مونو اور شونو

 

رات کو جب چاند نکلا  تو سفید سفید چاندنی ہر طرف پھیل گئی۔ چاند کی تھوڑی سی کرنیں امرود کے پتوں میں بھی گھس آئیں۔

’’دیکھو چاندنی آپا! آج ایک شرارتی بچے نے ہمارے بھائیوں کے ساتھ کیا کیا! زور زور سے ہمیں ہلایا۔ خوب ڈرایا ۔ پھر نیچے گرنے والے امرودوں کو مزے مزے سے کھایا۔‘‘ شونو اور مونو کہ رہے تھے۔

’’ارے میرے پیارے شونو مونو! یہ تو پیارے اللہ میاں  کا

حکم ہوتا ہے۔ہم بنے ہی اس لیے ہیں تاکہ لوگوں کو فائدہ پہنچائیں۔ جیسے کہ میں تمھارے پاس آئی ہوں۔ تمھارے اندر مٹھاس بھرنے کے لیے۔ ‘‘

’’لیکن آپا! ہمیں ڈر لگتا ہے۔ ہمارا دل نہیں کرتا کوئی ہمیں کھائے۔‘‘ شونو نے اداسی سے کہا۔

’’کوئی بات نہیں شونو! جب تمھیں بچے کھائیں گے تودیکھنا تمھیں بہت خوشی ملے گی۔ ‘‘ چاندنی آپا نے پیار سے اس کے سرپر ہاتھ پھیرا۔

’’آپا! میں شونو کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں۔ وہ بچہ ہماری والی شاخ کو اتنے زور سے ہلاتا ہے کہ بس۔ مجھے لگتا ہے میں ابھی نیچے گر جاؤں گا اور شونو سے دور چلا جاؤں گا۔ ‘‘ مونو بتا رہا تھا۔ چاندنی آپا نے کوئی جواب دیا۔ وہ جاچکی تھیں کیونکہ اب صبح ہونے والی تھی۔

جیسے ہی سورج نکلا سب چڑیاں امرود کی شاخوں پر آبیٹھیں ۔ چوں چوں چوں!

مونو اور شونو کی آنکھ ان کے شور سے کھلی۔ انہوں نے دیکھا وہ تھوڑے سے اور بڑے ہو گئے تھے۔ ان کا رنگ بھی زیادہ سبز ہو گیا تھا۔ اب وہ بہت پیارے لگ  رہےتھے۔

سکول سے واپس جاتے بچوں نے امرود کی شاخوں کو زور سے ہلایا تو مونو اور شونو نے ایک دوسرے کے ہاتھ پکے پکڑ لیے۔اس بار وہ بالکل نہیں ڈرے ۔ دوسری بار شاخ کے ہلنے پر وہ اکٹھے نیچے جا گرے۔ ایک بچے نے مونو اور شونو کو اٹھا کر اپنی جیب میں رکھ لیا۔ اس کو بالکل نہیں پتہ تھاکہ مونو اور شونو اتنے خوش کیوں تھے!  اگر آپ کو پتہ ہو توشاخ پر لٹکے ہوئے دوسرے امرودوں کو ضرور بتائیے گا کیونکہ ان کو بھی ڈر لگ رہا ہے!

 



اپنی قیمتی رائے سے آگاہ کیجیے

Invalid Input
Invalid Input
Invalid Input
Invalid Input