میرے بچو! بلی مانو میاؤں کی اس عادت سے کافی پریشان رہتی تھی۔ وہ کئی بار حکیم بندر میاں سے بھوک لگنے کی دوا بھی لا چکی تھی لیکن میاؤں کو تو بس ناشتہ نہیں کرنا تھا۔ وہ دودھ کاا یک گھونٹ پی کر چھوڑ دیتا۔ انڈہ چکھ کر پلیٹ رکھ دیتا اور باہر بھاگ جاتا۔

ہمم! پھر ایک دن...! ایک دن کیا ہوا کہ پڑوس کے جنگل کی خالہ بلی،جگن اپنے بچوں سمیت میاؤں کے گھر رہنے آئیں۔ میاؤں تو بہت خوش ہوا۔ اب اس کے ساتھ کھیلنے والے بہت سارے بچے تھے۔

’’ میاؤں! تیز ! تیز! اور تیز!‘‘ ارے! یہ تو میاؤں ہے جو آج اپنے کزنر کے ساتھ ریس لگا رہا ہے۔

’’ میاؤں! جیتے گا ! میاؤں تم جیت سکتے ہو!‘‘ میاؤں کے بڑے بہن بھائی اس کو جوش دلا رہے تھے۔ دوسری طرف

خالہ جگو کے بچے بھی کم نہیں تھے!

 بلکہ وہ تو میاؤں سے  اتنا تیز دوڑے کہ میاؤں ان سے بہت پیچھے رہ گیا۔ آخر کار خالہ جگو کا ہی چھوٹا بیٹا ریس جیت گیا۔

’’اوں اوں ۔۔ اووں! ‘‘میاؤں رو نے لگا۔

ایسا تو اس کے ساتھ کبھی نہیں ہوا تھا جیسا پچھلے دو دن سے ہو رہا تھا۔ وہ روز  دوڑ لگاتے اور میاؤں ہار جاتا بلکہ بہت ہی پیچھے بھی رہ جاتا۔

’’ماما! میں ہمیشہ کیوں ہار جاتا ہوں؟ ‘‘میاؤں نے اداسی سے پوچھا۔

’’وہ اس لیے کہ آپ ناشتہ نہیں کرتے۔ تو آپ کے جسم میں کمزوری آجاتی ہے۔ اس لیے آپ دوڑ ہار جاتے ہیں ناں۔‘‘ بلی مانو نے اس کو پیار کیا اور سمجھایا۔

’’اچھا! تو یہ بات ہے!‘‘ میاؤں نے سوچا ۔

میرے پیارے بچو! جب اگلی گرمیوں میں تیز دھوپ والا ایک دن آیا تو پھر سے خالہ جگن ہمارے میاؤں کے گھر رہنے چلی آئیں۔ اس بار جب سب بچوں میں دوڑ ہوئی تو آپ بتائیں کہ کون جیتا! جی ہاں ! گلابی گلابی پیروں والا ، سفید سفید بالوں والا ہمارا پیارا میاؤں!! کیونکہ اس نے پورا سال دل لگا کر اچھا اچھا ناشتہ کیا تھا اور اب وہ کمزور نہیں رہا تھا!