Web Kahanian
     markazi safha ttlion key des men   fati or billu ki kahanian men zindagi new   Kahanian hi Kahanian Tehreer Bhejen

Men Zindagii

   اس Category   میں نوجوانوں کے لیے لکھی گئی دلچسپ کہانیاں شامل ہیں۔ زندگی کے مشکل اور الجھن بھرے لمحات سے کیسے نمٹناہے اور اپنے رب کو کیسے راضی  کیسے کرنا ہے، یہ جاننے  کے لیے یہ کہانیاں ضرور پڑھیں۔


ماں کی خوشبو

arrownew e0 مجھے اپنی والدہ سے دلی محبت تھی۔ وہ بھی میرے بغیر دسترخوان پر نہیں بیٹھتی تھیں، جب تک گھر نہیں آتا تھا وہ دروازے پر بے تابی سے میرا انتظار کیا کرتی تھیں، گھر کے سبھی افراد کے نظروں میں میری اہمیت تھی کیوں کہ میں پڑھائی بھی کیا کرتا تھا اور چھوٹے موٹے ٹھیکے پر کام کرکے پیسے بھی کماتا تھا، والدہ کی دعائیں اور مدد میرے ساتھ شامل تھی اس لیے بڑے بھائی اور ان کی بیویاں بھی محبت کا اظہار کرتے رہتے تھے، مجھے کئی دن سے اسکردو جانے کی دھن سوار ہوگئی تھی۔ وہاں میرے ماموں رہتے تھے، اسکردو سے آگے ان کا گاں تھا والدہ سے اجازت لی۔
وہ رضا مند نہ تھیں، کہنے لگیں، تم ابھی وہاں مت جا
مجھے کئی روز سے پریشان کن خواب آرہے ہیں۔ میں صدقہ وغیرہ دے رہی ہوں، جب تک میں اجازت نہ دوں تم اس ارادے سے گھر سے قدم نہ نکالنا۔ ان کے حکم کو میں نے وہم سمجھا اور سولہ اکتوبر کو ان کی اجازت کے بغیر تیاری کرکے راولپنڈی روانہ ہوگیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

چھوٹا سا عمل

 میں حسب معمول پارک میں اپنی مخصوص بینچ پر بیٹھا کتاب میں محو مطالعہ تھا جو کہ میرا تقریباً روز کا معمول تھا۔ شام کے وقت کچھ دیر فراغت کے لمحات میں پارک میں ہی گزارتا۔ مجھے یہاں کی ہر چیز بھلی لگتی جیسے کھیلتے بچے ، درخت ، پرندے ، پھول اور کھلی فضا!

میں بچپن ہی سے کتب بینی کا بے حد شوقین رہا ہوں ۔ جیسے جیسے عمر ڈھلتی گئی شوق میں اضافہ ہوتا گیا۔ شروع سے میری اک عادت تھی۔ میں زیادہ تر کتب کا مطالعہ پارک میں کرنا پسند کرتا۔ قدرتی حسن مجھے بہت بھاتا اور میں اسکا دلدادہ تھا۔آج بھی میں معمول کے مطابق اپنی نشست پر بیٹھا کتاب ہاتھ میں لئے ورق گردانی میں مصروف تھا۔ ساتھ بسکٹ کے بھی مزے لیتا اور چائے بھی نوش جاں کررہا تھا ۔بسکٹ کھانے کے بعد ریپر اور ڈسپوز ایبل گلاس وہیں گھاس پر پھینک دیئے ۔ ایک لمحے کے لیے میری ضمیر نے مجھے ڈانٹا لیکن میں نے ہمیشہ کی طرح نظر انداز کر دیا۔ حالانکہ کوڑا دان قریب تھا مگر بھئی اتنی مشقت کون اٹھائے۔اور پھر یہ تو میری برسوں کی عادت تھی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

بے چینی کا حل

بے چینی کا حل

          Print

کئی دنوں سے نسیمہ ازحد بے چین تھی۔ بے چینی کی کوئی وجہ بھی سمجھ نہیں آتی تھی۔ آج  وہ بڑی بہن سلیمہ آپا کے ہاں چلی آئی۔  اسے کمرے میں بٹھا کر سلیمہ آپا چائے بنانے چلی گئیں۔ نسیمہ نے سائیڈ پر پڑا ہوا ایک دینی رسالہ اٹھا لیا۔  رسالہ کھولنے کے چند منٹ بعد ہی نسیمہ کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ اسے اپنی بے چینی کی وجہ یکدم سمجھ میں آگئی

مزید پڑھیے۔۔۔

مجھے میرے تیمارداروں سے بچاؤ

اکثر اوقات انسان موذی سے موذی مرض اور مہلک سے مہلک حکیم یا ڈاکٹر کے حملوں سے تو بچ جاتا ہے لیکن تیمارداروں کی یلغار کی تاب نہ لا کر چل بستا ہے کچھ پیشہ ور تیماردار تو ایسے موقع کی ٹوہ میں رہتے ہیں کہ خاندان میں کہیں کسی کی ناساز طبیعت کی افواہ بھی سن لیں تو عین ناشتہ یا کھانے کے وقت بمع اہل و عیال موقع پر پہنچ جائیں اور اپنے خطرناک مشوروں، آزمودہ ناکام نسخوں اور ٹوٹکوں سے مریض کو ہلکان کر ڈالیں۔

شاید ان دنوں ہمارے بھی ستارے گردش میں تھے۔ ہمارے جگری دوستی رفیق جاگرانی اصرا کرنے لگے کہ ہم اپنا مکمل چیک اپ (طبی معائنہ) کرالیں۔ ہمارا پس و پیش دیکھ کر کہنے لگے۔
میاں چالیس سال کی عمر کے بعد گھنٹی بج جاتی ہے، چیک اپ کراتے رہنا چاہیے، نامعلوم کون کون سے مہلک امراض جڑ پکڑ رہے ہوں اور کسی دن بھی، اس کے ساتھ ہی انہوں نے شرارتاً پرائیویٹ وارڈ میں قیام و طعام کی ایسی تصویر کھینچی کہ ہم نے حامی بھرلی اور پھر ایک سہانی شام ہسپتال میں داخل ہوگئے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

بے لوث دعائیں

بے لوث دعائیں

تالیوں کی گونج میں احمر نے اپنا ایوارڈ لیا۔ ساتھ ہی ساتھ کیمروں کی روشنی سے اسکی آنکھیں چندھیانے لگیں مگر اسکی آنکھیں ان سارے پر مسرت لمحوں سے دور گاؤں کی پگنڈنڈی کے ساتھ  بھاگتے بچے کو دیکھ رہی تھیں، جو خوف کی حالت میں کچے راستے پراپنے گاؤں سے جلد از جلد دور  بھاگ رہاتھا۔ڈر کہ کہیں وہ پکڑا ہی نہ جائے اور دوبارہ کھیتوں میں مزدوری پر نہ لگا دیا جائے۔ آج اگر احمر کی ماں

مزید پڑھیے۔۔۔

خاموش دعاؤں کی برکت

یہ درست ہے کہ میاں صاحب سعودیہ واپس چلے گئے تھے اور وہیں عید منائی پر اس وقت تو یہ دل ناداں کسی اور کے انتظار میں تڑپ رہا ہے۔ یقین مانیے اتنا اچھا پیکیج دیا تھا کام والی کو پھر بھی عین وقت پہ دغا دےگئی۔ دل دکھ سے بھر گیا اورذہن پہ فکر چھا نے لگی کہ اب کیا اور کیسے ہو گا۔  دراصل عید الاضحی کے دن ہوتے ہی بے پناہ مصروفیت کے ہیں۔  ایسے میں اگر کام والی ماسی ساتھ چھوڑ جائے تو کلیجہ منہ کو آنے لگتا ہے۔ اتنے ناز اٹھائے پر نجانے کونسی بات اسکی طبع نازک پہ گراں گزری کہ وہ کچھ کہے سنے بنا چل دی۔

والدہ محترمہ ( ساس صاحبہ ) کی طبیعت اچھی نہ تھی۔ اب کی دفعہ ہم نے عید پہ انہیں سب سے پہلے تیار کروا کے بستر پہ بٹھا دیا کہ بس آپ فکر نہ کریں۔ سب سنبھل جائے گا انشاءاللہ۔ سب سے پہلے زردہ چاول بنا نے تھے۔ ابھی نماز عید بھی ادا ہونا باقی تھی۔ ہم برتن ہاتھ میں لئے چاولوں کی بوری کے پاس جا پہنچے ۔اسے کھولا تو دل دھک سے رہ گیا نیم کے پتے منہ چڑا رہے تھے۔ چاول صاف کرنے والے تھے۔اس سے پہلے تو امی نے ہمیشہ ہی ماسی سے صاف کروا کے رکھے ہوتے تھے۔نکال کے صاف کئے۔ کافی وقت لگ گیا۔ بچے بڑے ہو گئے ہیں ماشاء اللہ خود سے تیار ہو گئے۔ اب ہم کچن میں گھسے زردہ بنا رہے تھے ۔

مزید پڑھیے۔۔۔

دل کا موسم

دل کا موسم

          Print

لطیف صاحب صبح کے گئے رات نو بجے گھر میں داخل ہوئے۔ وہ نہایت تھک چکے تھے۔ جب تک وہ گاڑی سے اترے تینوں بچے جالی والے دروازے پر آچکے تھے۔ اندر آکر انہوں نے بچوں سے ہاتھ ملایا، ان کو پیار کیا اور ہاتھ میں پکڑی ہوئی چاکلیٹیں ان کو پکڑا دیں۔

اب ان کی نظریں سیما کو ڈھونڈ رہی تھیں۔ اسی اثناء میں وہ بھی کچن سے نکل آئی۔ اس نے  دونوں آستینیں کہنیوں تک چڑھائی

مزید پڑھیے۔۔۔

آپ ہوتے تو

Ap hotey to

 میں ایک قریبی سکول میں ٹیچر ہوں۔ یہ علاقے کا بڑا سکول ہے ۔ ابھی میری جاب کو ایک مہینہ ہی ہوا ہے۔ آج  ہفتہ تھا لیکن مجھے سکول جانا تھا ۔ پیرنٹس ٹیچرز میٹنگ تھی۔ یعنی  والدین سے اساتذہ کی ملاقات ۔ مجھے چونکہ آئے ہوئے ابھی زیادہ دن نہیں ہوئے تو میری ساتھی ٹیچر مس راحیلہ نے مجھے زیادہ  دیر خاموش رہنے کا کہا ۔

’’تم بس دیکھو، observe کرو کہ میں پیرنٹس سے کیسے بات کرتی ہوں۔‘‘ وہ ذرا  گھبرائی ہوئی تھی لیکن میں نے سوچا میرا وہم ہے۔

خیر! نو بجتے ہی والدین کے آنے کا  سلسلہ شروع ہو گیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

نیکیاں زندہ ہیں

نیکیاں زندہ ہیں

          Print

میرا نام دعا ہے اور میں اپنے گھر میں سب سے بڑی ہوں۔ میرے لئےابو کی ذات باعث فخر اور آئیڈل رہی ہے۔ آج جب ایک بوڑھے مزدور نے ہمارے گھر کی بیرونی دیوار پر لگے ہوئے کولر سے پانی پیا اور ڈھیروں دعائیں دیتا ہوا رخصت ہوا تو مجھے اپنے ابو بہت یاد آئے۔ آج سے کچھ سال پہلے اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے پاس بلا لیا تھا۔ 

ابو ماشاءاللہ ایک اچھے تاجر ہونے  کے ساتھ ساتھ اچھے انسان بھی تھے۔ ہر ایک کے دکھ درد میں کام آنے والے تھے۔کچھ عرصے سے ابو گھر کو تعمیر کروانے کا سوچ رہے تھے اور اس سلسلے میں کمیٹی بھی ڈال رکھی تھی۔
ابو ہمیشہ دوسروں کے ساتھ نیکی کرنے اور ان کےہر طرح سے کام آنے پرزور دیتے۔شعبان میں

مزید پڑھیے۔۔۔

اب میں خوش ہوں

Ab men khush hu

بہت پرانے زمانے کی بات ہے شہر خلیل میں ایک غریب خیاط (درزی) عمر رہا کرتا تھا۔ عمر بہت تنگ دستی  کے دن گزار رہا تھا۔ پھر بھی وہ اپنی قسمت سے شاکی نہیں تھا۔ اس کی جھونپڑی بہت پرانی اور خستہ ہوچکی تھی۔ مسلسل تنگ دستی اور غربت نے اس کے مزاج پر برا اثر ڈالا اور وہ چڑچڑا ہوگیا۔ ذرا ذرا سی بات پر وہ اس طرح بھڑک اٹھتا، جیسے کوئی شخص بارود کے ڈھیر میں دیا سلائی لگادے۔ عمر کی بیوی کا انتقال ہوچکا تھا۔ جھونپڑی میں وہ خود، اس کی بیٹی عارفہ اور نواسیاں مل جل کر رہتے تھے۔ کبھی کبھی عمر کو اپنی ننھی منی نواسیوں کا شور بھی ناگوار گزرتا اور نواسیوں کو غصے کے عالم میں برا بھلا کہہ ڈالتا۔ تب اس کی معصوم اور بھولی بھالی نواسیاں بری طرح سہم کر خاموشی ہوجایا کرتیں ان کے مسکراتے چہرے سنجیدہ ہوجاتے۔

ایک دن کی بات ہے، بچے حسب معمول ناشتے سے فارغ ہو کر کھیل رہے تھے، عمر ان بچوں کے شور و غل کی آواز سے بری طرح تلملا رہا تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

برکت اور کامیابی

! کوئی نہیں روک سکتا

          Print

ابھی عید کی چھٹیاں چل رہی تھیں۔ بچے رات گئے تک جاگتے رہتے۔ ’’چلو ! لائٹ بند کرو۔ اب سو جاؤ۔ کل بھی آپ لوگوں کی فجر کی نماز قضا ہو گئی تھی۔ ‘‘ نزہت بچوں کے کمرے میں آئی۔ گھڑی بارہ بجا رہی تھی۔اس نے دونوں بچوں کو بستر پر لیٹنے کا کہا۔ دعا کی تلقین کی ۔ لائٹ آف کی اور باہر آگئی۔

ابھی اسے  میاں کے لیے چائے بنانی تھی۔چھٹیوں میں متین صاحب رات گئے تک جاگنے کے عادی تھے۔ عشاء کے بعد گویا ان میں ایک نئی توانائی دوڑ جاتی۔  کبھی چائے نمکو کا دو ر چلتا۔ کبھی رات کے کھانے کے

مزید پڑھیے۔۔۔

ایک درجن کے تیرہ

Aik Darjan Key Terah

  یہ یورپ کا ایک دور دراز شہر تھا  جس کے چھوٹے سے صاف ستھرے محلے میں بہت سے لوگوں کے ساتھ ماریہ بھی رہتی تھی۔ ماریہ ایک محنتی عورت تھی۔ گھر کی واحد کفیل ہونے کے ناتے اس نے اپنے  علاقے  میں ایک چھوٹی سی بیکری کھول رکھی تھی جس سےاسکی اور  اس  کے  بچوں کی  اچھی گزر بسر ہو رہی تھی ۔ کم سرمایہ ہونے کی وجہ سے وہ خود ہی چیزیں بناتی اور خود ہی دکان میں ان کو فروخت کرتی۔ایک اچھی  کھانے پکانے والی ہونے کے ساتھ ساتھ وہ بہت ایماندار بھی تھی۔ ماریہ کی یہی خاصیت اس کو دوسروں سے جدا کرتی تھی اور اپنی ایمان داری کے لیے مشہور تھی۔  اپنے بیکری  کے کھانوں  میں ہر چیز خالص اور معیاری استعمال کرتی جس سے اس تمام چیزوں کی لذت دوبالا ہو جاتی۔  ساتھ ہی ساتھ اپنی بنائی ہوئی چیزوں پر ایک روپیہ زیادہ لینا یا کم لینا اس کے اصول کے خلاف  تھا اور اس پر ماریہ سختی سے عمل کرتی تھی۔اس کی بنائی ہوئی  تمام ہی بیکری کی چیزیں پورے علاقے  میں مشہور تھیں، خاص کر کے اسکی بنائے ہوئے رنگ برنگ کپ کیک بہت مشہور تھے۔ جس کو خریدنے دوسرے علاقے سے بھی بچے بڑے  سبھی آیا کرتے تھے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کب تک؟

کب تک؟

          Print

’’امی جی! حریم کو بھی بلا لیں ناں!‘‘ رانیہ نے بے قراری سے کہا۔  وہ آج ہی امی کے گھر پہنچی تھی۔ شام کو افطاری تھی۔اس کا بہت دل کر رہا تھا حریم سے ملنے کو۔ پچھلی بڑی عید پر   ملی تھی۔ اب  پورا سال ہونے کو تھا۔ 

’’ہاں ! میں نے اسے فون کیا تھا۔ آرہی ہے۔ ۵ بجے تک۔ پہلے سسرال   جائے گی۔ ‘‘ امی نے بتایا۔

’’ٹھیک ہے! ‘‘ اس کا  دل خوشی سے سر شار ہو گیا۔

 اس دن رانیہ کو بالکل روزہ نہیں لگا۔  چھوٹی بہن سلمیٰ کے

مزید پڑھیے۔۔۔

مسکراہٹ کا رشتہ

مسکراہٹ کا رشتہ

یہ آج سے کئی سال پہلے اتوار کے دن کی بات ہے۔ میں قریبی  پارک میں چہل قدمی کر رہا تھا۔ اچانک میری نظر ایک فیملی پر پڑی۔

’’بیٹا! وضو کہاں کرنا ہے؟‘‘ ایک بوڑھے سے ،ضعیف بابا  اپنے نوجوان بیٹے سے پوچھ رہے تھے۔  وہ لوگ بیت الخلاء کے سامنے والی سیڑھیوں پر کھڑے تھے۔ نوجوان کی بیوی کا منہ بنا ہوا تھا۔ صاف لگ رہا تھا کہ وہ اپنے سسر کو ساتھ لانے پر قطعاً راضی نہیں تھی۔

لیکن اس وقت میری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی جب بیٹے نے اپنے والد کے بار بار بلانے کے باجود مڑ کر اس کو دیکھا تک نہیں۔ یہ دیکھ کر میں چند قدم آگے بڑھا۔

ضعیف والد کے چہرے پر اب شرمندگی کے آثار تھے۔ شام کا ٹھنڈا موسم تھا لیکن ان کے چہرے

مزید پڑھیے۔۔۔

! کیا سے کیا

! کیا سے کیا

          Print

ارشد صاحب شادی کے شروع کے دنوں میں تو کچھ لحاظ میں رہے ۔ یعنی گھر آکر پسینے سے بھرے ہوئے کپڑے بدلنا اور صاف ستھرا لباس پہن کر بیوی کے سامنے آنا۔ لیکن جیسے جیسے دن گزرتے گئے وہ اپنی پرانی ڈگر پر واپس آگئے۔

ان کی کتابوں کی دکان تھی۔ ہول سیل کا کام کرتے تھے۔ دو ملازم بھی رکھے ہوئے تھےلیکن خود بھی کافی بھاگ دوڑ کرنا پڑتی۔ دکان میں ابھی اے سی نہیں لگا تھا۔ آجکل سکولوں میںداخلے کا سیزن تھا۔سارا دن گاہکوں کا رش لگا رہتا۔

رات کے نو بجے جب

مزید پڑھیے۔۔۔

چھوٹا کمرہ

چھوٹا کمرہ

"مصعب بیٹا کیا ڈرائنگ بنا رہے ہو ؟‘‘ زبیر صاحب نے اپنے بیٹے کے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھا۔ ’’جی ابو جی میں ایک پیارا سا گھر بنا رہا ہوں۔‘‘ مصعب نے ڈرائنگ بک پر جھکے ہوئے جواب دیا۔ 

’’شاباش بیٹا ! تمہاری ڈرائنگ تو بہت اچھی ہے! اچھا یہ بتاؤ یہ بڑا کمرہ کس کے لئے ہے ؟ ‘‘ زبیر صاحب نے مسکرا کر پوچھا۔
’’ابو جی یہ میرا کمرہ ہے ۔‘‘ مصعب نے بتایا۔
’’بہت خوب!‘‘ زبیر صاحب نے داد دی۔
پھر مصعب نے ایک چھوٹا سا کمرہ گھر کے ایک کونے میں بناتے ہوے کہا۔’’ابو جی آپ کو پتہ ہے یہ کس کے لئے ہے؟‘‘
’’ جی بیٹا ! یقینا یہ گھر کا ایک اسٹور ہو گا ۔‘‘
’’نہیں ابو جی یہ کمرہ آپ کے لیے ہے ۔‘‘ زبیر صاحب چونک گئے

مزید پڑھیے۔۔۔

بالکل فکر نہ کرنا

بالکل فکر نہ کرنا

          Print

میرا تعلق شہر کراچی کے ایک متوسط خاندان سے ہے۔ بہت سالوں قبل جب میں تعلیم کیلئے لندن آیا تو میرے سر پر ایک ہی دھن سوار تھی کہ کسی طرح اپنی ماسٹرز کی فیس جمع کرنی ہے اور ساتھ ہی ڈگری وقت پر مکمل کرنی ہے۔ آج کے حساب سے مجھے کم و بیش تیرہ لاکھ روپے درکار تھے۔ اس ہدف کا حصول قریب قریب ناممکن تھا۔

جن لوگوں کے ساتھ رہائش تھی وہ سب مذاق اڑاتے اور

مزید پڑھیے۔۔۔

کیا واقعی؟

کیا واقعی؟

ماہم! کل جو لوگ آئے تھے ناں تمھیں دیکھنے۔ انہیں تم بہت پسند آئی ہو۔ بتول سے بڑی تعریفیں کر رہے تھے تمھاری۔ ‘‘ اماں کے لہجے میں فخر تھا۔

’’اماں! وہ تو ٹھیک ہے لیکن آپ کو پتہ ہے ان کے بیٹے کی ڈاڑھی ہے۔ اور مجھے کسی ڈاڑھی والے بندے سے شادی نہیں کرنی۔ ‘‘ ماہم نے ناک سکوڑتے ہوئے کہا ۔

’’ہاں!  ہم اپنی بیٹی کی شادی اس کی پسند سے ہی کریں گے۔ جبر تھوڑی ہے کوئی۔ نہیں پسند تو کوئی بات نہیں۔‘‘ اماں نے ماہم کو لاڈ کرتے ہوئے کہا تو ماہم  کی صراحی جیسی گردن اور اونچی ہو گئی۔ اس کے تصور میں کل کے دیکھے گئے ڈرامے کا ہیرو آگیا۔ کیا ڈیشنگ پرسینالٹی تھی  اس کی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کچھ حاصل نہیں ہوتا

کچھ حاصل نہیں ہوتا

          Print

’’ٹوں ٹوں ٹوں!‘‘ سحری کا الارم ہوا تو ناصر اٹھ گیا۔ جلدی سے وضو کیا۔ ہر طرف خاموشی تھی ۔ ٹھنڈی سی ہوا چل رہی تھی۔ ناصر نے کھڑکی کے ساتھ جائے نماز بچھائی۔ پھر اس نے ایک نظر آسمان پر ڈالی۔ تارے چمک رہے تھے۔ ہر سو خاموشی کا عالم تھا۔ ناصر کو ایسے ماحول میں تہجد پڑھنے میں بہت مزہ آتا تھا۔ اس نے بہت سکون اور خشوع کے ساتھ تہجد ادا کی۔ 
اس کی فیملی گاؤں میں ہوتی تھی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

بستی ادھر ہے!

بستی ادھر ہے!

حضرت ابراہیم بن ادھم  رحمہ  الله تعالیٰ کسی جنگل  کی طرف  نکلے  آپ کو ایک  مسافر ملا۔   اس  نے  پوچھا  ۔ " بستی  کس طرف ہے  ؟" آپ  نے  قبرستان  کی طرف  اشارہ  کیا اور کہا۔ "بستی اُدھر ہے !"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔                                       

" مٹی  کے  نیچے کیا ہوتا  ہے مما  ؟"    

" مٹی  کے نیچے ؟"     میں  یکدم چونکی۔   عالیہ   سے  اس قسم  کے سوال کی  توقع نہ تھی  ۔ میں نے اس کی نظروں کا تعاقب کیا  وہ غور سے لان میں لگے  پودوں  اور کیاری  میں موجود  مٹی 

مزید پڑھیے۔۔۔

ضمیر کی آواز

ضمیر کی آواز

          Print

25 جون کی یہ حسین صبح تھی۔ یعنی میری اکیسیوں سالگرہ کا دن تھا۔ ویسے تو اس دن کی تیاریاں کافی دن سے عروج پر تھیں۔ ایک فٹ لمبے کیک کا آرڈر بھی دیا جاچکا تھا۔ مختلف احباب کے کارڈز اور گفٹ کا جم غفیر گھر کے ایک کونے میں جمع تھا۔آج تو تقریب کا باقاعدہ آغاز ہونا تھا۔ اس لیے سویرے ہی دوستوں کا تانتا بندھ چکا تھا۔ میرے چاہنے والوں کی اتنی تعداد، میں تو آج خوشی سے پھولے نہیں سما رہا تھا۔ ساتھ ساتھ فخر کا جن بھی سر پر سوار ہوچکا تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔