چھاپیے
Parent Category: Payamehaya URDU
Category: Issue no 27
Visits: 1338
Harf e awwal

جنید جمشید کی شہادت کوایک سال ہوگیا ہےلیکن لگتا ہے وہ آج بھی زندہ ہیں اور ابھی ان کا  فون آئے گا اور ہماری بات ہو رہی ہوگی۔ پورا سال 365 دن کوئی وقت اور کوئی لمحہ بھی  ایسانہیں گزرا   جب ایسا لگا ہوکہ جنید جمشید چلے گئے ہیں۔ اللہ تعالی نے ان سے  دین کا  بڑا کام لیا ۔ویسے تو ماشااللہ دین کاکام کرنے  میں اللہ نے بہت سارے لوگوں سے بہت کام لئے اورلے رہے ہیں۔ بڑے  بڑےبزرگ ہیں بڑے  اللہ والے ہیں لیکن جنید جمشید ایک منفرد انداز میں آئے اور چلے بھی گئے۔ انہوں نے نوجوان نسل کو جتنامتاثر  کیا ہے اس  کی بہت کم مثالیں ملیں گی ۔

جنید جمشید کی زندگی پر جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو  کچھ چیزیں واضح طور پرنمایاں نظر آتی ہیں ،لوگوں سے اخلاق اور محبت سے ملنا۔ چاہے وہ امیر ہو، چاہے وہ غریب ہو ،چاہےوہ  ان کا دوست ہوچاہے وہ اجنبی ہو۔ وہ جس سے بھی ملتے تھے ان کا اسٹائل اور تعلق ایسا ہوتا تھا کہ جیسے  وہ بہت پرانے ساتھی ہیں  اور یہی وہ وجہ ہے کہ ان کی شہادت کے بعد  ہر کوئی کہتا ہے کہ وہ میرا دوست تھا ،وہ میرا دوست تھا۔ان سے ملنے اور دیکھنے والے ہزاروں لوگوں کو ایسا لگتا  تھا کہ وہ سب سے زیادہ ان ہی سے پیار کرتا ہے ۔ان کی عجیب شخصیت تھی۔ ان کا اپنا  ایک اسٹائل تھا ۔ان کی ایک آواز تھی اور وہ ایک آواز اتنی اثر انداز تھی کہ اس جیسی  آوازہمیں دور دور تک سننےکو نہیں ملتی۔

 

ان کی کس کس بات کو ہم یاد کریں ،ان کی ہر بات انوکھی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ٹی و ی پہ ہوں مسجد میں ہوں  یا کسی اور جگہ ، ہر جگہ لوگ ان کے دلدادہ تھے اورآج بھی سب ان کے لیےروتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے اور یہ بہت بڑی بات ہے ۔ ایسی محبت ایسا تعلق بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔ کیا بوڑھے کیا جوان ،کیا بچے، ہر ایک  ان سےملتا اورمتاثر ہو کر ان کی بات سنتا تھا ۔جنیدبھائی کی بات سننے سے نوجوانوں کے دل میں دین کی محبت  آسانی سے آ جاتی تھی اور دین پر  عمل کرنا ان کے لئے آسان ہوجاتا تھا۔ جب وہ دعوت تبلیغ  میں بیان کرتے تھے سینکڑوں نوجوان ایک  ساتھ مسجد کی طرف چل دیتے تھے۔   وہ دنیا کے چپےچپےمیں گئے اور دین کو  پھیلایا ،ہر جگہ ان کے چاہنے والے ہیں۔ مجھے آج بھی یاد ہے  دس سال پہلے امریکا سے چندنوجوان آئے ،وہ ان کی حمدو نعت سن کے  دین کی طرف آئے  تھےاور انہوں نے اپنی زندگیوں   کو تبدیل کر لیا  تھا۔  پہلے وہی  نوجو ان ان کے گانےسنتے تھے اور بعد میں ان کی نعتیں اور ان کی زندگی کو دیکھ کر  انہوں نے اپنے آپ کو بھی تبدیل کر دیا ۔تو اللہ تعالی نے  جنید بھائی سے بہت کم وقت میں  دین کا  بہت زیادہ  کام لیا۔اس کام کی بدولت جنید جمشید  سینکڑوں سال تک  لوگوں کے  دلوں میں زندہ رہیں گے اور وہ اپنی روشنی دیتے رہیں گے۔ ان کے نعتوں  اور بیانات سے نوجوانوں کو روشنی ملتی رہے گی ۔لوگ ان  کی باتیں سنتے رہیں گےاور ان کی حمد و نعت پڑھتے رہیں گے اور ان  پر اس کا اثر  ہوگا  اور ہماری اگلی نسلیں بھی  دین  پر آسکیں گی۔

ہمارے ساتھ یعنی درس قرآن ڈاٹ کام کے ساتھ ان کے تعلقات اور محبت بہت زیادہ رہی ۔وہ خود وقت طے کر کے بتاتے تھے کہ میں  فلاں تاریخ کو آؤں گا۔مجھے اس کا بھرپور اندازہ تھا کہ جنید بھائی بہت زیادہ مصروف ہیں۔ میں کوشش کرتا تھا کہ فون نہ کرو ں، یعنی بہت ضروری بات پر ان کو کال کرو ں۔ مجھے اس بات کا احساس رہتا  تھا کہ وہ پورے وقت لوگوں میں گھرے ہوئے ہوتے  ہیں ۔لیکن ان کی محبت تھی کہ وہ ہمیشہ یاد کرتے تھے۔ انہوں نے پاکستان کا نام بھی روشن کیا ۔اللہ تعالی نے ان سے اپنے دین کا کا م لیا۔ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا پیغام پھیلانے میں کامیاب رہے۔ ایک کامیاب انسان تھے اور انہوں نے اپنے وجود سے ہمیں بہت سارے سبق دے  کر  گئے۔

۔ وہ  ایک سچا پکا مسلمان تھا۔  ایک ایسا مسلمان  جو حضورﷺ سے بہت زیادہ محبت کرتا تھا ،اللہ تعالی سے بہت ڈرنے اور بہت محبت کرنے والا تھا اور لوگوں سے بہت پیار اور محبت کرتا تھا ۔لوگوں کی جلی کھٹی باتوں کو صبرسے برداشت کرتا تھا ۔اس کو قریب والے تو جانتے ہی ہیں لیکن جب ہمارے معاشرے کے کچھ نادان لوگوں نے غلط سلوک کیا تواس پر انہوں نے ان کے ساتھ جو رویہ  اپنایا تھا  وہ سب کے سامنے ہے۔انہوں نے کبھی کسی کو برا نہیں کہا ،کبھی کسی کو گالی نہیں دی، چاہے کتنی بھی تکلیف کسی نے پہنچائی ہو۔ ان کو اس سے  زیادہ تکلیف کیا ہو سکتی تھی  جب ان کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی اور جس  ذات سے سب سے زیادہ محبت کرنے والا تھا۔ دن رات اس کی تعریف کرتا تھا،اس کو اسی ذات  کا  گستاخ کہاگیا، اس نے ان کو بھی معاف کر دیا ۔وہ راتوں کو تہجد میں  روتے تھے  اور جن لوگوں نے ان کو تکلیف پہنچائی ہےان کے لیے ہدایت کی دعا کرتے تھے اور وہ منظر دیکھنے کے قابل ہوتا  تھا کہ جب وہ  اللہ تعالی سے مناجات کرتے تھے ۔ کاش وہ نادان لوگ توبہ کریں جن لوگوں نے عوام الناس کے سامنے ان کو بدنام کرنے کی کوشش کی۔

جنید بھائی تو  کامیاب ہوچکے ہیں۔انہوں نے جس طریقے  سے لاکھوں لوگوں کو متاثر کیا ۔نماز پہ لگایا ، لاکھوں لوگوں کی زندگی بہتر کرائی، لاکھوں لوگوں کو زندگی بہتر کرنا سکھایا ۔ ان سے متاثر  لاکھوں لوگ ہیں ، ایک بھی بندہ  کسی کی وجہ سے تبدیل ہوکر اللہ کی طرف آ جائے تو اللہ  تعالیٰ کے ہاں  اس کے لئے بڑا انعام ہے ، اس کے لئے  جنت واجب ہو جاتی ہے، پھر جنید بھائی نے لاکھوں لوگوں کو بدلا ، اور اس کی محبتیں آج بھی لوگوں میں موجود ہیں ۔ ہم اس کو کسی طرح بھول نہیں پاتے ۔ لوگ انٹرنیٹ پر اور جو لوگ واٹس ایپ اور فیس بک استعمال کررہے ہیں روز جنید جمشید کی نعتیں اور تبلیغی بیانات درس قرآن ڈاٹ کام سے شئیر ہو رہی ہیں اور وائرل ہو رہی ہیں۔

جنید جمشید ہمارے لئے اور ہمارے  نو جوانوں کے لئے ایک ہیرو ہے۔ ہم اس کو فالوکر کے دنیا بھی کما سکتے ہیں اور آخرت بھی ۔ دنیا میں بھی اللہ نے اس کو کامیاب کیا اور آخرت میں بھی کا میاب کرے گا انشاءاللہ اور ہر نوجوان مسلمان یہی چاہے گا کہ دنیا میں بھی کامیاب ہو اور آخرت میں بھی کامیاب ہو۔ انہوں نے اپنے آپ کو صرف  مسجد تک محدود نہیں رکھا ۔وہ پوری دنیا میں گئے بازار وں میں بھی گئے اور مساجد میں بھی اور ہر جگہ اللہ کا پیغام لے کے گئے ،بڑے لوگوں میں بھی گئے اور وہ چھوٹے لوگوں میں بھی گئے۔ میں چاہو ں گا کہ جو  ان کے ساتھی ہیں جنہوں نے ان کے ساتھ تبلیغ میں وقت لگا یا اور وہ گاؤں گاؤں اور شہر شہر گئے ،دنیا بھر میں ان کے ساتھ گئے، وہ لوگ جنید کے بارے میں  اپنی تحریریں لے کر آئیں۔ اس سے لوگوں کو فائدہ ہوگا۔لوگ چاہتے ہیں ۔آج بھی چاہتے ہیں اور کل بھی چاہیں گے کہ اس کے بارے میں پڑھیں۔ کچھ نیا اور انوکھا۔ کچھ ایسا جو ابھی تک ان کی نظروں سے اوجھل تھا۔ ان پر کتابیں لکھی جائیں  ان پر  رسالے لکھے جائیں۔ درس قرآن ڈاٹ کام  بھی اسی سلسلے سے پہل کررہاہے   اور آپ لوگوں کو ترغیب دیتاہے کہ آپ لوگ اس میں آگے بڑھ کر ان کی زندگی کے جو خوبصورت اور بہترین پہلو ہیں جس  سے لوگوں کو رہنمائی مل سکتی ہے اور آج دنیا بھر میں جومسلمان نوجوان مایوس ہیں وہ ان کو جینے کا سلیقہ سیکھا تی ہوں ، ایسی تحریریں  لے کر آئیں اور آگے بڑھائیں۔ اس کو لوگوں تک شئیر کریں اور نوجوانوں سے گزارش ہے  کہ وہ اس  میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔اللہ سے دعا ہے کہ اللہ تعالی جنید بھائی کو کروٹ کروٹ جنت عطا فرمائے ۔آمین!