چھاپیے
Parent Category: Payamehaya URDU
Category: Issue no 27
Visits: 1922
Harf e awwal

’’پتہ نہیں کیوں میرے دل میں آتی ہے کہ آج میں آپ لوگوں کو اپنی کارگزاری سناؤں کہ اللہ نے موسیقی سے اس طرف لانے کا انتظام کیسے کیا۔ آپ یقین کریں گے کہ یہی دن تھے۔ بالکل جولائی کی شدید  گرمیاں تھیں۔ پنجاب میں تو یہ موسم قدرے بہتر ہو جاتا ہے۔کراچی میں جولائی میں حبس بڑھ جاتا ہے اور بہت بڑھ جاتا ہے۔ یہ یہی جولائی کے دن تھے۔میں گاڑی میں بیٹھا تھا ۔ شیشہ چڑھا ہوا تھا اور میں جا رہا تھاکہ میں نے بائیں طرف سے جماعت کو گزرتے ہوئے دیکھا۔

مجھے پتہ تھا کہ یہ کچھ ایسی کوئی جماعت ہے جو لوگوں کو مسجد کی طرف لے جاتی ہے اور تنگ ونگ کرتی ہے ۔ لوگوں کو گھروں سے نکال دیتی ہے۔ تو لوگ اس جماعت سے بھاگتے پھرتے ہیں۔ تو میں کچھ ایسا سنا ہوا تھا۔ میرے دل میں یہ خیال آیا کہ دیکھو تم تو آرام سے گاڑی میں بیٹھے ہو اور یہ دیکھو یہ بے چارے لوگ اللہ کی طرف بلار ہے ہیں اور ان کے کپڑے پسینے میں بالکل بھیگے ہوئے تھے۔ تو تم ان کے بارے میں غلط سوچ رہے ہو تو ایسا نہ ہو کہ آگے جاکر تمھاری گاڑی کہیں لگ جائے۔ اپنی گاڑی کو بچانے کے چکر میں میں نے یو ٹرن لیا اور واپس لا کر ان کے قریب گاڑی روک دی۔ پھر میں گاڑی سے اترا اور جو جماعت کے بزرگ تھے ان سے ہاتھ ملایا اور کہا کہ میرے لیے بھی دعا کریں۔ ایسے ہی کہ دیامیں نے۔

 

تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور کہنے لگے کہ میں آپ کے لیے ضرور دعا کروں گا۔اب مجھے کیا پتہ کہ گشت پر نکلا ہوا ہو کوئی اور وہ دعا کرے تو اللہ قبول نہ کرے یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ ہوسکتا ہے اس اللہ کے ولی نے میرے لیے دعا  کر دی ہو۔ اب آپ لوگ اللہ کا نظام دیکھیں میری بہنو اور بھائیو! اس جماعت میں جو لڑکے تھے ان میں سے ایک نے اپنی مسجد میں جاکر بتایا کہ تمھیں پتہ ہے آج ہمیں روکا کس نے؟ وہ سنگر نہیں ہے جنید جمشید اس نے آج گشت کے دوران  ہمیں روک لیا اور کہا کہ ہمارے لیے دعا کرنا۔ جس مسجد میں اس نے بات کہی اس میں ایک نمازی تھا جو تبلیغ میں لگ چکا تھا وہ وہ سولہ سال پہلے میرے ساتھ سکول پڑھتا تھا۔ اللہ کا نظام دیکھیں۔ اب میرے اس دوست نے مجھے ڈھونڈنا شروع کیا اور اس واقعے  کے تقریباً ایک ڈیڑھ مہینے کے بعد اس نے مجھے ڈھونڈ لیا۔

اور ایک دن جی میرے گھر فون آتا ہے۔ ’’جنید مجھے پہچانا؟‘‘ آپ یقین کریں کہ میں سولہ سال بعد اس کی آواز سن رہاتھا لیکن میں پہچان گیا۔ میں نے کہا ۔’’جنید بول رہے ہو؟‘‘ ہنسنے لگا۔ کہنے لگا تو نے مجھے پہنچان لیا۔ میں نے کہا۔ ’’تو اتنا شرارتی لڑکا تھا کلاس میں اور ہمارے نام بھی ایک جیسے تھے تو میں بھی بدنام رہتا تھا۔‘‘ ہنسنے لگا۔

’’میں نے تیرے سے ملنا ہے۔‘‘

میں نے کہا۔ ’’کیوں؟‘‘

کہنے لگا۔ ’’بس ایسے ہی۔ وجہ کوئی نہیں ہے۔ ‘‘

اچھا ہماری زندگی  ایسی تھی کہ ہمارا دل ملنے کو کسی سے نہیں کرتا تھا۔ ہم نے مینجر رکھے ہوئے تھے جو لوگوں سے ڈیل کرتے تھے۔ ہم تک لوگوں کو پہنچنے نہیں دیتے تھے۔ آپ حیران ہوں گے اگر میں آپ کو بتاؤں ۔ یہ بڑی افسوسناک بات ہے کہ ہمارے اپنے گھر والوں کو ہماری زندگی میں کردار کم ہوتا تھا ان مینجرز کا زیادہ ہوتا تھا۔ آپ نے گھر کب جانا ہے۔ بچوں سے کب ملنا ہے۔ یہ تک ان مینجروں کے ہاتھ میں ہوتا تھا۔ تو اب کوئی مجھے فون کرے کہ میں نے تم سے ملنا ہے تو میں ایسے ہی تھوڑی اس سے مل لیتا۔ اب پتہ نہیں کون ہے کیا میرا وقت ضائع کرے گا۔  میں نے جنید غنی سے کہا کہ ان شاء اللہ اللہ نے موقع دیا تو مل لیں گے۔ اور کڑک ! میں نے فون بند کر دیا۔ ہمیں تو عادت تھی فون بند کرنے کی۔

اگلے دن پھر فون آگیا۔ کیا بات ہے۔ ملنا ہے۔ کیا وجہ ہے۔ وجہ کوئی نہیں بس ایسے ہی مل لیتے ہیں۔ میں نے کہا۔ یار وقت نہیں ہے۔ فون پر بتا دو۔ نہیں فون پر کام کوئی نہیں۔ کڑک فون بند۔ ایک دفعہ ہوا دو دفعہ ہوا۔ اب اس کا میں ہیلو سنتا تھا فون بند کر دیتا تھا۔ یہ سلسلہ ایک دو مہینے تک چلتا رہا یہاں تک کہ جنید غنی کو میرے گھر کے نوکروں کے نام یاد ہو گئے۔ اس کو سب پتہ ہوتا تھا میں کب پاکستان میں ہوں کب نہیں ہوں۔

ایک دن جب اس کا فون آیا تو جب میں رکھنے لگا تو کہنے لگا ۔

’’دیکھ! میں تجھے اللہ کا واسطہ دیتا ہوں، میری ایک منٹ کی بات سن لے۔ ‘‘

میں نے کہا۔ ’’بولو۔‘‘

’’میں ابھی عمرہ کر کے آیا ہوں۔ اور مدینے کی کھجوریں ، زم زم لے کر آیا ہوں۔ یہ لے لے میرے سے ۔ پھر اس کے بعد میں چلا جاؤں گا۔ ‘‘

میں نے کہا۔ ’’کتنی دیر کے لیے آؤ گے تم؟‘‘

’’پانچ منٹ کے لیے!‘‘

میں نے کہا۔’’ہاں! پانچ منٹ۔ جنید غنی یاد رکھنا۔ پانچ منٹ۔‘‘

دوپہر کو مجھے یاد ہے ساڑھے تین بجے پلاننگ ہوئی۔ جنید غنی صاحب آئے۔ میں نے جب اسے دیکھا تو میرا تو دماغ ہی چکرا گیا۔ کیا دیکھتا ہوں۔ سفید لباس، سر پر پگڑی ، اتنی بڑی ڈاڑھی۔ واسکٹ پہنی ہوئی اس نے۔ پائنچے اس کے اوپر۔ میں نے کہا۔ ’’جنید غنی! یہ تجھے کیا ہو گیا؟‘‘

کہتا ہے۔ ’’مجھے کیا ہو گیا؟‘‘

میں نے کہا۔ تو اتنا بڑا شیطان اور اب یہ بزرگ بنا ہوا ہے۔ بیٹھو میرے پاس۔‘‘

وہ آیا میرے پاس بیٹھا۔ اس نے مجھے کھجوریں دیں۔ زم زم دیا۔ جائے نماز دی۔ اور پورے پانچ منٹ کے بعد کہاکہ اب میرے پانچ منٹ پورے ہوئے۔ اب میں چلتا ہوں۔

میں نے کہا۔ ’’نہیں! اب بیٹھ جاؤ اور مجھے بتاؤ یہ سب کیا ہے؟‘‘

کہنے لگا۔ ’’چل چھوڑ اس کو ۔ سکول کی بات کرتے ہیں۔ ‘‘

میں نے کہا۔ ’’چھوڑ سکول کو ۔ یہ بتاؤ یہ کیا ہے۔ کن لوگوں نے تمھارا حال کیاہے یہ؟‘‘

کہنے لگا۔ ’’مل لو ان سے۔‘‘

میں نے کہا۔ ’’ہاں ! میں نے ان سے ملنا ہے۔‘‘

کہنے لگا۔ ’’کل سے ہمارا اجتماع شروع ہو رہا ہے۔ تم چلو میرے ساتھ۔‘‘

میں نے کہا میں چلوں گا۔ وہ کہنے لگا۔

’’کل تمھیں صبح پانچ بجے پک کرنے آؤں گا۔ ‘‘

آپ یقین کریں وہ پانچ منٹ کے لیے ملنے آیا تھا میں نے اس کو ساڑھے تین گھنٹے بٹھا کر رکھا۔میں اس سے باتیں سنتا رہا جنید غنی پھر کیا ہو ا۔۔ پھر کیا ہوا۔ آخر میں میں نے کہا میں تمھارے ساتھ اجتماع پر چلوں گا۔

لیں جی! میں تیار ہو گیا۔ میں نے اپنی نئی صاف ستھری جینز نکالی۔ میں نے ٹی شرٹ نکالی۔ لمبے لمبے میرے بال تھے۔ میں اپنے خیال سے بہترین طریقے سے تیار ہو گیا۔ اب جو میں وہاں پہنچا تو دیکھا کہ ہر آدمی شلوار قمیص میں۔ سر پر ٹوپی۔ میں نے جنید غنی سے کہا۔

’’سن! یہ مجھے کوئی مار وار تو نہیں دے گا ادھر؟ میرا کوئی قتل تو نہیں ہو جائے گا ادھر؟‘‘

کہتا ہے۔ ’’نہیں ہم لوگ مارنے والی پارٹی نہیں کھلانے والی پارٹی ہیں۔ ‘‘

میں نے کہا اچھا لے جاؤ مجھے اندرپھر۔ اب جو میں اندر جانا شروع ہو ا تو اجتماع گاہ میں لوگ میرے پیچھے اکھٹے ہونا شروع ہو گئے۔ پیچھے سے آوازیں آنے لگیں۔

’’ارے یار یہ تو جنید جمشید ہے ناں!‘‘

’’یہ ادھر کیا کر رہا ہے؟‘‘

(مسکراتے ہوئے) تو مجھے یہ بات ہلکی سی بری بھی لگی کہ کیا مطلب تم بہت بڑے مسلمان ہو۔ میں یہاں نہیں آسکتاکیا!خیر میں اندر جا کر بیٹھا تو میں نے دیکھا ایک مجمع سا پہنچ گیا ملنے کے لیے ۔ دیکھنے کے لیے۔ جنید غنی نے مجھے بٹھایا کہ تم ادھر ہی بیٹھو۔ میں ابھی ایک صاحب کو لے کر آتا ہوں۔ وہ مجھے بٹھا کر چلا گیا۔ اتنی دیر میں ایک نوجوان لڑکااٹھارہ انیس سال کا راستہ توڑ بیچ میں سے، میرے پاس آگیا اور کہنے لگا۔

’’جنید بھائی ! نماز پڑھتے ہیں آپ؟‘‘

تو میں اس کو ایسے دیکھنا شروع ہو گیا۔ میں نے سوچا کیا جواب دوں اس کو۔ ہاں بولوں کہ نہیں بولوں۔ سچ بولوں کہ جھوٹ۔ میں اسے دیکھتا رہا۔ لیکن اندر ہی اندر ناں مجھے غصہ آنا شروع ہو گیا کہ اب یہاں یہ ہوگا۔ اگلا پوچھے گا آپ قرآن پڑھتے ہیں کہ نہیں ۔ میری کیا یہاں پر اب Character assassination  ہو گی؟ کیا میں اپنی کردار کشی کروانے آیا ہوں میں یہاں پر؟ تو میں نے جو لڑکا میرے ساتھ بیٹھا تھا اس کو کہا کہ جنید غنی سے بولو میں جارہا ہوں۔ وہ مجھے غلط جگہ لے آیا ہے۔ وہ بھاگا بھاگا گیا اس کے پیچھے  اوراس کو لے آیا۔

جنید غنی نے کہا ۔’’کیا ہو گیا ہے یار؟‘‘

میں نے کہا کچھ نہیں۔


تو لوگ کہنے لگے کہ ابھی ایک لڑکے نے آکر پوچھا تھا ان سے کہ آپ نماز پڑھتے ہیں یا نہیں۔ تو جنید غنی نے کہا کہ تم نے اس لڑکے کو آنے کیوں دیا۔ اتنا غصہ ہوا وہ۔ میں نے اسے ٹھنڈا کیا  اور کہا۔

’’ تو کیوں ناراض ہوتا ہے۔ اس لڑکے نے بات توٹھیک کی ہے ناں ۔ نماز تو مجھے پڑھنی چاہیے۔ ‘‘

تو جنید غنی  نے جو جملہ بولا تھا وہ مجھے آج تک یاد ہے۔اس نے کہا۔

’’جنید! ہم ’’کیوں‘‘ نہیں پوچھتے۔ ہم تو ترغیب دیتے ہیں اور اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ اسے یہ نیکی کرنے کی توفیق دے۔ یہ جملہ آج بھی مجھے یاد ہے۔ اللہ پاک ہمیں بھی توفیق دیں کہ ہم کسی سے یہ نہ پوچھیں کہ تو یہ نے کام کیوں نہیں کیا۔ بلکہ اسے نیکی کی ترغیب دیں اور پھر رات کو اللہ سے دعا کریں کہ یا اللہ اسے نیک کام کی توفیق دے۔

پھر جنید غنی نے ایک صاحب کو بلایا۔ ان کا نام تھا ڈاکٹر بلند اقبال۔ ابھی جب پچھلے رمضان میں میں ’’شان رمضان‘‘ کر رہا تھا ناں تو ڈاکٹر اقبال صاحب بڑے عرصے کے بعد مجھ سے ملنے آئے۔ ان سے مل کر بڑی خوشی ہوئی۔ میں نے ان کو یاد کرایاوہ واقعہ جو میں آپ کو سنانے لگا ہوں۔

تو ڈاکٹر بلند اقبال صاحب میرے سامنے آکر بیٹھ گئے۔ اب تبلیغ والوں کا میں آپ کو بتاؤں کہ سامنے والے کو جانتے نہیں ہیں لیکن انہیں اللہ کی دعوت تو دینی ہے۔ تو پہلے اس سے پوچھتے ہیں کہ آپ کیسے ہیں کیا اسم گرامی ہے۔ اچھا ماشاءاللہ۔ بڑا اچھا کیا آپ آئے۔پھر باتوں باتوں میں پوچھتے ہیں کہ آپ کیا کرتے ہیں۔ تو میرے سے بھی ڈاکٹر اقبال نے پوچھ لیا کہ آپ کیا کرتے ہیں۔ میں چپ کر گیا۔ اب میں ان کی شکل دیکھوں اور سوچوں کہ اب تک جو مار نہیں پڑی وہ اب پڑے گی۔ اب جو میں نے بتایاناں کہ میں کیا کرتا ہوں۔۔۔تو میرے چہرے کے بدلتے تاثرات کو دیکھ کر جنید غنی نےاُن سے کہا۔

’’ارے  ڈاکٹر صاحب! آپ اس کو نہیں پہنچانتے؟ یہ وہ ہے ناں جس نے دل دل پاکستان گایا ہے۔‘‘

 ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں ۔’’ارے واہ واہ! مسلمان کی تو شان ہی یہی ہے۔ جس کام کو کرتا ہے آگے بڑھ جاتا ہے۔ ‘‘

میں نے کہا یہ آدمی ٹھیک آدمی ہے۔ (ہنستے ہوئے) یہ بالکل ٹھیک آدمی ہے۔ اس سے کرو دوستی۔ بعد میں ناں میں نے ڈاکٹر صاحب سے پوچھا کہ یہ اتنا خوبصورت جواب   آپ کہاں سے لائے۔ تو وہ کہنے لگے۔

’’یار! میں نہ تجھے جانتا تھا۔ نہ مجھے دل دل پاکستان کا پتہ۔ تو جب جنید غنی نے بولا ناں کہ اس نے دل دل پاکستا ن گایا ہے تو میں نے کہا واہ واہ واہ! اور دل میں دعا کررہا تھا کہ یااللہ جلدی سے دل میں صحیح جواب ڈال ۔تو میں نے فٹ یہ جملہ کہ دیا۔ ‘‘

اب میں  پورا دن ڈاکٹر اقبال صاحب کے ساتھ ساتھ پھرتا رہا۔ جب دن کا آخر آیاتو جنید غنی کہنے لگا۔

’’ چل میں تجھے گھر چھوڑ دوں۔‘‘

 میں نے کہا۔’’ یہ بستر کیا ہیں جو جگہ جگہ لگے ہوئے ہیں۔‘‘

 کہنے لگا۔’’ یہ لوگ رات کو کہاں سوئیں گے۔‘‘

 میں نے کہا۔’’یہ جو بزرگ حضرات ہیں، یہ؟‘‘

کہنے لگا۔ ’’یہ بھی ادھر ہی سو ئیں گے۔‘‘

میں نے کہا۔’’میں تو ان سے زیادہ فٹ آدمی ہوں۔ اگر یہ بوڑھے لوگ یہاں سو سکتے ہیں تو میں بھی سو سکتا ہوں۔ ‘‘

کہنے لگا۔’’تیرا بھی بسترا لگا دیتے ہیں۔‘‘

میں بھی سو گیا ادھر ہی رات کو۔ شاید زندگی میں پہلی دفعہ تہجد کی نماز پڑھی۔ ایک دن گزرا۔ دوسرا دن گزرا۔ تیسرے دن مولانا طارق جمیل صاحب کا بیان تھا۔ اب مجھے تو نہیں پتہ تھا یہ کون ہیں۔ جب انہوں نے بیان کیا تو میں نے جنید غنی سے کہا۔ ’’یار! سب بہت اچھے اچھے بزرگ تھے ، یہ کون آدمی ہیں؟‘‘

کہنے لگا۔ ’’یہ مولانا طارق جمیل ہیں۔ ‘‘

میں نے کہا۔ ’’میں نے ان سے ملنا ہے۔‘‘

کہنے لگا۔ ’’نہیں بھئی ان سے کوئی نہیں مل سکتا۔ ‘‘

میں نے کہا۔ ’’میرے بھائی! میں اس ملک سے صدر سے بھی مل سکتا ہوں اور وزیر اعظم سے بھی مل سکتا ہوں۔ یہ مولوی سے ملنا کیا مشکل ہے۔‘‘

خیر جی ہم پورے مجمع میں سے نکلے اور کرتے کرتےوہ پیچھے حضرات کے خیمے لگے ہوئے تھے وہاں پہنچ گئے۔ اورنگی کراچی میں ہوا تھا یہ اجتماع اورمیں بات کر رہا ہوں 1997 ستمبر کی۔ 3 تاریخ تھی مجھے ابھی تک یاد ہے میری سالگرہ تھی۔ خیر! جب میں وہاں پر پہنچا تو ایک لڑکا کھڑا ہوا تھا مولوی صاحب کے کمرے کے باہر۔ وہ مجھے دیکھ کر مسکرانے لگا۔ کہنے لگا۔

’’جنید بھائی! آپ ادھر کیا کررہے ہیں۔‘‘

اب مجھے تین دن تو گزر گئے تھے وہاں۔ میں نے کہا۔

’’کیوں بھائی! میں نہیں آسکتا یہاں۔تو بڑا مسلمان ہے میرے سے۔‘‘

’’نہیں نہیں نہیں  وہ میں آپ کو دیکھ کر تھوڑا حیران ہو گیا تھا۔ میں آپ کو بڑا فین ہوں۔‘‘

میں نے کہا ۔’’یہ جو تھے مولانا طارق جمیل مجھے ان سے ملنا ہے۔‘‘

کہنے لگا۔ ’’ان سے ملنے کی تو اجازت نہیں ہے کسی کو۔ ‘‘

میں نے کہا ۔’’تم جا کر بتاؤتو سہی ۔‘‘

’’اچھا میں کچھ کرتا ہوں!‘‘

تھوڑی دیر بعد باہر آکر کہنے لگا۔ آپ جائیں اندر۔

آپ یقین کرو میں نے مولانا طارق جمیل کو کبھی اکیلا بیٹھے نہیں دیکھا۔ اللہ نے شاید اس دن ملوانا تھا یا بات کروانی تھی۔ اکیلے بیٹھے ہوئے تھے اپنے خیمے میں۔ جنید غنی نے  اندر جا کر کہا۔

’’مولانا! میرا ایک دوست ہے جنید جمشید۔ وہ آپ سے ملنا چاہتا ہے۔‘‘

مولانا نے کہا۔’’کون! جنید جمشید!‘‘

میں باہر کھڑا حیران ہو گیا کہ ان کو کیسے پتہ میں کون ہوں۔

’’اندر بھیجو اس کو اندر بھیجو۔‘‘ مولانا نے کہا اور مجھے اندر بلایا۔ جنید غنی سے کہا۔ تم باہر جاکر بیٹھو اور انتظار کرو۔ اب مجھے مولانا صاحب ایسے تیز نظروں سے مجھے دیکھنا شروع کر دیا۔

میں نے کہا۔ ’’آپ مجھے ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں؟‘‘

کہنے لگے۔ ’’میں تمھیں نہیں دیکھ رہا میں اللہ کی شان دیکھ رہاہوں۔ ‘‘

میں نے کہا۔ ’’وہ کیسے؟‘‘

کہنے لگے۔’’تمھارے بڑے بڑے بورڈ لگے ہیں فیصل آباد میں۔ میں اکثر ان بورڈ ز کو دیکھ کر کہتا تھا۔۔۔ (مجھے بعد میں مولانا نے بتایا) ہر ایک کو ہدایت مل سکتی ہے اس کو نہیں مل سکتی۔ آج میں جب ائیر پورٹ پر تھا تو وہاں بھی تمھارا بورڈ لگا ہوا تھا ۔ تو میں نے اللہ سے دعا کی کہ یا اللہ کیا یہ نہیں ہو سکتا کہ اس سے میری ملاقات ہو جائے۔ اور تم اب میرے سامنےبیٹھے ہو۔ میں اللہ کی شان دیکھ رہا ہوں۔ ‘‘

پھر کہنے لگے۔ ’’دل دل پاکستان تم نے گایا ہے ؟‘‘

میں نے کہا۔ ’’آپ نے سنا ہے؟‘‘

کہنے لگے۔’’سنا تو نہیں بسوں کے پیچھے لگا دیکھا ہے۔ ‘‘

میں نے سوچاتعارف یوں نہیں تو یوں سہی۔ آئے تو سہی برسر الزام ہی آئے۔ (مسکراتے ہوئے) ہونٹوں پر کبھی ا ن کے میرا نام ہی آئے! تو میں نے مولوی صاحب سے کہا۔

’’مولانا! میرا ایک سوال ہے۔ ایک پاکستانی جوان  میری عمرکا، جس نام شہرت  کا تصور بھی نہیں کر سکتا وہ سب میرے پاس موجود ہے۔ لیکن میں اندر سے خالی ہوں۔ لوگ اس بات کو نہیں جانتے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ میں بہت خو ش ہوں۔ لیکن میں اندر سے بہت پریشان ہوں۔ اس کی وجہ میری سمجھ نہیں آتی۔ ‘‘

فرمانے لگے۔ ’’تمھیں چوٹ لگی ہے سیدھے گھنٹے پر اورتم مرہم لگا رہا ہے الٹے گھٹنے پر!‘‘

میں نے کہا۔’’جی وہ کیسے؟‘‘

فرمانے لگے۔’’دیکھو اللہ نے انسان کو دو چیزوں سے بنایا ہے۔ایک جسم جو مٹی کا بنا ہوا ہے اور ایک روح جو اللہ کا امر ہے۔ جسم چونکہ مٹی کا ہے توا للہ نے اس کی تمام ضرورتوں کو مٹی میں رکھا ہے۔ جو کھانا ہم کھاتے ہیں پانی پیتے ہیں کپڑے پہنتے ہیں ۔ روح اللہ کا امر ہے یہ آسمانوں سے آئی ہے تو اس کی خوراک بھی اوپر سے آئے گی زمین میں نہیں ہے۔ اگر میں تم کو سونے کے محل میں بند کردوں اور چار دن کھانے کو نہ دوں۔ تو تم کیا کرو گے؟‘‘

میں نے کہا۔ ’’جی میں چیخوں گا کہ مجھے کھانے کو دو۔‘‘

فرمانے لگے۔’’بس یہی حال تمھاری روح کا ہے۔ تمھاراجسم اچھے اچھے کپڑے پہنتا ہے۔ بڑی بڑی گاڑیاں چلاتا ہے۔ اچھے محل میں رہتا ہے۔ پھر تمھاری  روح جب بھوکی ہو کر چیختی ہے تو تمھارے سر میں درد ہونے لگتا ہے۔ تم اس روح کی بھوک کا بھی تو کوئی علاج کرو۔‘‘

میں نے کہا۔ ’’اس کی خوراک کہاں ہے؟‘‘

کہنے لگے۔’’یہ آسمانوں سے آئی ہے۔ اس کی خوراک زمین میں نہیں ہے۔ دل کے چین اور سکون کا تعلق اس مٹی  کے بنے ہوئے جسم سے نہیں ہے  بلکہ اس آسمان سے آئی ہوئی روح سے ہے۔ اس کی غذا اللہ کا کلام ہے۔ اللہ کا حکم ہے۔ نبی کی زندگی ، طریقے اور سنتیں ہیں۔ وہ جب تک نہیں ملیں گی یہ روح چیخے گی۔ پھر تم تو مسلمان ہو تمھیں پتہ ہے۔ لیکن غیر مسلم اس چیخ کو سلانے کے لیے کبھی شراب پیتے ہیں کبھی نشہ کرتے ہیں ۔ جب تک روح بھوکی ہے اس وقت تم اندر سے بے چین رہو گے۔ الا بذکر اللہ تطمئن القلوب۔ دلوں کا اطمینان اللہ کے ذکر میں پوشیدہ ہے۔مالدارو ،شہرت والو، حکومت والو، اگر دل کا چین چاہیے تو اللہ سے تعلق بنانا پڑے گا۔ ‘‘

میں تو پہلے ہی پریشان تھا اور  تین دن سے بیان سن رہا تھا،  مولانا کی یہ بات سن کر میں دھاڑیں مار کر رونے شروع ہو گیا۔ کافی دیر روتا رہا۔ جب تھوڑا چین آیا تو میں نے مولانا سے پوچھا۔

’’مولانا اس کا مطلب ہے میری پوری زندگی برباد ہو گئی؟‘‘

انہوں نے کہا۔’’نہیں!بالکل نہیں۔ یہ معاملہ تم دنیا والوں سے تھوڑی کر رہے ہو۔ یہ تو تم اللہ سے معاملہ کر رہے ہو۔ اوراللہ کے ہاں معاملہ یہ ہے کہ ابھی انسان سوچ ہی رہا ہوتا ہے گناہوں کی معافی مانگنے کا تو اللہ معاف کردیتا ہے۔ پھر حدیث قدسی سنائی کہ اے انسان اگر تم گناہوں سے زمین و آسمان بھر دو سارے کے سارے، جو کہ اگر تمام جن و انس مل کر بھی نہیں کر سکتے۔ پھر ایک دفعہ  اللہ سے کہو مجھے معاف کر دے تو وہ سارے معاف کر دیتا ہے۔ ‘‘

میں یقینی سے مولانا کو دیکھنے لگا۔

پھر انہوں نے پوچھا۔ ’’توبہ کرو گے؟‘‘

میں نے کہا۔ ’’کس چیز سے؟‘‘

کہنے لگے۔ ’’پچھلی زندگی سے۔‘‘

میں سوچ میں پڑ گیا ۔ پھر میں نے کہا ۔ یا اللہ میں توبہ کرتا ہوں۔ اور دل میں کہنے لگا کہ یااللہ میوزک چھوڑنے کا میرا کوئی ارادہ نہیں ۔ پتہ نہیں یہ مولوی کیا کہ رہے ہیں۔ لیکن اگر تجھے اس سے بھی کوئی اچھی زندگی میرے لیے نظر آتی ہے تو وہ میرے نصیب میں کر دے کہ واقعی میں میں تجھے راضی کرنا چاہتا ہوں۔ تجھے خوش کرنا چاہتا ہوں۔ اے اللہ اپنی پچھلی پوری زندگی پر توبہ کرتا ہوں۔ اپنی اگلی زندگی میں تجھے خوش کرنے کی کوشش کروں گا۔ اگر تو واقعی ایسا ہے جیسا کہ یہ مولوی صاحب فرما رہے ہیں تو تو مجھے معاف کر دے۔

مولوی صاحب  کہنے لگے۔ ’’کیسا محسوس کر رہے ہو؟‘‘

میں نے کہا۔ ’’مولوی صاحب بہت ہلکا۔ ایک بات ہے کہ میوزک روح کی غذا ہے۔ ‘‘

مولوی صاحب نے کہا۔ ’’نہیں۔ موسیقی نفس کی غذا ہے۔‘‘

میں آپ کو بتاؤں میری بہنو بھائیویہ ایسا زہر ہے جب اندر جاتا ہے تو پتہ نہیں چلتا کہ نقصان کتنا کر گیا ہے۔ ٹرائی نہ کرنا۔ لیکن اگر کچھ دیر بیان سنو پھر آدھ منٹ گانا سن لو تو سب  اچھی باتیں صاف ہو جاتی ہیں۔ صفایا ہو جاتا ہے۔ یہ حلا ل ہے حرام ہے یہ آپ علماء سے پوچھو۔ میں آپ کو بتا رہاہوں جو ہوتا ہے۔ موسیقی انسان کو بے باک کر دیتی ہے۔ مجھ سے ایک بندہ کہنے لگا اب آپ کے لیے پچھلی زندگی کی طرف جانا تو مشکل لگتا ہو گا۔ میں نے کہا کوئی مشکل نہیں۔ گلا تو وہی ہے۔ گا تو سکتے ہیں۔ لیکن اب پچھلی زندگی کی طرف جانے سے بہترمجھے لگتا ہے کہ میں آگ میں چھلانگ لگا دوں۔ کہ وہ اتنی ایک خطرناک زندگی۔۔۔ صرف گانا نہیں ہوتا وہ ایک پوری زندگی کا نام ہے۔ جیسے یہ ایک پوری زندگی کا نام ہے صرف دعوت کے دو بول کا نام زندگی نہیں ہے۔ میرے دوست مجھ سے لڑتے تھے کہ یار تو ادھر گانا گا۔ ادھر جا کر اذان دے دے۔ میں نے کہا ایسے تو نہیں ہوتا بھئ۔ گانا گانے والے کو تو اذان کی آواز سے نعوذ باللہ کراہیت آتی ہے۔کنسرٹ ہو رہا ہوتا تھا تو مغرب کی اذان کی آواز آتی تھی تو اس کے بول ہمارے سینے کو پھاڑ کرنکل جاتے تھے۔ یہ کوئی کھیل مذاق تو نہیں ہے۔

خیر میں مولانا کے خیمے سے باہر نکلا سوچتا ہواجانے لگا۔ میرے اندر آپ یقین کرو ایک تلاطم برپا ہوگیا۔ ایسی جنگ میرے اندر خیرو شر کی شروع ہو گئی کہ میں راتوں کو اٹھ جاتا تھا۔ پوری پوری رات جائے نماز کھول کر بیٹھا رہتا تھا سوچتا رہتا تھامیں کیا کرنے لگا۔ ایک لمحے کے لیے خیال آتا تھا تو تو بہت نیکی کر رہا ہے لوگوں میں محبتیں پھیلا رہا ہے۔دوسرے لمحے خیال آتا تھا کہ کیا یہ بات اللہ اور رسول اللہ کو منظور ہے کہ میں کیا کر رہا ہوں۔ یہ میں آپ کو بتا رہا ہوں جو میرے پر گزری ہے۔ اور یہ میں گر کی بات بتا رہاہوں۔ جب بھی شیطان آپ کو ورغلائے گاناں وہ دو بتائے گے۔ یار یہ تبلیغ والوں سے ملنا مت۔ بات نہ کر نا ان سے۔ دوسری بات مسجد میں نہ جانا۔اور بہنو یہی تمھارے ساتھ بھی ہو گا۔ وہ جو ہے ناں تبلیغی اس کی بیوی کو فون نہ کرنا۔ اب تعلیم میں نہ جانا۔ ایک کام کیا کرو۔ گھر والی کو کارگزاری سنایا کرو۔ عورت کا دل مر دسے دس گنا اللہ کی بات جلدی قبول کرتا ہے۔ میں جب اپنی بیوی کو کارگزاری سناتا تھا ناں تو اس کی حالت بدلی ہوئی دیکھتا تھا۔ حالانکہ نہ اس نے وہ اعمال کیے نہ دیکھے۔ بیوی کا ذہن بنے گا تو دین بچوں میں آئے گا۔ تو میں آہستہ  آہستہ تین دن کی کارگزاری اپنی بیوی عائشہ کو سنانے لگا۔ پھر اپنی والدہ مرحومہ کو سنانے لگا۔ کرتے کرتے گھر کی خواتین میں سب سے پہلے میری والدہ پردے میں آگئیں۔

اللہ کی شان ہے اور میں آج بھی شکر کرتا ہوں اور دل سے دعا کرتا ہوں کہ دنیا کی ہر عورت کو اللہ اسی طرح دنیا سے لے کر جائے جس طرح میری والدہ گئیں۔ میں مختصراً بتاتا ہوں۔ میری ساؤتھ افریقہ کی تشکیل تھی۔ پیچھے والدہ کی طبیعت بہت خراب ہو گئی۔ میرے بھائی نے بولا۔

’’جنید امی جا رہی ہیں۔ امی نے اب نہیں رکنا۔ تم آجاؤ۔‘‘

میں نے ساتھیوں سے مشورہ کیا۔ سب نے کہا چلے جاؤ پھر ساری زندگی یاد کرو گے۔ اب میں نے امی کو فون کیا۔ میں نے کہا۔ ’’امی میں آجاؤں؟‘‘

کہنے لگیں۔ ’’ہر گز نہیں بیٹا!‘‘

میں نے کہا۔ ’’کیوں؟‘‘

کہنے لگیں۔’’میں کتنی خوش قسمت ہوں اور میں اللہ کو بتاؤں گی کہ جب میرا انتقال ہو ا تو میرا بیٹا تیرے راستے میں تھا۔  تو تم مت آؤ۔ مجھے کچھ نہیں ہو گا۔ اگر ہو گیا تو اس کو اللہ کی مرضی سمجھنا اور میرے لیے دعا کرنا۔ ‘‘

اللہ کی شان امی کا انتقال نہیں ہوا۔ میں چالیس دنوں بعد واپس آیا۔ بہت خوش ہوئیں۔ مجھے لگے لگایا۔ کہنے لگیں۔

’’دیکھو میں نے کہا تھا ناں تم نہ آتے واپس۔‘‘

پھر حضرات نے دس دن کی کینڈا میں میری تشکیل کر دی ۔ میں نے کہا۔

’’اماں میں چلا جاؤں؟‘‘

کہنے لگیں۔’’چلے جاؤ۔ میں تو بالکل ٹھیک ہوں۔ ‘‘

میں جس دن گیا ہوں اس دن ہم ٹورنٹو کی مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے تو پوری ٹورنٹو کی شوریٰ سامنے بیٹھی ہوئی تھی۔ میرا بیان تھا۔ بیان کے دوران میرا موبائل بند ہو گیا۔ میں نے ساتھ رکھا ہوا تھا اور بہن سے بولاہوا تھا کہ اماں کے بارے میں بتاتی رہے۔ تو موبائل اچانک بند ہو گیا۔ اب وہ چلے ہی نہ۔ خیر میں نے سائیڈ پر رکھا اور بیان کرتا رہا۔ جب میں عشاء کی نماز کے لیے کھڑا ہوا تو پیچھے سے ساتھیوں نے آکر بتایا کہ والدہ کا انتقال ہو گیا ہے۔ میں نے بہن کو فون کیا۔ کہتی ہے ابھی فجر سے تھوڑا پہلے انتقال ہوا ہے۔

رات دو ڈھائی بجے امی نے میری بیوی کو بلایا اور کہنے لگیں۔

 ’’دیکھو بیٹا میں نے تو تمھیں ساری زندگی بیوی کی طرح رکھا لیکن میں ساس ہوں کمی بیشی ہو سکتی ہے۔ اگر کوئی ہوئی ہو تو مجھے معاف کر نا۔‘‘

 تو میری بیوی نے کہا۔

’’امی آپ کیسی باتیں کر رہی ہیں؟ مجھے تو آج تک کبھی خیال ہی نہیں آیا۔ آپ نے مجھے بیٹی سے کم کبھی سمجھا ہی نہیں۔‘‘

پھر میری بہن کو بلایا اور کہا۔

’’بیٹا ! مجھے لگتا ہے میں اب چلی جاؤں گی۔ مجھے سورۃ یاسین سناؤ۔ ‘‘ تو میری بہن کہتی ہے تھوڑی دیر بعد آنکھیں بند کر کے لیٹ گئیں اور کہنے لگیں ۔

’’اب مجھے سورۃ رحمٰن سناؤ۔‘‘

سنتے سنتے آنکھیں کھولیں اور کہنے لگیں۔ ’’یہ دیکھو۔ کس قدر حسین عورت تمھارے ساتھ کھڑی ہوئی ہے۔ ذرا اپنے اس طرف دیکھو۔ یہ مجھے لینے آئی ہے۔‘‘

میری بہن نے کہا۔ ’’اماں یہاں تو کوئی نہیں کھڑا۔‘‘

تو کہتی ہیں۔’’نہیں اس کے پیچھے دیکھو۔ وہاں بھی کچھ لوگ کھڑے ہیں۔ ‘‘

میری بہن نے کہا۔ ’’اماں چلیں کلمہ پڑھیں۔‘‘

کہنے لگیں۔’’اپنے ابا کو بلاؤجلدی سے۔‘‘

ابا آئے تو کہنے لگیں۔ ’’دیکھیں میں نے ساری زندگی آپ کی عزت کا خیال رکھا ۔ میرے لیے وہ نمبر ایک چیز تھی۔ اس میں اگر کمی بیشی ہوئی ہو تو مجھے معاف کر دیں۔‘‘ پھر کلمہ پڑھا اور آنکھیں بند کر لیں۔ اللہ پاک ہر عورت کو ایسے جانے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین

خیر دوستو ! اس طرح میں تبلیغٖ میں گرتا پڑتا چلتا رہا۔ مولوی عمران سے میری اسی وقت دوستی ہو گئی۔مرکز میں مجھے نظر آتے رہتے تھے۔ نئے نئے وظائف  مجھے بتاتے رہتے تھے۔ کرتے کرتے میں نے ارادہ کیا چار مہینے لگاتا ہوں۔ یہ کورس ضروری ہے۔ پہلے چالیس دن دنای کا رنگ اترتا ہے۔ زنگ اترتا ہے۔ اگلے چالیس دنوں میں تبلیغ کا رنگ چڑھتا ہے۔ پھر اگلے چالیس دنوں میں اللہ کی معرفت نصیب ہوتی ہے۔ پھر اللہ اسے سوسائٹی پروف بنا دیتے ہیں۔ ایسا بندہ جہاں جاتا ہے ماحول بنا دیتا ہے۔ لوگوں کی بری باتوں کا اس پر اثر نہیں ہوتا۔ خیر میں نے اپنے دوست کے ساتھ مل کر ارادہ کر لیا۔ جون جولائی میں میرا دوست تو نکل گیا میں نہیں نکل سکا۔

ایک دن اس کا مجھے فون آتا ہے۔ یہ ہے جی سولہ اکتوبر کی بات2001!

’’جنید بھائی ! میں چار مہینے لگا کر آگیا۔ ‘‘

میں نے کہا۔ ’’چار مہینے ہو گئے؟ اتنی جلدی؟‘‘

کہنے لگا۔ ’’ہاں بس ہو گئے۔ گزر گئے۔ مجھے پتہ نہیں کیسے گزرے ۔ بس ضائع ہی ہو گئے۔ ‘‘

میں نے کہا۔ ’’کیسے؟‘‘

کہنے لگا۔ ’’میں اپنے ابا کو ساتھ لے گیا تھا یار! چار مہینے ابا بیمار رہے۔ میں ان کی خدمت ہی کرتا رہا بس۔ اور کچھ نہیں کیا۔ ابا کا بیشاپ پاخانہ مسجد میں ہی نکل جاتا تھا۔ میرے تو چار مہینے ضائع ہی ہو گئے۔‘‘

اس کی اس بات نے مجھے ہلا کر رکھ دیا۔ ایک آدمی کو اپنے باپ کی ایسی خدمت کا موقع ملا ہو اور بھی اللہ کے راستے میں اور وہ کہے کہ میرے تو دن ضائع ہی ہو گئے۔ ۔۔ چارمہینے بعد اس کے باپ نے اسے گلے سے لگایا اور کہا۔

’’بیٹا ! تیری وجہ سے میرے چار مہینے لگ گئے۔‘‘ اس کے دو دن بعد وہ فوت ہوگئے۔ ہم خود تھے ان کے جنازہ میں ۔

میں نے ارادہ کر لیا میں چار مہینے کے لیے جارہا ہوں۔ میں بیوی کے پاس گیا۔ میں نے کہا۔

’’میں چار مہینے کے لیے جارہا ہوں۔‘‘

کہتی ہے۔ ’’کب؟‘‘

میں نے کہا۔ ’’کل!‘‘

کہتی ہے۔’’آپ جائیں! میں پیچھے سے زہر کھا لوں گی۔ ‘‘

میں نے سوچا چانس لیا جائے یا نہیں ۔ موقع تو بہت اچھا ہے۔ میں نے مولوی طارق جمیل کو فون کیا۔ انہیں بتایا تو وہ کہنے لگے۔

’’میرا تیس سال کا تجربہ ہے۔ بیویاں اتنی بے وقوف نہیں ہوتیں۔ تم ایسا کرو۔ رات کے کھانے میں اپنی بیوی کے منہ میں نوالہ ڈالو۔ ‘‘

اب دیکھیں میری والدہ ہندوستانی ہیں  اور میرے والد صاحب پٹھان ! اب پٹھان اپنی بیوی کے منہ میں نوالہ ڈالے!ویسے شرم آتی ہے۔ میں نے کہا کس طرح کروں گا۔ اب کھانے پر بیٹھے ہوئے۔ بیوی کہتی ہے  آپ کھانا کیوں نہیں کھا رہے ، میں نے کہا۔ کھاتا ہوں کھاتا ہوں۔ آخر میں نے دعا پڑھی جل تو جلال تو صاحب کمال تو۔ اور اپنی بیوی کے منہ میں نوالا ڈال دیا۔

وہ جھینپ سی گئی ۔ کہنے لگی۔

’’یہ کس نے سکھایا آپ کو؟‘‘

میں نے کہا۔’’مولوی طارق جمیل نے۔‘‘

کہنے لگی۔ ’’آپ کی اس پوری تبلیغ میں ایک وہی آدمی ٹھیک ہے!‘‘

(قہقہ لگا کر ہنستے ہوئے)

پھر کہنے لگی ۔ ’’کام کیا ہے آپ کو۔‘‘

میں نے کہا۔ ’’یار مجھے جانے دے چار مہینے کے لیے۔‘‘

پھر میری بیوی نے میرا بیگ بنایا۔ اس اللہ کی بندی کے لگے چارمہینے۔ میں تو پوری دنیا گھومتا رہا۔ اس نے میرے بچوں کو دیکھا۔ میرے ماں باپ کی خدمت کی۔ پیسے مرے پاس نہیں تھے۔ میں نے اس  سے پوچھا عائشہ تم کیسے چلاؤ گی سب۔ اللہ جانتا ہے اس نے کیسے کیا۔ اللہ اسے جزائے خیر دے۔ اللہ اسے خوش رکھے۔

اور ۔۔۔میرے چار ماہ لگ گئے!  اس طرح لگے۔ تو گھر والی کا ذہن بنے گاناں تو کام بنے گا۔ کیونکہ یہ دعوت کی لائن ایسی ہے کہ اللہ نے عورت اور مرد کو ساتھ ساتھ رکھا ہے۔

اسی طرح سے وقت چلتا رہا اور میری زندگی کے پانچ سال گزر گئے۔ میں یہ فیصلہ کر لیا پانچ سال بعد کہ آج کے بعد نہیں گاؤں گا۔ فون آتا ہے جمالی صاحب وزیر اعظم (2002) کے ملٹری کا کہ پنڈی میں مادر ملت ٹرین لانچ ہورہی تھی۔ اس کی پہلی تقریب تھی۔ اس میں دل دل پاکستان آپ نے گانا ہے۔ میں نے کہا۔ میں تو توبہ کرچکا ہوں۔

تو انہوں نے کہا پرائم منسٹر آپ سے خود بات کرنا چاہیں گے۔ جمالی صاحب بہت نفیس آدمی ۔۔ کہنے لگے۔

’’جنید صاحب! بے نظیر بھٹو کا ٹائم آیا آپ نے گایا، نواز شریف کا ٹائم آیا آپ نے گایا ، ہمارا ٹائم آیا آپ نے توبہ کر

لی۔‘‘

میں نے کہا۔ ’’سر! میں گاؤں گا لیکن میری ایک شرط ہے۔ میں وہاں اعلان کروں گا میں آخری بار گا رہا ہوں۔ آپ کو منظور ہے؟‘‘

کہنے لگے ۔’’جی منظور ہے۔‘‘ ان کے ساتھ تھے انفارمیشن منسٹر شیخ رشید صاحب۔ شیخ رشید نے سال کا چلہ لگایا ہوا ہے 1990 میں۔ کبھی ان سے چلے کی کارگزاری سنیں تو بڑا ایما ن بڑھتا ہے۔ وہ اس وقت کے قصے سناتے ہیں جب لوگ رائیونڈ میں بیٹھے ہوتے تھے تو ٹرین سامنے سے گزرتی نظر آتی تھی۔ اللہ نے شیخ رشید صاحب سے دعوت کی لائن میں بڑے خیر کے کام لیے ہیں۔ اسلام آباد میں ایک دفعہ اجتماع کی اجازت نہیں مل رہی تھی۔ حالات خرا ب تھے۔ یہ گئے پرویز مشرف کے پاس اور کہا۔ ’’میں گارنٹی دیتا ہوں ۔ سر ان کو کرنے دیں۔‘‘ میں نے شیخ رشید صاحب سے کہا۔ ’’سر آپ نے تو وہ چھکا مارا ہے ایک ہی بار۔ تین دن میں تین لاکھ لوگ جمع ہوئے۔ اللہ کی باتیں ہوئیں۔ سینکڑوں جماعتیں نکل گئیں۔  بڑا خوش ہوئے میری بات سن کر۔ ‘‘