سرخ فراک  کے ساتھ زرد سویٹر پہنائی ۔پھر زرد ٹوپی اور سرخ جرابیں ۔ پھر انہوں نے ریک میں سے انجو کے بند جوتے اٹھائے اور ان کے ننھے ننھے پاؤں میں پہنا دیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

’’اری بہو! دیکھو تو۔ ننھی بٹیا ننگے پیر پھر رہی ہے۔ بند چپل پہناؤ اس کو۔ ٹھنڈ لگ جائے گی۔ ‘‘ دادو اٹھ چکی تھیں اور ٹھنڈے ٹھار صحن میں اچھلتی کودتی انجو کو دیکھ کر چلا اٹھی تھیں۔  

’’انجو! شوز کہاں ہیں؟‘‘ بہت دیر بعد بھی  جب ماما جان کو انجو کے جوتے  نہ مل سکے تو وہ انجو سے پوچھنے لگیں۔

’’پتہ نہیں ماما جان! ‘‘ انجو مزے سے بولیں۔ حالانکہ انہیں خوب اچھی طرح پتہ تھا کہ ابھی کچھ ہی دیر پہلے انہوں نے دونوں شوز سٹور میں بڑی والی پیٹی کے پیچھے رکھ چھوڑے تھے!

دوپہر کو آپا اور بھیا بھی آگئے۔ اور شام تک بابا جان بھی۔ سبھی نے باری باری انجو کے جوتے ڈھونڈے لیکن کیسے ملتے۔ سٹور کی جانب تو کسی کا دھیان ہی نہیں گیا تھا۔ خود انجو بھی یہ بات پوری طرح بھول چکی تھیں۔

لیکن میرے بچو! انجو کو جھوٹ بولنے کی سزا تو ملنی ہی تھی۔ ماما جان نے ویسے تو انہیں پرانے نیلے والے شوز پہنائے تو تھے لیکن وہ انہیں بہت تنگ تھے۔ بار بار اتارنے پڑجاتے۔ ٹھنڈ بھی بہت تھی۔ یوں رات تک انجو کی ناک بری طرح بہ رہی تھی۔

اور تو اورہمیشہ کی طرح کھانے کے بعد جب گلی سے چھاپڑی والے کی آواز آئی توبابا جان مونگ پھلی لینے باہر چلے گئےلیکن ہماری  انجو بابا کے ساتھ نہیں جا سکی۔ بابا کو بھی اس کی پسندیدہ ریوڑی لینا یا د نہیں رہا۔ اب تو انجو کی اداسی کی انتہا نہ تھی۔ کھانسی کی وجہ سے  مونگ پھلی بھی ان کو منع ہو گئی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

’’ماما جان! یہ تو پنکی اور ٹنکی ہیں۔ یہ کہاں سے آئے؟‘‘ یہ انجو کی آواز تھی۔ہوا یہ کہ جیسے ہی اگلی صبح وہ بیڈ سے اترنے لگیں تو انہیں لگا جیسے ان کی دوست نیلو کی بلی کے بچے فرش پر بیٹھے ہوئے ہیں۔

ماما جان مسکراتے ہوئے بولیں۔ ’’نہیں انجو! آپ کل رات جلدی سو گئی تھیں۔ میں اور آپ کے بابا بازا ر گئے تھے۔ یہ پنکی اور ٹنکی نہیں بلکہ آپ کے نئے ، فَر والے شوز ہیں۔ ‘‘

’’ہیں! لیکن یہ  بالکل نیلو کی بلی جیسے ہیں۔ اس لیے ان کا  نام میاؤں شوزہے! ما ما جان! میں ان کو ہر وقت پہنے رکھوں گی۔ ‘‘ انجو  خوشی سے بیڈ پر اچھلتے ہوئے بولیں۔

’’ٹھیک! لیکن میاؤں شوز کو سٹور میں کبھی نہ رکھیے گا ورنہ  یہ مٹی سے خراب ہو جائیں گے۔‘‘ ماما جان نے شرارت سے کہا توبیڈ سے اترتی ہوئی  انجو بوکھلا اٹھیں۔ ’’اوہ! سوری ماماجان! ‘‘ ان کے منہ سے ایک دم نکلا۔