جنید جمشید خصوصی شمارہ

Harf e awwal

معروف مذہبی ویب سائٹ درس قرآن ڈاٹ کام کے تحت   شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی صاحب ، شیخ الحدیث جامعہ فاروقیہ ملتان، مولانا زبیر احمد صدیقی،مفتی احمد افنان ،مولانا انس یونس،مفتی زکریا اقبال ، اور ايكس ايکٹر علی افضل،ایاز خان ،انور اقبال اور دیگر حضرات نے تعزیت فرمائی۔  

مولانا زبیر احمد صدیقی:

شیخ الحدیث جامعہ فاروقیہ ملتان کے مولانا زبیر احمد صدیقی نے تعزیت کرتے ہوئے  درس قرآن ڈاٹ کام کے ناظرین سےکہا پورا پاکستان بالخصوص درس قرآن کے تمام اراکین اور ممبر غمگین و شکستہ خاطر ہیں۔اس لئے کہ پاکستان کے محبوب،محب الوطن،وفادار،عاشق رسول...

 

 معروف مبلغ دین و دنیا اسلام کے چمکتے دمکتے ستارے ہمارے بھائی جنید جمشید شہید ہوگئے۔ہم سب کو اس دنیا سے جانا ہے لیکن اگر خاتمہ کلمہ پر  ہو تو جنت میں چلے جانا ہے۔ہمارے بھائی نے  زندگی بھر کلمہ کی محنت کرتے رہے زندگی بھر حضور ﷺکے طریقوں پر چلنے کی تلقین کرتے رہے ۔حق تعالی نے انہیں حسن خاتمہ نصیب فرمایا ۔

مفتی احمد افنان:

مفتی احمد افنان نے درس قرآن ڈاٹ کام سے اپنے دکھ کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ہم سب کو ایک بڑا سانحہ در پیش ہے۔  بلا شبہ بھائی جنید جمشید کی زندگی اور شہادت کے ساتھ تاریخ کا ایک پورا باب ختم ہوا ۔جن کی ابتدائی زندگی لوگوں کو دین سے دور کرنے میں گزری پھر اللہ نے ان کو ہدایت کا چراغ بنایا۔جنید جمشید کی آواز واحد   تھی جو سب سے زیادہ اردو اناشید میں گونجتی تھی۔اللہ نے انکو اتنا بلند مقام دیا کہ دنیا کے 5000 مشہور شخصیات میں انکا نام تھا۔

مفتی محمد نعیم:

جامعہ بنوریہ العالمیہ کے مہتمم مفتی محمد نعیم نے کہا ہے کہ جنید جمشید کی زندگی کو دیکھ کر یورپ اور امریکہ کے ہزاروں نوجوان دین کی طرف لوٹ آئے۔ انہوں نے اپنے بچوں کو حافظ قرآن بنایا اور مجھے کہتے تھے کہ اپنے بچوں کو عالم اور مفتی بناؤں گا۔

جنید جمشید نے جب جوانی میں ہی مذہبی رجحان اپنایا تو ابتدا میں ان کو مشکلات پیش آئیں لیکن الحمدللہ وہ استقامت کے ساتھ لگے رہے ۔ اللہ نے اس کا یہ انعام دیا کہ پوری دنیا نے ان کی عزت کی۔میں دعوے سے کہتا ہوں کہ یورپ اور امریکہ میں ہزاروں نوجوان جنید جمشید کی زندگی کو دیکھ کر اپنی زندگی کو دین پر لے آئے۔ ایک دفعہ جنید جمشید ہمارے مدرسے میں آئے اور میں نے کھانے کا پوچھا تو کہنے لگے کہ وہی کھانا کھاؤں گا جو طلبہ کھاتے ہیں اور پھر وہیں طلبہ کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا۔ اللہ نے انہیں اپنے راستے کی موت دی جو شہادت ہے۔ جنید جمشید حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں میں ہی ممتاز مقام رکھتے تھے۔  اپنے خاندان کے کئی بچے ایسے تھے جن کی تعلیم کے اخراجات برداشت کرتے تھے، کئی سو خاندان ایسے تھے جن کے گھروں میں راشن ڈلواتے تھے۔

مفتی نعیم کا کہنا تھا کہ ایک دفعہ میں نے پوچھا کہ جنید بھائی آپ کو کبھی دین کی طرف رجعت کا افسوس تو نہیں ہوا تو کہنے لگے کہ میں نے سوچ سمجھ کر مذہب کی طرف میلان کیا ہے اور کبھی بھی گلوکاری کی دنیا چھوڑنے کا افسوس نہیں ہوا۔

مولانا انس یونس:

درس قرآن ڈاٹ کام سے  معروف نعت خواں، مولانا انس یونس صاحب اپنا دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے بھائی بہت ہی محترم جنید کے بارے میں پہلا جملہ یہی کہوں گا کہ عاش سعيدا ومات شهيدا۔ہم دعا کرتے رہتے ہیں کہ  ہمیں سعادت کی زندگی اور شہادت کی موت نصیب ہو۔ جنید بھائی اسکے مصداق بن گئے۔12 ربیع الاول کو ARY میں ہمیں اکھٹے  آنا  تھا لیکن جو اللہ کو منظور۔

مفتی زکریا اقبال:

مفتی زکریا اقبال نے درس قرآن ڈاٹ کام سے فرما یا کہ بھائی جنید خوش نصیب لوگوں میں سے تھے جنہوں نے اپنی زندگی بامقصد بنائی۔ہمیں چاہیے کہ ان کے مشن کو سامنے رکھیں جس مشن میں انھوں نے اپنی جان جان آفرین کے سپرد کردی۔

سابق اداکار علی افضل:

درس قرآن ڈاٹ کام سے تعزیتی الفاظ میں سابق اداکار علی افضل نے کہا آج بہت غم سے کہنا پڑ رہا ہے کہ جنید ہم میں نہیں ہے۔it's a great lossیہ قوم کا نقصان نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کا نقصان ہے۔جنید نے پوری دنیا میں سفر کیا۔ آخر اللہ نے ان کو شہادت سے سرخرو کیا۔انکی نسبت اللہ کے راستے کی ہوئی۔

میرا تعلق بڑا گہرا اس لئے تھا کہ پہلی بار دین کے لے جنید بھائی کے ساتھ نکلا۔انکو امت کا درد تھا کہ کیسے ہم سب اختلافات بھلا کر ایک ہوجائیں۔یہ بہت بڑی کاوش تھی ان کی۔جو کچھ وہ کرسکے انہوں نے کیا۔

سابق اداکار ایاز خان:

ایاز خان نے درس قرآن ڈاٹ کام کے ذریعہ کہا کہ جنید بھائی ہمارے لئے بہت بڑی روشنی تھی جو پھیلی ہوئی تھی۔کیونکہ ہم لوگ ساری دنیا کی کامیابی دیکھتے ہیں لیکن اصل کامیابی وہ ہے کہ اللہ کے سامنے سرخرو ہوا جائے۔درس قرآن کے ذریعہ میں سب کو یہ کہوں گا کہ ان کی تقلید کریں۔

سابق اداکارانور اقبال:

درس قرآن ڈاٹ کام پر دکھ کا اظہارکیا کرتے ہوئے سابق اداکار انور اقبال نے کہا کہ جنید جمشید بھائی پیکر حسن اخلاق،محب وطن،وفادار تھے۔ہم نے کبھی انکی زبان سے کسی کی برائی نہیں سنی خواہ  کوئی کسی بھی  مسلک،  کسی دین کا ہو سب سے یکساں سلوک کیا۔جنید جمشید کا  غم برداشت نہیں ہورہا ہم سے لیکن ہمیں اپنے رب کی رضا میں راضی ہونا ہے۔ وہ سریلی نغمگین آواز جو گزشتہ دس برس سے پورے دنیا کے مسلمانوں کو یکساں طور پر محبت الھی اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام سناتی تھی خاموش ہوگئی۔اللہ ہم سب کو بالخصوص انکے غم خوار اہلخانہ کو صبر جمیل عطا فرمائےاور جنید جمشیدصاحب سمیت تمام شہداء کو جنت الفردوس میں اعلی مقام نصیب کرے۔آمین