Fati or

        درمیانی عمر کے  بچے زندگی کے مناظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہیں نصیحت کی لمبی چوڑی باتیں کم ہی بھاتی ہیں۔ پھر ان کو کیسے بتایا جائے  کہ  آنے والے دور کے زینے کیسے چڑھنے ہیں؟ یہ جاننے کے لیے فاتی اور بلّو کی کہانیاں ضرور پڑھیں۔


 

arrownew e0بہادر گڑھ نامی ایک شہر میں شیروپہلوان نے اپنی جھوٹی دھاک بٹھارکھی تھی ۔ شیرو لمباچوڑا ، بھاری بھر کم آدمی تھا اور وہ اپنی ظاہری حالت کا فائدہ اٹھا رہاتھا۔ شہرمیں اس نے پہلوانی کے لیے بڑا عالی شان اکھاڑابنایا، جہاں بہت سے لڑکے ورزش کیا کرتے تھے ۔

شیروپہلوان تھوڑی دیر کے لیے آتا تھا ۔ اس کا چوڑاچکلا جسم ، ریشمی لنگی، زریں دوشالہ اورایک ہاتھ میں سونے کی زنجیر دیکھ کر لوگ اس کے رعب میں آجاتے اور اس کاادب لحاظ کرتے ۔ دکان دار بھی اسے بخوشی اُدھاردیتے اور اس کی آؤ بھگت کرتے۔

اس کے اکھاڑے میں ورزش کرنے والے اس کا پرچارکیا کرتے کہ ایسا پہلوان ہے جو صبح وشام ایک پورے بکرے کی یخنی پیتا ہے ،ناشتے میں پچاس انڈے اورایک سیر مکھن کھاتا ہے ، جس نے ایک شیر کا جبڑا ہاتھوں سے مروڑکراس کی مونچھیں اُکھاڑ پھینکی تھیں وغیرہ وغیرہ ۔

بڑے بڑے نامی گرامی پہلوان اس کاادب کرتے اور اس سے ملاقات کے خواہش مند رہتے ۔ اتنا بڑا پہلوان کسی نے دیکھا تھا نہ سنا۔
ایک دوسرا پہلوان بھی اسی شہر میں آبسا ، مگراس بچارے کو کسی نے گھاس ہی نہیں ڈالی۔ اس نے سوچا کہ اگر بدنام ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا۔

’’ بچو! کیا آپ سب تیار ہو ؟‘‘دادا جان نے کمرے میں آ کر پوچھا ۔

’’جی بالکل ہم تو پارک جانے کے لئے بے تاب ہو رہے ہیں ۔‘‘ داؤد نے جوشیلے انداز میں کہا۔

’’کب جائیں گے؟ ‘‘ ایان آہستہ سے بولا ۔

اسی دوران باہر سےہارن کی آواز آئی ۔چاچو پٹرول فل کرواکے واپس آئے تھے ۔

صفیان نے بیگ پہن کر پوچھا۔’’دادا جان گاڑی آ گئی ہم جا کر بیٹھ جائیں ؟‘‘

ابھی آپ سب کو تھوڑی دیر صبر کرنا ہوگا ۔ پہلے ہم  گاڑی میں ساراضروری سامان رکھ دیں۔ ‘‘

ستارا شیشے کے ڈسپلے میں سجی گلابی فراک کو دیکھنے میں اس قدر محو تھی کہ اُسے احساس تک نہیں ہوا کہ اُسکے پاپا کب سے ہاتھ میں آئسکریم پکڑے اُسکی محویت ٹوٹنے کے منتظر ہیں مگر ستارا ادرگرد سے بے خبر فراک دیکھے جارہی تھی۔

مجبوراََ احسان صاحب کو اُس کی آنکھوں کے سامنے اپنا ہاتھ لہرانا پڑا، تب کہیں جاکر اُنہوں نے فراک سے نظریں ہٹا کر آئسکریم کو دیکھا جو تقریباََ پگھلنے کے قریب تھی۔ پاپا کے ہاتھ سے آئسکریم لے کر وہ گاڑی میں جا بیٹھی، گھر جانے کے بعد بھی وہ فراک اُسکے ذہن میں رہی۔

اُسے بھولنے کی ہر ممکن کوشش کی ،بالآخر مجبوراََ پاپا سے فرمائش کردی کہ وہ اُسے فرمائش کردی کہ وہ اُسے گلابی فراک خرید دیں جسے وہ سکول کے فنکشن میں پہن کر جائے گی۔ صبح احسان صاحب آفس چلے گئے اور  ستاراشام تک اپنی نئی فراک کا انتظار کرتی رہی۔

’’ٹنگ ٹنگ!‘‘

 بیل بجتے ہی سارے بچے کلاس میں جانے لگے تو فاتی نے لنچ باکس بند کیا اور بلّو  سے کہا۔

’’بلّو  جلدی کرو ۔بریک ٹائم ختم ہوگیا ہے۔‘‘ بلّو  نے پانی کی بوتل کھولی ہوئی تھی۔

’’ہاں چلو ۔‘‘ بلّو نےتیزی کے ساتھ بوتل کا ڈھکن بند کیا اوردونوں کلاس روم کی طرف بھاگے۔

فاتی تیسری کلاس میں اور بلّو دوسری کلاس میں پڑھتا تھا ۔یہ دونوں کلاسوں کا گیمز کا پیریڈ تھا لیکن  موسلا دھار بارش کی وجہ سے بچوں کو کلاسوں میں ہی رہنے کا کہا گیا اور مس اسماء کو ان کی طرف بھیج دیا گیا۔ مس اسماء نے دوسری اور تیسری کلاس کو  ایک ہی کلاس میں اکھٹا کر لیا اور ان سے ہلکی پھلکی باتیں کرنے لگیں۔

’’دادی جان کہانی سنائیں ناں!‘‘ عبدو نے ضد کی تو دادی جان نے ہار مان لی۔ وہ اپنے بستر پر لیٹی تھیں اور عبدو ان کے پاؤں دبا رہا تھا۔

’’پہلے یہ بتاؤ تم نے ہوم ورک کر لیا؟‘‘

’’جی دادی جان! میں نے سب کام مکمل کر لیا ہے۔‘‘

’’شاباش! عبدو تو بہت اچھا بچہ ہے!‘‘ دادی جان نے خوش ہو کر کہا تو عبدو کی آنکھیں چمکنے لگیں۔

’’’لو  سنو!دور کسی کے ملک کے بادشاہ نے اعلان کروایا کہ جو شخص جھوٹ بولتے ہوئے پکڑا گیا تو دیندار قاضی سے پوچھ کر اسے سخت سزا دی جائے گی ۔جب یہ اعلان لوگوں نے سنا تو لوگ ایک دوسرے سے بھاگنے لگے کہی جھوٹ بولتے ہوئے نہ پکڑے جائے۔بادشاہ اور وزیر نے بھیس بدل کر شہر میں گھومنے لگے ایک تاجر کے پاس سے گزر ہوا تو ٹھر کر اس سے بات کرنے لگے بادشاہ نے تاجر سے پوچھا کہ تمہاری عمر کتنی ہے ؟ جواب دیا کہ بیس سال دوسرا سوال بادشاہ نے کیا کہ تمہارے پاس کتنی دولت ہے ؟تاجرنے کہا 70 ہزار ۔تیسرا سوال کیا کہ تمہارے کتنے لڑکے ہیں ؟تو تاجر نے کہا ایک۔

بادشاہ اور وزیر نے واپس آکر رکارڈ دیکھا تو تاجر کے جوابات کو غلط پایا پھر تاجر کو طلب کیا۔اور اس سے کہاکہ آپ نے اپنی عمر 20سال بتائی ہیں جو کہ غلط ہے اب آپ کو سزا ملے گی ۔تاجر نے کہا میری پہلے بات تو سنے ۔

میری زندگی کے 20 سال ہی اطمینان سے گزرے ہیں اسلئے میں اس کو اپنی عمر سمجھتا ہوں ۔

بادشاہ نے تاجر سے کہا آپ نے دولت کے متعلق بھی جھوٹ بولا ہے کیونکہ آپ کے پاس بے شمار دولت ہے اور آپ کا کہنا ہے کہ میرے پاس صرف 70 ہزار ہیں ۔

تا جرنے کہا 70 ہزار روپے میں نے مسجد کی تعمیر میں خرچ کئے ہیں اور یہی آخرت میں میری کام آئیں گے اسلئے میں اس کو اپنی دولت سمجھتا ہوں۔

پھر بادشاہ نے کہا کہ اپنے بچوں کے متعلق بھی غلط بیانی کی ہے سرکاری رجسٹر میں آپ کے بچوں کی تعداد پانچ ہے ۔

تاجر نے کہا: جناب چار بچے نا لائق بداخلاق اور آوارہ ہیں بس ایک ہی اچھے اخلاق اور کردار والا ہے۔

میں اسی کو اپنی اولاد سمجھتا ہوں کہ دنیا میں سکون کا ذریعہ ہیں اور  آخرت کے اعتبار سے انشاء اللہ وہی میرے کام آئے گی۔

بادشاہ تاجر کے جوابات سن کر بہت خوش ہوا اور تاجر سے کہا بے شک وقت اور عمر تو وہی شمار کرنے کے لائق ہے جو اطمینان وسکون سے گزرے اور دولت بھی وہی گنے کے لائق تھے جس کو اللہ کی راہ میں خرچ کیا ہو اور آخرت کے لئے ذخیرہ بنایا ہو اور اولاد بھی وہی کہلانے کے لائق ہے جس کے اعمال اور اخلاق اچھے ہوں ۔‘‘

کہانی ختم کر کے دادی جان نے عبدو کو آواز دی۔

’’چلو تم بھی جا کر سو جاؤ۔ بہت رات ہو گئی ہے۔ ‘‘ لیکن عبدو کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔

’’ہائیں! یہ کیا‘‘ دادی جان کے منہ سے نکلا۔ عبدو ان کے قریب ہی لحاف میں گھس کر سو چکا تھا۔

بلو کافی دیر سے ہوم ورک میں مصروف تھا جب اچانک اس کی نظر گھڑی پر پڑی۔

’’اوہ! چھ بج گئے۔ میرے دوست انتظار کر رہے ہوں گے۔‘‘

’’امی جان میں نے  آدھاہوم ورک کرلیا ہے ۔اب میں کھیلنے جانا چاہتا ہوں ۔‘‘ بلو نے امی سے کہااور جلدی میں الٹی سیدھی کتابیں بیگ میں ڈالنے کی کوشش کی تو سب کتابیں زمین پر گر گئیں۔لیکن  بلو کو بہت جلدی تھی۔ وہ  شوز پہن کر کمرے سے باہر آ گیا۔

’’امی بقیہ ہوم ورک گھر آکر کرلوں گا۔کیا میں ابھی چلا جاؤں ؟ آج میرا میچ ہے ناں!‘‘

فاتی کمرے میں آئی تو کمرے کا برا حال تھا۔ اسے سخت کوفت ہوئی۔ وہ کچن میں آئی اور جھلا کر کہنے لگی۔ ’’امی جان! بلو آج پھر سب کچھ پھیلاکر باہر جارہاہے۔‘‘

فاتی بہت اداس  تھی ۔ اس کے انگلش ریڈنگ میں نمبر بہت کم آئے تھے۔میڈم نے بھی اس کو کلاس میں ڈانٹا۔ گھر آکر بھی وہ بہت دیر تک چپ چپ رہی۔

امی جان نے وجہ پوچھی تو کہنے لگی۔

’’امی میں نے انگلش کی پڑھائی اچھی طرح نہیں کی۔ اسی لیے میرے دس میں سے صرف تین نمبر آئے ہیں۔‘‘

’’اوہ ! چلو کوئی بات نہیں۔ اگلی بار اچھی طرح پڑھ لینا۔ ‘‘ امی نے پیار سے تسلی  دی تو فاتی پریشانی سے کہنےلگی۔

’’نہیں امی جان! اصل میں مجھے انگلش کی بک پڑھنا بہت مشکل لگتی ہے۔ ‘‘