Web Kahanian
     markazi safha ttlion key des men   fati or billu ki kahanian men zindagi new   Kahanian hi Kahanian Tehreer Bhejen

Men Zindagii

   اس Category   میں نوجوانوں کے لیے لکھی گئی دلچسپ کہانیاں شامل ہیں۔ زندگی کے مشکل اور الجھن بھرے لمحات سے کیسے نمٹناہے اور اپنے رب کو کیسے راضی  کیسے کرنا ہے، یہ جاننے  کے لیے یہ کہانیاں ضرور پڑھیں۔


اب ضرورت نہیں

arrownew e0’’سنیں ! آج ڈاکٹر فردوس کے پاس جانا ہے۔ آپ کو یاد ہے ناں!‘‘ کوثر نے یاد کروایا۔

’’ہاں! یاد ہے جی! آپ کی کوئی بات میں کیسے بھول سکتا ہوں۔‘‘ حاشر نے مسکراتے ہوئے کہا۔

ان کی شادی کو چھ ماہ ہو چلے تھے۔ حاشر بے حد محبت کرنے والا اور بہت خیال رکھنے والا شوہر تھا۔ کوثر بھی اچھی بیوی کی ذمہ داریاں بہت اچھی طرح نبھا رہی تھی۔

شام کو ڈاکٹر فردوس سے واپسی پر حاشر کہنے لگا۔

’’بھئی یہ ڈاکٹر تو اچھی خاصی مہنگی ہے۔ صرف فلو کی دوائی وغیرہ کے لیے ہزار روپے لے لیے۔‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

اپنا گھر

 ’’ویسے  اب میرا دل کرتا ہے ہم اپنے ملک  اپنے پاکستان جا کر رہیں۔‘‘ خان صاحب  تھکے تھکے انداز میں بولے  اور میں میرا  تو ہاسا  ہی نکل گیا۔

  ’’میں تم سےاس قدر  سیریس میٹر  پر تم  سے بات کر  رہا ہوں  اور  تم۔۔۔‘‘ انہوں نے اچھی خاصی جھاڑ پلا دی ۔

’’اچھا چلیں ، نہیں ہنستی ، آپ ویسے پوچھنے کی زحمت  گوارا  کرتے  تو میں آپکو  ہنسنے کی وجہ  بتاتی ، لیکن  خیر ! میں نے ٹھنڈی سانس  بھر کر بات ادھوری  چھوڑ دی  جس کا ان پر  کوئی اثر نہیں  ہوا  وہ  اپنے  ہی کسی غم میں ڈوبے نظر آ رہے  تھے ۔‘‘

’’ بتا بھی دیں عبدل  کے پاپا   کیا وجہ ہو گئی؟‘‘ میں نے  پوچھا ۔

مزید پڑھیے۔۔۔

قرآن کا معجزہ

  قرآن کریم کی ایک چھوٹی سی آیت نے مجھے عیسائی سے مسلمان بنادیا۔ یہ ڈاکٹر غرینیہ تھے جو پیرس کے ایک کامیاب طبیب ہونے کے علاوہ فرانسیسی حکومت کے رکن تھے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد وہ حکومت سے الگ ہوگئے اور پیرس چھوڑ کر فرانس کے ایک چھوٹے گائوں میں سکونت اختیار کرلی اور خدمت خلق میں مصروف ہوگئے۔

محمود مصری نے ان سے ان کے مکان پر مل کر ان کے اسلام قبول کرنے کا سبب دریافت کیا۔
قرآن کی ایک آیت، ڈاکٹر نے جواب دیا۔
کیا آپ نے کسی مسلمان عالم سے قرآن پرھا ہے، نہیں میری اب تک کسی مسلمان عالم سے ملاقات نہیں ہوئی۔
پھر یہ واقعہ کیوں کر پیش آیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

امید کے دیے

’’السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!‘‘

’’ارے! وعلیکم السلام  افضل صاحب !بھئ کیسے مزاج ہیں آپ کے؟ ‘‘

افضل صاحب نماز عصر کی ادائیگی کے بعد مسجد کے باہر  مختلف ٹھیلوں سے چیزیں خریدنے میں مگن تھے جب طارق صاحب کی آواز پہ چونکے اور فورا پلٹے ۔

’’جی طارق میاں اللہ کا خاص کرم ہے۔ آپ سنائیں۔‘‘

’’بھئ ہمارے حال بھی اچھے ہیں اللہ کے فضل سے۔‘‘ طارق صاحب نے پر جوش انداز میں جواب دیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

دہشت گرد

ساری بات سننے کے کے بعد حامد نے گلاسز اتارے۔ اپنے بالوں پر ہاتھ پھیرا۔ ہونٹوں کو بھینچا اور ایک مخصوص سٹائل میں اپنی آواز بنا کر کہنے لگا ۔

’’ ہوں ! یہ معاملہ مجھے کافی سیریس لگتا ہے!  بہرحال یہ جتنے بھی تیز ہو جائیں حامد سے نہیں بچ سکتے ۔  میں بھی آخر فیوچر کا انجنیئر ہوں۔ساری یونیورسٹی میں مجھ جیسا سمارٹ کوئی نہیں ہے۔‘‘

وہ چھٹیاں گرارنے اپنے گاؤں آیا ہوا تھا۔ جہاں ہر طرف خوف و ہراس کی فضا بنی ہی تھی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

روایت ۔ آخری حصہ

  ہم یہی رویے دیکھ کر بڑے ہوتے گئے۔ نانا جان کو ملنے جانا ہو تو امی ہر وقت تیار ۔ تایا ابو کی طبیعت پوچھنے جانا ہے تو امی نے مشین لگا لی ہے اور باجی کا ٹیسٹ بھی ہے۔ ماموں کے گھر جاتے وقت مٹھائی اور پھل اور پھپھو کے گھر کچھ لے کر جانے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ کون تین دن تک امی کے خراب ترین موڈ کا سامنا کرے۔ ابو بھی اسی ڈگر پر چل نکلے تھے اور اب انہیں بالکل عجیب نہیں لگتا تھا جب پھپھو کی شکل دیکھے ہوئے بھی انہیں کئی سال  ہو جاتے۔

اس دن گاؤں میں فوتگی ہو گئی۔ابو کی طرف کے سب رشتہ داروں کی حاضری لازمی تھی۔ ہم بھی گئے لیکن سارا راستہ امی کچھ نہ بولیں۔ ابو تو تھے ہی اداس۔ ان کے سگی تائی جان کی ڈیتھ ہو ئی تھی۔ ہم شیشے سے باہر دیکھتے گئے۔ گاؤں میں لہلہاتے سرسوں کے کھیت ہمیں جتنا اٹریکٹ کرتے تھے اتنا شاید ہی کوئی اور منظر کرتا ہو۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اصل ہیرو

صبح سویرے دادی جان لاٹھی ٹیکتی ہوئیں حذیفہ کے کمرے میں آئیں تو وہ بال بنائے آنکھوں پر بلیک گلاسز چڑھائے آئینے میں اپنا تنقیدی جائزہ لینے میں مصروف تھا۔

’’بیٹاکیاکررہے ہو۔ ‘‘
’’میں کیسالگ رہاہوں دادی جان !‘‘ اس نے پلٹ کردادی جان کی طرف دیکھا۔
’’ہائیں یہ کیا حلیہ بنارکھاہے ؟‘‘ انہوں نے حیرت سے اسے سرسے پاؤں تک غورسے دیکھا۔ دادی جان نے اس کی پینٹ شرٹ کے رنگ کو بالکل پسند نہیں کیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

روایت ۔ پہلا حصہ

 ’’کتنے پیسے دیے تھے  تمھارے ابو نے؟  بس یہی چالیں ہیں ان کی۔ عید عید پر  ہم ملنے کیا چلے جاتے ہیں ہمیشہ اپنا دکھڑا لے کر بیٹھ جاتی ہیں۔ بس ہماری کمائی پر نظر ہے ان کی۔ ‘‘ امی  پھپھو کے گھر سے واپسی پر غصے سے بڑبڑا رہی تھیں۔ آج عید کا دن تھا۔ ہم پہلے ماموں کے گھر گئے ۔ وہاں نانا ابو سے خوب باتیں کیں۔ماموں کے بڑے سے لان میں ہم سب  کزنز نے آنکھ مچولی کھیلی۔   بہت مزہ آیا۔

پہلے نانا ابو ہمارے ساتھ ہی رہتے تھے۔ ابو چونکہ کافی عرصہ باہر رہے تھے  تو نانا ابو اور نانی جان ہی ہمارے ساتھ تھیں۔ اس لیے ہم سب بہن بھائی ان سے کافی اٹیچ تھے۔ ماموں کے گھر سے واپسی پر اچانک ابو جان نے گاڑی پھپھو کے گھر کی طرف موڑ لی۔ یہیں سے امی کا موڈ خراب ہونا شروع ہوا۔ ابو کے سامنے وہ زیادہ تو کچھ نہیں کہہ سکتی تھں بس دبے دبے لہجے میں اتنا کہا۔

’’کیا ضرورت ہے جانے کی۔ گھر میں مہمان آنے والے ہوں گے۔اتنے کام پڑے ہیں۔‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

ماں کی خوشبو

 مجھے اپنی والدہ سے دلی محبت تھی۔ وہ بھی میرے بغیر دسترخوان پر نہیں بیٹھتی تھیں، جب تک گھر نہیں آتا تھا وہ دروازے پر بے تابی سے میرا انتظار کیا کرتی تھیں، گھر کے سبھی افراد کے نظروں میں میری اہمیت تھی کیوں کہ میں پڑھائی بھی کیا کرتا تھا اور چھوٹے موٹے ٹھیکے پر کام کرکے پیسے بھی کماتا تھا، والدہ کی دعائیں اور مدد میرے ساتھ شامل تھی اس لیے بڑے بھائی اور ان کی بیویاں بھی محبت کا اظہار کرتے رہتے تھے، مجھے کئی دن سے اسکردو جانے کی دھن سوار ہوگئی تھی۔ وہاں میرے ماموں رہتے تھے، اسکردو سے آگے ان کا گاؤں تھا والدہ سے اجازت لی۔
وہ رضا مند نہ تھیں، کہنے لگیں، تم ابھی وہاں مت جاؤ 
 مجھے کئی روز سے پریشان کن خواب آرہے ہیں۔ میں صدقہ وغیرہ دے رہی ہوں، جب تک میں اجازت نہ دوں تم اس ارادے سے گھر سے قدم نہ نکالنا۔ ان کے حکم کو میں نے وہم سمجھا اور سولہ اکتوبر کو ان کی اجازت کے بغیر تیاری کرکے راولپنڈی روانہ ہوگیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اعتماد

 آئے رو ز کے شور شرابے سے میں تنگ آ گیا ہوں بیگم! شیخ راشد نے تقریباً چیختے ہوئے کہا۔ تمہارے وعدوں نے مجھے مار دیا ہے۔ کب سے کہہ رہی ہو کہ کوئی نوکر رکھ کر مجھ سے اب گھر کا کام کاج نہیں ہوتا۔ بیگم نے تحکمانہ انداز میں جواب دیا۔ بس بس! سن لیا کون سا وعدہ؟ شیخ راشد بولے۔

وہ نوکر رکھنے کا وعدہ اور کیا؟ بیگم نے تنک کر کہا۔

اگلے روز شیخ راشد گھر میں داخل ہوئے تو ان کے ساتھ کوئی اجنبی لڑکا تھا۔ ان کی بیگم نے اس لڑکے کی طرف حیران ہو کر دیکھا اور کہا کہ یہ آپ کسے لے آئے ہیں ؟ خود ہی تو بیس پچیس دن سے کہہ رہی تھیں کہ گھر کے کام کاج کے لیے کوئی ملازم ہونا چاہیے۔ سو لے آیا ہوں۔ اب گھر کا سارا سامان اس سے منگوا لیا کریں۔

شیخ راشد نے نہایت اطمینان سے جواب دیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

چھوٹا سا عمل

 میں حسب معمول پارک میں اپنی مخصوص بینچ پر بیٹھا کتاب میں محو مطالعہ تھا جو کہ میرا تقریباً روز کا معمول تھا۔ شام کے وقت کچھ دیر فراغت کے لمحات میں پارک میں ہی گزارتا۔ مجھے یہاں کی ہر چیز بھلی لگتی جیسے کھیلتے بچے ، درخت ، پرندے ، پھول اور کھلی فضا!

میں بچپن ہی سے کتب بینی کا بے حد شوقین رہا ہوں ۔ جیسے جیسے عمر ڈھلتی گئی شوق میں اضافہ ہوتا گیا۔ شروع سے میری اک عادت تھی۔ میں زیادہ تر کتب کا مطالعہ پارک میں کرنا پسند کرتا۔ قدرتی حسن مجھے بہت بھاتا اور میں اسکا دلدادہ تھا۔آج بھی میں معمول کے مطابق اپنی نشست پر بیٹھا کتاب ہاتھ میں لئے ورق گردانی میں مصروف تھا۔ ساتھ بسکٹ کے بھی مزے لیتا اور چائے بھی نوش جاں کررہا تھا ۔بسکٹ کھانے کے بعد ریپر اور ڈسپوز ایبل گلاس وہیں گھاس پر پھینک دیئے ۔ ایک لمحے کے لیے میری ضمیر نے مجھے ڈانٹا لیکن میں نے ہمیشہ کی طرح نظر انداز کر دیا۔ حالانکہ کوڑا دان قریب تھا مگر بھئی اتنی مشقت کون اٹھائے۔اور پھر یہ تو میری برسوں کی عادت تھی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

جب رابرٹ کو ہدایت ملی

تین ماہ پہلے میں نے Fortsworth میں ایک مسجد میں خطبہ دیا۔ میں اس مسجد میں کوئی چار پانچ سال بعد آیا تھا۔ کسی وجہ سے انہوں نے مجھے خطبہ دینے کی دعوت دی۔ میرا خطبہ "دعا" کے موضوع پہ تھا۔

ایک جوان مصری میرے پاس آیا اور کہا کہ اللہ تعالٰی نے آج میری دعا قبول کر لی ہے۔ میں نے پوچھا آپ کی دعا کیا تھی؟ اس نے کہا کہ میری دعا تھی کہ نعمان علی خان، رابرٹ Rober Davilla سے ملیں۔ میں ہنس پڑا اور کہا کہ آپ رابرٹ ہیں؟ اس نے کہا "نہیں Robert Davilla میرا دوست ہے۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ اللہ تعالٰی نے میری دعا قبول کی ہے۔" میں نے کہا بتائیے میں سننا چاہتا ہوں۔ "

          رابرٹ، ایک جوان آدمی تھا اور وہ Fortsworth    سے 40 منٹ کی مسافت میں ایک قصبہ میں رہتا تھا۔ وہ ایک کسان تھا لیکن وہ ایک کسی جینیاتی بیماری کا شکار ہوا جس نے جوانی میں اپنا اثر دکھایا اور گردن کے نیچے اس کا تمام جسم مفلوج ہو گیا۔ وہ اب nursing  home میں رہتا ہے۔ زیادہ تر لوگ اس nursing home میں 80 یا 90 سال کے ہیں۔ اور پھر وہ ہے تیس سال کا جوان آدمی۔ وہ 10 سال سے اس nursing home میں ہے۔ اس کی فیملی نے اس کو ایک کمپیوٹر لے کر دیا ہے جو کہ آواز کے سہارے چلتا ہے( computer 💻 that operates on voice commands) تاکہ وہ آواز کے ذریعے Google کر سکے۔ چیزوں کو search کر سکے۔ معلومات حاصل کر سکے۔ اس کا بہترین دوست اس کے کمرے میں موجود مریض تھا ۔ جس سے اس کی ملاقات nursing home میں ہوئی۔ اس کے دوست کو جگر کے ٹرانسپلانٹ( liver transplant) کی ضرورت تھی۔ اور وہ ہر وقت خدا کے بارے میں باتیں کرتے تھے۔ وہ دونوں کرسچن کافی گہرے دوست تھے۔ اس کے دوست کو اطلاع دی گئی کہ ایک ڈونر مل گیا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

مجھے میرے تیمارداروں سے بچاؤ

اکثر اوقات انسان موذی سے موذی مرض اور مہلک سے مہلک حکیم یا ڈاکٹر کے حملوں سے تو بچ جاتا ہے لیکن تیمارداروں کی یلغار کی تاب نہ لا کر چل بستا ہے کچھ پیشہ ور تیماردار تو ایسے موقع کی ٹوہ میں رہتے ہیں کہ خاندان میں کہیں کسی کی ناساز طبیعت کی افواہ بھی سن لیں تو عین ناشتہ یا کھانے کے وقت بمع اہل و عیال موقع پر پہنچ جائیں اور اپنے خطرناک مشوروں، آزمودہ ناکام نسخوں اور ٹوٹکوں سے مریض کو ہلکان کر ڈالیں۔

شاید ان دنوں ہمارے بھی ستارے گردش میں تھے۔ ہمارے جگری دوستی رفیق جاگرانی اصرا کرنے لگے کہ ہم اپنا مکمل چیک اپ (طبی معائنہ) کرالیں۔ ہمارا پس و پیش دیکھ کر کہنے لگے۔
میاں چالیس سال کی عمر کے بعد گھنٹی بج جاتی ہے، چیک اپ کراتے رہنا چاہیے، نامعلوم کون کون سے مہلک امراض جڑ پکڑ رہے ہوں اور کسی دن بھی، اس کے ساتھ ہی انہوں نے شرارتاً پرائیویٹ وارڈ میں قیام و طعام کی ایسی تصویر کھینچی کہ ہم نے حامی بھرلی اور پھر ایک سہانی شام ہسپتال میں داخل ہوگئے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اچھی سی سواری

 آج تو دفتر میں کام کرکر کے کمر ہی ٹوٹ گئی تھی ہماری، بڑی مشکل سے جسم کے باقی حصوں کو اٹھائے ہوئے ہم کسی اچھی سواری کی تلاش میں تھے۔

ویسے تو ہم روزانہ بس میں ہی جایا کرتے تھے، مگر آج بس میں جانے کی ہمت نہیں پڑ رہی تھی، سوچا کوئی اچھی سی سواری ہونی چاہیے، مگر…مگر… کون سی؟
سوچتے سوچتے سر پورا کھجا ڈالا ، مگر کچھ سجھائی نہ دیا،اچانک ذہن میں ایک ترکیب آئی کہ کسی گاڑی والے کو روک کر اس سے کہنا چاہیے کہ ہم آج بہت ایمر جنسی میں ہیں، اس لیے حالات خراب ہونے کے باوجود آپ ہمیں لفٹ دے ہی دیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

خاموش دعاؤں کی برکت

یہ درست ہے کہ میاں صاحب سعودیہ واپس چلے گئے تھے اور وہیں عید منائی پر اس وقت تو یہ دل ناداں کسی اور کے انتظار میں تڑپ رہا ہے۔ یقین مانیے اتنا اچھا پیکیج دیا تھا کام والی کو پھر بھی عین وقت پہ دغا دےگئی۔ دل دکھ سے بھر گیا اورذہن پہ فکر چھا نے لگی کہ اب کیا اور کیسے ہو گا۔  دراصل عید الاضحی کے دن ہوتے ہی بے پناہ مصروفیت کے ہیں۔  ایسے میں اگر کام والی ماسی ساتھ چھوڑ جائے تو کلیجہ منہ کو آنے لگتا ہے۔ اتنے ناز اٹھائے پر نجانے کونسی بات اسکی طبع نازک پہ گراں گزری کہ وہ کچھ کہے سنے بنا چل دی۔

والدہ محترمہ ( ساس صاحبہ ) کی طبیعت اچھی نہ تھی۔ اب کی دفعہ ہم نے عید پہ انہیں سب سے پہلے تیار کروا کے بستر پہ بٹھا دیا کہ بس آپ فکر نہ کریں۔ سب سنبھل جائے گا انشاءاللہ۔ سب سے پہلے زردہ چاول بنا نے تھے۔ ابھی نماز عید بھی ادا ہونا باقی تھی۔ ہم برتن ہاتھ میں لئے چاولوں کی بوری کے پاس جا پہنچے ۔اسے کھولا تو دل دھک سے رہ گیا نیم کے پتے منہ چڑا رہے تھے۔ چاول صاف کرنے والے تھے۔اس سے پہلے تو امی نے ہمیشہ ہی ماسی سے صاف کروا کے رکھے ہوتے تھے۔نکال کے صاف کئے۔ کافی وقت لگ گیا۔ بچے بڑے ہو گئے ہیں ماشاء اللہ خود سے تیار ہو گئے۔ اب ہم کچن میں گھسے زردہ بنا رہے تھے ۔

مزید پڑھیے۔۔۔

معاوضہ مل گیا

عمراحمد خوشی سے تیز تیز قدم اٹھا رہا تھا اور وہ خوش ہوتا بھی کیوں نہ جبکہ اس کے محبوب رسالے میں آج پھر اس کی کہانی شائع ہوئی تھی ۔ یہ کہانی خود اسے بھی بے حد پسند تھی اور وہ بہت بے چینی سے عصر کے وقت کا انتظار کررہا تھا۔ جیسے ہی گھڑی کی سوئی پانچ پر پہنچی عمر نے سامنے والے پارک کی طرف دوڑلگادی جہاں اس کے ساتھی کھیلنے کی غرض سے اس کا انتظارکررہے تھے۔

’’کیا بات ہے عمر۔‘‘عمر کو ہانپتے ہوئے دیکھ کر وقاص نے پوچھا۔
’’بھاگتے ہوئے تو ایسے آرہے تھے جیسے تم فائنل میچ سے لیٹ ہوگئے ہو۔‘‘ عمر کے کچھ کہنے سے پہلے نعمان نے لقمہ دیا۔
’’بس بھئی بات ہی ایسی ہے۔‘‘یہ کہتے ہوئے عمر نے رسالہ دوستوں کی طرف بڑھادیا اوربولا یہ دیکھوعمر نے کہانی کی طرف اشارہ کیا۔
’’یہ کیا!!‘‘سب دوستوں نے بیک وقت سوالیہ نگاہوں سے عمر کو دیکھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

آپ ہوتے تو

Ap hotey to

 میں ایک قریبی سکول میں ٹیچر ہوں۔ یہ علاقے کا بڑا سکول ہے ۔ ابھی میری جاب کو ایک مہینہ ہی ہوا ہے۔ آج  ہفتہ تھا لیکن مجھے سکول جانا تھا ۔ پیرنٹس ٹیچرز میٹنگ تھی۔ یعنی  والدین سے اساتذہ کی ملاقات ۔ مجھے چونکہ آئے ہوئے ابھی زیادہ دن نہیں ہوئے تو میری ساتھی ٹیچر مس راحیلہ نے مجھے زیادہ  دیر خاموش رہنے کا کہا ۔

’’تم بس دیکھو، observe کرو کہ میں پیرنٹس سے کیسے بات کرتی ہوں۔‘‘ وہ ذرا  گھبرائی ہوئی تھی لیکن میں نے سوچا میرا وہم ہے۔

خیر! نو بجتے ہی والدین کے آنے کا  سلسلہ شروع ہو گیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

خالی ہاتھ

 ’’نادیہ باجی آپ میرا کینیڈا کا ویزہ کب تک بھیجیں گی میں شدت سے انتظار کر رہا ہوں کب میری پاکستان سے جان چھٹے گی؟‘‘ ظفر اکتائے ہوئے لہجے میں کہ رہا تھا۔ وہ اس وقت اپنی سب سے بڑی بہن نادیہ باجی سے مخاطب تھا جو شادی کے بعد سے اب تک  کینیڈا میں ہوتی تھیں۔

 نادیہ باجی دوسری جانب سے بولیں۔
’’دیکھو ظفر میں کوشش تو پوری کر رہی ہوں مگر ایک مسئلہ ہو سکتا ہے ۔‘‘

’’ وہ کیا ؟‘‘

 ’’دیکھو ہو سکتا ہے کہ تمہارا ویزہ تو جلد لگ جائے مگر تمہاری بیوی اور چار بچوں کا ویزہ بعد میں لگے۔ اُن کو تم ایک دو سال بعد بلا لینا اور میں یہ بات بھی بتاؤں کہ امی کا ویزہ تو بالکل بھی نہیں لگ گا۔ تم نے اُن کے بارے میں کیا سوچا ہے؟ تم اُن کے اکلوتے بیٹے ہو۔ وہ تمہارے بغیر کیسے رہیں گی ؟

نادیہ باجی نے احساس دلایا لیکن انہیں پتہ تھا ظفر کی آنکھیں ابھی صرف کینڈا کا ویزہ دیکھ رہی ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اب میں خوش ہوں

Ab men khush hu

بہت پرانے زمانے کی بات ہے شہر خلیل میں ایک غریب خیاط (درزی) عمر رہا کرتا تھا۔ عمر بہت تنگ دستی  کے دن گزار رہا تھا۔ پھر بھی وہ اپنی قسمت سے شاکی نہیں تھا۔ اس کی جھونپڑی بہت پرانی اور خستہ ہوچکی تھی۔ مسلسل تنگ دستی اور غربت نے اس کے مزاج پر برا اثر ڈالا اور وہ چڑچڑا ہوگیا۔ ذرا ذرا سی بات پر وہ اس طرح بھڑک اٹھتا، جیسے کوئی شخص بارود کے ڈھیر میں دیا سلائی لگادے۔ عمر کی بیوی کا انتقال ہوچکا تھا۔ جھونپڑی میں وہ خود، اس کی بیٹی عارفہ اور نواسیاں مل جل کر رہتے تھے۔ کبھی کبھی عمر کو اپنی ننھی منی نواسیوں کا شور بھی ناگوار گزرتا اور نواسیوں کو غصے کے عالم میں برا بھلا کہہ ڈالتا۔ تب اس کی معصوم اور بھولی بھالی نواسیاں بری طرح سہم کر خاموشی ہوجایا کرتیں ان کے مسکراتے چہرے سنجیدہ ہوجاتے۔

ایک دن کی بات ہے، بچے حسب معمول ناشتے سے فارغ ہو کر کھیل رہے تھے، عمر ان بچوں کے شور و غل کی آواز سے بری طرح تلملا رہا تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

دو ثواب

’’اچھا میں فون رکھتی ہوں۔ تو پھر آرہی ہے ناں!‘‘ نسیمہ نے سیلمہ سے تائیدی انداز میں پوچھا۔

’’ہاں ناں! کتنی بار پوچھے گی۔ آرہی ہوں۔ تو پریشان نہ ہو۔‘‘ سلیمہ نے پیارسے کہا اور فون رکھ کر اپنی اکلوتی چھوٹی بہن نسیمہ کے گھر جانے کی تیاری کرنے لگی۔

نسیمہ کے ہاں دوسرا بیٹا ہوا تھا۔ پہلے بچے کے بعد کم ہی وقفہ تھا۔ ساس سسر تو اس کی شادی سے پہلے کے انتقال کر چکے تھے۔ ایک ہی نند تھی جو ملک سے باہر ہوتی تھی۔ خود نسیمہ اور سلیمہ کے ماں باپ  بھی اب دنیا میں نہیں تھے۔ سو دونوں بہنیں ایک دوسرے کا دکھ سکھ بانٹ لیا کرتی تھیں۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

ایک درجن کے تیرہ

Aik Darjan Key Terah

  یہ یورپ کا ایک دور دراز شہر تھا  جس کے چھوٹے سے صاف ستھرے محلے میں بہت سے لوگوں کے ساتھ ماریہ بھی رہتی تھی۔ ماریہ ایک محنتی عورت تھی۔ گھر کی واحد کفیل ہونے کے ناتے اس نے اپنے  علاقے  میں ایک چھوٹی سی بیکری کھول رکھی تھی جس سےاسکی اور  اس  کے  بچوں کی  اچھی گزر بسر ہو رہی تھی ۔ کم سرمایہ ہونے کی وجہ سے وہ خود ہی چیزیں بناتی اور خود ہی دکان میں ان کو فروخت کرتی۔ایک اچھی  کھانے پکانے والی ہونے کے ساتھ ساتھ وہ بہت ایماندار بھی تھی۔ ماریہ کی یہی خاصیت اس کو دوسروں سے جدا کرتی تھی اور اپنی ایمان داری کے لیے مشہور تھی۔  اپنے بیکری  کے کھانوں  میں ہر چیز خالص اور معیاری استعمال کرتی جس سے اس تمام چیزوں کی لذت دوبالا ہو جاتی۔  ساتھ ہی ساتھ اپنی بنائی ہوئی چیزوں پر ایک روپیہ زیادہ لینا یا کم لینا اس کے اصول کے خلاف  تھا اور اس پر ماریہ سختی سے عمل کرتی تھی۔اس کی بنائی ہوئی  تمام ہی بیکری کی چیزیں پورے علاقے  میں مشہور تھیں، خاص کر کے اسکی بنائے ہوئے رنگ برنگ کپ کیک بہت مشہور تھے۔ جس کو خریدنے دوسرے علاقے سے بھی بچے بڑے  سبھی آیا کرتے تھے۔

مزید پڑھیے۔۔۔