جنید جمشید خصوصی شمارہ

Harf e awwal

شہادت ایک عظیم رتبہ اور بہت بڑا مقام ہے جو قسمت والوں کو ملتا ہے اور وہی خوش قسمت اسے پاتے ہیں جن کے مقدر میں ہمیشہ کی کامیابی لکھی ہوتی ہے شہادت کا مقام نبوت کے مقام سے تیسرے درجے پر ہے جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے:

فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا (سورہ النساء ۔ 69)

تو ایسے اشخاص بھی ان حضرات کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ تعالی نے انعام فرمایا یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صالحین اور یہ حضرات بہت اچھے رفیق ہیں۔

شہداء زندہ ہیں:

اللہ تعالی کا فرمان ہے:

وَلا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَكِنْ لا تَشْعُرُونَ (سورہ البقرہ ۔ 154 )
اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے جاتے ہیں ان کے بارے میں یہ نہ کہو کہ وہ مردہ ہیں بلکہ وہ تو زندہ ہیں لیکن تمھیں خبر نہیں۔

 

دوسری جگہ ارشاد باری تعالی ہے : 

وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ فَرِحِينَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ أَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ وَأَنَّ اللَّهَ لا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ ( سورہ آل عمران ۔ 169۔171 )

جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے گئے ان کو مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ تو زندہ ہیں اپنے پروردگار کے مقرب ہیں کھاتے پیتے ہیں وہ خوش ہیں اس چیز سے جو ان کو اللہ تعالی نے اپنے فضل سے عطاء فرمائی اور جو لوگ ان کے پاس نہیں پہنچے ان سے پیچھے رہ گئے ہیں ان کی بھی اس حالت پر وہ خوش ہوتےہیں کہ ان پر بھی کسی طرح کا خوف واقع ہونے والا نہیں اور نہ وہ مغموم ہوں گے وہ خوش ہوتے ہیں اللہ کی نعمت اور فضل سے اور اس بات سے کہ اللہ تعالی ایمان والوں کا اجر ضائع نہیں فرماتے ۔

 حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : شہداء جنت کے دروازے پر دریا کے کنارے ایک محل میں رہتے ہیں اور ان کے لیے صبح شام جنت سے رزق لایا جاتا ہے ۔ (مسنداحمد۔ مصنف ابن ابی شیبہ ۔ المستدرک ۔ صحیح علی شرط مسلم )

 حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب بندے قیامت کے دن حساب کتاب کے لیے کھڑے ہوں گے تو کچھ لوگ اپنی تلواریں گردنوں پر اٹھائے ہوئے آئیں گے ان سے خون بہہ رہا ہوگا وہ جنت کے دروازوں پر چڑھ دوڑیں گے پوچھا جائے گا یہ کون ہیں ۔ جواب ملے گا یہ شہداء ہیں جو زندہ تھے اور انہیں روزی ملتی تھی ۔ ( الطبرانی۔ مجموعہ الزوائد )

 حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم احد کے دن حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ پر کھڑے ہوئے تھے اور حضرت مصعب زمین پر شہید پڑے تھے اس دن انہی کے ہاتھ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی :

مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلا ( الاحزاب 23)

ایمان والوں میں کچھ مرد ایسے ہیں کہ انہوں نے جس بات کا اللہ سے عہد کیاتھا اسے سچ کر دکھلایا پھر بعض تو ان میں سے وہ ہیں جنہوں نے اپنا ذمہ پورا کر لیا اور بعض ان میں سے ( اللہ کی راستے میں جان قربان کرنے کے لیے ) راہ دیکھ رہے ہیں اور وہ ذرہ (برابر ) نہیں بدلے ۔

بے شک اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمھارے لیے گواہی دیتے ہیں کہ تم قیامت کے دن اللہ کے سامنے شہداء میں سے ہو پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اے لوگوں تم ان کے پاس آیا کرو ان کی زیارت کیا کرو ان کو سلام کیا کرو قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے قیامت کے دن تک جو بھی انہیں سلام کہے گا یہ اسے جواب دیں گے ۔ ( کتاب الجہاد لابن المبارک مرسلا )

 حضرت محمد بن قیس بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ انصار میں سے ایک شخص جوحضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کیا کرتے تھے احد کے دن ان کو کسی نے بتایا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہوچکے ہیں تو انہوں نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دین پہنچا دیا چنانچہ اب تم سب [مسلمان ] ان کے دین کے لیے جہاد کرو پھر وہ تین بار اٹھے اور ہر بار موت کے منہ تک پہنچے اور بالآخر تیسرے حملے میں شہید ہو گئے جب ان کی اللہ تعالی سے ملاقات ہوئی اور اپنے [ شہداء ] ساتھی بھی ملے تو وہ وہاں کی نعمتیں دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور کہنے لگے اے ہمارے پروردگار کیا کوئی قاصد نہیں ہے جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہماری یہ حالت بتا سکے اللہ تعالی نے فرمایا میں تمھارا قاصد ہوں ۔ پھر اللہ تعالی نے جبرئیل کو حکم دیا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاکر یہ آیات سنائیں ولاتحسبن سے آخر تک ۔ ( اخرجہ المنذری فی تفسیرہ )

 حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن مجھے دیکھا تو فرمایا اے جابر کیا بات ہے تم فکر مند نظر آتے ہو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میرے والد شہید ہو گئے ہیں اور اپنے اوپر قرضہ اور اہل و عیال چھوڑ گئے ہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمھیں نہ بتاؤں کہ اللہ تعالی نے جب بھی کسی سے بات کی تو پردے کی پیچھے سے کی لیکن تمھارے والد سے آمنے سامنے بات فرمائی اور کہا مجھ سے جو مانگو میں دوں گا تمھارے والد نے کہا مجھے دنیا میں واپس بھیج دیجئے تاکہ دوبارہ شہید ہو سکوں ۔ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا میری طرف سے پہلے ہی فیصلہ ہو چکا ہے کہ کسی کو واپس نہیں جانا تمھارے والد نے کہا اے میرے پروردگار پیچھے والوں کو ہماری حالت کی اطلاع دے دیجئے اس پر اللہ تعالی نے یہ آیات نازل فرمائیں : ولا تحسبن الذین سے آخر تک۔ (ترمذی۔ ابن ماجہ ۔ المستدرک )

حضرت امام مالک رحمہ اللہ عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہیں یہ خبر پہنچی ہے کہ حضرت عمرو بن جموع رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ دونوں انصاری صحابی تھے ۔ سیلاب کی وجہ سے ان کی قبریں کھولی گئیں تاکہ ان کی جگہ بدلی جاسکے یہ دونوں حضرات ایک قبر میں تھے جب ان کی قبریں کھولی گئیں تو ان کے جسموں میں کوئی فرق نہیں آیا تھا گویا کہ انہیں کل دفن کیا گیا ہوں ان میں سے ایک کا ہاتھ شہادت کے وقت ان کے زخم پر تھا اور وہ اسی حالت میں دفن کئے گئے تھے دیکھا گیا کہ اب تک ان کا ہاتھ اسی طرح ہے لوگوں نے وہ ہاتھ وہاں سے ہٹایا مگر وہ ہاتھ واپس اسی طرح زخم پر چلا گیا غزوہ احد کے دن یہ حضرات شہید ہوئے تھے اور قبریں کھودنے کا یہ واقعہ اس کے چھیالیس سال بعد کا ہے ۔ (مؤطاامام مالک رحمہ اللہ ۔ سیر اعلام النبلاء )


یہ روایت حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے براہ راست بھی آئی ہے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے کتاب الجہاد میں سند کے ساتھ ذکر فرمایا ہے ۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے نہر کظامہ جاری کرنے کا اردہ فرمایا تو اپ نے اعلان کروایا کہ جس شخص کا کوئی شہید ہوتو وہ پہنچ جائے پھر ان شہداء کے اجسام نکالے گئے تو وہ بالکل تر و تازہ تھے یہاں تک کہ کھودنے کے دوران ایک شہید کے پاؤں پر کدال لگ گئی تو خون جاری ہو گیا ۔ ( کتاب الجہاد لابن المبارک )

 عبدالصمد بن علی رحمہ اللہ [ جو بنو عباس کے خاندان میں سے ہیں ] کہتے ہیں کہ میں اپنے [ رشتے کے ] چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی قبرپر آیا قریب تھا کہ سیلاب کا پانی ان کو ظاہر کر دیتا میں نے انہیں قبر سے نکلا تو وہ اپنی سابقہ حالت پر تھے اور ان پر وہ چادر تھی جس میں انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفنایا تھا اور ان کے قدموں پر اذخر [گھاس] تھی ۔ میں نے ان کا سر اپنی گود میں رکھا تو وہ پتیل کی ہانڈی کی طرح [ چمک رہا] تھا میں نے گہری قبر کھدوائی اور نیا کفن دے کر انہیں دفنا دیا ۔ ( ابن عساکر )

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کوئی شخص جنت میں داخل ہونے کے بعد یہ تمنا نہیں کرے گا کہ اسے دنیا میں لوٹایا جائے یا دنیا کی کوئی چیز دی جائے سوائے شہید کے کہ وہ تمنا کریگا کہ وہ دنیا میں لوٹایا جائے اور دس بار شہید کیا جائے یہ تمنا وہ اپنی [یعنی شہید کی ] تعظیم [ اور مقام ] دیکھنے کی وجہ سے کر یگا ۔ ( بخاری ۔ مسلم )

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قرض کے سوا شہید کے سارے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں ۔ ایک روایت میں الفاظ اس طرح ہیں اللہ کے راستے میں قتل ہو جانا قرض کے سوا ہر گناہ کا کفارہ ہے ۔ ( مسلم شریف )

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب میرے شہید والد کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا اور ان کے ناک کان مشرکوں نے کاٹ دیئے تھے تو میں نے ارادہ کیا کہ ان کے چہرے سے کپڑا ہٹا دو تو لوگوں نے مجھے منع کر دیا اسی دوران ایک چیخنے والی عورت کی آواز سنائی دی لوگوں نے کہا یہ عمرو کی بیٹی یا بہن ہے اس پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم کیوں روتی ہو ابھی تک فرشتوں نے ان پر [ یعنی شہید پر ] اپنے پروں کا سایہ کیا ہوا ہے ۔ 

اللہ تعالی کا فرمان ہے :

إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ ( التوبہ ۔ 111 )

بے شک اللہ تعالی نے مسلمانوں سے ان کی جانوں اور ان کے مالوں کو اس قیمت پر کہ ان کے لیے جنت ہے خرید لیا ہے ۔

اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے :

وَالَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَلَنْ يُضِلَّ أَعْمَالَهُمْ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ (محمد ۔ 4۔ 5 ۔ 6 )

اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جاتے ہیں اللہ کے ان کے اعمال کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا اللہ تعالی ان کو مقصود تک پہنچائے گا اور ان کی حالت سنوارے گا جس کی ان کو پہچان کرادے گا ۔ ( یا وہ جنت ان کے لیے خوشبو سے مہکا دی گئی ہے ) ۔ 

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : رات کو میں نے دیکھا کہ دو آدمی آئے اور انہوں نے مجھے ایک درخت پر چڑھایا پھر مجھے ایک گھر میں داخل کیا جو بہت حسین اور بہت اعلی تھا میں نے اس جیسا حسین محل پہلے نہیں دیکھا ان دونوں نے مجھے بتایا کہ یہ شہداء کا گھر ہے ۔ ( بخاری )

 حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : شہید کے لیے اللہ تعالی کے ہاں سات انعامات ہیں ( 1 ) خون کے پہلے قطرے کے ساتھ اس کی بخشش کر دی جاتی ہے اور اسے جنت میں اس کا مقام دکھا دیا جاتا ہے ( 2 ) اور اسے ایمان کا جوڑا پہنایا جاتا ہے ( 3 ) عذاب قبر سے اسے بچا دیا جاتا ہے ( 4 ) قیامت کے دن کی بڑی گھبراہٹ سے اسے امن دے دیا جاتا ہے ( 5 ) اس کے سر پر وقار کا تاج رکھا جاتا ہے جس کا ایک یاقوت دنیا اور اس کی تمام چیزوں سے بہتر ہے۔ ( 6 ) بہتر حور عین سے اس کی شادی کر دی جاتی ہے ( 7 ) اور اپنے اقارب میں ستر آدمیوں کے بارے میں اس کی شفاعت قبول کی جاتی ہے ۔ ( مسند احمد )

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے شہداء کا تذکرہ کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

 زمین پر شہید کا خون خشک نہیں ہوا ہوتا کہ اس کی دونوں بیویاں [ یعنی حوریں ] اس طرح اس کی طرف دوڑتی ہیں جس طرح دودھ پلانے والی اونٹنیاں کھلے میدان میں اپنے بچے کی طرف دوڑتی ہیں اور ان میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں ایک ایسا جوڑا ہوتا ہے جو دنیا اور اس کی تمام چیزوں سے بہتر ہوتا ہے ۔ (ابن ماجہ ) 

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : شہید کو مرتے وقت صرف اتنا درد ہوتا ہے جتنا تم میں سے کسی کو چیونٹی کے کاٹنے سے ۔

( ترمذی ۔ نسائی ۔ ابن ماجہ ۔ ابن حبان ۔ بیہقی )