یونہی دن گزرتے چلے جا رہے تھے کہ گرمیوں کا موسم آگیا۔ تالاب کا پانی خشک ہونے لگا۔ ہوتے ہوتے نیچے کی زمین تک نظر آنے لگی۔ سبھی بطخیں بہت پریشان تھیں کہ اب کیسے گزارا ہو گا۔ ایک دوپہر جونو کی بڑی خالہ زونو اس سے ملنے چلی آئیں۔ وہ اس کو لینے آئی تھیں۔ زونوخالہ دوسرے جنگل کے بڑے والے تالاب میں رہتی تھیں ۔

جونُو کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ اس نے جلدی جلدی اپنا سامان باندھا اور تینوں بچوں کو تیار کیا۔ پھر وہ زونوخالہ کے ساتھ دوسرے جنگل کی جانب چل دی۔ ابھی وہ تالاب سے کچھ ہی دور گئی تھی کہ اسے کچھ یاد آیا۔

’’زونو خالہ! اگر آپ برا نہ مانیں تو میں آپ سے ایک بات کہوں!‘‘  جونو نے پوچھا۔

’’ہاں ہاں کہو!‘‘

’’خالہ میری دو دوستیں سوکھے تالاب میں رہ گئی ہیں۔ اگر ہم ان کو بھی ساتھ لیتے چلیں تو۔۔۔ ورنہ مجھے ڈر ہے کہ وہ پانی کے بغیر  رہ نہیں سکیں گی۔‘‘ جونو پریشانی سے بولی۔

’’کیوں نہیں۔ چلو ان کو ساتھ لے چلتے ہیں۔‘‘ مہربان زونو خالہ بولیں ۔

**********

میرے بچو! سارا راستہ دونوں سفید بطخیں بہت خاموش رہیں۔ وہ سوچ رہی تھیں کہ ہم نے جونو کا اتنا مذاق اڑایا اور اسے برا بھلا کہتی رہیں لیکن اس کا دل کتنا اچھا تھا! اس نے ہمارے لیے کتنا اچھا سوچا۔

نئے تالاب میں پہنچ کر جب سب بطخیں اپنا سامان سیٹ کر چکیں تو سفید بطخوں نے سر جھکا کر جونو سے معافی مانگی۔

’’ہمیں معاف کر دو جونو! تم بہت اچھی ہو۔ بے شک اللہ میاں نے تمھارا رنگ کالا بنایا ہے لیکن تمھارا دل بے حد سفید اور پیارا ہے۔ہم تم سے بہت شرمندہ ہیں۔اب ہم کسی کو تنگ نہیں کریں گے۔‘‘ یہ کہتے کہتے سفید بطخوں کے آنسو ٹپک پڑے۔

جونو نے آگے بڑھ کر دونوں کو گلے سے لگا لیا۔ اب وہ سب بطخیں گہری دوست  ہیں۔ اور ہاں میرے پیارے بچو!  نئے تالاب کا پانی کبھی خشک نہیں ہوا!