چھاپیے
Parent Category: Payamehaya URDU
Category: Issue no 27
Visits: 974
Harf e awwal

 ۷ دسمبر 2016 کو جو سانحہ پیش آیا اس سے دل اب تک غمزدہ ہے۔ یقین نہیں آرہا کہ ہم سے ایک اچھا انسان اور ایک بہت ہی اچھا دوست بچھڑ گیا۔ اناللہ و انا الیہ راجعون! اس حادثے میں شہید ہونے والے تمام لوگوں کی اللہ پاک مغفرت فرمائے،اُن کے درجات بلند فرمائے اورلواحقین کو صبر جمیل عطافرمائے۔ پوری قوم غم اور دکھ کی اس گھڑی میں برابر کی شریک ہے۔ اللہ تعالیٰ سے صبر کی دعا کرتے ہیں اور ان کے ورثاء سے تعزیت کرتے ہیں۔ جنید جمشید  سے میرا تعلق دوستانہ ہی نہیں بلکہ برادرانہ تھا۔ وہ میرے بھائیوں کی طرح تھے۔ سفر اور حضر میں بارہا ساتھ رہنے کا اتفاق ہوا۔ غیر ملکی اسفار میں بھی ہم ایک ساتھ رہے۔ مختلف محافل اور مجالس میں بھی شریک رہے۔

 

ان کوقریب سے دیکھنے کا کئی مرتبہ موقع ملا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ میں نے ان کو بہت ہی اچھا دوست اور نہایت ہی اچھا انسان پایا۔ وہ جتنے  خوبصورت باہر سے تھے اس سے کئی گنا خوبصورت وہ اندر سے تھے۔ وہ بے تکلف اور سادگی پسند انسان تھے۔ بناوٹ اور تکلف سے دور تھے۔ کوئی بھی بات ہوتی تھی اس کو دل میں نہ رکھتے  بلکہ آپس کے تعلقات کو بہت اہمیت دینے والے تھے۔ ان کے ساتھ گزرے ہوئے لمحات میری زندگی کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ بھائی جنید جمشید صبر کرنے والے انسان تھے۔ کبھی حرف شکایت زبان پر نہ لاتے۔ موسیقی کی دنیا کو خیرباد کہنے کے بعد بہت مشکل حالات کا سامنا کیا انہوں نے لیکن صبر کیااور کسی سے اظہار نہیں کیا۔ وہ بلند اخلاق اور عادات کے مالک تھے۔ شہرت اور عزت حاصل کرنے کے باوجود بڑائی اور تکبر سے کوسوں دور تھے۔ میرے ان کے ساتھ بے شمار اسفار رہے اور میں نے ان کو خوشدلی کے ساتھ معاملہ کرنے والا پایا۔

 

کبھی کبھی فون کر کے کہ دیا کرتے تھے کہ بھائی سعد! آج فیملی کے ساتھ کھانا آپ کے گھر ہو گا اور مجھے اس تعلق پر بہت خوشی محسوس ہوتی۔ صرف میرے ساتھ ہی نہیں بلکہ ہر شخص کے ساتھ ان کا تعلق ایساہی تھا۔ ہر آدمی یہ سمجھتا تھا کہ سب سے زیادہ محبت مجھ سے کرتے ہیں اور یہ بڑے انسان کی نشانی ہوتی ہے۔ مجھے قرآن کریم کی تعلیم اورترویج کے سلسلے میں اکثر بیرون ملک دوروں پر جانے کا اتفاق رہتا ہے۔ ایک پروگرام میں جنید جمشید صاحب بھی تھے۔ ان کی تواضع ، عاجزی، انکساری اور صاف گوئی نے مجھے بہت متاثر کیا۔ دوران محفل بے تکلفی کے ساتھ میرے بارے میں اپنے جذبات کا اظہار کر دیا کرتے تھے جو عموماً دوست ایک دوسرے کے ساتھ کرتے ۔موسیقی کی دنیا کو خیر باد کہنے کے بعد انہوں نے عشقِ مصطفیٰ ﷺ کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی محبت اور اطاعت کا جذبہ ان کی زندگی میں شامل تھا۔ جب نعت پڑھتے تو دل ان کی طرف کھنچتا چلا جاتا۔ الحمدللہ ہم دونوں کو کئی پروگرامز میں ایک ساتھ نعتِ رسول پڑھنے کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔ جنید جمشید کا ایک وصف جو آج مسلمانوں کے لیے باعثِ تقلید ہے وہ یہ ہے کہ آپ ہمیشہ امت مسلمہ کی وحدت  اوراجتماعیت کے لیے کوشاں رہے ۔ آپ کے خیال میں امت کی پریشانیوں کی بڑی وجہ آپس کے اختلافات ہیں۔ میں نے ہمیشہ ان سے مسلمانوں کے اتحاد اور اتفاق کی بات سنی۔ وہ ہمیشہ اس بارے میں فکرمند رہا کرتے تھے۔ جنید جمشید رحمہ اللہ کی زندگی کا ایک پوشیدہ پہلو انسانیت   کے دکھ درد کو محسوس کرنا تھا۔ اکثر اس بات کا اظہار بھی کیا کرتے تھے ۔ وہ لوگوں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے کئی پراجیکٹس پر کام بھی کر رہے تھے۔ ان کی خواہش یہ تھی کہ ہم انسانیت کے فلاح و بہبود کے لیے جتنا ہو سکے اپنا حصہ ڈالیں۔ مختلف پراجیکٹس ہیں ان کا نام لینے کی ضرورت نہیں ہے کہ آپ سب ان سے بخوبی واقف ہیں۔غرض یہ کہ جنید بھائی کی زندگی کا ہر پہلو بے مثال تھا۔ وہ بہت اچھے انسان تھے... بہت ہی اچھے انسان! ایک اچھے دوست، خیر خواہ اور دکھ درد میں شریک ہونے والے انسان تھے۔ میں ان کی کمی ہمیشہ محسوس کرتا رہوں گا۔ میری اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ پاک ان کی کامل مغفرت فرمائیں۔ آمین!