Web Kahanian
     markazi safha ttlion key des men   fati or billu ki kahanian men zindagi new   Kahanian hi Kahanian Tehreer Bhejen  

  ہم یہی رویے دیکھ کر بڑے ہوتے گئے۔ نانا جان کو ملنے جانا ہو تو امی ہر وقت تیار ۔ تایا ابو کی طبیعت پوچھنے جانا ہے تو امی نے مشین لگا لی ہے اور باجی کا ٹیسٹ بھی ہے۔ ماموں کے گھر جاتے وقت مٹھائی اور پھل اور پھپھو کے گھر کچھ لے کر جانے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ کون تین دن تک امی کے خراب ترین موڈ کا سامنا کرے۔ ابو بھی اسی ڈگر پر چل نکلے تھے اور اب انہیں بالکل عجیب نہیں لگتا تھا جب پھپھو کی شکل دیکھے ہوئے بھی انہیں کئی سال  ہو جاتے۔

اس دن گاؤں میں فوتگی ہو گئی۔ابو کی طرف کے سب رشتہ داروں کی حاضری لازمی تھی۔ ہم بھی گئے لیکن سارا راستہ امی کچھ نہ بولیں۔ ابو تو تھے ہی اداس۔ ان کے سگی تائی جان کی ڈیتھ ہو ئی تھی۔ ہم شیشے سے باہر دیکھتے گئے۔ گاؤں میں لہلہاتے سرسوں کے کھیت ہمیں جتنا اٹریکٹ کرتے تھے اتنا شاید ہی کوئی اور منظر کرتا ہو۔

 

جنازہ اٹھنے کے بعد  سب عورتیں چاول کھانے میں مصروف تھیں۔ پھپھو بار بار دروازے کی طرف دیکھتیں۔ ایک گھنٹے کے بعد ابو نے بھائی کو ہمیں بلانے کے لیے بھیجا۔ وہ خود اندر نہیں آسکے تھے۔ پھپھو ہمارے ساتھ باتیں کرتی ہوئیں باہر آگئیں۔ ہم نے انہیں خداحافظ کہا۔ امی نے بھی ان سے ہاتھ ملایا اور ہم گاڑی میں آکر بیٹھ گئے۔ ابو نے گاڑی سے اترنا گوارا نہیں کیا کیونکہ انہیں دیر ہو رہی تھی۔ اندھیرا ہو جاتا تو کچے راستے پر گاڑی چلانا مشکل ترین ہو جاتا۔ انہوں نے گاڑی سے ہی ہاتھ ہلا کر پھپھو کا حال پوچھا اور اسی ہاتھ سے خداحافظ کہ کر بیک مرر سیٹ کرنے لگے۔ میں نے اتنی دور سے بھی پھپھو  کی  اداسی محسوس کر لی تھی۔ پتہ نہیں اور کسی کو  محسوس ہوئی یا نہیں۔

ہم سب بہن بھائیوں کے ذہن میں اچھی طرح اتر چکی تھی کہ ابو کے رشتہ دارکچھ بھی نہیں ہیں اور امی کے رشتہ دارہی ہماری دنیا ہمارا سب کچھ ہیں۔اب ہم بڑے ہو چکے تھے۔ باجی کی شادی ہو چکی تھی۔ امی نے خوب اچھی طرح پتہ کروا کر ان کے لیے بالکل اکیلے لڑکے کا انتخاب کیا تھا۔میرا بھراپرا سسرال تھا لیکن میں بہت خوش تھی۔ سو میری طرف سے بھی امی کو کوئی فکر نہ تھی۔  بھائی جان کے لیے امی ، ماہ رخ کو لائی تھیں جو ہماری خالہ کی بیٹی تھی۔بہت پیار ی اور معصوم سی صورت والی ماہی ہماری چھوٹی بہنوں کی طرح تھی۔ ہم سب کی اس سے خوب بنتی تھی۔ سو اس کے آنے سے ہمیں بہت خوشی ہوئی۔

کچھ ہی عرصہ بعد بھائی کی کمپنی والوں کو جہلم کا پراجیکٹ مل گیا۔ مینجر نے بھائی جان کی اچھی کارگردگی کی بنا پر انہیں بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ بھائی جان بہت خوش تھے۔ وہاں انہیں گھر اور گاڑی بھی مل رہے تھے۔ وہ ماہی اور بیٹے  شاہ زیب کو ساتھ لے جانا چاہتے تھے۔ امی کو پتہ چلا تو انہوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔

’’بھی بہوؤیں ایسی ہی ہوتی ہیں۔ آتے ساتھ ہی میرے بیٹے پر قبضہ کر لیا اور اب اسے میرے سے دور کر رہی ہے۔‘‘ ماہی  چپ چاپ امی کی باتیں سنتی رہتی ۔ پلٹ کر جواب نہ دیتی لیکن بھائی جان کو خوب خوب سناتی۔

اس دن بھی بھائی جان امی سے شکوہ کر رہے تھے۔

’’کیسے چھوڑ دوں ماہی کو یہاں۔ ہر وقت کچن میں ہی کھڑی رہتی ہے۔ اپنا کوئی ہوش نہیں رہتا اس کو۔ بچوں کو دیکھنے کا بھی ٹائم نہیں ہے اس کے پاس۔‘‘ پہلے پہل بھائی کی ایسی باتوں پر امی کا منہ کھلا کا کھلا رہ جاتا تھا کیونکہ ماہی کرتی ہی کیا تھی سارا دن۔ صرف اپنا کمرہ صاف کرتی تھی اور رات کی روٹیاں اس کی ذمہ داری تھی اور بس۔ لیکن جب امی نے دیکھا کہ بھائی ان سے زیادہ ماہی کی بات پر یقین کرتے ہیں تو امی نے صفائی دینا چھوڑدیا۔

’’اور میں وہاں اکیلا نہیں رہ سکتا۔ باہر کاکھانا روز کیسے کھاؤں گا۔ پھر جب مجھے ایک آپشن مل رہی ہے فیملی کو ساتھ رکھنے کی تو میں کیوں نہ انہیں ساتھ لے کر جاؤں۔‘‘ وہ اپنی بات پر مصر تھے۔ یہ اور بات تھی کہ انہوں نے جھوٹے منہ بھی امی کو ساتھ چلنے کے لیے نہیں کہا تھا۔ یہی بات امی کو کھل رہی تھی۔ وہ اندر ہی اندر اس بات کی منتظر تھیں کہ بھائی ان کو ساتھ لے جانے پر اصرار کریں ۔

آج بھائی کی شفٹنگ تھی۔ میں نے امی کو فون کیا تو وہ پھٹ پڑیں۔

’’ہاں سارا سامان لے گئے ہیں۔ ایک چیز بھی نہیں چھوڑی۔ پوچھا تک نہیں۔ ایسے ہی کہ دیتا ۔ میں نے کون سا ساتھ چل پڑنا تھا۔ اللہ پوچھے۔ دیکھو ذرا ایسے بھی بیٹے ہوتے ہیں۔  ‘‘

’’جی امی! ایسے بیٹے ہوتے ہیں اور ہمارے گھر میں بھی ہے ایک ایسا ہی بیٹا ابو کی صورت میں۔ جنہوں نے ساری زندگی آپ کے ڈر سے پھپھوکا صحیح طرح حال تک نہ پوچھا۔ ابو اپنے  سگےرشتہ داروں سے صرف اس لیے کٹ گئے کیونکہ آپ کا موڈ خراب ہوتا تھا۔  اب بھائی جان کیا کریں۔ انہوں نے یہ سارے رویے  ابو سے سیکھے ہی نہیں اپنے اندر اتارے ہیں۔ پھر  ماہی بھی منہ بنا لیتی ہے جب بھائی آپ کے کمرے میں تھوڑی دیر کے لیے بیٹھ جاتا ہے۔اور اس بات پرآپ کو  اداس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ ہمارے گھر کی روایت ہے امی جی۔  آپ نے بھی تو کچھ نہیں چھوڑا امی جی! کچھ بھی نہیں ۔‘‘

میں نے کہا اور فون رکھ دیا کیونکہ میں تھک چکی ہوں۔مجھے لگتا ہے اب مجھے وہ سب کچھ کہ دینا چاہیے جو میں اتنے عرصے سے صرف سوچ رہی ہوں اور اس لیے بھی کہ پھپھو کا اداس چہرہ میری آنکھوں سے ہٹتا نہیں اور میرے سے امی جی کے آنسو دیکھے نہیں جاتے............... 

 

اپنی قیمتی رائے سے آگاہ کیجیے

Invalid Input
Invalid Input
Invalid Input
Invalid Input