Web Kahanian
     markazi safha ttlion key des men   fati or billu ki kahanian men zindagi new   Kahanian hi Kahanian Tehreer Bhejen

!مجھے رونا نہیں آتا

          Print

نہ جانے کیوں میرا دل کہتا ہے کہ مجھے آپ کو اپنی کہانی سنانی چاہیے۔ میں اپنی شناخت ظاہر نہیں کرسکتا ۔  بس اتنا بتا سکتا ہوں  کہ میں ایک پروفیشنل فوٹوگرافر ہوں۔ میں اپنے پورے ادارے میں  Steel Heart یعنی آہنی دل کے نام سے مشہور ہوں۔ میرا دعوٰی ہے کہ مجھے رونا نہیں آتا  چاہے جتنا بھی  غمگین منظر عکس بند کرنا پڑ جائے۔ ہاں! میں یقین  سے کہ سکتا ہوں میری آنکھوں کے گوشے تک نمکین نہیں ہو پاتے چاہے جیسی بھی جذباتی فوٹو مجھے لینی پڑ جائے۔

یہ 21 اگست 2013 کا دن تھا ۔ میں شام کے شہر دمشق میں اپنی ڈیوٹی سر انجام دے رہا تھا ۔ اچانک خبر آئی کہ دمشق کے مضافاتی علاقے الغوطہ  میں  کیمیکل راکٹ داغے گئے ہیں۔ ابھی ہم سوچ ہی رہے تھے یہ کس قسم کا حملہ ہو سکتا ہے اور اس کے کیا نتائج بر آمد ہو ں گے کہ ہمیں ادارے کی جانب سے متاثرہ علاقے کی جانب روانہ ہونے کا حکم دیا گیا۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ہم جب  الغوطہ   کی حدود میں داخل ہوئے تو ہمارے چہروں پر جدید ماسک تھے  کیونکہ کیمیکل حملے کے اثرات چھ گھنٹے گزرنے کے باوجود بھی تاحال باقی تھے۔

ہم سب سے پہلے علاقے کے ہسپتال پہنچے۔ میں مین کیمرہ تھامے سب سے آگے تھا۔  گیٹ کے اندر داخل ہوتے ہی مجھے ایمرجنسی وارڈ کی تلاش تھی۔ اچانک میرا پاؤں کسی نرم چیز سے ٹکرا گیا۔ میں نے سنبھل کر نیچے دیکھا۔ وہ ایک چھوٹا سا بچہ تھا۔ وہی نہیں بلکہ میری تاحد نظر تک چھوٹے چھوٹے اجسام ہسپتال کے فرش پر بکھرے ہوئے تھے۔ زیادہ سے زیادہ آٹھ سال تک کے بچے! یا شاید ادھ موئ ، آخری سانسیں لیتی ہوئی لاشیں!

میں آگے بڑھا ۔ اور آپریشن تھیٹر پہنچ گیا۔ یہاں بھی وہی منظر تھا۔ ٹیبل پر ایک بچے کو لٹایا گیا تھا جس پر ایک ڈاکٹر پانی چھڑک رہا تھا۔ بچہ ہر دفعہ ایک چھوٹی سی  ادھڑی ہوئی سانس لیتا جیسے کہ رہا ہو بس مجھے مر جانے دو کہ یہ سانس لینا میرے لیے زیادہ تکلیف دہ ہے۔ میرے دیکھتے ہی دیکھتے اس کے چہرے پر ایک الوداعی مسکراہٹ نمودار ہو گئی اور اس نے حرکت بند کر دیا۔

مجھے لگا میرا سٹیل ہارٹ پگھل کر میرے ہی قدموں میں بہ جائے گا۔ مجھے لگا اب میری آنکھوں سے آنسو کی بجائے خون نکلنے لگے لگا۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ میرا ساتھی سارے کیمرے نیچے رکھ کر دونوں ہاتھ چہرے پر رکھے ہوئے تھا۔ وہ زاروقطار رو رہا تھا۔ میری آنکھوں کے گوشے بھی نمکین ہونے لگے ۔ اور زندگی میں پہلی بار.. پہلی بار مجھے اپنا دعوٰی غلط لگنے لگا ۔ یہی دعوٰی کہ مجھے رونا نہیں آسکتا۔  وہ رپورٹنگ ہم نے کیسے کی یہ تو ہمارا خدا جانتا ہے۔ خدا کسی دشمن کو بھی وہ سارے منظر نہ دکھلائے۔  

اس واقعے کے کچھ عرصے بعد میں وطن واپس چلاگیا۔ لیکن میرے خوابوں میں وہ سارے بچے بار بار آتے رہے۔ وہ بچے۔۔ جو آدھی آدھی سانسیں لے رہے تھے۔ وہ بچے جو الوداعی مسکراہٹ کے بعد حرکت کرنا بند کر دیتے تھے۔  میں جانتا ہوں مسلمان  ملکوں کی عوام بے حس نہیں۔ ان کا دل مظلوم مسلمانوں کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ اگر وہ سستی اور حالات سے  چشم پوشی ترک کر دیں اور اپنے دین پر پورے پورے عمل کرنے والے بن جائیں  تو ان کی کایا یکسر پلٹ سکتی ہے۔

اپریل 2016 کے آغاز میں مجھے ادارے کی طرف سے  شام کے شہر حلب جانے کا کہا گیا۔ میں نے انکار کرنے کی کوشش کی لیکن نہ جانے کیوں نہیں کر سکا۔ میں نے اپنی ٹیم تیار کی اور ہم حلب چلے آئے۔ ابھی ہمیں کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ بمباری شروع ہو گئی۔ میں نے اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے باہر نکلنے کی کوشش کی لیکن میرے ساتھیوں نے مجھے پکڑ لیا۔

خیر ! جب قیامت نما بمباری کا یہ سلسلہ تھما تو ہم نے اپنے کیمرے سنبھالے اور باہر نکلے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ ساتھ والی پوری گلی کھنڈرات کا ڈھیر بن چکی ہے۔ یہ وہ گلی تھی جہاں میں نے کل بچوں کو کھیلتے ہوئے دیکھا تھا۔ اب اس کے ہر گھر سے زندگی کا دم  جیسے گھٹ گیا تھا۔  میں ابھی ایک عمارت کے سامنے کھڑا سوچ رہا تھا کہ ایک  میاں بیوی چیختے چلاتے ہوئے یہاں وہاں بھاگنے لگے۔ ’’احمر، زینب ، عائشہ۔۔‘‘ وہ اپنے بچوں کو ڈھونڈ رہے تھے۔ پھر کچھ لوگ امدادی گاڑیاں لیے بھاگے ہوئے آئے اور ملبے میں سے لاشیں نکالنے لگے۔

کچھ دیر بعد احمر عائشہ اور زینب کی لاشیں بھی نکل آئیں لیکن اس حالت میں کہ وہ دیوار کے گرجانے کی وجہ سے  دو حصوں میں منقسم تھیں۔ دیوار کے بڑے بڑے پتھروں نے ان کی آنتیں باہر نکال دی تھیں ۔ احمر  نےجس کی عمر لگ بھگ آٹھ سال تھی،  اپنی چھوٹی بہنوں کو اپنے ساتھ لٹایاہوا تھا۔ پانچ  سالہ عائشہ کے ہاتھ میں  کہانیوں کی کتاب اب اس کے خون سے رنگین تھی۔ ڈیڑھ سالہ زینب ہاتھ میں سرخ جھنجھنا پکڑے  یوں مسکرا رہی تھی جیسے بس کھیلتے کھیلتے سو گئی ہو۔  ان کی ماں  یہ سب دیکھ کر اپنا حجاب بھول گئی اور  گلی کے اس سرے تک  یکسر بھاگتی چلی گئی۔ باپ سکتے میں آچکا تھا اور پتھرائی نظروں سے خون کی ان تین  لکیروں کو تک رہا تھا جو فرش پر دور تک  بہتی چلی جارہی تھیں۔

میرا ساتھی کب سے اس انتظار میں تھا کہ میں ان تینوں بچوں کی لاشوں کی تصویریں لے لوں۔ لیکن زندگی میں دوسری بار... دوسری بار مجھے لگا کہ میں غلط تھا۔ مجھے  تورونا آتا ہے۔ میں زاروقطار آنسو بہا سکتا ہوں اور میرا  دل پگھل کر بہ جاتا ہے..................!


اپنی قیمتی رائے سے آگاہ کیجیے

Invalid Input
Invalid Input
Invalid Input
Invalid Input