Web Kahanian
     markazi safha ttlion key des men   fati or billu ki kahanian men zindagi new   Kahanian hi Kahanian Tehreer Bhejen

butterfly

اس Category میں ننھے منے کم سن بچوں کی کہانیاں شامل ہیں۔ چھوٹی چھوٹی معصوم سی باتوں کے ذریعے زندگی کے بڑے بڑے سبق سیکھنے ہوں تو یہ کہانیاں ضرور پڑھیں۔


 

اوہ! سوری ماما جان

رکن کی درجہ بندی: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive

arrownew e0 میرے  سوہنے موہنے بچو!  سردیاں  آ گئی ہیں۔ کیا آپ نے بھی ننھی منی  انجو کی طرح فر والا کوٹ، ننھامفلر ،لمبی جرابیں اور شوز  پہن رکھے ہیں؟  اللہ کرے آپ میں نہ ہو لیکن ہماری  انجو میں تو ایک خراب عادت ہے۔ وہ یہ کہ انہیں سردیوں میں بند جوتے پہننا بالکل پسند نہیں۔ ماما جان ڈانٹ ڈپٹ کر  پہنا دیں تو ٹھیک ۔ ورنہ اکثر انجو ننگے پاؤں گھوم رہی ہوتی ہیں۔ ان کی  کئی ایک جرابیں شوز نہ پہننے کی وجہ سے پھٹ جاتی ہیں۔

ایک دن ایسا ہی ہوا۔ ماما جان نے صبح صبح  آپا جان اور بھیا کو سکول بھیجا۔ پھر ناشتے کے بعد بابا بھی آفس چلے گئے۔ دادو اشراق کی نماز پڑھ کر سو رہی تھیں۔ تھوڑی دیر بعد انجو اٹھ گئیں تو ما ما جان نے ان کا منہ ہاتھ دھلایا اور انہیں تیار کر دیا۔

 

 story book icon  Pdf icon

 

 

 

 

مزید پڑھیے۔۔۔

تم تم چیونٹا

رکن کی درجہ بندی: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive

 میرے سوہنے موہنے بچو! سردیاں آنے والی تھیں۔ ملکہ چاہتی تھی سب چیونٹیاں جلدی جلدی کام ختم کر لیں۔ نم نم اور تم تم دونوں بہن بھائی تھے۔ نم نم تو سارا دن خوراک اکھٹی کرتی رہتی جبکہ تم تم  چیونٹا سستی سے اپنے بستر پر پڑ ا رہتا۔ اس نے کبھی کوئی کام کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔

’’تم تم!  تھوڑی سی حرکت کر لیا کرو۔ دیکھو تو! میں نے یہ ساتھ والا گودام کیسے بھر دیا ہے۔ ‘‘ نم نم نے بھائی کو ڈانٹا اور گودام کی طرف اشارہ کیا۔وہ چھوٹا سا ایک کمرہ تھا جو چینی کے ذروں، چاول کے دانوں اور ڈبل روٹی کے ننھے ٹکڑوں سے بھر چکا تھا۔

 

 story book icon  Pdf icon

 

 

 



مزید پڑھیے۔۔۔

! پھل کیوں دیا

رکن کی درجہ بندی: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
! پھل کیوں دیا

          Print

arrownew e0امی   سبزی  بنا رہی تھیں  اورننھی خولہ  ان کے  پاس بیٹھی تھی  ۔باقی بہن بھائی سکول گئے ہوئے  تھے  ۔

’’ خولہ   بیٹا! آپ مجھے پہلا کلمہ سنائیں ۔‘‘ امی نے کہا۔

 ننھی منی خولہ نے توتلی زبان میں   امی کو پہلا کلمہ سنایا   تو انہوں   نے خوش ہو کر  خولہ کو شاباش  دی ۔ تھوڑی دیر بعد  امی کچن  میں گئیں  تو خولہ بھی ساتھ  آگئی اور کہنے  لگی  ۔

’’ امی آپ مجھے ٹافی دیں  مجھے  بھوک لگی ہے ۔‘‘

  امی نے اسے سمجھایا  کہ

مزید پڑھیے۔۔۔

میں کون سے کپڑے پہنوں

رکن کی درجہ بندی: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active

میرے سوہنے موہنے بچو! انجو کی خالہ ، سلیمہ کی شادی آگئی  ہے۔ انجو بہت خوش ہیں۔ کب سے اپنی ماما جان سے ضد کر رہی ہیں کہ انہیں چوڑیاں مہندی اور لہنگا دلایا جائے۔

آخر ایک اتوار انجو کی ماما جان اور بابا جان نے پروگرام بنایا کہ وہ  انجو کو لے کر پہلے شاپنگ کرنے جائیں گے پھر وہاں سے پارک !  انجو کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ میرے بچو! ہماری انجو کو پارک کے جھولوں سے زیادہ نئے کپڑوں کی خوشی ہو رہی تھی۔

خیر اتوار کا دن بھی آگیا۔ ماما جان نے انجو کو تیار کیا، دو پونیاں بنائیں اور سرخ چپل پہنا کر گاڑی میں بٹھا دیا۔ پھر وہ بابا جان کے ساتھ اگلی سیٹ پر بیٹھ گئیں ۔ بابا جان نے گاڑی سٹارٹ کی تو وہ نہ ہو سکی۔ پتہ لگا کہ پٹرول کی ٹینکی لیک ہو چکی تھی۔ اب کیا کریں؟سب سے زیادہ پریشانی انجو کو تھی۔ ان کا لہنگا اور چوڑیاں بہت دور نظر آنے لگی تھیں۔ ماما جان کے تیسری بار بلانے پر وہ آنکھوں میں آنسو لیے گاڑی سے نیچے اتر آئیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ننھی وانیہ اور پنک مانو

رکن کی درجہ بندی: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
ننھی وانیہ اور پنک مانو

          Print

میرے سوہنے موہنے بچو! ننھی منی وانیہ  اپنی تین پہیوں والی سائیکل پر سارے گھر میں گھوم رہی تھیں۔ ’’چیز والا! چیز والا!‘‘ ابھی کل ہی  ماما جان نے گلی میں سے گزرتے ہوئے ایک چھابڑی والے سے کچھ سامان لیا تھا۔بس تب سے ہماری ننھی منی وانیہ ’’چیز والے‘‘ کا روپ دھار چکی تھیں۔ 

ان کی سائیکل پر لگی سرخ ٹوکری مختلف چیزوں سے بھری ہوئی تھی۔ رنگ برنگے بلاکس، ننھی سی سرخ  ریل  گاڑی،  چھوٹی چھوٹی پلیٹیں اورکپ،دو سنہری بالوں والی گڑیاں، سبز رنگ کا فوجی ٹینک اورایک نسواری رنگ کا شیر۔

’’چیز والا ! چیز والا!‘‘ یہ کہتے ہوئے ہماری ننھی منی وانیہ سارے کمروں میں باری باری جاتیں۔ ہر ایک 

مزید پڑھیے۔۔۔

سفید بطخیں اور جونو

رکن کی درجہ بندی: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active

میرے سوہنے موہنے بچو! ایک گھنے جنگل میں بہت ہی خوبصورت تالاب کے بیچ دو سفید بطخیں رہا کرتی تھیں۔ان کے ساتھ ہی ایک کالی بطخ، جونُو بھی رہتی تھی جس کا سفید بطخیں بہت مذاق اڑاتی تھیں۔ کبھی اسے کالو کہ کر پکارتیں تو کبھی کلّو۔ جونو نے کبھی سفید بطخوں کے مذاق کا برا نہیں مانا تھا۔ وہ الٹا انہیں سمجھاتی رہتی کہ وہ خود سے کالی تھوڑی بنی ہے۔ یہ تو پیارے اللہ میاں نے سب کو بنایا ہے۔ کسی کو کالا کسی کو گورا۔ کسی کو چھوٹا کسی کو لمبا۔

میرے بچو! سفید بطخوں کا  کیا کریں کہ ان کو سمجھ ہی نہیں آتی تھی۔ حتیٰ کہ ان کی شرارتوں سے تو جنگل کے باقی جانور بھی محفوظ نہیں تھے۔ جب ہاتھی تالاب سے پانی پینے آتے تو وہ زور زور سے چھینٹے اڑانے لگتیں۔ زرافے میاں ایک تو بڑی مشکل سے پانی پینے کے لیے اپنے آپ کو جھکاتے ، بطخیں ان کی لمبی گردن بھی ٹھنڈے پانی سے بھگو دیتیں۔ کبھی سفید بطخیں کووں اور چیلوں کو تالاب پر آنے ہی نہ دیتیں تو کبھی بھالو میاں کی بھوری رنگت کا مذاق اڑانے لگتیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

! گائے والے شوز

رکن کی درجہ بندی: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
! گائے والے شوز

          Print

صبح کا وقت تھا۔ رات کو بارش ہونے کی وجہ سے موسم بہت اچھا تھا۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ ماما جان نے لاؤنج کی بڑی سی کھڑی سے پردہ ہٹا دیا۔ سارے گھر میں روشنی پھیل گئی۔ ننھی منی انجو آنکھیں ملتے ہوئے کمرے سے باہر آئی تو اس کی نظر سامنے والی سر سبز پہاڑی پر پڑی۔ ایک گائے بڑے مزے سے اونچی نیچی ڈھلوان پر چلی جارہی تھی۔ کچھ دیر بعد وہ رک کر گھاس کھانے لگی۔ انجو کو لگا ابھی یہ گائے گر جائے گی۔ 

’’ماماجان!وہ دیکھیں! گائے تو گرنے لگی ہے۔ ‘‘ انجو نے تیزی سے کہا۔
ماما جان نے بھی کھڑکی سے باہر دیکھا تو مسکرا دیں۔
’’نہیں میری پیاری انجو! گائے گرنہیں

مزید پڑھیے۔۔۔

میں کیوں دوں

رکن کی درجہ بندی: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
Meenu ny badam khaey

 میرے سوہنے موہنے بچو! یہ ہے انجوکی پیاری سی گڑیا!  پھولے پھولے سنہرے بال، نیلی گول گول آنکھیں، سرخ ہونٹ اور گلابی جالی دار فراک۔ اس کو ہلائیں تو رونے لگتی ہے اور اس کا ہاتھ اوپر کریں تو فیڈر مانگتی ہے۔ یہ سنہری گڑیا ہماری انجو کو بہت پسند ہے۔

ایک دن کیا ہوا کہ انجو کے پڑوس میں رہنے والی ننھی سہیلی نینو چلی آئی۔

’’انجو! کیا کر رہی ہو!‘‘

’’میں یہاں ہوں! گڑیا کے ساتھ!‘‘ انجو نے سٹور میں سے آواز لگائی۔

اصل میں وہ اپنے گڑیا کے لیے ایک مفلر کی تلاش میں تھیں ۔  انہوں نے اپنے گرم کپڑوں کی گٹھڑی پوری طرح کھول رکھی تھی لیکن مفلر تھا کہ مل ہی نہیں رہا تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

چاٹ مصالحہ

رکن کی درجہ بندی: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
چاٹ مصالحہ

          Print

عید گزر چکی تھی۔ بہت سارے کپڑے اکھٹے ہوچکے تھے۔ ماما جان نے سوچا آج مشین لگا لی جائے۔ چنانچہ انہوں نے پورچ میں جا کر میلےکپڑوں کی ڈھیریاں سی بنائیں ۔ ساتھ ہی مشین میں پانی بھی ڈالنے لگیں۔

یہ ننھے عفی میاں کے لیے سنہری موقع تھا۔ بس اب کیا تھا! وہ بار بار کچن میں جاتے ۔ چھوٹی سی نیلی کرسی شیلف کے ساتھ رکھتے اور مصالحوں کے ڈبے کے ساتھ پڑا ہوا چاٹ مصالحے کا ڈبا اٹھا لیتے

مزید پڑھیے۔۔۔

مینو نے بادام کھائے

رکن کی درجہ بندی: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
Meenu ny badam khaey

اتوار کی صبح جب انجو کی آنکھ کھلی تووہ  اپنے بستر پر لیٹی ہوئی تھیں۔ حالانکہ انہیں اچھی طرح یاد تھا رات کو وہ کھیلتے کھیلتے بھیا کے بیڈ پر سو گئی تھیں۔ انہیں وہاں سے اپنے بستر پر کون لایا یہ تو ان کو یاد نہیں تھا! لیکن بہرحال ان کی نیند اچھی طرح پوری ہو چکی تھی۔اس لیے  انہوں نے اوڑھنے والی  نیلے پھولوں والی چادر ایک طرف کی اور بستر سے اتر گئیں۔

’’میں۔۔ میں میں۔۔‘‘ اچانک صحن کی طرف کھلنے والی کھڑکی سے ایک چھوٹی سی آوا ز آئی۔

’’ہائیں! میمنا!‘‘ ہماری ننھی منی انجو تو ننگے پاؤں صحن کی جانب بھاگیں۔ وہاں ایک کونے میں واقعی ایک ننھا منا گلابی کانوں والا پیارا سا میمنا کھڑا ہوا تھا۔ ساتھ ہی بھیا بیٹھے اس کو چارہ کھلا رہے تھے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

! آپا مہند ی لگائیں ناں

رکن کی درجہ بندی: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
! آپا مہند ی لگائیں ناں

          Print

میرے سوہنے موہنے بچو! آج چاند رات تھی۔ ماما جان شیر خورمہ بنا رہی تھیں۔ آپا جان کے ذمے سب کے کپڑے استری کرنا تھے۔ بھیا ڈرائنگ روم کی سیٹنگ کروا رہے تھے۔ دادو اپنے تخت پر بیٹھیں بادام اور کھوپا کاٹ رہی تھیں۔ہماری  ننھی  منی فزا مہندی کی کون تھامے کبھی آپا کے پاس جاتیں، کبھی ماما جان کے پاس۔

ایک بار تو دادو سے ڈانٹ پڑ بھی گئی۔ ’’آئے ہائے! بہو! دیکھو بٹیا مہندی کی کون تھامے یہاں وہاں  گھوم رہی ہے۔ کپڑوں پر لگ گئی تو داغ نہ جائے گا۔‘‘

ماما جان نے ننھی منی فزا کے ہاتھ سے کون

مزید پڑھیے۔۔۔

انجو اور بکرے میاں

رکن کی درجہ بندی: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active
Anjoo aur bakrey mian

  بقر عید سے تین دن پہلے گھر میں بکرا کیا آیا ہر طرف ہلچل ہی مچ گئی۔ جب دیکھو بکرے میاں کی خدمتیں ہو رہی ہیں۔ بھیا تازہ چارہ لا کر کھلا رہے ہیں۔ ابا جان نہلا دھلا کر صاف ستھرا کر رہے ہیں۔ دادا اباخاکروب کو صفائی کی ہدایات دے رہے ہیں۔ دادی اماں بکرے کو پھلوں کے چھلکے کھلانے پر بضد ہیں۔ آپا چارے کی ٹوکری اچھی طرح صاف کر رہی ہیں۔ ماما جان بکرے کو پہنانے کے لیے ہار بنا رہی ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

بی مانو کی سیر

رکن کی درجہ بندی: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
بی مانو کی سیر

          Print

میرے سوہنے موہنے بچو! بی مانو جب سے اس گھر میں رہنے آئی تھیں ان کے توعیش ہو گئے تھے۔ کبھی کوئی بچہ ان کے لیے گرم دودھ اور ڈبل روٹی لا رہا ہے۔ کبھی گھر کی آیا گوشت کے چھیچھڑے الگ کر کے ان کے آگے رہی ہیں۔ اور ان کے نرم گداز بستر کی تو کیا بات تھی!

یہ دراصل ایک چھوٹا سا گتے کا ڈبہ تھا جس کو گھر والوں نے بڑی خوبصورتی سے بی مانو کے گھر میں بدل دیا تھا۔ چھت کو سرخ رنگ کیا تھا ۔ اندرونی دیواریں سبز اوربیرونی دیواریں زرد رنگ کی تھیں۔ بستر کا رنگ سفید تھا اور کھانے کا پیالہ گلابی رنگ سے رنگا گیا تھا۔خود بی مانو بھی تو اتنی پیاری تھیں! نیلی آنکھیں ، گلابی کان اور پوری کی پوری سفیدملائم بالوں سے ڈھکی ہوئی۔  

مزید پڑھیے۔۔۔

مونو اور شونو

رکن کی درجہ بندی: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active
مونو اور شونو

’’لو دیکھو! وہ پھر آرہا ہے۔ لگتا ہے آج تو یہ ہمیں گر ا کر ہی چھوڑے گا۔‘‘

’’چلو ایسا کرتے ہیں۔ پتوں میں اورزیادہ چھپ جاتے ہیں۔پھر ہم اسے نظر ہی نہیں آئیں گے۔‘‘

میرے سوہنے موہنے بچو! یہ دو ننھے ننھے  سبزامرود تھے جو آپس میں چپکے چپکے باتیں کر رہے تھے۔ ان کے نام مونو اور شونو تھے۔

اتنے میں وہ شرارتی بچہ قریب آگیا۔ اس نے سکول بیگ ایک طرف رکھا اور امرود کی شاخوں کو زور زور سے ہلانے لگا۔

’’مونو! شاخوں کو پکا پکڑ لو۔ ‘‘ شونو نے چلا کر کہا۔ پتے زور زور سے ہل رہے تھے ۔ مونو اور شونو ہوا میں لہرا رہے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا اب گرے کہ تب گرے!

کچھ دیر کے بعد مونو اورشونو نے دیکھا ان کے تین بھائی نیچے گھاس پر جا گرے تھے۔ شرارتی بچہ اب مزے مزے لے کر انہیں کھانے میں مصروف تھا۔ یہ دیکھ کر مونو اور شونو کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔

’’اف! کتنا ظالم ہے یہ! ‘‘ ان کےمنہ سے نکلا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ماما جان کیوں ہنسیں؟

رکن کی درجہ بندی: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
ماما جان کیوں ہنسیں؟

          Print

’’احمر! کہاں ہو بیٹا؟‘‘ ماما جان نے آواز دی۔ اور ہمارے ننھے گول مٹول احمرمیاں الماری کا ایک پٹ کھولے کرسی رکھ کر کھڑے تھے۔ نیا سفید کڑکڑاتا کرتا، چھوٹی سی جالی دار ٹوپی ، سیاہ  چمکیلی واسکٹ اورننھی سی پشاوری چپل ۔  ماما  جان نے کل ہی الماری میں احمر میاں کی عید  کی چیزیں سنبھال کر رکھی  تھیں۔

اسی لیے آج صبح سےاحمر میاں کو چین نہیں آرہا تھا۔ جیسے ہی ماما جان افطاری بنانے کچن میں گئیں تو وہ کمرے میں چلے آئے ۔ سب سے پہلے انہوں نے اپنی چھوٹی سی جامنی کرسی کو آہستہ آہستہ گھسیٹ کرالماری کے سامنے لا کھڑا کیا۔  پھر جوتے اتار کر اوپر چڑھے۔ الماری کا ہینڈل گھمایا  تو ہلکی سی چوں کے ساتھ ایک پٹ کھل گیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

انجو کی کھجوری پونی

رکن کی درجہ بندی: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
انجو کی کھجوری پونی

میرے سوہنے موہنے بچو! اتوار کا دن تھا۔ آج سبھی گھر پر تھے۔ بھیا اپنی سائیکل صاف کر رہے تھے۔ دادو جان آپا کے بالوں میں تیل سے مالش کر رہی تھیں۔ ساتھ ہی ساتھ انہیں ڈانٹتی بھی جا رہی تھیں۔

’’ائے ہئے! کیا روکھے پھیکے بال بنا رکھے ہیں۔ یوں لگتا ہے جھاڑیوں میں ہاتھ پھیر رہی ہوں۔ بٹیا! تیل لگانا سنت ہے۔ بالوں کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں۔‘‘
ماما جان کچن میں مصروف تھیں کیونکہ آج سب کی پسند کا لنچ بن رہا تھا یعنی چکن پلاؤ اور شامی کباب۔ بابا جان پودوں کی گوڈی کر رہے تھے۔ ہماری ننھی منی انجو بابا جان کے پاس کھڑی تھیں۔ ان کے ہاتھ چھوٹا سا پھوار........

مزید پڑھیے۔۔۔

میرا روزہ کہاں گیا؟

رکن کی درجہ بندی: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
چھوٹی چڑیا

          Print

میرے پیارے بچو! رمضان کا مہینہ ہے اور ننھی منی سارہ روز امی جان سے ضد کرتی ہے کہ میں نے بھی روزہ رکھنا ہے۔ تیسرے روزے میں جب سب سحری کرنے اٹھے تو امی جان نے دیکھا۔ سارہ بھی آنکھیں ملتی ہوئی دسترخوان پر بیٹھی ہوئی ہے۔ 

دادو جان نے پیار سے اس کے بال سہلائے اور اسے گود میں بٹھا لیا۔
’’ارے میری پیاری بٹیا کاہے کو اٹھ بیٹھی؟ ‘‘
’’دادو! کل شام کو دادا ابا نے بتایا تھا سحری کرنا بہت ثواب کا کام ہے۔ ‘‘ سارہ نے توتلی زبان میں بتایا تو سب مسکرانے لگے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

انجو کا ’’پاکستان‘‘

رکن کی درجہ بندی: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
انجو کا ’’پاکستان‘‘

میرے سوہنے موہنے بچو! یقیناً آپ نے چودہ اگست خوشی خوشی منائی ہو گی۔ ہرے جھنڈے جھنڈیوں سے گھر کو سجایا ہو گا۔ ہماری پیاری ننھی منی انجو نے بھی  بھیا اور آپا کے ساتھ مل کے ڈھیر ساری جھنڈیاں لگائیں۔

ویسے تو چودہ اگست گزر چکا ہے ۔  ماما جان نے سب کی سب جھنڈیاں احتیاط سے اتار کر محفوظ کر لی ہیں لیکن ہماری انجو  ایک ننھا سا جھنڈا اٹھائے یہاں سے وہاں لہراتی نظر آتی ہیں۔انہیں یہ جھنڈا بہت پسند ہے ۔

ابھی کل ہی کی بات ہے ۔ ننھی منی  انجو قالین پر بیٹھیں کھلونوں سے کھیل رہی تھیں۔ ماما جان پاس سے گزریں تو ان کی نظر نیچے پڑے ہوئے جھنڈے پر پڑی ۔ انہوں نے فوراً اٹھا لیا اور بولیں۔’’انجو بیٹا! جھنڈے کو کبھی نیچے نہیں رکھتے۔ اس کو تو ہمیشہ اونچا کر کے رکھتے ہیں۔‘‘ یہ کہ کر انہوں نے جھنڈا  کھڑکی کی اوپر والی گرل پر لٹکا دیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

چھوٹی چڑیا

رکن کی درجہ بندی: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
چھوٹی چڑیا

          Print

ایک  اندھیرے  جنگل  میں  جامن  کے  پیڑ پر دو چڑیاں  رہا کرتی تھیں  ۔ان کی دوستی پورے جنگل میں مشہور  تھی۔  ان چڑیوں میں بڑی خوش مزاج اور سلجھی  ہوئی جب کہ  چھوٹی انتہائی  شریر تھی  ۔جنگل میں  سب  یہ  کہتے تھے  کہ ان کی دوستی  بڑی چڑیا  کی وجہ سے نبھ  رہی ہے۔ جنگل کے سبھی جانور  بڑی چڑیا  سے خوش  جب کہ  چھوٹی چڑیا  کی شرارتوں  سے نالا ں رہتے۔   چھوٹی چڑیا کبھی  کسی پرندے   کے گھونسلے  کا تنکا  چرا لیتی  تو کبھی کسی پرندے کے انڈے،  کبھی کسی جانور کی خوراک لے کر  درخت  پر جا پہنچتی ،غرض چھوٹی چڑیا  کا کام  ہی لوگوں کو ستانا  تھا  ، اس میں برعکس  بڑی چڑیا  کے تعلقات  بہت اچھے تھے  ۔

مزید پڑھیے۔۔۔

تالہ کس نے لگایا !

رکن کی درجہ بندی: 1 / 5

Star ActiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
تالہ کس نے لگایا!

میرے پیارے بچو! آج جنگل میں سبھی جانور بہت خوش تھے۔ بندر میاں نے باقاعدہ ایک کلینک کھول لیا تھا ۔ اب جنگل کے جانوروں کو تھوڑی تھوڑی سی دوا کے لیے ندی کے پار جانے کی ضرورت نہیں تھی۔

پہلے دن ہی سے کلینک پر خوب رش رہی ۔ بی چڑیا اپنے دو بچوں کو لے کر آئیں  جنہوں نے دو دن پرانے چاول کھا کر اپنا پیٹ خراب کر لیا تھا۔ گلہری اپنے  ننھےبھتیجے کو لے آئی جو دانت کے درد سے کراہ تھا۔ ہرن اپنی ٹانگ کے زخم کا مرہم لینے کے لیےآیا۔ زرافے میاں اپنی گردن میں نکلا ہوا ایک گومڑ لیے چلے آئے ۔ ان کو ایک اونچے درخت سے پتے کھاتے ہوئے چوٹ لگ گئی تھی۔  اور تو اور خود جنگل کے بادشاہ شیر نے بھی اپنی وزیر لومڑی کو بد ہضمی کی دوا لانے کے لیے بھیجا

مزید پڑھیے۔۔۔

ماما جان اور ننھی خولہ

رکن کی درجہ بندی: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active
ماما جان اور ننھی خولہ

          Print

ایک   دن جب ننھی منی خولہ سو کر اٹھی تو اس کے گلے میں ہلکا ہلکا درد تھا۔  ماما جان نے دیکھا خولہ چڑچڑی ہو رہی ہے اور نوالہ نگلتے ہوئے مشکل محسوس کر رہی ہے ۔ وہ سمجھ گئیں۔ انہوں نے  ناشتے کے بعد اسے دوا دی اور آرام کرنے کے لیے لٹا دیا۔

آج چھٹی کا دن تھا۔ صحن سے آپا جان ، بھیا اور ابو اور داداجان سبھی کی آوازیں آرہی تھیں۔ ایسے میں  ہماری شرارتی خولہ کیسے بستر میں دبکی رہ سکتی تھی۔ اس نے چھوٹی سی چھلانگ   لگائی اور بستر سے باہر نکل آئی۔ 

’’بہو! آج مہمان آرہے ہیں۔  کیا پکانا ہے؟ سودا منگوا لو۔‘‘ دادی جان ماماسے  کہ رہی تھیں۔ 

مزید پڑھیے۔۔۔