چھاپیے
Parent Category: Payamehaya URDU
Category: Issue no 27
Visits: 2198
Harf e awwal

جنید جمشید۔۔ ایک آواز ایک شخصیت  دردناک سانحے میں ہم سے رخصت ہو گئی۔ وہ شہید ہو کر سرخرو ہو گیا۔ اللہ نے اس کی زندگی قبول کر لی اور موت بھی شہادت کی صورت میں عطا فرمائی۔ جنازہ اتنا طویل و عریض تھا کہ مولانا طارق جمیل کو کہنا پڑا۔ ایسے جنازے تو بادشاہوں کے بھی نہیں دیکھے۔ مجھ سمیت اکثریت کو تو اب تک اس مرگ ناگہاں کا یقین نہیں۔ جب بھی اس کی آواز کانوں میں پڑتی ہے تو لگتا ہے ابھی وہ کہیں سے مسکراتا ہو ا آجائے گا اور کہے گا ۔’’میرے دوستو!  میں کہیں نہیں گیا۔ میں تو یہیں ہوں۔۔‘‘  وہ گیا تو ہزاروں لاکھوں دلوں کو ویران کر گیا۔ دنیا کا ہر کونا اس کی جدائی میں اداس سا دِکھتا ہے۔ اپنے پرائے ہم وطن اجنبی یہاں وہاں  سبھی شاک میں ہیں۔  جب اس کی نعت دل کے تاروں کو چھوتی ہے تواس کے چاہنے والوں کے آنسو نہیں تھمتے۔

بس ایک موتی سی چھب دیکھا کر، بس ایک میٹھی سی دھن سنا کر
ستارا شام بن کے آیا، برنگ خواب سحر گیا وہ​

 

نہ صرف وطن کے بچوں کے لیے بلکہ غیر ممالک میں مقیم ہزاروں پاکستانی بچوں کے لیے   محبوب رہنما، آئیڈیل اور فیورٹ ، جنید جمشید تھا۔ اس کی نعتوں، اس کی باتوں اور اس کی مسکراہٹوں نے وطن سے دور مکمل غیر اسلامی ماحول میں پلنے والے بچوں کو دینی اقدار یاد کروارکھی تھی۔ وہ بچوں کو پیارے نبی ﷺ کی سنتیں یاد کروانے کا ایک سبب  تھا۔ اس کی شہادت اور اچانک موت نے یکدم بچوں کے چہروں سے مسکراہٹ چھین لی ہے۔

ہمارے جاننے والے مدینہ گئے تو بتایا کہ لو گ وہاں جنید جمشید کے لیے دعائیں کر رہے تھے۔ اس کی نعتیں سن رہے تھے۔ یہ محبت یہ عشق صرف جنید جمشید کے حصے میں آیا۔ امتی امتی نعت آج ہر ایک کی زبان پر ہے۔ یہ صرف الفاظ نہیں بلکہ محبت خلوص اور اتحادِ امت کا پیغام ہے جو وہ دے کر چلا گیا ۔ اس کی زندگی میں ہر کوئی اپنے ہی دائرے میں گھو م رہا تھا اس کی شہادت نے یکدم سب کو  یکجا کر دیا۔ اس کے لیے تمام طبقات کے لوگ ایک ہی تسبیح کے دانے تھے۔وہ جو بظاہر دین دار نہیں لگتے تھے وہ ان کا بھی محبوب تھا۔ ہر سلیم الطبع شخص اس کا دیوانہ تھا۔ ہر ایک کے لیے اس کے پاس صرف ایک جذبہ تھا۔ محبت! بس! اس کی ایک  ہی خواہش تھی۔ مسلمانوں میں اتحاد پیدا ہو جائے۔ یہی پیغام وہ اپنی آواز اپنے الفاظ سے دے کر چلا گیا۔ اگر اب بھی ہم اس کی زندگی سے کوئی سبق نہ سیکھ سکیں تو یہ ہماری بہت بڑی بدنصیبی ہے۔

غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اس کی زندگی اتنی مقبول کیوں تھی۔ کیسے تھی۔ اس کی شخصیت کے پہلوؤں  پرغور کرنے کی ضرورت ہے ۔  اس کا عالی و بلند اخلاق سیکھنے کی ضرورت ہے۔اس کی جیسے نرمی اور محبت اپنانے کی ضرورت ہے۔ اس کی دین کے لیے قربانیاں دیکھیں ۔ جب اس کے پاس ماں کی دوائی اور بچوں کی فیس کے لیے پیسے نہیں تھے تو پیپسی والوں کا کروڑوں کا  کنٹریکٹ اس کے سامنے تھا۔ نہیں لیا۔ کیوں؟ اللہ کے لیے۔ قربانی دے دی۔ خالی ہاتھ بیٹھا رہا۔ پھر اللہ کی مدد آئی۔ کپڑے کا کاروبار شروع ہو گیا۔ اناڑی پن ساتھ تھا ۔ پہلا نمونہ کاٹا تو چھوٹا ۔ دماغ ماؤف۔ دونوں پارٹنر بیٹھ گئے۔ اب کیا کریں۔ یکایک بنگلہ دیش سے تاجر آگیا۔ کپڑے چاہیٔیں ۔ چھوٹے سائز کے کٹے ہوئے۔ جی موجود ہیں ۔تیار ہیں۔  لے جائیں۔ دو دن میں سب بک گئے۔ جو اللہ کے لیے گناہ چھوڑ دیتا ہے اس کو اللہ ایسے سبب سے رزق عطا کرتا ہے جہاں سے گمان بھی نہیں ہوتا۔ یہ سب کتابی باتیں نہیں ہیں۔یہ کوئی کہاوت نہیں ہے۔ یہ سب ہوا ہے۔ جنید جمشید نے اپنی زندگی میں یہ سب دیکھا ہے۔ سہا ہے۔ اللہ اپنے بندوں پر آزمائش ڈالا کرتا ہے۔

اللہ نے اس کے لیے عزت لکھ دی تھی۔  جس نے لاکھ کوشش کی ، اس کے دامن کو داغدار نہیں کر سکا۔ وہ ایک ایک کر آزمائشوں کی سیڑھیاں چڑھتا گیا اور بلند ہوتا گیا۔ ہم سب کی نظروں اور ظرف سے زیادہ۔ وہ تو دلوں کا حکمران تھا اور دھڑکنوں میں بستا تھا۔ اس کے خلاف جو بھی طوفان اٹھا، گرد کی طرح بیٹھ گیااور اس کی شخصیت کی چمک دمک  لوگوں پر اور زیادہ عیاں ہو گئی۔

جنید جمشید  کی شخصیت ایک پل کی مانند تھی۔ وہ دنیا کی رونقوں میں ڈوبے ہوئے نوجوانوں کو اللہ  اور اللہ والوں سے جوڑنے کا ذریعہ تھے۔ دھیر ے دھیرے وہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے مسلمانوں کی زندگی بدل رہے تھے۔ اگر ایک طرف جنید جمشید کا اٹھنا بیٹھنا علمائے کرام اور اللہ والوں کے ساتھ تھا تو دوسری طرف وہ شوبز کے دوستوں سے بھی جدا نہیں تھے۔شاید اسی لیے ،  ہر سو  اپنی مسکراہٹوں سے روشنی پھیلانے والے جنید جمشید کی یاد لوگوں کے دل سے ابھی تک محو نہیں ہو سکی۔

کبھی فوٹو شاپ کے ذریعے کبھی سوشل میڈیا کے ذریعے اس کا دامن دل تار تار کیا گیا۔ جس نبی ﷺ کی سنتوں کی طرف وہ لوگوں کو شب و روز بلاتا تھا اسے اسی نبی کا گستاخ کہا گیا نعوذ باللہ۔ آئے ہائے! اس کا دل ٹوٹ ٹوٹ نہ گیا ہو گا۔  کیا وہ پتھر کا دل رکھتا تھا؟  وہ راتوں کو روتا تھا۔ دھاڑیں مارتا تھا۔ اللہ کے آگے اپنے  سب غم اور تکلیفیں رکھ دیتا تھا۔بعض اوقا ت اس کی پوری پوری رات  ہی رونے میں گزر جاتی تھی۔ ہائے کیسے آدمی کو کھو دیا ہم نے۔ کیا کیا برا سلوک نہیں کیا ہم نے اس کے ساتھ۔ لیکن اس نے پھر بھی آواز بلند نہیں کی کہ لوگو! کچھ تو عقل کرو۔ جس بات کی تحقیق نہ کی ہو اس کو دلیل بنا کر کیچڑ کیونکر اچھالتے ہو۔  جن لوگوں نے ائیرپورٹ پر اسے دھکے دیے تھپڑ مارے  انہی کا شکر گزار ہو نے لگا کہ انہوں نے مجھے ایک اچھی بات کی طرف متنبہ کیا ہے۔ چاہتا تو ہر ایک کے خلاف ایف آئی آر کٹ سکتی تھی۔ سب جیل میں چلے جاتے ۔ نہیں ۔ اس نرمی اور ہمدردی کے پیکر نے سب کو معاف کردیا۔ سوچیں! پبلک میں انسلٹ کرنے والوں کو ، دھکے دینے والوں کو کھلے دل سے معاف کر دیا۔ کیا ہم ایسا کرسکتے ہیں۔ اگر نہیں تو پھر ہم صرف زبانی کلامی جنید جمشید سے محبت کرتے ہیں۔عقیدت کے  خالی خولی دعووں کا کیا فائدہ جب آپ  اس کی جیسی اعلیٰ  ظرفی نہیں اپنا سکتے۔

سوچتی ہوں ہم نے ایسے قیمتی انسان کی قدر نہیں کی ۔اسی لیے اللہ نے اسے ہم سے دور کر دیا۔ ہم نے کیا کیا ظلم نہیں ڈھائے اس پر۔گھٹیا الزام،ذہنی اذیت،سب کے سامنے تھپڑ اور دھکے! ہائے کون تھے وہ ظالم  جنہوں نے ایسے انسان پر ہاتھ اٹھائے۔اس سب کے باوجود آپ اس کاحوصلہ بھی تو دیکھیں۔ ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ رہا ہے۔ آنسو بھری آنکھیں لیے کہ رہا ہے۔ ’’میرے دوستو! یہ قصداً نہیں ہوا۔ ارادتاً نہیں ہوا۔ مجھے معاف کر دیں۔ میں ان بھائیوں کا دل کی گہرائیوں سے شکر ادا کرتا ہوں جنہوں نے مجھے متنبہ کیا۔‘‘ اللہ اکبر! کیا ہی اعلیٰ اخلاق والا بندہ تھا۔ چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گا ایسا شخص۔

ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

تعبیر ہے جس کی حسرت و غم اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم

لاکھوں ہی مسافر چلتے ہیں منزل پہ پہنچتے ہیں دو ایک

اے اہلِ زمانہ! قدر کرو نایاب نہ ہوں، کمیاب ہیں ہم

گلوگاری چھوڑنے کے بعد کبھی اسے جینز شرٹ میں نہیں دیکھا گیا۔ بے داغ شلوار قمیص ، سر پر ٹوپی اور ٹخنوں سے اوپر پائنچے۔ اسی حلیے میں وہ ساتوں براعظم گھوم آتا۔ گھنی ڈاڑھی، چمکدار چہرہ، پر نور پیشانی اور دلنشین مسکراہٹ۔ جو ایک بار مل لیتا اسی کا ہو جاتا۔  اعلیٰ اخلاق کا چلتا پھرنا نمونہ۔ ہر ایک کو لگتا تھا جنید اسی سے سب  سے  زیادہ محبت کرتا ہے۔  اس نے صرف زبان سے ہی نہیں کہا تھا میرے نبی پیارے نبی سنت تیری دنیا و دین! اس نے عمل کر کے بھی دکھا دیا۔ 

جنید جمشید ایک ایسا چراغ تھا جس کی روشنی صرف اپنوں تک محدود نہ رہی۔ اس نے اپنوں کو فائدہ پہنچایا اور غیروں کو بھی نفع۔ اس کے چیرٹی پروگریمز دنیا کے کونے کونے میں پھیلے ہوئے تھے۔ غزہ، افریقہ ، نیپال، ہیٹی، فلپائن، روہنگیا، کشمیر، صومالیہ ، بنگلہ دیش۔مسلم چیرٹی کے نام سے اس کی تنظیم  دنیا بھر میں کام کر رہی ہے۔ کبھی آپ نے سنا خود اس کے منہ سے کہ آج میں نے فلاں پراجیکٹ کا افتتاح کیا؟ کبھی آپ نے کوئی دکھاوے بھرا فوٹو سیشن دیکھا کسی اخبار میں؟ کبھی آپ نے اسے کسی کنویں، سکول  یاکسی مسجد کا سنگ میل رکھتے ہوئے دیکھا؟ نہیں! وہ اپنی چیرٹی چھپا کر رکھنا چاہتا تھا تاکہ سب کام اللہ کے لیے خالص ہو جائیں۔ کون ہے ایسا اس دھرتی پر۔ لوگ تنکا بھی اٹھا کر یہاں سے وہاں رکھتے ہیں تو پہلے اشتہار دیتے ہیں۔  خلوص اور بے لوث خدمت کے پیمانے اداس ہیں کہ اس جیسا تو بس ایک ہی تھا جو ہم سے روٹھ گیا۔  افریقہ سے لے کر ایشیا تک اور یورپ سے لے کر امریکہ و لندن تک اس کی چیرٹی کی دھوم  مچی ہوئی تھی ۔ وہ اپنی نرم سی مسکراہٹ کے ساتھ خاموشی سے اتنے بڑے بڑے کام کر کے چلا گیا کہ اپنے بھی بول اٹھے  کہ ہمیں ابھی تک معلوم نہیں کہ اس کے چیرٹی پروگرام کہاں کہاں تک پھیلے ہوئے تھے۔ ابھی تک لوگوں کے فون اور پیغامات آرہے ہیں جنہیں ہم جانتے ہی نہیں۔ دنیا بھر سے فون کالز آرہی ہیں  اور ان میں گورے کالے کی کوئی تمیز نہیں۔ اس کے چیرٹی پروگراموں کی کچھ تفصیل درج ذیل ہے۔

Adopt a School Project (خواتین  کی تعلیم کے لیے )

 Eaton Girls Boarding School Uk  (خواتین  کی تعلیم کے لیے )

Gaza  (فلسطینی مسلمانوں  کی فلاح و بہود کے لیے )

Haiti Hurrican Appeal (ہیٹی کے لوگوں کو سانحے کے بعد دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے )

Disaster Risk Reduction

Mali (مالی کے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے )

Nepal emergency (نیپال  کےلوگوں کی  فوری مددکے لیے)

Philipine Typhoon (خواتین  کی تعلیم کے لیے )

Pakistan Earthquake Appeal (پاکستان میں زلزلہ متاثرین کی مدد کے لیے)

Income Generation (دنیا بھر کے لوگوں کو باعزت روزگار کے لیے مناسب وسائل کرنے کے لیے)

Rohingyan Refugees Appeal (روہنگیا مسلمانوں کے تحفظ کے لیے)

Maternity Hospitals (Pakistan) (پاکستان بھر کی خواتین کے لیے زچہ بچہ کی سہولیات)

Medical Camps (Pakistan, Somalia, Kashmir, Bangladesh) (پاکستان، صومالیہ، کشمیر اور بنگلہ دیش میں مستحقین کے لیے طبی سہولیات)

Fistula: Help healing a woman (فسٹولا (بیماری) کی متاثرہ خواتین کی امداد کے لیے)

Qurbani programme 2016 (دنیا بھر میں  قربانی کے عطیات سے مستحقین کی مدد کے لیے)

Water Supplies in Ghaza (غزہ ، فلسطین میں پانی کی سہولیات بہم پہنچانے کے لیے)

Water hand pumps in Asia (ایشیا بھر میں  پانی کی کمی والے علاقوں میں ہینڈ پمپس لگانے کے لیے)

Water boreholes in Africa (افریقہ میں پانی کی سہولیات یقین بنانے کے لیے)

Seasonal Programme (Fidiya , Zakat etc) (موسمیاتی پروگرام، فدیہ اور زکوٰۃ وغیرہ مستحقین تک پہنچانے کے لیے)

Orphan Sponsorship (دنیا بھر میں  یتیموں کی فلاح و بہبو د کے لیے)

Mosques (مساجد کی تعمیرو دیکھ بھال کے لیے)

 جیسے خوشبو پھول کی ہو ہرطرف یوں ہوا کے دوش پر چلتا گیا

کیسی کیسی ظلمتیں سہتا گیا کہاں کہاںوہ روشنی  کرتا گیا

اگر اس کی زندگی ایک سبق تھی تو موت ایک دعوت۔ عمل کرنے کی دعوت۔ اللہ کی راہ میں نکلنے کی دعوت۔ اللہ کومنالینے کی دعوت۔ کیسے وہ اپنے رب سے شہادت مانگ کر، اسےمنا کر چلا گیا۔ ہم دیکھتے رہ گئے۔ اس نے آخری دن وہی خاص آیات پڑھوائیں جن میں جنت اور جنت کی نعمتوں کا ذکر ہے۔ دیکھیں وہ اللہ کو کتنا پسند تھا کہ اللہ نے نہ صرف اس کی خواہش پوری کی بلکہ اسے اپنے راستے کی موت بھی عطا کر دی۔  اس کے، اپنی را ہ میں نکلے ہوئے قدموں کو قبول فرمالیا اور دوران سفر ہی اپنے پاس بلا لیا۔ وہ موت دی  جس کی خواہش اولیاء کیا کرتے ہیں۔ کسے معلوم ہے اس کے جنازے کے بعد ہزاروں لوگ تبلیغ میں نکل گئے۔ اس کو چاہنے والے اسی کی راہ پر چل نکلے۔اس کی زندگی تو مقبول   تھی ہی،  اس کی موت بھی ہزاروں لوگوں کو اللہ کی راہ میں نکالنے کا سبب بنی۔

ایسا گیا کہ نشان بھی نہ چھوڑا۔ جنید جمشید لکھ کر سرچ کریں تو ایک بے رنگ و بے آب پہاڑ کی تصویر سامنے آتی ہے۔ ڈھلتی شام کا اندھیرا اور پہاڑ کے دامن میں دور نیچے  جلتے بجھتے شعلے اور جہاز کا ملبہ۔ کہاں گیا جنید جمشید ۔ نظر ڈھونڈتی ہے اسی بے مثال شخص کو جس کا جسم پہاڑ کے دامن میں  شعلوں کی نذر ہو رہا تھا ۔ آئے ہائے! تصویر کو زوم کر کے دیکھا ۔ برائٹ کر کے دیکھا کہیں سے وہ چمکتا چہرہ نظر آجائے اور دل میں ٹھنڈک پڑے۔ کہیں سے تو وہ نکل کر آجائے اور کہے ۔ ’’میرے دوستو!  میں کہیں نہیں گیا۔مجھے کچھ نہیں ہوا۔  میں تو یہیں ہوں۔۔‘‘ 

مری راکھ سے نئی روشنی کی حکایتوں کو سمیٹ لے

میں چراغ صبح وصال تھا تری خیمہ گاہ میں جل بجھا