Web Kahanian
     markazi safha ttlion key des men   fati or billu ki kahanian men zindagi new   Kahanian hi Kahanian Tehreer Bhejen

butterfly

اس Category میں ننھے منے کم سن بچوں کی کہانیاں شامل ہیں۔ چھوٹی چھوٹی معصوم سی باتوں کے ذریعے زندگی کے بڑے بڑے سبق سیکھنے ہوں تو یہ کہانیاں ضرور پڑھیں۔


 

رنگ برنگے پھول

arrownew e0 اتوار کا دن ہے۔ انجو کے باباجان صبح سے مالی کے ساتھ مصروف ہیں۔ پہلے وہ ڈھیر سارے  بیج لے کر آئے ہیں۔ اب مالی کے ساتھ پودوں کی گوڈی  کر رہے ہیں۔

انجو سو کر اٹھی  تو کیاری سے آوازیں آرہی تھیں۔

’’مالی بابا آئے ہیں!‘‘ انجو نے نعرہ مارا اور باہر بھاگنے لگیں۔

’’ہائے بہو! اتنی ٹھنڈ اور انجو بٹیا جوتے کے بغیر۔۔‘‘ دادو چلائیں۔ ان کا جملہ پورا سننے بغیر ماما جان نے انجو کو پکڑ کر گود میں اٹھا لیا جو دروازے کے پاس پہنچ چکی تھیں۔ خیر! ماما جان نے ان کا منہ ہاتھ دھلوایا۔ نئے صاف کپڑے پہنائے اور شہد ملا دلیا کھا کر ہماری انجو کیاری میں پہنچ گئیں۔

’’واہ ہ ہ!‘‘ انجو کے منہ سے نکلا۔ کیاری بالکل نئی لگ رہی تھی۔ یہاں سے لے کر وہا ں تک رنگ برنگے پھولوں والے پودے لگے ہوئے تھے۔

’’بابا جان! یہ کون سا پھول ہے؟‘‘ انجو نے  ایک پودے کی جانب اشارہ کیا جہاں ایک بڑا سا سرخ رنگ کا پھول لگا ہوا تھا۔

’’میری بٹیا! یہ گلاب ہے۔ ہم نے دو رنگوں کے گلاب لگائے ہیں۔ ایک یہ سرخ اور دوسرا یہ اس کے ساتھ گلابی رنگ کا۔ ‘‘ بابا جان نے پیار سے ان کی ٹوپی کا پھندنا ہلایا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ایمو گٹھلی کی کہانی

میرے سوہنے موہنے بچو! یہ کہانی ہے ایک ننھی سی گٹھلی کی جس کا نام ایمو تھا۔ یہ آم کی گٹھلی تھی۔ ایمو  کو افضل بابا نے سنبھال کر رکھا ہوا تھا۔ جب شام ہوئی تو افضل بابا اپنے گھر پہنچے۔ ان کے گھر کے باہر کیاری تھی۔ وہاں پہلے سے امرود اور لوکاٹ کے درخت لگے ہوئے تھے۔ ایمو کو افضل بابا نے لوکاٹ سے کچھ ہٹ کر مٹی میں دبادیا۔

میرے بچو! ایمو جب مٹی کے اندر پہنچی تو اس کو بہت ساری نئی سہلیاں ملیں۔ یہ لوکاٹ اور امرود کی جڑیں تھیں۔ گلاب کے پودے نے بھی ایمو کو خوش آمدید کہا۔ موتیا البتہ کچھ ناراض تھا ۔ کیونکہ اس کو لگتاتھا اب ایمو کی جڑیں اس کی نازک جڑوں کو خراب کر دیں گی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

انجو اور بکرے میاں

Anjoo aur bakrey mian

  بقر عید سے تین دن پہلے گھر میں بکرا کیا آیا ہر طرف ہلچل ہی مچ گئی۔ جب دیکھو بکرے میاں کی خدمتیں ہو رہی ہیں۔ بھیا تازہ چارہ لا کر کھلا رہے ہیں۔ ابا جان نہلا دھلا کر صاف ستھرا کر رہے ہیں۔ دادا اباخاکروب کو صفائی کی ہدایات دے رہے ہیں۔ دادی اماں بکرے کو پھلوں کے چھلکے کھلانے پر بضد ہیں۔ آپا چارے کی ٹوکری اچھی طرح صاف کر رہی ہیں۔ ماما جان بکرے کو پہنانے کے لیے ہار بنا رہی ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

انجو گئی چڑیا گھر - 2

میرے سوہنے موہنے بچو!  پچھلے ہفتے ہم نے آپ کو بتایا تھا  کہ ہماری ننھی منی انجو چڑیا گھر کی سیر کر رہی تھیں۔ ان کے ہاتھ میں بھنے ہوئے چنوں کا ایک چھوٹا سا تھیلا تھا جو ان کو بھیا نے لا کر دیا تھا۔ یہ چنے انہوں نے بندروں کو کھلانے کے لیے رکھے ہوئے تھے۔

سیر کرتے ہوئے کئی جانوروں کےپنجرے گزر چکے تھے لیکن ہماری انجو کو بندر والے پنجرے کا بہت انتظار تھا۔ آخر کار دور ہی سے انہیں بندر نظر آگئے۔ وہ پنجرے کی سلاخوں پر چڑھے ہوئے تھے۔ کچھ بندر چھلانگیں لگا رہے تھے۔ دو بندر کیلے کھانے میں مصروف تھے جو انہیں ایک بچے نے دیے تھے۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

مونو اور شونو

مونو اور شونو

’’لو دیکھو! وہ پھر آرہا ہے۔ لگتا ہے آج تو یہ ہمیں گر ا کر ہی چھوڑے گا۔‘‘

’’چلو ایسا کرتے ہیں۔ پتوں میں اورزیادہ چھپ جاتے ہیں۔پھر ہم اسے نظر ہی نہیں آئیں گے۔‘‘

میرے سوہنے موہنے بچو! یہ دو ننھے ننھے  سبزامرود تھے جو آپس میں چپکے چپکے باتیں کر رہے تھے۔ ان کے نام مونو اور شونو تھے۔

اتنے میں وہ شرارتی بچہ قریب آگیا۔ اس نے سکول بیگ ایک طرف رکھا اور امرود کی شاخوں کو زور زور سے ہلانے لگا۔

’’مونو! شاخوں کو پکا پکڑ لو۔ ‘‘ شونو نے چلا کر کہا۔ پتے زور زور سے ہل رہے تھے ۔ مونو اور شونو ہوا میں لہرا رہے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا اب گرے کہ تب گرے!

کچھ دیر کے بعد مونو اورشونو نے دیکھا ان کے تین بھائی نیچے گھاس پر جا گرے تھے۔ شرارتی بچہ اب مزے مزے لے کر انہیں کھانے میں مصروف تھا۔ یہ دیکھ کر مونو اور شونو کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔

’’اف! کتنا ظالم ہے یہ! ‘‘ ان کےمنہ سے نکلا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

انجو گئی چڑیا گھر - 1

arrownew e0 میرے سوہنے موہنے بچو! کیسے ہیں آپ! آپ کو پتہ ہے پچھلے ہفتے انجو کے باباجان سب کو چڑیا گھر لے کر گئے تھے۔ وہاں یہ بڑے بڑے جانور تھے۔ نہیں نہیں! آپ ڈریں نہیں! وہ جانور بچوں کو کچھ نہیں کہتے۔  بلکہ وہ بچوں سے پیار کرتے ہیں۔

ہوا یوں کہ اتوار کی صبح ناشتے کے بعد بابا جان نے کہا۔

’’بچو! تیار ہو جاؤ۔ آج ہم چڑیا گھر کی سیر کو جائیں گے۔‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

انجو کی کھجوری پونی

انجو کی کھجوری پونی

میرے سوہنے موہنے بچو! اتوار کا دن تھا۔ آج سبھی گھر پر تھے۔ بھیا اپنی سائیکل صاف کر رہے تھے۔ دادو جان آپا کے بالوں میں تیل سے مالش کر رہی تھیں۔ ساتھ ہی ساتھ انہیں ڈانٹتی بھی جا رہی تھیں۔

’’ائے ہئے! کیا روکھے پھیکے بال بنا رکھے ہیں۔ یوں لگتا ہے جھاڑیوں میں ہاتھ پھیر رہی ہوں۔ بٹیا! تیل لگانا سنت ہے۔ بالوں کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں۔‘‘
ماما جان کچن میں مصروف تھیں کیونکہ آج سب کی پسند کا لنچ بن رہا تھا یعنی چکن پلاؤ اور شامی کباب۔ بابا جان پودوں کی گوڈی کر رہے تھے۔ ہماری ننھی منی انجو بابا جان کے پاس کھڑی تھیں۔ ان کے ہاتھ چھوٹا سا پھوار........

مزید پڑھیے۔۔۔

انجو کو لگا انجکشن

    میرے سوہنے موہنے بچو! سردیاں شروع ہو چکی ہیں اور ہمیشہ کی طرح ہماری  انجو کی ناک بری طرح بہ رہی ہے۔ آج ماما جان نے انہیں پسندیدہ نوڈلز کھلائے۔ ابلا ہوا انڈا کھلایا ۔ لیکن انجو کا زکام ذرہ برابر ٹھیک نہ ہوا۔ اور تو اور دادو جان  ادرک اور دار چینی کا قہوہ بھی  پلا چکی تھیں۔

شام کو بابا جان آفس سے آئے۔انجو دوڑتی ہوئی ان کے پاس چلی آئیں۔ ان کی چھوٹی سی ناک گلابی ہو رہی تھی۔ 

’’انجو بیٹی کا کیا حال ہے؟‘‘ انہوں نے انجو کو گود میں بٹھایا اور پیار سے پوچھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

انجو کا پاکستان

انجو کا ’’پاکستان‘‘

میرے سوہنے موہنے بچو! یقیناً آپ نے چودہ اگست خوشی خوشی منائی ہو گی۔ ہرے جھنڈے جھنڈیوں سے گھر کو سجایا ہو گا۔ ہماری پیاری ننھی منی انجو نے بھی  بھیا اور آپا کے ساتھ مل کے ڈھیر ساری جھنڈیاں لگائیں۔

ویسے تو چودہ اگست گزر چکا ہے ۔  ماما جان نے سب کی سب جھنڈیاں احتیاط سے اتار کر محفوظ کر لی ہیں لیکن ہماری انجو  ایک ننھا سا جھنڈا اٹھائے یہاں سے وہاں لہراتی نظر آتی ہیں۔انہیں یہ جھنڈا بہت پسند ہے ۔

ابھی کل ہی کی بات ہے ۔ ننھی منی  انجو قالین پر بیٹھیں کھلونوں سے کھیل رہی تھیں۔ ماما جان پاس سے گزریں تو ان کی نظر نیچے پڑے ہوئے جھنڈے پر پڑی ۔ انہوں نے فوراً اٹھا لیا اور بولیں۔’’انجو بیٹا! جھنڈے کو کبھی نیچے نہیں رکھتے۔ اس کو تو ہمیشہ اونچا کر کے رکھتے ہیں۔‘‘ یہ کہ کر انہوں نے جھنڈا  کھڑکی کی اوپر والی گرل پر لٹکا دیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اوہ! سوری ماما جان

 میرے  سوہنے موہنے بچو!  سردیاں  آ گئی ہیں۔ کیا آپ نے بھی ننھی منی  انجو کی طرح فر والا کوٹ، ننھامفلر ،لمبی جرابیں اور شوز  پہن رکھے ہیں؟  اللہ کرے آپ میں نہ ہو لیکن ہماری  انجو میں تو ایک خراب عادت ہے۔ وہ یہ کہ انہیں سردیوں میں بند جوتے پہننا بالکل پسند نہیں۔ ماما جان ڈانٹ ڈپٹ کر  پہنا دیں تو ٹھیک ۔ ورنہ اکثر انجو ننگے پاؤں گھوم رہی ہوتی ہیں۔ ان کی  کئی ایک جرابیں شوز نہ پہننے کی وجہ سے پھٹ جاتی ہیں۔

ایک دن ایسا ہی ہوا۔ ماما جان نے صبح صبح  آپا جان اور بھیا کو سکول بھیجا۔ پھر ناشتے کے بعد بابا بھی آفس چلے گئے۔ دادو اشراق کی نماز پڑھ کر سو رہی تھیں۔ تھوڑی دیر بعد انجو اٹھ گئیں تو ما ما جان نے ان کا منہ ہاتھ دھلایا اور انہیں تیار کر دیا۔

 

 story book icon  Pdf icon

 

 

 

 

مزید پڑھیے۔۔۔

تالہ کس نے لگایا !

تالہ کس نے لگایا!

میرے پیارے بچو! آج جنگل میں سبھی جانور بہت خوش تھے۔ بندر میاں نے باقاعدہ ایک کلینک کھول لیا تھا ۔ اب جنگل کے جانوروں کو تھوڑی تھوڑی سی دوا کے لیے ندی کے پار جانے کی ضرورت نہیں تھی۔

پہلے دن ہی سے کلینک پر خوب رش رہی ۔ بی چڑیا اپنے دو بچوں کو لے کر آئیں  جنہوں نے دو دن پرانے چاول کھا کر اپنا پیٹ خراب کر لیا تھا۔ گلہری اپنے  ننھےبھتیجے کو لے آئی جو دانت کے درد سے کراہ تھا۔ ہرن اپنی ٹانگ کے زخم کا مرہم لینے کے لیےآیا۔ زرافے میاں اپنی گردن میں نکلا ہوا ایک گومڑ لیے چلے آئے ۔ ان کو ایک اونچے درخت سے پتے کھاتے ہوئے چوٹ لگ گئی تھی۔  اور تو اور خود جنگل کے بادشاہ شیر نے بھی اپنی وزیر لومڑی کو بد ہضمی کی دوا لانے کے لیے بھیجا

مزید پڑھیے۔۔۔

تم تم چیونٹا

 میرے سوہنے موہنے بچو! سردیاں آنے والی تھیں۔ ملکہ چاہتی تھی سب چیونٹیاں جلدی جلدی کام ختم کر لیں۔ نم نم اور تم تم دونوں بہن بھائی تھے۔ نم نم تو سارا دن خوراک اکھٹی کرتی رہتی جبکہ تم تم  چیونٹا سستی سے اپنے بستر پر پڑ ا رہتا۔ اس نے کبھی کوئی کام کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔

’’تم تم!  تھوڑی سی حرکت کر لیا کرو۔ دیکھو تو! میں نے یہ ساتھ والا گودام کیسے بھر دیا ہے۔ ‘‘ نم نم نے بھائی کو ڈانٹا اور گودام کی طرف اشارہ کیا۔وہ چھوٹا سا ایک کمرہ تھا جو چینی کے ذروں، چاول کے دانوں اور ڈبل روٹی کے ننھے ٹکڑوں سے بھر چکا تھا۔

 

 story book icon  Pdf icon

 

 

 



مزید پڑھیے۔۔۔

پھل کیوں دیا

! پھل کیوں دیا

امی   سبزی  بنا رہی تھیں  اورننھی خولہ  ان کے  پاس بیٹھی تھی  ۔باقی بہن بھائی سکول گئے ہوئے  تھے ۔

’’ خولہ   بیٹا! آپ مجھے پہلا کلمہ سنائیں ۔‘‘ امی نے کہا۔

 ننھی منی خولہ نے توتلی زبان میں   امی کو پہلا کلمہ سنایا   تو انہوں   نے خوش ہو کر  خولہ کو شاباش  دی ۔ تھوڑی دیر بعد  امی کچن  میں گئیں  تو خولہ بھی ساتھ  آگئی اور کہنے  لگی  ۔

’’ امی آپ مجھے ٹافی دیں  مجھے  بھوک لگی ہے ۔‘‘

  امی نے اسے سمجھایا  کہ

مزید پڑھیے۔۔۔

میں کون سے کپڑے پہنوں

میرے سوہنے موہنے بچو! انجو کی خالہ ، سلیمہ کی شادی آگئی  ہے۔ انجو بہت خوش ہیں۔ کب سے اپنی ماما جان سے ضد کر رہی ہیں کہ انہیں چوڑیاں مہندی اور لہنگا دلایا جائے۔

آخر ایک اتوار انجو کی ماما جان اور بابا جان نے پروگرام بنایا کہ وہ  انجو کو لے کر پہلے شاپنگ کرنے جائیں گے پھر وہاں سے پارک !  انجو کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ میرے بچو! ہماری انجو کو پارک کے جھولوں سے زیادہ نئے کپڑوں کی خوشی ہو رہی تھی۔

خیر اتوار کا دن بھی آگیا۔ ماما جان نے انجو کو تیار کیا، دو پونیاں بنائیں اور سرخ چپل پہنا کر گاڑی میں بٹھا دیا۔ پھر وہ بابا جان کے ساتھ اگلی سیٹ پر بیٹھ گئیں ۔ بابا جان نے گاڑی سٹارٹ کی تو وہ نہ ہو سکی۔ پتہ لگا کہ پٹرول کی ٹینکی لیک ہو چکی تھی۔ اب کیا کریں؟سب سے زیادہ پریشانی انجو کو تھی۔ ان کا لہنگا اور چوڑیاں بہت دور نظر آنے لگی تھیں۔ ماما جان کے تیسری بار بلانے پر وہ آنکھوں میں آنسو لیے گاڑی سے نیچے اتر آئیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ننھی وانیہ اور پنک مانو

ننھی وانیہ اور پنک مانو

میرے سوہنے موہنے بچو! ننھی منی وانیہ  اپنی تین پہیوں والی سائیکل پر سارے گھر میں گھوم رہی تھیں۔ ’’چیز والا! چیز والا!‘‘ ابھی کل ہی  ماما جان نے گلی میں سے گزرتے ہوئے ایک چھابڑی والے سے کچھ سامان لیا تھا۔بس تب سے ہماری ننھی منی وانیہ ’’چیز والے‘‘ کا روپ دھار چکی تھیں۔ 

ان کی سائیکل پر لگی سرخ ٹوکری مختلف چیزوں سے بھری ہوئی تھی۔ رنگ برنگے بلاکس، ننھی سی سرخ  ریل  گاڑی،  چھوٹی چھوٹی پلیٹیں اورکپ،دو سنہری بالوں والی گڑیاں، سبز رنگ کا فوجی ٹینک اورایک نسواری رنگ کا شیر۔

’’چیز والا ! چیز والا!‘‘ یہ کہتے ہوئے ہماری ننھی منی وانیہ سارے کمروں میں باری باری جاتیں۔ ہر ایک 

مزید پڑھیے۔۔۔

سفید بطخیں اور جونو

میرے سوہنے موہنے بچو! ایک گھنے جنگل میں بہت ہی خوبصورت تالاب کے بیچ دو سفید بطخیں رہا کرتی تھیں۔ان کے ساتھ ہی ایک کالی بطخ، جونُو بھی رہتی تھی جس کا سفید بطخیں بہت مذاق اڑاتی تھیں۔ کبھی اسے کالو کہ کر پکارتیں تو کبھی کلّو۔ جونو نے کبھی سفید بطخوں کے مذاق کا برا نہیں مانا تھا۔ وہ الٹا انہیں سمجھاتی رہتی کہ وہ خود سے کالی تھوڑی بنی ہے۔ یہ تو پیارے اللہ میاں نے سب کو بنایا ہے۔ کسی کو کالا کسی کو گورا۔ کسی کو چھوٹا کسی کو لمبا۔

میرے بچو! سفید بطخوں کا  کیا کریں کہ ان کو سمجھ ہی نہیں آتی تھی۔ حتیٰ کہ ان کی شرارتوں سے تو جنگل کے باقی جانور بھی محفوظ نہیں تھے۔ جب ہاتھی تالاب سے پانی پینے آتے تو وہ زور زور سے چھینٹے اڑانے لگتیں۔ زرافے میاں ایک تو بڑی مشکل سے پانی پینے کے لیے اپنے آپ کو جھکاتے ، بطخیں ان کی لمبی گردن بھی ٹھنڈے پانی سے بھگو دیتیں۔ کبھی سفید بطخیں کووں اور چیلوں کو تالاب پر آنے ہی نہ دیتیں تو کبھی بھالو میاں کی بھوری رنگت کا مذاق اڑانے لگتیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

گائے والے شوز

! گائے والے شوز

صبح کا وقت تھا۔ رات کو بارش ہونے کی وجہ سے موسم بہت اچھا تھا۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ ماما جان نے لاؤنج کی بڑی سی کھڑی سے پردہ ہٹا دیا۔ سارے گھر میں روشنی پھیل گئی۔ ننھی منی انجو آنکھیں ملتے ہوئے کمرے سے باہر آئی تو اس کی نظر سامنے والی سر سبز پہاڑی پر پڑی۔ ایک گائے بڑے مزے سے اونچی نیچی ڈھلوان پر چلی جارہی تھی۔ کچھ دیر بعد وہ رک کر گھاس کھانے لگی۔ انجو کو لگا ابھی یہ گائے گر جائے گی۔ 

’’ماماجان!وہ دیکھیں! گائے تو گرنے لگی ہے۔ ‘‘ انجو نے تیزی سے کہا۔
ماما جان نے بھی کھڑکی سے باہر دیکھا تو مسکرا دیں۔
’’نہیں میری پیاری انجو! گائے گرنہیں

مزید پڑھیے۔۔۔

میں کیوں دوں

Meenu ny badam khaey

 میرے سوہنے موہنے بچو! یہ ہے انجوکی پیاری سی گڑیا!  پھولے پھولے سنہرے بال، نیلی گول گول آنکھیں، سرخ ہونٹ اور گلابی جالی دار فراک۔ اس کو ہلائیں تو رونے لگتی ہے اور اس کا ہاتھ اوپر کریں تو فیڈر مانگتی ہے۔ یہ سنہری گڑیا ہماری انجو کو بہت پسند ہے۔

ایک دن کیا ہوا کہ انجو کے پڑوس میں رہنے والی ننھی سہیلی نینو چلی آئی۔

’’انجو! کیا کر رہی ہو!‘‘

’’میں یہاں ہوں! گڑیا کے ساتھ!‘‘ انجو نے سٹور میں سے آواز لگائی۔

اصل میں وہ اپنے گڑیا کے لیے ایک مفلر کی تلاش میں تھیں ۔  انہوں نے اپنے گرم کپڑوں کی گٹھڑی پوری طرح کھول رکھی تھی لیکن مفلر تھا کہ مل ہی نہیں رہا تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

عفی میاں نے کھایا چاٹ مصالحہ

چاٹ مصالحہ

عید گزر چکی تھی۔ بہت سارے کپڑے اکھٹے ہوچکے تھے۔ ماما جان نے سوچا آج مشین لگا لی جائے۔ چنانچہ انہوں نے پورچ میں جا کر میلےکپڑوں کی ڈھیریاں سی بنائیں ۔ ساتھ ہی مشین میں پانی بھی ڈالنے لگیں۔

یہ ننھے عفی میاں کے لیے سنہری موقع تھا۔ بس اب کیا تھا! وہ بار بار کچن میں جاتے ۔ چھوٹی سی نیلی کرسی شیلف کے ساتھ رکھتے اور مصالحوں کے ڈبے کے ساتھ پڑا ہوا چاٹ مصالحے کا ڈبا اٹھا لیتے

مزید پڑھیے۔۔۔

مینو نے بادام کھائے

Meenu ny badam khaey

اتوار کی صبح جب انجو کی آنکھ کھلی تووہ  اپنے بستر پر لیٹی ہوئی تھیں۔ حالانکہ انہیں اچھی طرح یاد تھا رات کو وہ کھیلتے کھیلتے بھیا کے بیڈ پر سو گئی تھیں۔ انہیں وہاں سے اپنے بستر پر کون لایا یہ تو ان کو یاد نہیں تھا! لیکن بہرحال ان کی نیند اچھی طرح پوری ہو چکی تھی۔اس لیے  انہوں نے اوڑھنے والی  نیلے پھولوں والی چادر ایک طرف کی اور بستر سے اتر گئیں۔

’’میں۔۔ میں میں۔۔‘‘ اچانک صحن کی طرف کھلنے والی کھڑکی سے ایک چھوٹی سی آوا ز آئی۔

’’ہائیں! میمنا!‘‘ ہماری ننھی منی انجو تو ننگے پاؤں صحن کی جانب بھاگیں۔ وہاں ایک کونے میں واقعی ایک ننھا منا گلابی کانوں والا پیارا سا میمنا کھڑا ہوا تھا۔ ساتھ ہی بھیا بیٹھے اس کو چارہ کھلا رہے تھے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

آپا مہند ی لگائیں ناں

! آپا مہند ی لگائیں ناں

میرے سوہنے موہنے بچو! آج چاند رات تھی۔ ماما جان شیر خورمہ بنا رہی تھیں۔ آپا جان کے ذمے سب کے کپڑے استری کرنا تھے۔ بھیا ڈرائنگ روم کی سیٹنگ کروا رہے تھے۔ دادو اپنے تخت پر بیٹھیں بادام اور کھوپا کاٹ رہی تھیں۔ہماری  ننھی  منی فزا مہندی کی کون تھامے کبھی آپا کے پاس جاتیں، کبھی ماما جان کے پاس۔

ایک بار تو دادو سے ڈانٹ پڑ بھی گئی۔ ’’آئے ہائے! بہو! دیکھو بٹیا مہندی کی کون تھامے یہاں وہاں  گھوم رہی ہے۔ کپڑوں پر لگ گئی تو داغ نہ جائے گا۔‘‘

ماما جان نے ننھی منی فزا کے ہاتھ سے کون

مزید پڑھیے۔۔۔