اگلے دن جب شیر کی طبیعت ٹھیک نہیں  تھی تو ننھا شیر اکیلا ہی پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ گیا۔ اس نے دیکھا، جیسے جیسے سورج جا رہا تھا، اس کا رنگ نارنجی ہو رہا تھا۔ وہ اور نیچے اور نیچے جارہا تھا ۔ ننھے شیر کو لگا وہ سورج کو ضرور پکڑ سکتا ہے۔ اس نے ایک اونچی سی چھلانگ لگائی تو اس کا پاؤں پھسل گیا۔ وہ قلابازیاں کھاتا ہوا نیچے جنگل میں جا گرا۔ اسے بہت چوٹ آئی تھی ۔

’’آہ آہ۔۔‘‘

زرافے میاں نے یہ آوازیں سنیں تو وہ دوڑے آئے ۔

’’ارے !تم اس وقت پہاڑ پر کیا کر رہے تھے ؟‘‘ زرافے میاں نے ننھے شیر کو اپنی گردن پر اٹھا لیا کیونکہ ننھے شیر سے چلا بھی نہیں جا رہا تھا۔

’’میں سورج کو پکڑنے لگا تھا کہ نیچے گر گیا۔ ‘‘ ننھے شیر نے بتایا۔

’’ہا ہا ہا! سورج کو کوئی نہیں پکڑ سکتا۔ ‘‘

ننھا شیر اداس ہو گیا۔ ’’کیوں ؟ میں نے  توسورج سے کھیلنا تھا۔ ‘‘

’’اس لیے کہ اللہ پاک نے اسے بہت اونچا رکھا ہوا ہے۔ وہ ہمیں روشنی دینے کے لیے ہے۔ ہم اس سے کھیل نہیں سکتے۔‘‘ زرافے میاں نے کہا۔

ننھے شیر نے ادھر ادھر دیکھا۔ اندھیرا ہو گیا تھا ۔ درختوں کے پتے  جو پہلے سنہری سنہری تھے، اب سیاہ ہو گئے تھے۔  

’’تو اب سورج کہاں گیا؟ ‘‘ اس نے پریشانی سے پوچھا۔

’’وہ سونے چلا گیا ہے۔ رات ہو گئی ہے ۔اب روشنی دینے کی باری چاند اور ستاروں کی ہے۔ وہ اوپر  دیکھو آسمان پر۔‘‘ یہ کہہ کر زرافے میاں نے اشارہ کیا۔ ننھے شیر نے سر اٹھا کر  دیکھا۔ سارا آسمان چمکیلے ستاروں سے بھر گیا تھا ۔ ان کے بیچ گو ل گیند کی طرح سفیدچاند بہت پیارا لگ رہا تھا۔

’’وہ مارا! بس! مجھے چاند چاہیے۔ میں اس سے کھیلوں گا۔‘‘ ننھے شیر نےخوشی خوشی کہا۔

’’ارے! ایسا نہیں ہو سکتا۔  چاند بھی ہم سے بہت دور ہے۔ ‘‘زرافے میاں نے بتایا۔

’’یہ نیچے نہیں آسکتا؟‘‘ ننھا شیر اداس ہو گیا۔

’’نہیں! یہ اللہ پاک کا حکم مانتا ہے۔ اللہ پاک نے اسے آسمان پر رہنے کے لیے بنایا ہے۔‘‘

’’تو پھر میں کس سے کھیلوں؟‘‘

’’تم اپنے دوستوں سے کھیلو اور جب جب سورج اور چاند نکلے تم انہیں ہاتھ ہلایا کرو۔ یہ تمھیں جواب ضروردیں گے۔‘‘ زرافے میاں نے کہا ۔ اب ننھے شیر کا گھر قریب آگیا تھا۔ زرافے میاں نے اسے اپنی گردن سے اتارا تو ننھے شیرنے اس کا شکریہ ادا کیا  ۔ پھر وہ  اپنے گھر چلا گیا۔

رات کو سوتے وقت ننھے شیر کوایک ہلکی سی  آواز آئی۔ ’’چلوآؤ کھیلیں!‘‘ اس نے اٹھ کر  دیکھا۔  چاند اس کی کھڑکی کے بالکل پاس آگیا تھا ۔