’’اوہ! اب تو ماما مجھے ڈانٹیں گی۔‘‘ ابھی میلو فرش پر سے کیک اٹھا رہا تھا کہ میلو کی ماما آگئیں۔ وہ آج ڈبل روٹی کے ٹکڑے لائی تھیں جو میلو کو بہت پسند تھے۔ اس نے کیک وہیں چھوڑ دیا  اور جلدی جلدی ڈبل روٹی کھانے لگا۔

’’میلو بیٹا! آج آپ نے پھر سے کھانا نیچے گرا دیا ہے۔ میں نے آپ کو کتنی بار بتایا ہے کہ اس طرح کرنے سے کھانا ناراض ہو جاتا ہے۔ پھر وہ ہمارےپاس نہیں آئے گا۔ ‘‘

میلو کی ماما نے کہا اور کیک کے ٹکڑے چننے لگیں۔ میلو کا دوست سیلو تو پہلے ہی جا چکا تھا۔

اس رات میلو اور اس کی ماما  نے ڈبل روٹی کے سب ٹکڑے کھا لیے۔ اگلی صبح سب سے پہلے میلو کی آنکھ کھلی اور اس نے دیکھا کھانے کی الماری بالکل خالی تھی۔ میلو کی ماما اٹھ کر کھانا لینے چلے گئیں اور میلو کو گھر میں ہی چھوڑ گئے کیونکہ میلو کو بھوک کی وجہ سے کمزوری ہو رہی تھی۔

کافی دیر ہو گئی ماما واپس نہیں آئیں۔اب تو میلو کا بھوک  سے  برا حال تھا۔اسے پتہ لگ گیا تھا کہ کھانا اسے ناراض ہو چکا ہے۔ اب تو میلو کو  کل کا  مزیدارکیک یاد آرہا تھا جو اس نے بالکل بھی دھیان سے نہیں کھایا تھا بلکہ کافی سارا تو نیچے ہی گرا دیا تھا۔ دو دن پہلے دعوت میں بھی  اس نے  پنیر کے ٹکڑے پاؤں کے نیچے مسل دیے تھے ۔ؤ وہ دن بھی میلو کو یاد آرہا تھا جب اسے شہد ملا تو اس نے جلدی جلدی کھانے کی کوشش میں آدھے سے زیادہ زمین پر گرا دیا۔

اب کیا کروں؟   کھانا میرے سے ناراض ہو گیا ہے۔ اب وہ میرے پاس نہیں آئے گا ۔ میلو کو سوچ سوچ کر رونا آگیا۔ اتنے میں دروازہ کھلا اور ماما  کھانے کی بہت ساری چیزیں لے کر اندر آگئیں۔

’’آہا! پنیر اور ساتھ میں ڈبل روٹی بھی!‘‘ میلو نے خوشی سے کہا اور جلدی جلدی کھانے لگا۔ اتنے میں کچھ پنیر نیچے گرا تو ایک دم میلو کرسی سے اتر ا اور پنیر اٹھا کر دوبارہ میز پر رکھ دیا۔ یہ دیکھ کر میلو کی ماما مسکرا نے لگیں۔

میرے پیارے بچو! ننھے چوہے میلو کو سمجھ آگیا تھا کہ کھانے کی چیزیں نیچے نہیں گراتے ورنہ کھانا آپ سے ناراض ہو جاتا ہے اور پھر آپ کے پاس نہیں آتا۔