انجو کا ’’پاکستان‘‘

شام کو  دادو جان نے کھڑکی پر لٹکتا ہوا جھنڈا دیکھا تو اتار کر سینے سے لگا لیا۔ پھر وہ تخت پر بیٹھ کر گنگنانے لگیں۔ ’’سوہنی دھرتی اللہ رکھے قدم قدم آباد!‘‘ اتنے میں ننھی منی انجو باہر آئیں تو انہیں اپنا ’’پاکستان‘‘ یاد آگیا۔

’’دادو! میرا پاکستان دیں ناں!‘‘ یہ کہ کر انہوں نے اپنا ننھا سا گلابی ہاتھ پھیلا دیا۔ دادو نے مسکراتے ہوئے جھنڈا انجو کو پکڑا دیا اور پھر سے آنکھیں موند کر  گنگنانے لگیں۔

’’تیرا ہر اک ذرہ ہم کو اپنی جان سے پیارا! تیرے دم سے شان ہماری تجھ سے نام ہمارا!‘‘

جب وہ پورا گیت  پڑھ چکیں تو انہوں نے آنکھیں کھول کر دیکھا ۔ ننھی انجو سامنے کھڑی جھنڈا  ہاتھ میں پکڑے  پورے زور و شور سے لہرانے میں مصروف تھیں۔ یہ دیکھ کر دادو جان نے انہیں بہت سارا پیار کیا۔

آج صبح جب انجو سو کر اٹھیں ان کو جھنڈا نظر نہیں آیا۔ انہوں نے سب سے پہلے اپنے سرخ تکیے کے نیچے دیکھا۔ پھر بیڈ کے نیچے۔ پھر پردے ہٹا کر  اور پھر اپنے کھلونوں والی ٹوکری میں ۔

’’ماما جان! میرا ’’پاکستان‘‘ کہاں گیا؟  نہیں مل رہا۔‘‘ آخر ننھی منی انجو منہ بسورتے ہوئے کچن میں آ کھڑی ہوئیں۔  ماما جان مسکرانے لگیں ۔ پھر انجو کا ہاتھ پکڑ کر اس کی سائیکل کے پاس لے گئیں۔ تین پہیوں والی زرد سائیکل پر ایک چھوٹا سا سبز جھنڈا بہت پیار ا لگ رہا تھا۔

اس دن ہماری ننھی منی انجو نے معمول سے زیادہ تیز  سائیکل چلائی۔  اس لیے تیز ہوا میں  ان کا جھنڈا پاکستان اور اور ہوا میں لہراتا تھا  اور اسے دیکھ کر ہماری انجو خوشی سے اور گلابی ہو جاتی تھیں! 



اپنی قیمتی رائے سے آگاہ کیجیے

Invalid Input
Invalid Input
Invalid Input
Invalid Input