چھاپیے
Parent Category: Payamehaya URDU
Category: Issue no 27
Visits: 1236
Harf e awwal

 سوال: سب سے پہلے آپ اپنے بارے میں بتائیں۔

ہمایوں جمشیدصاحب:السلام علیکم! میرا نام ہمایو ں جمشید ہے۔ میری کراچی کی پیدائش ہے میرے والد صاحب ائیر فورس میں ہوتے تھے۔ میرے والد صاحب کی پی اے ایف بیس میں پوسٹنگ تھی۔ میرے والد صاحب ائیر فورس میں ایک فائٹر پائلٹ تھے۔ 65ء کی جنگ کے بعد میری پیدائش ہوئی کراچی میں، اور میں نے ابتدائی تعلیم کراچی میں ہی   حاصل کی۔ پھر میں نے پشاور میں بھی تھوڑا عرصہ پڑھا۔میرے والد کی وہاں پوسٹنگ تھی ۔پھر میں نے ایبٹ آباد  میں بھی  چار پانچ سال تعلیم حاصل کی۔ پھر میں گورنمنٹ کالج لاہور چلا گیا ۔ وہاں سے گریجویشن کی۔اور وہاں سے میں نے  ماسٹرز کیا انٹرنیشنل رلیشن شپ میں   اور اس کے بعد میں تعلیم کے لئے یوکے چلا گیا۔  جہاں سے میں نے ماسٹرز ان بزنس ایڈمنسٹریشن بھی کیا۔ اس کے بعد  میں نے بینکنگ کیرئیر  کا آغاز کیا  اور انگلینڈ میں پہلےانویسٹمنٹ  بینک میں کام شروع کیا۔

 

پھر وہاں سے میں واپس پاکستان آیا۔  یہاں تھوڑا سا کام کیا پھر دبئی چلا گیا  اور تقریباً 25،26 سال سے بینکنگ  کے شعبہ سے منسلک رہا  ۔ان میں سے پچھلے 7،8 سال وہ عرصہ ہے جن میں میں نے کنوینشنل بینکنگ چھوڑ کر اسلامک بینکنگ میں کام کرنا شروع کیا۔  اللہ تعالیٰ نے بہت عزت دی اُس بینکنگ کے شعبہ میں بھی  اور اسلامک بینکنگ کے شعبہ میں بھی ۔ میں اب تک کوئی دو تین بینکس کو ہیڈ کر چکا ہوں ۔ آخر جب میں دبئی میں تھا وہاں ایک اسلامک بینک کا میں سی ای او تھا  اس کے بعد ایک اسلامک کنسلٹنٹ بزنس بھی کھولا ہے۔ الحمدللہ  ایک فرینچ فرم کے ساتھ مل کر جہاں ہم دنیا میں جاتے ہیں اور لوگوں کو اسلامک بینک کھول کر دیتے ہیں ایسٹ مینجمنٹ کمپنیز اور اسلامک  فائنینس کے  بزنس کو  پرموڈ کرتے ہیں  تو الحمدللہ اللہ تعالیٰ نے اس راستے پر بھی کام لیا۔

سوال: آپ کے والدین کا تعلق کس برادری سے تھا؟

ہمایوں جمشیدصاحب:میرے والد صاحب پٹھان تھے۔ ان کا تعلق کے پی کے سے تھا۔لیکن  میرے والد صاحب اور ان کے والد صاحب اپنے پروفیشنل کام کی وجہ سے کبھی وہاں رہے نہیں  اس لئے ہماری پشتو بھی کبھی پکی نہیں ہو سکی ۔میری والدہ کا تعلق انڈیا کی ایک  رائل فیملی سے تھا  اور وہ لوگ بھی  47 ءکے بعد  ہجرت کر کے پاکستان آگئے  تھے۔  

سوال: آ پ کل کتنے بھائی بہنیں ہیں۔باقی بھائی بہنیں کہاں ہیں۔ کیا جنید بھائی کے دینی انقلاب کااثر ان پر بھی پڑا؟

ہمایوں جمشیدصاحب: ہم لوگ چار بہن بھائی ہیں جنید سب سے بڑا تھا  پھر میں تھا مجھ سے جنید کوئی ایک سال بڑا تھا ۔پھر میری  بہن ہے جو مجھ سے تین سال چھوٹی ہے۔ پھر سب سے چھوٹا ایک بھائی ہے عمر۔ وہ انگلینڈ میں ہے ۔وہ تقریباً چھ سال چھوٹا ہے۔ میں اور جنید مسرور ائیر بیس کراچی  میں پیدا ہوئے۔ جنید ہی کے دور میں الحمدللہ والد صاحب میں بھی تبدیلی آئی اور والد صاحب کے چار مہینے جنید سے بھی پہلے لگے اور پھر اس کے بعد میری بہن میں  بھی بہت تبدیلی آئی اور وہ  ماشاءللہ عالمہ بن چکی ہے۔ اس نے بھی یہ راہ اپنائی  پھر الحمدللہ اللہ نے میرے ساتھ بھی بہت احسان کا معاملہ کیا  اور میں نے آج سے سات سال پہلے حج کیا اور  اس کے بعد چار مہینے لگائے اور  اس کے بعد زندگی میں بہت بڑی تبدیلی آئی۔

سوال: جنید بھائی بچپن میں کیسے تھے؟ بچپن کی ان کی کوئی شرارت؟

ہمایوں جمشیدصاحب:ہماری دوستی بہت تھی  کیونکہ ہم  دونوں ہم عمر تھے۔  شرارتیں ساتھ کرنا  مستیاں  بھی ساتھ کرنی۔ ہم نے ماریں بھی بہت کھائی ہیں۔  بہت شرارتیں کرتے تھے۔زیادہ تر شرارتیں میں شروع کرتا تھا لیکن اس کی ذمہ داری جنید بھائی پہ آجاتی تھی۔

سوال: پڑھائی کے دورمیں کیسے تھے؟

ہمایوں جمشیدصاحب: جنید بھائی پڑھائی میں بہت تیز تھے اور ہمیشہ کلاس میں ٹاپ 3 ٹاپ 5 ہوا کرتے تھے۔ اور مجھے یاد ہے جب جنید بھائی میٹرک میں آئے اور میں کلاس 9 میں تھا اور جنید بھائی اسکول کے ہیڈ بوائےبھی بنے۔ ٹیچرز کے بہت فیوریٹ تھے۔ ٹیچرز ان سے بہت لگاؤ رکھتے تھے۔ ان کو بہت پیار کرتے تھے  کیونکہ ان کی نیچر بہت  نرم تھا۔ ہر کسی کی بات سننا ۔  ہر کسی سے نرمی سے بات کرنی تو ٹیچرز بھی ان کو بہت پسند کرتے تھے۔ اسکول کے دنوں میں ہمارے اسکول میں جب اسمبلی ہوتی تھی تو روز تھوڑی سی قرأت اور ایک نعت پڑھی جاتی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دن جنید بھائی قرآت کرتےتھے تو میں نعت پڑھتا تھا اور ایک دن میں قرأت  کرتا تھا تو وہ نعت پڑھتے تھے ۔ہم دونوں لائن میں آگے کھڑے ہوا کرتے تھے۔

سوال: والدین نے آپ کی تربیت میں کن چیزوں کاخاص خیال رکھا؟

ہمایوں جمشیدصاحب: ہمارے گھر کی اصل میں تربیت بھی کچھ اس طرح تھی کہ ہماری والدہ ہمیشہ  ہمیں سکھایا کرتی تھیں کہ دیکھو بیٹا  جو کچھ تمہارے والد کو تمہاری والدہ کو  اور تمہیں اللہ تعالیٰ عطا کرتے ہیں اس میں تمہارا کوئی کمال نہیں ہے۔ تمھیں ہر وقت محنت کرتے رہنا ہے ۔دینے والی ذات اللہ کی  ہوتی ہے ۔یہ ہماری بچپن سے تربیت  کی ہوئی تھی۔  بڑوں کی عزت کرنا  ہماری بچپن سے تربیت تھی ۔اگرچہ جنید بھائی مجھ سے صرف ایک سال بڑے تھا لیکن میں اُن کو جنید بھائی  بولتا تھا  ۔میری چھوٹی بہن جو مجھ سے تین سال چھوٹی ہے وہ مجھے ہمایوں بھائی بولتی ہے۔یہ ہمارے گھر کی تربیت تھی۔

سوال: ایک بھائی کی حیثیت سے ان کارویہ آپ کے ساتھ کیسا رہا؟

ہمایوں جمشیدصاحب: الحمدللہ جنید  بھائی کے ساتھ میرا 50 سال کا ساتھ   رہا ۔وہ میرا بھائی بھی تھا میرا دوست بھی تھا  ۔وہ میرے والد کے بعد حالانکہ و ہ مجھ سے ایک سال بڑا تھا کبھی کبھی میرا  والد بھی بن جایا کرتا تھا۔ اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کرے ۔جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔جنید ایک کیئیرنگ بھائی تھا۔  وہ بچپن میں بھی  ہمیشہ میرے لئے بہت پروٹیکٹیو  تھا ۔شرارت میں نے کرنی مستی میں نے کرنی مار تو دونوں کو پڑتی تھی لیکن جنید سامنے کھڑا ہو کر ذمہ داری لے لیتا تھا۔  اس لئے  کہ یہ اس کی نیچر میں تھا۔ بچپن سے ہی   میں دیکھتا تھا  اور جب جنید کو دین کی سمجھ آئی تو اس کے اندر اخلاق کی جو کوالٹیز تھی وہ الحمدللہ پالش ہو گئیں لیکن اس میں جو اخلاقی عنصر تھا وہ بچپن سے تھا ۔

سوال: جنید بھائی کی دینی تبدیلی پر آپ کوشروع میں کیسالگا؟

ہمایوں جمشیدصاحب: جب جنید دین میں نیا نیا آرہا تھا تو  میں اس ٹائم دبئی میں کام کیا کرتا تھا  اور کبھی کبھی آیا کرتا تھا۔  بزرگوں سے ملاقات ہوتی تھی وہ مجھے بنیادی  چیزیں سمجھایا کرتے تھے۔ دین کا دل پہ اثر تو بہت ہوتا تھا  کیونکہ ہمارے گھر کا ماحول  زیادہ دین دار نہیں تھا لیکن  دین کے Basicsسارے پورے ہوتے تھے۔نماز میرے والد اور میرے والدہ پڑھا کرتے تھے .میرے والد تو کبھی کبھی پڑھتے تھے لیکن میری والدہ  جو ہے روزانہ پڑھتی تھیں۔

سوال: جنید جمشید کون بات اکثر کہتے تھے؟

ہمایوں جمشیدصاحب: جنیدکہتا تھا دیکھو یارچھوٹے بھائی! ہم اس دنیا میں  آئے ہیں  اپنی آخرت کو خوبصورت بنانے کے لئے  تو اللہ کو راضی رکھو۔اللہ کے بندوں کو راضی رکھو۔ ان کی مدد کرو۔ اچھے اخلاق اپناؤ اور اپنے معاملات پر غور کیا کرو۔یہ ہمیشہ بولتا تھا۔

سوال: کاروبار میں دینی لحاظ سے کون سے اصول مدنظر رکھتے تھے؟

ہمایوں جمشیدصاحب: کاروبار کے لحاظ سے جنید کا ہمیشہ اصول یہ تھا کہ نیت اپنی ہمیشہ صاف رکھو  ۔میں توکبھی کبھی  حیران ہوتا تھا کہ یہ کاروبار کر بھی کیسے لیتا ہے کیونکہ اس کی نظر کبھی بھی مال بنانے پر نہیں ہوتی تھی بلکہ اس بات پر ہوتی تھی کہ اس طرح کام کروں کہ لوگوں کو اچھی  کوالٹی اور لوگوں کو اچھی پروڈکٹ ملے ۔پھر اسی اخلاق میں اسی نیت پہ اللہ تعالیٰ نے اسے  بہت ترقی عطا فرمائی  ۔وہ ہمیشہ یہ کہتا تھا کہ جو تمہارا حق نہ دے تم اس کا حق دو۔  میں نے اس کے کاروباری معاملوں میں بھی کئی دفعہ یہ دیکھا کہ  کئی دفعہ تو  میں حیران بھی ہوتا تھا  اور کہتا تھا کہ جنید کیا کر رہے ہو  تو کہتا تھا کہ چھوٹے بھائی تم رہنے دو اللہ  دیکھ رہے ہیں میں نے ایسے معاملات بھی دیکھے۔

سوال: علماء کرام  و تبلیغی حضرات،  خصوصاًمولانا طارق جمیل سے ان کا خصوصی تعلق  اور لگاؤ تھا۔ اس حوالے سے کچھ بتائیں۔

ہمایوں جمشیدصاحب: علماءکرام اور تبلیغی حضرات کے ساتھ  اس کا بڑا تعلق تھا ۔خاص طور پہ مولانا طارق جمیل صاحب کے ساتھ  اس کا ایک خاص تعلق تھا کیونکہ  مولانا طارق جمیل صاحب نے شروع میں جنید کو بڑا گائیڈ کیا۔  رائیونڈ  کے ساتھ تو اس کا  بہت خاص تعلق تھا۔ خاص طور پر حاجی عبدالوہاب کے ساتھ   بڑا  خاص تعلق تھا وہ اس کو بٹھاتے تھے۔ اس سے نعتیں سنتے تھے۔  جنید کے انتقال پہ ہم نے 10 دن تو ان کو بتایا نہیں  کہ جنید کا انتقال ہو گیا ہے۔ جب ان کو پتا چلا تو وہ  بہت پھوٹ پھوٹ کر روئے اور علماءکے ساتھ بڑا تعلق تھا۔  خالی تبلیغی جماعت کے علماءنہیں بلکہ پوری دنیا سے۔  اب جب  مجھے فونز آتے ہیں  تو مجھے اندازہ ہوتا ہے کہ  علماءکے ساتھ رکھ رکھاؤ اُس کا ایک بڑا   اور ایک خاص امرتھا۔ آسٹریلیا  امریکا ،ساؤتھ افریقہ،یوکے،بنگلہ دیش،انڈیا ہر جگہ علماء کہ ساتھ اس کا ایک بڑا خاص تعلق تھا۔

سوال: درس قرآن ڈاٹ کا م سے جنید جمشید کا خاص تعلق تھا۔ کیا آپ اس تعلق کو ویسے ہی قائم رکھیں گے؟

ہمایوں جمشیدصاحب: درس قرآن ڈاٹ کام کے ساتھ جنید کا ایک تعلق تھا اور میں نے بہت سے  کلپس درس قرآن ڈاٹ کام کے پلیٹ فارم پر دیکھے۔ اس سے میرا دو تین دفعہ درس قرآن ڈاٹ کام کے بارے میں ذکر بھی ہوا  اور انشا ءاللہ  میری یہ نیت ہے کہ اللہ تعالیٰ  اس کو قبول فرما لے اور  میرا ہاتھ تھام لے  کہ درس قرآن ڈاٹ کام کے ساتھ چلنے کا ارادہ ہے۔ درس قرآن ڈاٹ کام ایک بہت بڑا دعوت  و تبلیغ کا کام کر رہا ہے۔ خاموشی سے دین کا میسج اور دین کی تعلیم   لوگوں تک پہنچا رہا ہےتو انشاء اللہ میرا  پورا ارادہ ہے  کہ اللہ تعالیٰ اس کو استقامت عطا فرمائے  اور درس قرآن ڈاٹ کام  سے جڑنے کا ان سے سیکھنے کا  موقع عطا فرمائے۔

سوال: امت مسلمہ ، مسلم دنیا کے مسائل اور ان کے حل کے بارے میں جنید جمشید کیا سوچتے تھے؟

ہمایوں جمشیدصاحب: میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس کا باقی علماءکے ساتھ  جوڑ بننا  شروع ہوا تو  یہ وہ وقت تھا  کہ جنید کو اس بات کا احساس ہوا کہ  ہمیں امت کے جوڑ کی طرف کام کرنے کی  بہت ضرورت ہے۔  تب ہی اس نے دیگر فقہ کے علماءکے ساتھ یہاں تک کہ اہل تشیع علماءکے ساتھ بھی اس کا بڑا تعلق بننا شروع ہوا    ۔

سوال:جنید جمشید پاکستان کے متعلق کیا فکر اور جذبہ رکھتے تھے؟  پاکستان سے جنید جمشید کی محبت اور لگاؤ کا کوئی خاص واقعہ  بھی بتائیں۔

ہمایوں جمشیدصاحب: پاکستان کے لئے ہمارے پورے گھر میں  ایک Patriotic (وطن سے محبت والا) ماحول تھا۔ہمارے والد صاحب بھی آرمڈ فورسز میں تھے اور ہماری والدہ بہت حد تک حب الوطنی کی باتیں کرتی تھیں۔  دل دل پاکستان جب اس نے میوزک چھوڑ دیا تو  ہمارے  گھر میں میوزک کے ساتھ کبھی نہیں بجتا تھا  لیکن بغیر موزک کے دل دل پاکستان ہمارے گھر میں موجود رہا۔ ہمارے گھر میں ایک چوکیدار ہے اس کو بھی  دل دل پاکستان  کاپتا ہے کہ بغیر میوزک کے پڑھا جاتا ہے۔  ہماری ایک اور  فکر تھی کہ ایک اسلامک ری پبلک پاکستان  ہمارے دین کا حصہ ہے۔ ایمان کے ستر درجات میں سے ایک درجہ ہے اور ہمیشہ یہ فکر رہی کہ  اسلامی ریپبلکن پاکستان جو ہے یہ کس طرح  سے ایک فلاحی مملکت مدینہ کہ  طرز پر بن  سکتی ہے۔ جنید اور میں ہمیشہ اس پر بات کیا کرتے تھے اور یہ فکر بھی تھی اور جذبہ بھی تھا کہ کچھ اس ملک کے لئے کیا جائے۔  خاص طور پر جنید اس جذبہ سے بہت سرشار تھا  اور پھر ہم جب ساتھ میں بیٹھتے تھے تو ہم اس پر بات کرتے تھے ۔ملک کے مسائل کا ذکر کرتے تھے اور پھر اپنی Capacityمیں تھوڑا بہت جو ہم کر سکتے تھے وہ کرتے تھے۔ اس کو زیادہ اجاگر اس لئے نہیں کرتے تھے ۔