Web Kahanian
     markazi safha ttlion key des men   fati or billu ki kahanian men zindagi new   Kahanian hi Kahanian Tehreer Bhejen  

butterfly

اس Category میں ننھے منے کم سن بچوں کی کہانیاں شامل ہیں۔ چھوٹی چھوٹی معصوم سی باتوں کے ذریعے زندگی کے بڑے بڑے سبق سیکھنے ہوں تو یہ کہانیاں ضرور پڑھیں۔


 

ٹونو اور مونو سکول گئے

arrownew e0میرے سوہنے موہنے بچو! یہ کہانی ہے ایک ننھے سے بچے عمر کی جس نے دو چوزے رکھے ہوئے تھے۔ ان کے نام مونو اور ٹونو تھے۔ یہ دونوں چوزے عمر کے دوست تھے۔ عمر جہاں جاتا مونو اور ٹونو عمر کے پیچھے پیچھے چلتے۔ کبھی عمر پارک جاتا تو ٹونو اور مونو بھی اس کے ساتھ ہوتے۔ کبھی وہ سائیکل چلاتا تو مونو اورٹونو اس کے ساتھ ریس لگانے لگتے۔

’’چوں چوں چوں ! چوں چوں چوں!!‘‘

جب چھٹیاں ختم ہوئیں تو عمر نے اپنا بستہ تیار کیا اور سکول جانے کی تیاری کی۔ وہ اداس تھا۔ وہ ساری چھٹیاں مونو اور ٹونو کے ساتھ کھیلتا رہا تھا۔ اب وہ ان کے بغیر اپنا دن کیسے گزاراکرے گا۔ رات کو دیر تک  ٹونو اور مونو  کے چھوٹے سے پنجرے سے آوازیں آتی رہیں۔ وہ ایک پلان بنارہے تھے کہ کیسے عمر  کے ساتھ سکول جائیں۔انہیں عمر بہت اچھا لگتا تھا  اور وہ اپنے دوست سے دور نہیں رہنا چاہتے تھے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کوکو کوئل اور دال چنا

میرے سوہنے موہنے بچو! یہ کہانی ہے ایک ایسے کوّے کی جس کو دال چنا بہت پسند تھی۔ اس کوّے کا نام کائیں تھا اور وہ مالٹے کے درخت پر رہا کرتا تھا۔ ایک دن وہ جنگل پر سے اڑ رہا تھا اور کچھ کھانے کو ڈھونڈ رہا تھا کہ اچانک اس کو ایک جگہ دال چنا پڑی نظر آئی۔

پہلے تو اس نے سمجھا کہ یہ کوئی شکاری ہے جس نے یہ دال پرندوں کو پکڑنے کے لیے پھینکی ہے  اور ضرور اس کے ساتھ کوئی جال ہو گا۔ لیکن پھر اس نے غور سے دیکھا تو وہاں کوئی جال نہیں تھا۔اصل میں  وہاں سے ایک ٹرک گزرا تھا جس میں پڑی ہوئی بوری سے دال چنا گر گئی تھی۔

 کائیں بہت خوش ہوا۔ اس نے دو تین دانے  اپنی چونچ میں پکڑےاور درخت پر لے گیا۔ وہاں اس نے یہ دانے ایک پتے پر رکھ دیے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

نیلا پھول اور پیاری سیمی

 میرے سوہنے موہنے بچو! یہ کہانی ہےبوگن بیل میں بنے ہوئے ایک پیارے سے گھر کی جس میں بہت ساری شہد کی مکھیاں اور ایک ملکہ رہتی تھی۔اس گھر میں بہت سارے کمرے تھے۔ سب کمروں میں شہد بھرا ہوا تھا۔ گھرکے باہر دو گارڈ کھڑے تھے جو ہر مکھی کا لایا ہوا رس چیک کرتے تھے۔ اگر وہ رس ٹھیک ہوتا تو وہ اسے کمروں میں رکھوا دیتے ۔

میرے بچو! ایک ننھی منی سی مکھی سیمی کو نیلے رنگ کے پھولوں کے پاس جانا بہت اچھا لگتا تھا۔ ایک دن سیمی نیلے پھولوں کے پاس گئی اور ان سے کہا۔

’’پیارے پھول! میں آگئی ہوں۔ کیا میں آپ کا رس لے سکتی ہوں؟‘‘


مزید پڑھیے۔۔۔

ہنی میاں کا جھولا

میرے سوہنے موہنے بچو!  جنگل میں ٹھنڈ ہونے لگی ہے اور ہنی میاں جو کہ ایک چھوٹے سے ہاتھی ہیں، اب اپنے گھر سےکم کم نکلتے ہیں۔  یہ کہانی جو ہم آپ کو سنانے جارہے ہیں اس وقت کی ہے جب گرمیوں کے دن تھے اور ہنی میاں کو جھولے لینے کا بہت شوق تھا۔  

درختوں کی شاخوں سے بنا ہوا اور نیچے تک لٹکا ہوا۔ یہ اصل میں بندروں کا جھولا تھا۔  اس دن وہ خوراک لینے کہیں دور گئے ہوئے تھے۔ ہنی میاں وہاں سے گزرے تو انہوں  نے سوچا موقع اچھا ہے۔ آج میں جھولا لیتا ہوں ۔ انہوں نے بیٹھتے ہی پاؤں سے زور لگایا تو جھولا اوپر اٹھ گیا۔

لیکن یہ کیا! جب تک ہنی کے پاؤں دوبارہ زمین کو چھوتے، جھولے سے ’’تڑخ تڑخ‘‘ کی آوازیں آنے لگیں۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

بنٹی اور سفید چڑیا

 arrownew e0میرے سوہنے موہنے بچو! یہ کہانی ہے ان چڑیوں کی جو آم کے درخت پر رہا کرتی تھیں۔ ان میں سے ایک چڑیا کا نام بنٹی تھا۔ بنٹی ایک بار دانہ چگنے ساتھ والے گاؤں میں گئی تو ا س نے دیکھا بہت ساری سفید رنگ کی چڑیاں دیوار پر بیٹھی ہوئی تھیں۔ وہ آپس میں کہ رہی تھیں۔

’’اب ہمیں کہاں جانا چاہیے؟‘‘

’’ہمم! ایسا کرتے ہیں آموں والے جنگل کے بادشاہ شیر سے پوچھتے ہیں۔‘‘

’’ہو سکتا ہے ہمیں وہاں رہنے کے لیے درخت مل جائیں۔‘‘

سفید چڑیاں پریشان نظر آتی تھیں۔ بنٹی نے ان کی باتیں سنیں تو ان سے کہنے لگی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

لالی جنگل گئی

میرے سوہنے موہنے بچو! لالی ایک پیاری سی  مرغی تھی ۔ وہ بہت ساری مرغیوں کے ساتھ ایک بڑے سے ٹرک میں شہر جا رہی تھی۔ وہاں ان کو  ایک ڈاکٹر نے چیک کرنا تھا۔ سب مرغیاں خوش تھیں کیونکہ اس طرح ان کی سیر بھی ہوجاتی تھی۔ اس ٹرک میں چھوٹی چھوٹی کھڑکیاں تھیں۔ لالی کو تیز تیز پیچھے جاتی ہوئی سڑک دیکھنے کا بہت شوق تھا۔ اس نے کھڑکی سے اپنی گردن باہر نکال لی۔

’’لالی! گردن اندر کرو  ورنہ باہر گر جاؤ گی۔‘‘ لالی کی امی نے کہا۔

’’نہیں امی جان! میں نے ریلنگ پکڑ رکھی ہے۔ میں گر نہیں سکتی۔ ‘‘ لالی نے جواب دیا اور اپنے پنجے خوب جما کر کھڑی ہو گئی۔

تھوڑی دیر بعد ٹرک کی رفتار آہستہ ہوئی اور ایک سپیڈ بریکر آگیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

بِن بِن چیونٹی

میرے سوہنے موہنے بچو!  یہ کہانی ہے ایک چھوٹی سی چیونٹی، بِن بِن  کی جو ایک درخت کے نیچے رہا  کرتی تھی۔وہ بہت کام کرتی تھی۔ صبح صبح سارے گھر کی صفائی کرنا اور پھر کھانے کی تلاش میں نکل جانا۔ جب بِن بِن  شام کو واپس آتی تو وہ بہت تھکی ہوتی تھی۔ اس کے کپڑے بھی کافی گندے ہو جاتے لیکن اس کو اتنی نیند آرہی ہوتی تھی کہ وہ انہی کپڑوں میں سو جاتی۔ جب صبح ہوتی تو وہ جھاڑو لگاتی ۔ اس کے کپڑوں پر مٹی لگ جاتی لیکن وہ پھر وہ انہی کپڑوں میں کھانا تلاش کرنے نکل جاتی۔

بِن بِن  کو کبھی کپڑے صاف رکھنے کا خیال نہیں آیا تھا۔ اس کے پاس کافی سارے کپڑے اور بھی تھی لیکن ایک ہی فراک بہت سارے دنوں تک پہنے رہنا اس کی عادت بن گئی تھی۔ جو کہ میرے پیارے بچو! بالکل اچھی عادت نہیں تھی! 

مزید پڑھیے۔۔۔

چاند نے کیا کہا

میرے سوہنے موہنے بچو! ننھا شیر اس وقت اپنے ابا جان کے ساتھ پہاڑی پر بیٹھا تھا۔  شام ہو چکی تھی اور سورج ڈھل رہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد  ننھے شیر  نے کہا۔

’’ابا جان! میں نے سورج سے کھیلنا ہے۔ ‘‘

شیر ہنس پڑا اور بولا۔

’’پیارے بیٹے! سورج ہمارے ہاتھ نہیں آ سکتا۔ یہ بہت اونچا ہے۔‘‘

’’نہیں  ابا جان! میں اسے پکڑ کر رہوں گا۔ یہ پاس ہی تو ہے۔ ‘‘ یہ کہہ کر ننھے شیر نے اچھل اچھل کر  گول مٹول سورج کو پکڑنے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

چوں چوں کا گھر

میرے سوہنے موہنے بچو!یہ کہانی ہے ایک بھورے رنگ کی چڑیا,، چوں چوں کی جس کا گھر آم کے درخت پر بنا ہوا تھا۔ایک دن کیا ہو ا کہ جنگل میں بہت زور سے ہوا چلی اور چوں چوں کا گھر ٹوٹ گیا۔ وہ ساری رات چوں چوں نے اپنی سہیلی چن من کے گھر گزاری۔

صبح صبح سب چڑیاں چوں چوں کے پاس آ گئیں۔ وہ چوں چوں کے لیے کھانا لائی تھیں۔ انہوں نے چوں چوں کو کھانا کھلایا اور کہا۔

’’بہن! تم فکر نہ کرو۔ ہم سب مل کر تمھارا گھر دوبارہ سے بنا دیں گے۔‘‘

یہ کہ کر چڑیاں درخت سے اڑیں اور چھوٹے چھوٹے تنکے اکھٹے کرنے لگیں۔ کوئی چڑیا دھاگا لائی تو کوئی مرغی کا پر۔ پیارے بچو! خود چوں چوں چڑیا بھی درختوں کے نیچے سے تنکے اکھٹے کر رہی تھی۔ شام تک گھر بنانے کا کافی سامان اکھٹا ہو گیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

شہد کیسے ملا

میرے سوہنے موہنے بچو! بھالو میاں تیز تیز چلے  جا رہے تھے کہ  ان کے دوست بھورے بندر نے اسے روک لیا۔

’’بھالو بھائی! آپ کہاں چلے؟‘‘

’’میں شہد لینے جا رہا ہوں۔ ‘‘ بھالو نے جواب دیا ۔

’’لیکن آپ لیٹ ہو گئے ہیں۔ شہد تو ختم ہو گیا ہو گا۔ ‘‘ بھورے بندر نے بتایا تو بھالو میاں اور تیز تیز چلنے لگے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

قطرہ قطرہ! ٹپ ٹپ ٹپ

میرے سوہنے موہنے بچو! یہ کہانی ہے خرگوش کے دو پیارے پیارےسے بچوں کی جن کے نام گوشی اور موشی تھے۔ گوشی اور موشی کو بارش بہت اچھی لگتی تھی۔ جب بھی جنگل میں بارش ہوتی ، وہ خوب نہاتے ۔

ایک دفعہ تو کئی دن گزر گئے ، جنگل میں بارش نہیں ہوئی۔ گوشی موشی کو بارش کا انتظار تھا۔

’’بارش کب ہو گی؟‘‘ وہ روز اپنی امی سے پوچھتے۔

’’جب پانی بادلوں میں جمع ہو گا۔ ‘‘ امی جواب دیتیں۔

ایک صبح جب گوشی اور موشی کی آنکھ کھلی تو بارش کے قطروں کی آواز آ رہی تھی۔

’’ٹپ ٹپ ٹپ‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

نیلی چڑیا

میرےسوہنے موہنے بچو! آم کے درخت پر بہت ساری چڑیاں رہتی تھیں۔ ان میں ایک نیلے پروں والی چڑیا تھی جس کا نام نیلی تھا۔

نیلی آج صبح صبح اٹھ گئی اور بولی۔

’’مجھے ناشتے میں چاول کھانے ہیں۔‘‘

امی چڑیا نے سمجھایا ۔’’پیاری نیلی! جو بھی ہمیں مل جائے اس پر اللہ کا شکر کرنا چاہیے۔ منہ نہیں بنانا چاہیے۔‘‘

نیلی کو کبھی سمجھ نہ آتی۔کبھی امی جان سبزی پکاتیں اور کبھی روٹی کے مزیدار ٹکڑے اٹھا لاتیں جو سب  ہی شوق سے کھاتے لیکن نیلی تو بس چاول ہی پسند  تھے۔ وہ اکثر کھانے کی میز پرناراض ہو جاتی ۔منہ بنا کر الگ بیٹھ جاتی۔ اس کے سب بہن بھائی مزے سے کھانا کھاتے اور اپنے کمروں میں جا کر سو جاتے ۔

ایک دن نیلی سو کر اٹھی تو اس نے دیکھا ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

شیر کہاں ہے

میرے سوہنے موہنے بچو! یہ کہانی ہے ایک چوہے اور اس کے دو ننھے سے بچوں کی جو جنگل میں رہا کرتے تھے۔ چوہے کا نام چینو  تھا۔ چینو کے بچے ، مینو اور شینو بہت شرارتی بچے تھے۔ ان دونوں کو بڑے بڑے جانور جیسے شیر، ہاتھی ، زرافہ اور چیتا دیکھنے کا بہت شوق تھا۔ وہ  اکثراپنے ابا چینو کی بات نہ مانتے  اور شیر کو ڈھونڈنے چل پڑتے ۔ کبھی وہ ہاتھی کو دیکھنے کی ضد کرتے اور کبھی زرافہ کی گردن پر چڑھنے کا کہتے۔

’’دیکھو میرے بچو! یہ جانور ہم سے بڑے ہیں۔ ہو سکتا ہے جب ہم ان کے پاس جائیں  تو یہ ہمیں نقصان پہنچائیں۔ اس لیے ان سے دور رہنا بہتر ہے۔‘‘ چینو نے اس رات کو بھی انہیں سمجھایا۔

شینو اور مینو کا پلان کچھ اور تھا۔ اگلی صبح جب ان کے ابا کھانا لینے گئے تو وہ دونوں گھر سے نکل گئے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

گندم کی بوری

میرے سوہنے موہنے بچو! سردیاں آنے والی تھیں۔ روزی جو ایک چھوٹی سی بھورے رنگ کی چیونٹی تھی،جلدی جلدی خوراک اکھٹی کرنے میں لگی ہوئی تھی۔ آج بھی وہ سامنے والی ساری جھاڑیاں دیکھ کر آئی تھی لیکن وہاں کچھ بھی نہیں تھا سوائے مٹی اور چھوٹے چھوٹے پتھروں کے۔ پتے سوکھ چکے تھے اور وہ روزی کے کام نہیں آسکتے تھے۔

ایک دن جنگل کے ساتھ والی سڑک پر ایک ٹرک  آ رکا۔ اس پر بہت ساری بوریاں رکھی ہوئی تھیں۔ روزی بھی ٹرک کی آواز سن کر ایک پودے کی اوٹ میں کھڑی ہوئی تھی۔ ٹرک ڈرائیور شاید آرام کر رہا تھا۔ کچھ دیر بعد اس نے ٹرک سٹارٹ کیا۔

’’گھوں گھوں ۔۔ گھوں ں ں‘‘

ٹرک ایک جھٹکے سے آگے بڑھا تو ایک بوری نیچے آگری۔ روزی نے چیخ کر ڈرائیور کو بتانے کی کوشش کی۔

’’ارے بھائی صاحب! آپ کی ایک بوری گر گئی ہے۔ اسے اٹھا لیں۔ ارے رکیں تو سہی!‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

اور میاؤں جیت گیا

میرے سوہنے موہنے بچو! یہ کہانی ہے بلی مانو کے ایک چھوٹے سے بچے کی جس کا نام میاؤں تھا۔ میاؤں بہت پیارا ، نرم ملائم اور سفید بالوں والا بچہ تھا۔ وہ اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا۔اس لیے وہ سکول نہیں جاتا تھا۔ جب صبح اس کے سب بہن بھائی ناشتہ کر رہے ہوتے تو  وہ سو رہا ہوتا۔ بلی مانو اس کو دس بجے اٹھاتی، اس کا منہ ہاتھ دھلاتی اور پھر اس کو ناشتہ کرانے لگتی۔

’’نہیں! نہیں! میں ناشتہ نہیں کروں گا۔ مجھے ناشتہ کرنا اچھا نہیں لگتا۔‘‘ میاؤں  نے منہ بنا کر کہا۔ یہ تو روز کی بات تھی۔ اصل میں میاؤں کو ناشتہ کرنا بالکل پسند نہیں تھا۔ کبھی وہ پیٹ میں درد کا بہانہ بناتا کبھی کہتا مجھے تو بھوک ہی نہیں ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

چوں چوں نے کھایا چھلی کا دانہ

میرے سوہنے بچو! یہ کہانی ہے ایک نارنجی رنگ کے چوزےچوں چوں کی جس کو چھلی کے دانے بہت پسند تھے۔ جب مرغی ماما روز صبح اس کو اٹھاتیں تو وہ پوچھتا۔

’’کیا میں آج چھلی کا دانہ کھا سکتا ہوں؟‘‘

مرغی ماما کہتیں۔

’’نہیں پیارے بیٹے! آپ کاحلق چھوٹا ہے۔ چھلی کا دانہ گلے میں پھنس جائےگا۔‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

مکی مینڈک اور مینی مچھلی

میرے سوہنے موہنے بچو! یہ کہانی ہے ایک چھوٹے سے مینڈک کی جس کا نام مکی تھا۔ وہ بہت پیارا مینڈک تھا۔ اس کا رنگ سبز رنگ کا تھا اور اس پر چھوٹے چھوٹے سفید دھبے تھے۔ مکی کا گھر آم کے درخت کے پاس ایک تالاب میں تھا۔ تالاب میں بڑے پتھر کے پیچھے  مینی مچھلی کا گھر تھا۔ مینی مچھلی بہت اچھی تھی۔ وہ سب کے کام آتی تھی۔ مینی اورمکی ہمیشہ اکھٹے ہی کھانا کھاتے تھے۔ کبھی مینی شکار پکڑ لاتی اور کبھی مکی کھانے کا انتظا م کر لیتا۔

میر ے بچو! ایک بار مکی مینڈک کو بہت مزیدار سا کیچوا مل گیا۔ آج اس کا دل کرنے لگا کہ وہ مینی مچھلی کو نہ بلائے اور سارا کھانا اکیلے کھا لے۔

’’اگر مینی مچھلی بھی میرے ساتھ کھائے گی تو میرے حصے میں آدھا کیچوا آئے گا۔ کیوں نہ میں یہ سارا خود ہی کھا جاؤں۔‘‘ مکی مینڈک نے سوچا اور جلدی جلدی اس نے سارا کیچوا کھا لیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

نینا بطخ اور نیلا گیند

میرے سوہنے موہنے بچو! یہ کہانی ہے ایک پیاری سی بطخ ، نیناکی جس کو دوسروں کے کھلونے بہت اچھے لگتے تھے۔ اس کی امی جان نے اس کو بہت سارے کھلونے لے کر دیے ہوئے تھے جیسے سرخ گیند، گلابی دم والی مچھلیاں اور تیرنے والی چھوٹی کشتی۔ لیکن کیا کریں! نینا کو تو بس دوسری بطخوں کے کھلونے پسند آتے تھے۔

ایک دن جب ساری بطخیں کھیل کر گھر جانے لگیں تو نینا نے کہا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

چھوٹا تیتر اور پانی کی پری

میرے سوہنے موہنے بچو! ایک جنگل میں بہت بڑے تالاب کے کنارے دو تیتر رہا کرتے تھے۔ ان کے کوئی نام تو نہ تھے لیکن سب جانور انہیں چھوٹا تیتر اور بڑا تیتر  کہتے تھے۔ جب گرمیاں آتیں تو تیتر تالاب کے پانی میں مزے سے نہاتے۔ چھوٹا تیتر نہاتے وقت پروں سے چھینٹے اڑاتا تو بڑا تیتر اسے منع کرتا۔

’’نہیں! ایسے نہیں کرتے۔ اچھے تیتر پانی ضائع نہیں کرتے۔ پانی کی پری پانی لے جائے گی اور تالاب سوکھ جائےگا۔‘‘

چھوٹے تیتر کو کبھی یہ بات  سمجھ نہ آتی۔ وہ کہتا۔ ’’مجھے تو چھینٹے اڑانے میں مزہ آتا ہے۔ میں تو ایسے ہی نہاؤں گا۔ ‘‘ یہ کہ کر وہ اور زور زور سے چھینٹے اڑاتا۔ یہ چھینٹے کبھی پاس ہی بیٹھے مینڈک پر پڑتے اور کبھی ساتھ والے ٹیلے پر چیونٹیوں کے گھر میں ۔

ایک دن مینڈک نے بڑے تیتر سے شکایت کر دی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ٹیڈی بھالو اور آتش دان

 میرے سوہنے موہنے بچو! یہ کہانی ہے ایک ننھے منے  بھالو ٹیڈی کی جس کو بہت ٹھنڈ لگتی تھی۔ ٹیڈی کا گھر ایک بڑے سے  درخت کے تنے میں بنا ہوا تھا۔  اس میں دو خوابگاہیں، ایک بیٹھک اور صحن تھا۔ بیٹھک میں ایک بڑا سا آتش دان تھا جس میں امی جان نے بہت ساری لکڑیاں رکھ دی تھیں۔ جب رات ہوتی تو ان لکڑیوں میں آگ لگا دی جاتی۔ اس آگ کی تپش سے سارا گھر گرم ہو جاتا۔جب برف پڑتی تو ٹیڈی آگ کے پاس بیٹھ جاتا اور اپنے ہاتھ سامنے کر دیتا۔ جب اس کے ہاتھ گرم ہوتے تو اسے بہت مزہ آتا۔

اس دن موسم صاف تھا۔ ٹیڈی  بھالو نے ناشتہ کرتے کرتے کھڑکی میں سے باہر دیکھا۔

’’امی ! کیا آج میں اپنے دوست شانی کے گھر چلا جاؤں؟‘‘ ٹیڈی نے منہ میں نوالہ رکھے رکھے پوچھاتواس کا منہ اور پھول گیا۔


مزید پڑھیے۔۔۔

کٹ کٹ مرغی اور چینو مینو

میرے سوہنے موہنے بچو!  ایک تھی مرغی کُٹ کُٹ! اس کے دو بہت ہی پیارے بچے تھے۔ چینو اور مینو۔ یہ دونوں چوزے  سارا وقت کھیلتے رہتے اور دانہ کھاتے۔ ۔ ان کا گھر ایک جنگل میں تھا۔جنگل سے کچھ دور ایک  سڑک تھی  جو ابھی بن رہی تھی۔ بہت ساری گاڑیوں اور ٹرک کی آوازیں سن کر چینو اور مینو  کا بہت دل کرتا کہ وہ وہاں جا کر دیکھیں۔ سڑک کیسے بنتی ہے۔ لیکن کُٹ کُٹ مرغی نے انہیں  دور جانے سے منع کیا ہوا تھا۔

ایک بار کُٹ کُٹ مرغی کی طبیعت خراب ہو گئی۔ اس نے کل بی بطخ کی دعوت پر کچھ زیادہ کھالیا تھا۔ وہ  صبح اٹھتے ہی بندر میاں سے دوا لے آئی۔ چینو اورمینو ابھی سو رہے تھے۔ کُٹ کُٹ مرغی نے دوا لی تو اسے نیند آگئی۔ وہ بھی اپنے کمرے میں جا کر سو گئی۔

 

تھوڑی دیر بعد چینو مینو کی آنکھ کھلی ۔ گھر میں خاموشی تھی۔ چینو نے فریج کھول کر دیکھا۔ ماما نے ابھی کچھ نہیں پکایا تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔