آدھا کمبل

کہ آپ اپنی چارپائی دروازے پر بچھا لیں تو بہتر ہو کیونکہ ہر وقت کھانستے رہنے سے بچوں میں بیماری پھیلنے کا اندیشہ ہے۔ بیمار باپ کو صبر و شکر کے سوا چارہ ہی کیا تھا۔ اس نے کہا مجھے کوئی عذر نہیں مگر ایک کمبل اوڑھنے کو چاہئے اس لئے کہ ابھی سردی باقی ہے۔ نوجوان نے اپنے چھوٹے بیٹے سے کہا۔ دادا کو گائے والا کمبل لا کر دے دو۔
 لڑکا جھٹ کمبل اٹھا لایا اور دادا سے کہا ۔’’لیں دادا جان! اس میں سے آدھا آپ پھاڑ لیں اور آدھا مجھے دے دیں۔‘‘

 دادا نے کہا۔ ’’بھلا آدھے کمبل سے سردی کیا جائے گی؟ ‘‘

باپ نے بھی بیٹے سے کہا کہ دادا کو سارا ہی کمبل دے دو جس پر چھوٹے لڑکے نے معصومیت سے جواب دیا۔ ’’ابا جان!  گھر میں ایسا کمبل تو ایک ہی ہے۔ اگر سارا دادا کو دے دیا تو جب آپ  بوڑھے اور بیمار ہو کر دروازے پر چارپائی بچھائیں گے  تو میں آپ کو کیا دوں گا۔‘‘

 نوجوان باپ ،اپنے  لڑکے کی یہ بھولی بات سن کر سہم گیا اور باپ سے معافی مانگ کر اس کی پوری اطاعت اور خدمت کرنے لگا جس سے باپ بھی خوش ہو گیا اور بیٹے کی عاقبت بھی سنور گئی۔


اپنی قیمتی رائے سے آگاہ کیجیے

Invalid Input
Invalid Input
Invalid Input
Invalid Input