چھاپیے
Parent Category: Payamehaya URDU
Category: Issue no 27
Visits: 437
Harf e awwal

؎ ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پر روتی ہے 
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیداور پیدا 
جنید جمشید شہیدکے بارے میں لکھنا بالکل ایسا ہے جیسے کوزے کو سمندر میں بند کرنا۔ جنید جمشید کو اللہ نے ایک پُر سوز آواز اور بلند اخلاق اور باکمال صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ 
تیرے مقام کو انجم شناس کیا جانے
کہ خاکِ زندہ ہے تو تابع ستارہ نہیں
جنید جمشید کی شہادت کی خبر امت مسلمہ کے لیے ایک الم ناک خبر تھی جس کو دل ماننے کو ہر گز تیار نہ تھا مگر یہ ہی وہ لمحہ ہے جہاں ہر شہ بے بس ہوجاتی ہے موت اٹل حقیقت ہے جو ہمارے پیاروں کوہم سے جدا کردیتی ہے مگر اللہ تعالیٰ نے شہداء کو یہ رتبہ دیا ہے کہ شہید مر کر بھی زندہ رہتے ہیں۔ 

جنید جمشید شہید کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جن کو خالصتاً اللہ اپنے لیے منتخب فرماتا ہے اور جو صرف اللہ کی خاطر اپنی شہرت بے پناہ دولت اور آسائشیں چھوڑ دے تو پھر اللہ کی پاک ذات بھی اُس کو کبھی اکیلانہیں چھوڑتی اور آج کل کے اس نفسہ نفسی کے دورمیں اللہ نے ایک مثال ہمیں دکھا دی۔ 
جنیدجمشیدشہید ایسی شخصیت کے حامل تھے کہ ہر عمرکے لوگ ان کے گرویدہ تھے جب سے انہوں نے اپنی آواز کو گانے چھوڑ کر اللہ کی حمد بیان کر اور ایک عاشق رسول کی حیثیت سے نعتیں پڑھنے میں اوردعوت تبلیغ میں لگایا اللہ نے ان کی شہرت کو چارچاند لگادئیے ۔ ان کا اندازِ بیان ایسا تھا کہ ہر شخص کے دل میں اُتر جاتا تھااور زبان میں اللہ نے اثر بھی دیا تھا کیونکہ پہلے وہ خود دین کے راستے پر چلے اور پھر لوگوں کو دل سے دعوت تبلیغ دی۔ 
؎تری خودی میں اگر انقلاب ہو پیدا 
عجب نہیں ہے کہ یہ چار سو بدل جائے 
جنید جمشید شہیدکو اللہ نے دنیا میں وہ مقام عطا کیا جس کی تمنا ہر مسلمان کرتا ہے ۔ اللہ نے اُن کی زندگی کی بے سکونی کو سکون میں بدل دیا اور چہرے پر داڑھی سے ان کا چہرہ مزید پر نور تھا اور سر پر عمامہ لے کر ان کی شان اور بڑھ گئی تھی اور ٹخنوں سے اوپر شلوار کر کے وہ بیرون ملک میں مسلمانوں کی پہچان بن گئے تھے ۔ ان کا یہ حلیہ جو اللہ نے ان کو عطا کیا تھا ان کے لیے باعث فخر تھا۔ 
اللہ پاک نے ان کو موت بھی ان کی تمنا کے مطابق دی شہادت کی تمنا کس مسلمان مرد و عورت کی نہیں ہوتی مگر ان پر کو شہادت کی خوا ہش تھی اور دنیا میں انہوں نے جو تمنا کی ان کو مل گیا۔ 
؎شہادت ہے مطلوب مقصود مومن 
نہ مالِ غنیمت نہ کشور کشائی 

جنید جمشید شہید اب ہم میں نہیں رہے مگر ان کی یادیں باتیں اور خوبصورت آواز میں نعتیں ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گی اور وہ ہم سب کے لیے اپنی زندگی سے ایک ایسا سبق چھوڑ کر گئے ہیں کہ جو اللہ کے لیے خود کو بدلتا ہے اللہ بھی اس کو دنیامیں کبھی تنہا نہیں چھوڑتا اور ہم بھی اُس راستے پر چلیں جس کی وہ دعوت دیتے تھے دین کی وہ دعوت جس کے لیے ہمارے پیارے نبی حضرت محمدﷺ تشریف لائے۔ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ نے تو اللہ کا مکمل پیغام اور احکامات ہم تک پہنچا دئیے۔

اب نبی کریم ﷺ کے اس دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد اب ہم مسلمان مرد و عورت پر لازم ہے کہ اس دعوت کو رہتی دنیا تک آنے والے لوگوں کودیں۔ 
اللہ پاک جنید جمشید شہیدکو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ہمیں توفیق دے کہ ہم بھی ان کی نقشِ قدم پر چل کر عاشق رسول ﷺ کے داویدار ہی بن جائیں۔