پہلا دن تو ایمو کو یہ سب کچھ سمجھنے میں لگ گیا۔ اس کو درد بھی بہت ہو رہی تھی۔ لیکن اگلے دن صبح سویرے جب سورج بھیا نے اپنی نرم گرم دھوپ اس پر ڈالی تو وہ خوش ہو گئی۔ کچھ دیر بعد افضل بابا ہاتھ میں پھوار والا جگ لے کر چلے آئے۔ انہوں نے سب پودوں کو اچھی طرح پانی دیا۔ ایمو کو پانی میں ہلکا ہلکا نہانا بہت اچھا لگا۔

کچھ ہی دن گزرے تھے کہ ایمو کے اندر سے بہت پیارا ننھا منا سا سبز پودا نکل آیا۔ سبھی نے تو ایمو کو مبارک باد دی۔ لوکاٹ کی جڑوں نے سب  دوستوں سہلیوں میں مٹھائی بانٹی۔ گلاب نے اپنے پھول کی ایک پتی ایمو کے پودے پر گرا دی تاکہ اسے خوشبو آتی رہے۔ اور تو اور نک چڑھے موتیا نے بھی ایمو کو ہلکی ہلکی سی خوشبو سے مبارکباد کہا۔

’’لیکن مجھے بہت درد ہو رہا ہے۔‘‘ ایمو نے منہ بناتے ہوئے کہا۔ واقعی جب سے پودا اس کے اندر سے نکلا تھا درد  اور چبھن سے اس کا برا حال تھا۔

’’کوئی بات نہیں  ایمو!  ہم سب کو درد ہوا تھا۔ لیکن تھوڑے دنوں بعد ٹھیک ہو گیا تھا۔ ‘‘ لوکاٹ کی جڑوں نے بتایا تو ایمو کو کچھ تسلی ہوئی۔

صبح جب افضل بابا کیاری کو دیکھنے آئے تو وہ ایمو کا ننھا سا پودا دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ انہوں نے پیار سے پودے کو بار بار چھوا  ۔ ایمو اندر ہی اندر  بڑی گدگدی ہوئی۔

جب ایمو کا پودا بڑا ہوا تو  زمین کے اندراس کی جڑیں بھی بڑی ہونے لگیں۔ ادھر ادھر پھیلنے لگیں۔ افضل بابا روز ایمو کو بہت پیار سے پانی دیتے اور اس کے پودے کی دیکھ بھال کرتے۔ فالتو پتے کاٹ  دیتے۔ شاخوں کو ٹھیک ٹھاک کرتے پھر کیاری میں جھاڑو لگا کر پھوار والا پانی دیتے۔ دیکھتے ہی دیکھتے  ایمو کا پودا  اورلمبا ہوتا گیا۔

ایک سال گزر گیا۔ اب تو ایمو کا پودا پورا ایک درخت بن گیا تھا۔ اس پر آم آنے لگے تھے۔ افضل بابا ایمو کا پھل اتارتے اور محلے میں تقسیم کر دیتے۔ جب بچے ایمو کے پاس سے گزرتے ہوئے ایمو کو پیار کرتے تو ایمو کو بہت خوشی ہوتی۔ وہ خوشی سے سارے درخت کو پانی پہنچاتی اور جڑوں کو ہدایت دیتی رہتی۔ ’’بھئی ! ٹھیک سے پانی جذب کرنا۔ اوپر والے آموں تک پہنچانا ہے۔ جلدی جلدی کام کرنا ہے۔سستی اچھی بات نہیں!‘‘

ایک دن کیاری میں نئی گٹھلی کی آمد ہوئی۔ اس  کانام جامن تھا۔ پہلے تو بہت خوش تھی۔ سب سے گھلی ملی اور خوب باتیں کی۔ لیکن جب پودا نکلا تو وہ درد سے بے حال ہو گئی۔تب ایمو نے اس کو بہت پیار کیا اور کہا۔

’’جامن بیٹی ! جب پھل نکلے گا تو تمھیں  یاد بھی نہیں ہو گاکہ کتنا درد ہوا تھا! مزے دار میٹھا پھل دینے کے لیے درد  توسہنا پڑتا ہے۔‘‘