Men Zindagii

   اس Category   میں نوجوانوں کے لیے لکھی گئی دلچسپ کہانیاں شامل ہیں۔ زندگی کے مشکل اور الجھن بھرے لمحات سے کیسے نمٹناہے اور اپنے رب کو کیسے راضی  کیسے کرنا ہے، یہ جاننے  کے لیے یہ کہانیاں ضرور پڑھیں۔


میرا نام شفقت کالو ہے۔ آپ جانتے تو ہوں گے میں ایک مشہور کامیڈی شو کی جان ہوں۔ جب تک اینکر اور مہمان خصوصی مجھے میرے کالے رنگ کی جگتیں نہ کر لیں، laughter targets پورے نہیں ہوتے۔ میں خود بھی ہر وقت ہنستا رہتا ہوں۔ لیکن کیا واقعی؟ 

خیر چھوڑیں! ابھی کل ہی کی بات ہے۔ میں لائیو  شو کر کے گھر پہنچا تو میرے بچے شکایت کرنے لگے۔ 

"ابو یہ کیا! آپ کے اس اینکر نے ہمیں سانپ بچھو اور کیڑے مکوڑے کہہ ڈالا۔ کیا ہم انسان نہیں ہیں ابو جی؟" 

میں خاموش رہا۔ آج ہوا یوں کہ میرے سکرپٹ کے مطابق مجھے اپنا نام شاہنواز اور اپنے بچوں کا نام شاہ میر اور دل نواز بتانا تھا۔ جیسے ہی میں نے یہ سکرپٹ پڑھا، مہمان خصوصی کی جانب سے جگت بازی شروع ہو گئی۔ 

’’بیٹا ! اللہ سے ڈرتے رہا کرو ۔جس دل میں اللہ کا خوف آجائے ،اس دل کو راہ حق سے کوئی نہیں ہٹا سکتا ۔زندگی کی ڈوری بہت کمزور ہے ، کب کہاں کس موڑ پہ ٹوٹ جایے ،کچھ معلوم نہیں ، اس لیے اس ڈوری میں اللہ کے خوف کا دھاگہ شامل کر لوگے تو اس کے ٹوٹنے کا دکھ نہیں ہوگا ۔‘‘

مسجد کے صحن میں نورانی چہرے والے صاحب کی آوا ز کانوں میں پڑی تو میں نے جلدی سے اپنی نماز پوری کی ،اور اس کی باتوں کی چاشنی میں کھو سا گیا ۔وہ اپنے پاس بیٹھے ایک نوجوان کو سمجھا رہے تھے ۔ انہوں نے نوجوان کو متوجہ پا کر نہایت ہی نفیس مسکراہٹ کے ساتھ بولے۔
’’میں تمہیں اللہ کے خوف کا ایک واقعہ سناتا ہوں ۔‘‘

میں نے بھی اپنے کان کھڑے کر لیے ۔وہ کہ رہے تھے۔

پچھلے کچھ مہینوں میں مجھے کرسی پر نماز پڑھنے کی عادت سی ہوگئی۔ پہلے تو نمونیہ تھا اور گھٹنے کا درد جس کی وجہ سے کچھ ہفتے میں نے کرسی پر نماز پڑھی۔ لیکن پھر ایسی سستی غالب آئی کہ خدا پناہ!  مسجد میں بھی جاتا تو پہلے کرسی اٹھا کر صف میں رکھتا پھر نماز شروع کرتا۔ 

اندر ہی اندر دل کہہ رہا ہوتا تھا کہ یار یہ ٹھیک نہیں کررہا میں۔ اب تو طاقت آ گئی ہے کھڑے ہو کر پڑھنے کے لیے۔ پھر بھی تو بیٹھ کر نماز پڑھتا ہے۔ پھر دل خود ہی بہانے تراشنے لگتا کہ ہاں بس ابھی دوائی تو جاری ہے ناں۔ یہ نہ ہو کہ کھڑے ہو کر نماز پڑھوں تو پھر درد نکل آئے۔ 

ضمیر کہتا۔ "کیوں کیوں؟ کیوں درد نکلے گا؟ جب آفس کی سیڑھیاں چڑھتے ہو تو درد نہیں نکلتا۔ جب اچھل اچھل کر بیڈمنٹن کھیلتے ہو تو کوئی درد ورد نہیں۔ بس یہ درد کی تلوار نماز ہی پر چلنی ہے کہ جیسے ہی نماز کا ٹائم آیا تو تم خود کو معذوروں کی صف میں کھڑا کر دیا۔"

فزکس کے پروفیسر نیازی صاحب جب سے ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ بنے تھے، لیبارٹری کے اسسٹنٹ علی کی شامت آ گئی تھی۔ صبح سویرے نیازی صاحب کالج پہنچتے ہی لیبارٹری میں جھانکتے۔ وہاں علی کو نہ پا کر فوراً اسے کال ملاتے۔

’’ہاں بھئی علی! کہاں ہو تم؟‘‘

’’جی سر ! میں آرہا ہوں۔آج  رش میں پھنس گیا تھا۔‘‘ علی جواب دیتا اور تیزی سے سیڑھیاں چڑھتا ہوا اور لیبارٹری میں پہنچتا۔ اسے پتہ تھا نیازی صاحب کا پہلا پیریڈ فری ہوتا ہے۔سو  اس وقت انہیں گرما گرم چائے کا کپ چاہیے۔ ساتھ اچھی کوالٹی کے بسکٹ جو اکثر ہی علی کو کالج کے باہر والی دکان سے لانے پڑتے۔اچھا خاصا بڑا کالج تھا اور فزکس ڈیپارٹمنٹ تھا بھی تیسری منزل پر۔ سو علی کی اچھی خاصی ورزش ہو جاتی۔

۔۔۔۔۔۔۔

اس رات علی کھانا کھا رہا تھا جب اس کا فون بج اٹھا۔ نیازی صاحب کال کر رہےتھے۔ خیر ہے اس ٹائم کیوں یاد کر رہے ہیں؟ اس نے سوچا اور یس کا بٹن دبا دیا۔

’’علی! یار میرا ہیٹر خراب ہو گیا ہے۔اسے ٹھیک کروانا ہے۔ تم بتا رہے تھے تمھارا گھر صدر والی مارکیٹ کے بالکل ساتھ ہے؟ وہ ہیٹر وغیرہ کی دکانیں بھی وہیں ہیں ناں؟‘‘

’’جج جی! سر! ‘‘ علی ہکلا گیا۔

’’علی! گلی نمبر سولہ میں  حملہ ہوا ہے۔ جلدی پہنچو وہاں۔‘‘ مجھے فون آیاتو میں سارا ضروری سامان لے کر چل پڑا۔ میں رضاکار ہوں۔ یہاں ہمارے ملک شام کے شہر غوطہ میں کیا قیامت بپا ہے۔ باقی ملکوں کے رہنے والے لوگ سوچ بھی نہیں سکتے۔ وہ صرف ویڈیوز دیکھتے ہیں اور ان میں نظر آنے والے کٹے پھٹے جسموں کو اور بچوں کی دردناک چیخوں کو ایک منظر سمجھتے ہیں۔ میں ان کو کیسے بتاؤں یہ منظر نہیں ہیں۔ یہ حقیقت ہے جو ہم پر بیت رہی ہے۔ ہماری ہر صبح غم ہے ہماری ہر شب غمناک۔ پر سکون گھروں میں رہنے والے لوگ  ہمارا دکھ نہیں جان سکتے۔ میرے نبی کریم ﷺ ارشاد فرما گئے ہیں۔’’جب اہل شام میں فساد پھیل جائے تو تم میں کوئی خیر نہ رہے گی اور میری (امت میں سے) کچھ لوگوں کی (حق پر ہونے کی وجہ سے) مدد کی جاتی رہے گی اور انہیں کسی کے ترک تعاون کی کوئی پرواہ نہ ہوگی یہاں تک کہ قیامت آجائے۔ (مسند احمد)  ہم اہل الشام روز کٹ رہے ہیں مر رہے ہیں لیکن  نہ جانے وہ لوگ اللہ کو کیسے جواب دیں گے جو اپنے پرسکون گھروں میں بیٹھ کر ہماری تباہی کی ویڈیوز اور تصویریں دن رات دیکھتے ہیں اور ہمارے حق میں کچھ نہیں کرتے۔

جب ملبے کے نیچے سے آتی آوازیں تھک جائیں اور پھر  ایک گہری خاموشی چھا جائے تو میں  اپنے سفید چونے بھرے ہاتھوں کو دیکھتا ہوں جو پتھر اور اینٹیں ہٹا ہٹا کر تھک گئے ہیں۔ پھر میں ایک نظر آسمان پر دوڑاتا ہوں جہاں شاید ایک یا دو تین ننھی روحیں فرشتے کے ساتھ چمٹی ہوئی جارہی ہیں۔ وہ ہنس رہی ہیں مسکرا رہی ہیں اور مجھے فی امان اللہ کہہ رہی ہیں۔ میں بھی انہیں فی امان اللہ کہتا ہوں اور زخمی کی بجائے لاشیں بھیجنے والا سٹریچر لانے کے لیے کہہ دیتا ہوں۔

ہاں تو جب مجھے فون آیاتو میں تیزی سے گاڑی میں بیٹھا اور چل پڑا۔  جب میں وہاں پہنچا تو ہماری سفید ہیلمٹ ٹیم کے کچھ لوگ بھی زخمی ہوئے تھے۔ میں نے انہیں طبی امداد دی اور ایمبولینس میں لٹا کر ہسپتال کی جانب روانہ کیا۔ پھر میں باقی ساتھیوں کی طرف آیا۔

(وطن عزیز میں طب کے مقدس شعبےکے نام پر ہسپتالوں میں جاری  کاروبار کو عریاں کرتی ایک کہانی ۔ تین ڈاکٹرز کی جنگ  ... دو  وہ جو دکاندار بن کرمریض کی حق حلال کی کمائی ہتھیانے کے چکر میں  رہتے تھے، تیسرا وہ  جس کے سینے میں دل تھا ... جو مریض کی جگہ خود کو رکھ کر دیکھنا چاہتا تھا)

میرا نام واحد ہے۔میں اپنے خاندان کا تیسرا ڈاکٹر ہوں۔ میرے دو چچا زاد بھائی بھی ڈاکٹر ہیں۔ آپ نے الشمس ہاسپٹل کا نام سنا ہو گا۔ کافی بڑا ہسپتال ہے۔ ہمارے گھرکے قریب ہی ہے۔ پھر میرے دونوں چچا زاد بھائی، ڈاکٹر رفیع اور ڈاکٹر سمیع بھی وہیں ہوتے ہیں۔ ہاؤس جاب کے بعد میرے ابو نے کہا۔

’’بھئی! اور کہیں جانے کی ضرورت نہیں۔یہ پاس ہی  الشمس ہسپتال ہے۔ یہیں پریکٹس شروع کر دو۔ میں نے سمیع اور رفیع سے بات کر لی ہے ۔ تمھاری کافی مدد کریں گے۔ کوئی پریشانی نہیں ہو گی۔‘‘

’’جی ٹھیک ہے ابو ! ‘‘ میں نے ہمیشہ کی طرح ابو کی بات مان لی۔ یہ اور بات ہے کہ میں نے ان کی وہ گفتگو سن  لی تھی جو وہ فون پر کل رفیع بھائی سے کر رہے تھے۔

یہ ہرگز نہ تھا کہ اسے کسی نے مجبور کیا ہو یا کوئی دباو ٔڈالا ہو۔ یہ تو اس کی بچوں سے بے تحاشا محبت اور وابستگی تھی جو اس نے سپیشلا ئزیشن کے لئے بھی پیڈز سرجری کو چن لیا تھا۔ وارڈ میں دن رات کی بھاگ دوڑ اسے تھکا تو دیتی تھی لیکن دلی طور پہ وہ خاصی پر سکون رہتی۔ ننھے منے بچوں کو بیماریوں سے لڑتا دیکھ کر اس کے اندر ایک حوصلہ اور جذبہ بڑھتا اور نشونما پاتا رہتا۔ ان معصوم فرشتوں کے چہروں پہ مسکراہٹ لانے کے لئے وہ صرف علاج نہ کرتی بلکہ ان کے ساتھ بچہ بن جاتی ۔انہیں بہلاتی۔ کہانیاں سناتی تو بچے بھی آرام سے اس کے ہاتھ سے دوا پی لیتے انجکشن لگوا لیتے۔ سال ہونے کو تھا اور اسے بخوبی اندازہ ہو گیا تھا کہ چلڈرن وارڈ میں ڈیوٹی دینے کے لئے کس قدر صبر ہمت حوصلہ اور برداشت کی ضرورت ہے۔ روتے بلکتے ننھے بچوں کے روئی سے بھی نرم ہاتھوں کی ننھی منی رگوں میں برینولا پاس کرنا کسقدر مشکل مرحلہ ہے اور پھر اکثر ہی وارڈ میں اس وقت اس کا نام پکارا جاتا جب سب آن ڈیوٹی ڈاکٹر اور نرسز کسی بچے کو ہینڈل کرنے میں ناکام ہو جاتے۔

 ’’ ڈاکٹر امامہ اس بچے کی وین ( رگ) نہیں مل رہی آپ اسے دیکھ لیں ۔‘‘