ملّاح کی دور اندیشی

 اب سوچ بچار کی ضرورت نہیں تھی۔ کپتان فوراً ساحل پر پہنچا۔ اپنے سب ملاحوں کو جمع کیا اور جہاز کے بادبان کھول کر اس کا لنگر اٹھایا۔ جہاز چل پڑا اور کچھ دیر بعد سمندر کے بیچ میں پہنچ گیا۔

اس وقت اس نے اپنے تمام نائبوں اور کارکنوں کو بلا کر مشورہ کیا کہ کہاں چلنا اور کیا خریدنا چاہیے۔ جتنے منہ اتنی ہی باتیں۔ کسی نے کہا کہ عمدہ ریشم سے بہتر کوئی چیز نہیں ہو سکتی۔ کسی نے کہا کہ ایسے زیورات خریدے جائیں جن کی بناوٹ اور ساخت بالکل نئی ہو۔ کسی نے کہا کہ کیوں نا اعلیٰ قسم کے نیلم ،زمرد، لعل و یاقوت یا بڑے بڑے موتی خریدے جائیں اور پھر اپنی نگرانی میں ان کے زیورا ت تیار کرائے جائیں۔لیکن ان سب چہ مگوئیوں کے دوران میں ایک کمزور سا ملاح، جس کے بارے میں کہا جا سکتا تھا کہ وہ ہمیشہ فاقے کرتا رہا ہے، کسی قدر ہچکچاتا ہوا بولا۔’’ معلوم ہوتا ہے کہ تم لوگوں پر کبھی برا وقت نہیں آیا، اس لیے تم کسی چیز کی صحیح قدر و قیمت کا اندازہ نہیں کرسکتے۔ بتاؤ جب تم بری طرح بھوکے یا پیاسے ہو تو کون سا ہیرا یا موتی، زیور یا کپڑا کھا پی کر زندہ رہ سکتے ہو۔ اطمینان کی زندگی کے لیے خوراک کا ایک لقمہ، پانی کا ایک گھونٹ اور عمدہ ہوا میں ایک سانس ....سب سے زیادہ قیمتی ہے۔ اس لیے کھانے کی چیزوں کی اہمیت سب سے زیادہ ہے اور کھانے کی چیزوں میں گیہوں ہمارے لیے بنیادی غذا ہے۔ دنیا میں اس سے زیادہ قیمتی چیز کوئی نہیں۔ میں نے زندگی میں بہت سے فاقے کرنے کے بعد یہ رائے قائم کی ہے۔ اگر تم بھی ان پہلوؤں پر غور کر لو تو میرے ہم خیال ہوجاؤ گے۔

سب لوگ حیران رہ گئے۔ ملاح کی بات  ان کے دل میں اتر گئی۔ سب نے یک زبان ہو کر کہا۔ ”‌گیہوں سب سے زیادہ قیمتی چیز ہے۔ پورا جہاز اس سے بھر لیا جائے کہ جب قحط بھی پڑے تو اس کا مقابلہ ہو سکے۔

لہٰذا جہاز کا رخ سرزمین مصر کی طرف پھیر دیا گیاجہاں کا گیہوں سب سے زیادہ اچھا اور صحت بخش ہوتا ہے۔ وہاں پہنچ کر کپتان نے گیہوں کے مالکان سے ملاقات کی اور بڑے بڑے ذخیرے خرید کر جہاز کے اوپر تک لاد لیا۔

اب ادھر کی سنئے۔ جہاز روانہ ہو جانے کے بعد خدا کی کرنی ایسی ہوئی کہ اس پورے خطے میں سمندری طوفان کی صورت میں بڑی آفت آ پہنچی جسکی وجہ سے تمام کھیت،فصلیں اوربڑی تعداد میں لوگوں کے مکانات وغیرہ زیر آب آ گئے اور فصلوں کو شدید نقصان پہنچا۔ حالت یہاں تک آپہنچی کہ وہ خطہ جہاں رزق کی کمی نہیں تھی، وہاں لوگوں کو فاقے کرنے پڑ رہے تھے۔ خود ملکہ  کے گودام بھی غلے اور دیگر کھانے پینے کی اشیاءسے خالی ہو گئے تھے۔ایسے میں وہاں کے لوگوں سمیت اس ملکہ کے بھی ہوش ٹھکانے آ گئے تھے۔ اس کی صحت دن بدن گرتی جا رہی تھی۔ پورے ملک میں سخت مایوسی کی کیفیت پھیلی ہوئی تھی۔ یہاں تک کہ ایک روز بہت دور سمندر کے سینے پر جہاز کے مستول نظر آئے۔ بچے ، بوڑھے، عورت، مرد سب طرح طرح کے خیالی پلاؤ پکا رہے تھے کہ نہ جانے جہاز پر وہ کونسی قیمتی چیز آئے گی۔ زندگی میں پہلی بار دنیا کی سب سے زیادہ قیمتی چیز دیکھنے کے لیے سب ہی لوگ بے تاب تھے۔

اور جب جہاز لنگر انداز ہوا اور کپتان اتر کر اپنی مالکہ کے پاس پہنچا جو جہاز کی خبر سن کر بیماری کے باوجود ساحل تک چلی آئی تھی تو اس نے کہا۔ ”‌محترمہ میں ایک بہت ہی قیمتی چیز لایا ہوں جو حقیقتاً زندگی کا سہارا ہے۔‘‘ یہ سن کر عورت کے چہرے پر حیرانی پھیل گئی۔ ”‌ وہ کیا؟“ عورت نے پیشانی پر بل ڈالتے ہوئے پوچھا۔

”‌ آپ اس سے واقف ہوں گی اسے کہتے ہیں گیہوں۔‘‘  کپتان نے جواب دیا۔

”‌گیہوں؟“ ملکہ نے حیران ہو کر آخری لفظ دہرایا۔ ”‌ کیا کہا، گیہوں؟

ارد گرد کھڑے لوگوں نے جب یہ خبر سنی تو وہ خوشی سے چلا اٹھے، اور ”‌گیہوں“ کے نعرے لگانے لگے۔ ملکہ نے اردگرد کے لوگوں کے یہ تاثرات دیکھے تو اس کے چہرے پر موجود حیرانی کی جگہ مسکراہٹ پھیل گئی اور وہ بھی خوشی سے چلا اٹھی۔”‌ گیہوں.... واہ کمال کر دیا۔

اس کڑے وقت میں وافر مقدار میں گیہوں کی صورت میں کوئی دوسری چیز قیمتی ہو ہی نہیں سکتی تھی۔ عورت نے گیہوں کا ایک حصہ اپنے گودام میں رکھوا دیا جبکہ بقیہ چھ حصے عوام میں تقسیم کروادیئے۔ یوں اس کمزور سے ملاح کی دور اندیشی سے نہ صرف ملکہ خوش ہوئی بلکہ خطے کے لوگ بھی اس خزانے سے مستفید ہوگئے۔ 


اپنی قیمتی رائے سے آگاہ کیجیے

Invalid Input
Invalid Input
Invalid Input
Invalid Input