مولانا شاہ احمد نورانیؒ پروفیسر عبدالغفور احمد اور ان کے رفقاء نے آئینی جنگ کر کے تحریک کا مقدمہ جیت لیا۔ آخر۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کو ذوالفقار علی بھٹو نے قومی اسمبلی کے تاریخی فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیّت قرار دے دیا اور یہ فیصلہ ایک ترمیم کے ذریعے پاکستان کے بنا۔
    آج اس آئینی فیصلے کو ۳۹ برس بیت گئے ہیں مگر مرزائیوں نے اسے تسلیم نہیں کیا۔ وہ آئے روز مسلمانوں کے خلاف اپنی سازشوں کا جال پھینکتے رہتے ہیں۔ علما کے خلاف نفرت پیدا کرنا۔ فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینا اور سیاسی طور پر پاکستان کو بدنام اور غیر مستحکم کرنا اور ملکی سلامتی کے خلاف سازشیں کرنا مرزائیوں کا نصب العین ہے۔
    تحریک ختمِ نبوّت ۱۹۸۴ء میں جنرل محمد ضیاء الحق شہید نے حضرت مولانا خواجہ خان محمد رحمہ اللہ کی قیادت میں قائم کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوّت کے مطالبات منظور کرتے ہوئے قانون امتناع قادیانیت جاری کر کے مرزائیوں کو شعائر اسلامی اور اسلامی اصطلاحات استعمال کرنے سے روک دیا۔ یہود و نصاریٰ کی مکمل سرپرستی و تعاون کی وجہ سے اس قانون کا مؤثر نفاذ تو نہ ہو سکا لیکن بہت حد تک مرزائیوں کے اثر و نفوذ کا راستہ روک دیا گیا۔
    پاکستان میں موجود سیکولر انتہا پسند، لبرل فاشسٹ اور نام نہاد دانش وربھی امریکہ و برطانیہ کے یہود و نصاریٰ کی زبان بول رہے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ مرزائیت کا مسئلہ حل ہو چکا ہے۔ اب ان کے خلاف کام کرنا ’’مولویوں کے پیٹ کا دھندہ‘‘ ہے۔ دوسری طرف وہ قادیانیوں کو مسلمان قرار دلوانے کے استعماری مطالبے کی بھی حمایت کرتے ہیں۔ یہ محض پروپیگنڈہ نہیں بلکہ عالمِ کفر کا ایجنڈا۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ یہود و نصاریٰ، قادیانیوں کو مسلمان قرار دلوانے کی محنت کر رہے ہیں۔ قادیانیت کو سمجھنے کے لیے یہی بات کافی ہے۔ مرزائی آج بھی ارتداد کی تبلیغ اور ملک کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ تل ابیب، لندن اور چناب نگر (ربوہ) ان سازشوں کے مراکز ہیں۔ عقیدۂ ختمِ نبوّت کے خلاف مرزائی لٹریچر مسلسل شائع ہو رہا ہے اور حکومت خاموش تماشائی ہے۔ بلکہ موجودہ حکومت میں ختمِ نبوّت کے لٹریچر کو بھی نعوذ باللہ فرقہ وارانہ تناظر میں لیا جا رہا ہے۔ توہین رسالت آرڈینینس کی مخالفت، شناختی کارڈ پر مذہب کے اندراج کی مخالفت میں مرزائی پیش پیش رہے ہیں اور آج فرقہ وارانہ دہشت گردی کے پس منظر میں بھی قادیانی سازشیں ہی کار فرما ہیں۔
    ان حقائق کی روشنی میں ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ۷؍ ستمبر مسلمانوں کے لیے تجدیدِ عہد کا دن ہے۔مسلمان عقیدۂ ختمِ نبوّت کے تحفظ کی جدوجہد کو پوری قوت سے جاری رکھیں گے اور پرچمِ ختمِ نبوّت ہمیشہ لہراتا رہے گا۔ آج ملک بھر میں منعقد ہونے والے اجتماعاتِ ختمِ نبوّت میں مطالبہ کیا جائے گا کہ قادیانیوں کی دین و ملک دشمن سرگرمیوں کی بنیاد پر قادیانی جماعت پر پابندی عائد کرکے اسے خلافِ قانون قرار دیا جائے۔