حرکت  میں برکت !

اب تو ہمارے پاس  دوائی  تک کے پیسے نہیں ہیں ۔ بلکہ دوائی کیا ، ہمیں تو ایک وقت کا کھانا نصیب ہو جاےٴ بڑی بات ہے  اور مجھے لوگوں سے مانگتے  ہوئے شرم آتی ہے۔   مانگنا تو صرف  اور صرف الله  کی ذات سے چاہئے۔ بس تم کل ہی یہ کام شروع کر دو۔ ‘‘ اور زیاد نے سر ہلاتے  ہوے "جی اماں " کہہ دیا۔  

در اصل باپ  کے دنیا سے رخصت ہو جانےکے بعد وہ چھوٹا سا گھرانہ  با لکل  ہی کنگال ہو گیا تھا  ۔پہلے تو باپ ہی سہارا  اورآمدنی کا ذریعہ تھا ۔زیاد دو سال سے نوکری کی تلاش میں دھکے کھا رہا تھا۔ اماں  بہت زیادہ  بیمار رہتی تھیں۔ اور ہر وقت گھر کے کونے میں لیٹی رہتی تھیں۔ گھر  کیا ، وہ تو ایک چھوٹے سے کمرے کو کرائےپر لیا ہوا تھا  اور اسے اپنی رہائش گاہ بنایا ہوا تھا  ۔

اگلے دن زیاد نے دوست سے کچھ رقم لے کر آلو چھولوں  کا سامان خریدا اور گھر لے آیا۔پھر دونوں ماں بیٹا  نے مل کر بڑی محنت سے مزیدار سے آلو چھولے بنا ڈالے ۔صبح صبح زیاد نے ریڑھی سجائی، اس پر دیگچہ رکھا، چند سٹیل کی پلیٹیں اور چمچیں رکھیں اور بازار میں نکل گیا۔

شروع شروع میں اسے  ہر دن پچاس روپے  کی بچت ہوتی رہی   جس سے وہ دو روٹیاں خریدلاتا۔اماں بچے ہوئے آلوؤں کو تھوڑے سے تیل  اور پانی میں مسل کر نمک مرچ ڈالتیں تو وہ سالن سا بن جاتا۔ اسی  سے وہ رات  کی روٹی کھاتے  اور الله کا شکر ادا کرتے۔

زیاد  دوائی اور دوسری ضروری چیزیں خریدنے کے بعدبقیہ پیسے  ایک محفوظ جگہ رکھ لیتا۔شروع میں اس نے اپنے دوست کا قرضہ اتارا ۔ پھرکچھ عرصے بعد  اس نے سوچا  کہ کسی جگہ کوئی چھوٹی سے دکان کرائے پر لے ۔ چنانچہ ا ماں کی  دعاؤں کی برکت  سے جلد ہی اسے مین بازار میں ایک چھوٹی سی دکان کرائے پر مل گئی۔

اب اماں کی دوا آسانی سے آجایا کرتی تھی۔  اور انہوں نے ایک اور گھر کرائے پر لے لیا تھاجو پہلے گھر سے نسبتاً بڑا اور کشادہ تھا۔

ہاں! اگر آپ کا کبھی  چھوٹے بازار میں جانا ہو تو ’’زیاد آلو چھولے‘‘ کی دکان کا بورڈ ضرور پڑھیے گا جس پر ایک جملہ بڑے بڑے اور خوبصورت حروف میں لکھا ہو گا۔ ’’حرکت میں برکت ہے!‘‘ 


اپنی قیمتی رائے سے آگاہ کیجیے

Invalid Input
Invalid Input
Invalid Input
Invalid Input