Web Kahanian
     markazi safha ttlion key des men   fati or billu ki kahanian men zindagi new   Kahanian hi Kahanian Tehreer Bhejen  

Men Zindagii

   اس Category   میں نوجوانوں کے لیے لکھی گئی دلچسپ کہانیاں شامل ہیں۔ زندگی کے مشکل اور الجھن بھرے لمحات سے کیسے نمٹناہے اور اپنے رب کو کیسے راضی  کیسے کرنا ہے، یہ جاننے  کے لیے یہ کہانیاں ضرور پڑھیں۔


پچھتاوے کی آگ

arrownew e0’’روکو روکو یہاں روک دو!‘‘ میں نے ٹیکسی ڈرائیور سے کہا تو اس نے ایک طرف ٹیکسی پارک کر دی۔ 

’’یہ لو بھائی!‘‘ میں نے بڑی مشکل سے اسے کرایہ تھمایا کہ ہاتھوں کا رعشہ اب بڑھ گیا تھا۔ علاج تو بہت کرایا لیکن بھائی! بڑھاپا خود ایسی بیماری ہے جس کاتنا علاج کروا لو بڑھتا ہی جاتا ہے۔ 70 سال کی عمر میں میں اپنے ہاتھ سے کھا پی لیتا ہوں  اور اپنی ٹانگوں پر چل کر حاجت کر لیتا ہوں ، بس یہ میرے لیے کافی ہے۔ بیٹے کے گھر کی ایک کوٹھڑی میں پڑا رہتا ہوں۔ ملازم دروازے پر ہی کھانے کی ٹرےرکھ جاتا ہے کہ اندر کمرے سے اس کو بدبو آتی ہے۔ بھئی میری بیڈ شیٹ بھی تو کئی مہینوں سے نہیں بدلی۔ نہ ہی کونوں کھدروں کے جالے کسی نے اتارے ہیں۔ جب اولاد کے دل پر جالے پڑ جائیں تو باپ کے کمرے میں لگے جالے اسے کہاں نظر آتے ہیں؟

"بزرگو! دروازہ بند بھی کردو۔ یونہی کھڑے رہو گے کیا؟ جانا نہیں تھا تو ٹیکسی کیوں رکوائی تھی۔ بیٹھو دوبارہ۔ جہاں کہو گے چھوڑ دوں گا۔" 

مزید پڑھیے۔۔۔

شکیلہ، جمیلہ کہاں ہیں؟

(بنگلہ دیشی رضاکار کی ڈائری - قسط 2)

میرا کام بچھڑے ہوؤں کو ملانا ہے۔ میں بنگلہ دیشی سرحد پر واقع برمی مہاجرین کے کیمپ میں ہوتا ہوں۔آج کل  لاپتہ افراد کے دفترمیں میری ڈیوٹی ہے۔ ہر روز میں بیسیوں اعلان کرتا ہوں۔ 

"سکینہ زوجہ محمد عمران کے کوئی رشتہ دار ہوں تو آکر لے جائیں۔"

"عبد الباری عمر 10 سال والد کا نام عبداللہ بتاتا ہے، بچے کے جاننے والے کیمپ آکر رابطہ کریں۔" 

"زینب بنت عمر خورشید عمر 15 سال۔ رشتہ دار رابطہ کریں۔" 

میری یہ آواز مائیک کے ذریعے کیمپ کے دور قریب گونجتی جاتی ہے۔ لوگ پریشان حال  آتے ہیں۔ ان کی آنکھوں میں امید اور دکھ ہوتا ہے۔ اپنوں کے مل جانے کی امید اور اپنوں ہی کے بچھڑ جانے کادکھ۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک دن ایک بوڑھے میاں بیوی آئے۔ ان کی جوان بیٹی کو برمی درندوں نے ریپ کا نشانہ بنا کر زندہ جلا دیا تھا۔ اس وقت سے ان کی  کمسن جڑواں نواسیوں کا کچھ پتہ نہیں تھا۔ 

وہ آئے اور خیمے میں داخل ہو کر لاوارث  بچوں کو غور سے دیکھنے لگے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ایک ہزار روپے

گرمی کے موسم کے آغاز کے ساتھ ہی  لان کے ملبوسات عام دکھائی دینے لگتے ہیں۔  رنگ آرائی کا لبادہ اوڑھے، نت نئے  ڈیزائن سے مزین  لان کے سوٹ ہر چھوٹی بڑی دکان کی زینت بنے نظر آتے ہیں۔

 ایسے میں ہر ایک خاتون کی دلی تمنا ہوتی ہے کہ اسکا لان کا سوٹ سب سے خوبصورت اور منفرد دکھے۔

مختصرا یہ کہ بازار میں گھماگھمی کافی بڑھ جاتی ہے۔

مہرین کاحال بھی کچھ  مختلف نہ تھا۔وہ بھی لان کے سوٹ خریدنے کی متمنی تھی سو بچت کے روپوں میں لان کے سوٹ کا بھی حصہ ڈال دیا۔جیسے ہی روپے پورے ہوئے۔اس نے بھی بازار کی جانب دوڑ لگادی۔

صفیہ بیگم بہوکو بھری دوپہر میں تیار ہوتے دیکھ کرفورا استفسار کر بیٹھیں۔

"اے بہو !!اتنی گرمی میں کہاں چل دیں؟

مہرین اپنی تیاری میں مگن  ساس کی بات پہ ذرا دیر کو رکی۔ان کی طرف دیکھا۔اور مسکراکر بتانے لگی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ہمارا ساتھی ہے

سب کچھ اچھا جا رہا تھا لیکن عادل کو نہ جانے کیوں بے چینی سی تھی۔ آج وہ غازی کے بےحد اصرار پر پارٹی میں شریک ہوا تھا۔ اس وقت وہ چاروں دوست ایک  فلیٹ میں موجود تھے۔ تاش اور وی سی آر کا انتظام پہلے سے موجود تھا اور کھانا انہوں نے آرڈر کر کے منگوا لیا تھا۔

عادل بار بار جانے کے لیے اٹھتا تو دوست اس کو بٹھا لیتے۔ اچانک پولیس کے سائرن کی آوا ز سنائی دینے لگی۔ چاروں ہڑبڑا گئے۔ انہوں نے جلدی سے اٹھ کر کھڑ کی سے نیچے دیکھا۔

پولیس والے اب گاڑیوں سے اتر کر بلڈنگ کاگھیراؤ کر رہے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مزید پڑھیے۔۔۔

تھکن (2)

بہت سوچ بچار کے بعد زاہد نے بینا کی مدد کے لیے ایک کام والی رکھ لی۔ جو صرف ہفتے اور اتوار کا آتی تھی۔ سدا کی صفائی پسند بینا کو کام والی کا کام کہاں پسند آتا۔ وہ اس کے ساتھ ساتھ خود بھی جھاڑو اٹھا لیتی اور گھر کو چمکا کر ہی دم لیتی۔ زاہد کے ارمان ادھورے کے ادھورے ہی رہے کہ کبھی تو بینا بن سنور کر اس کے پاس آکر بیٹھے گی اور اسے وقت دے گی۔

دن اسی ڈگر پر چل رہے تھے کہ نئے مہمان کی آمد نے زاہد کو اندر تک سرشار کر دیا۔ہسپتال سے گھر آنے کے بعد اس کی خوشی چڑچڑے پن میں بدل گئی جب بینا نے کہا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

گمان

عمارہ جلدی کرو! ہم لیٹ ہو رہے ہیں۔ ہال دس بجے بند ہو جاتے ہیں آج کل اور تمھارا میک اپ ختم نہیں ہو رہا۔‘‘ زاہد صاحب جھنجھلاتے ہوئے بولے۔

’’جی بس ! ابھی آئی! ‘‘ عمارہ نے کوئی تیسری بار کہا۔ وہ اس وقت ڈریسنگ روم میں میک اپ کو فائنل ٹچ دے رہی تھی۔

’’ٹوں ٹوں! ‘‘ اتنے میں عمارہ کا موبائل بج اٹھا۔

’’عمارہ تمھارا موبائل۔۔‘‘ زاہد صاحب نے سائیڈ ٹیبل پر پڑ ا موبائل اٹھایا اور ڈریسنگ روم میں جانے لگے۔

’’آپ پڑھ لیں ناں۔ امی کا ہوگامیسج۔‘‘ عمارہ دوپٹے کوپنوں سے سیٹ کرتی ہوئی بولی تو زاہد صاحب میسج کھول کر پڑھنے لگے۔

’’Love You  Ammarah! I miss You so much. Nabeel.‘‘

’’عمارہ!‘‘ زاہد صاحب کے لہجے میں نہ جانے کیا کیا تھا کہ عمارہ کے ہاتھ جہاں تھے وہیں رک گئے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

تھکن

شادی سے پہلے جاب کرنا بینا کی ضرورت تھی۔ اس نے فزکس میں ایم ایس سی کر رکھا تھا۔ اچانک والد صاحب وفات پاگئے تو سارا خرچہ اکلوتے بھائی کے ذمے ٹھہرا جو شادی شدہ اور چار بچوں کا باپ تھا۔ پہلے پہل تو اس نے خوشدلی سے اپنی ماں، بینا اور اس کی چھوٹی بہن کا خرچہ بھیجا پھر کترانے لگا۔ آہستہ آہستہ یوں ہونے لگا کہ چھ ماہ بیت جاتے اور امجد بھائی کی جانب سے ایک روپیہ بھی نہ آتا۔گھر کی چیزیں بکنے پر آئیں تو بینا نے گھر سے باہر قدم رکھ دیا۔

بینا کو ایک مقامی کالج میں جاب ملی تھی۔ گو اس نے گورنمنٹ کالجز میں بھی اپلائی کرنے کا سوچ لیا تھا لیکن ابھی کے لیے یہ جاب بھی بہت تھی۔

خیر! انہی ایک جیسے دنوں میں بینا کا رشتہ آگیا۔ اماں نے کافی پہلے سے ہی رشتہ والی خالہ کو کہا رکھا تھا۔ آج وہ لوگ بینا کو دیکھنے آرہے تھے۔

’’بینا! میری بٹیا! آج یہ والا سوٹ پہن لینا اور ہاں ! تھوڑا بہت میک اپ بھی کر لینا۔زاہد کے گھر والے آرہے ہیں۔‘‘

کالج سے تھکی ہاری آئی ہوئی بینا نے ایک ٹھنڈی سانس لے کر بیڈ پر پڑے ہوئے گلابی جوڑے کو دیکھا اور سر ہلا دیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کوئی ہم نشیں ہے نہ رازداں

بنگلہ دیشی رضاکار کی ڈائری - قسط (1)

’’ہو سکتا ہے اس میں کھانے پینے کا سامان ہو !‘‘

’’یا پھر کچھ اور۔۔‘‘

میں سوچتا جا رہا تھا ۔ وہ برمی مہاجر اب نزدیک آچکا تھا۔ اس کے کاندھے پر ایک لمبے ڈنڈے کے ساتھ بندھی بڑی سی ٹوکری تھی۔ یہ ٹوکری بانس کے ٹکڑوں سے بنی ہوئی تھی ۔ مہاجربڑی احتیاط سے  ٹوکری کو سنبھالے اونچے نیچے راستے پر چلتا آرہا تھا۔

’’آخر کیا ہے اس میں؟‘‘ میں نے الجھن سے سوچا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اب ضرورت نہیں

’’سنیں ! آج ڈاکٹر فردوس کے پاس جانا ہے۔ آپ کو یاد ہے ناں!‘‘ کوثر نے یاد کروایا۔

’’ہاں! یاد ہے جی! آپ کی کوئی بات میں کیسے بھول سکتا ہوں۔‘‘ حاشر نے مسکراتے ہوئے کہا۔

ان کی شادی کو چھ ماہ ہو چلے تھے۔ حاشر بے حد محبت کرنے والا اور بہت خیال رکھنے والا شوہر تھا۔ کوثر بھی اچھی بیوی کی ذمہ داریاں بہت اچھی طرح نبھا رہی تھی۔

شام کو ڈاکٹر فردوس سے واپسی پر حاشر کہنے لگا۔

’’بھئی یہ ڈاکٹر تو اچھی خاصی مہنگی ہے۔ صرف فلو کی دوائی وغیرہ کے لیے ہزار روپے لے لیے۔‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

سیاہ نکتے ۔ آخری حصہ

اس گھر میں ایسا کیا ہے جس پر ساجدہ اتنی شکرگزار ہے؟  سمیہ نے اپنے دل میں سوچا۔

اور پھر جتنی دیر سمیہ وہاں رہی، غیر محسوس طور پر ساجدہ کا جائزہ لیتی رہی۔ وہ اللہ کی بندی ہر ہر بات پہ الحمدللہ کہتی۔

چائے بنانے کے لئے اٹھی تو شکر الحمدلله!

فریج سے دودھ نکالنے لگی تو الحمدللہ ۔ پھر چائے لے کر بیٹھی تو زبان پر وہی کلمہ۔شکر ہے پروردگار کا، بڑی نعمتوں میں رکھا ہوا ہے ۔ 

مزید پڑھیے۔۔۔

اپنا گھر

 ’’ویسے  اب میرا دل کرتا ہے ہم اپنے ملک  اپنے پاکستان جا کر رہیں۔‘‘ خان صاحب  تھکے تھکے انداز میں بولے  اور میں میرا  تو ہاسا  ہی نکل گیا۔

  ’’میں تم سےاس قدر  سیریس میٹر  پر تم  سے بات کر  رہا ہوں  اور  تم۔۔۔‘‘ انہوں نے اچھی خاصی جھاڑ پلا دی ۔

’’اچھا چلیں ، نہیں ہنستی ، آپ ویسے پوچھنے کی زحمت  گوارا  کرتے  تو میں آپکو  ہنسنے کی وجہ  بتاتی ، لیکن  خیر ! میں نے ٹھنڈی سانس  بھر کر بات ادھوری  چھوڑ دی  جس کا ان پر  کوئی اثر نہیں  ہوا  وہ  اپنے  ہی کسی غم میں ڈوبے نظر آ رہے  تھے ۔‘‘

’’ بتا بھی دیں عبدل  کے پاپا   کیا وجہ ہو گئی؟‘‘ میں نے  پوچھا ۔

مزید پڑھیے۔۔۔

سیاہ نکتے ۔ حصہ اول

arrownew e0آج صبح سے بہت تیز بارش برس رہی تھی، بادل خوفناک آواز میں گرجتے، کبھی کبھی بجلی بھی چمکتی تو کالے بادلوں سے ڈھکا آسمان ایک دم روشن ہوجاتا۔ 

سمیہ اپنے کمرے میں بہت اداس بیٹھی تھی۔ کمرے میں چاروں طرف بارش کا پانی بہت تیزی سے ٹپک رہا تھا۔ سمیہ نے بچوں کے ساتھ مل کر بارش شروع ہوتے ہی کمرے کا سارا سامان ایک کونے میں اکٹھا کردیا تھا تاکہ بھیگنے سے محفوظ رہے۔ جلدی جلدی اپنی ساری کتابیں بھی، جو کپڑوں کی الماری کے اوپر رکھی رہتی تھیں، کو اندر الماری میں جگہ بنا کے رکھ دیا۔ 

کتنی شدید خواہش تھی اس کی کم از کم ایک کتابوں کی الماری تو ہوجس میں وہ اپنی ساری کتابوں کو ترتیب سے رکھ دے اور جب دل چاہے آسانی سے نکال کر پڑھ لیا کرے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

امید کے دیے

’’السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!‘‘

’’ارے! وعلیکم السلام  افضل صاحب !بھئ کیسے مزاج ہیں آپ کے؟ ‘‘

افضل صاحب نماز عصر کی ادائیگی کے بعد مسجد کے باہر  مختلف ٹھیلوں سے چیزیں خریدنے میں مگن تھے جب طارق صاحب کی آواز پہ چونکے اور فورا پلٹے ۔

’’جی طارق میاں اللہ کا خاص کرم ہے۔ آپ سنائیں۔‘‘

’’بھئ ہمارے حال بھی اچھے ہیں اللہ کے فضل سے۔‘‘ طارق صاحب نے پر جوش انداز میں جواب دیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

مضبوط تعلق

جب شجاع سے میری شادی ہوئی تو میری رہنمائی کرنے والا کوئی نہ تھا۔ اس میں بھی میں دوسروں کو قصور وار سمجھتی تھی۔ میں ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے گلے شکوے کرتی، بدگمان رہتی۔ میں نے کبھی غور ہی نہیں کیا کہ شجاع کے روپ میں کتنا اچھا شوہر دیا ہےاللہ نے ۔ یہ شجاع ہی تھا جس نے مجھے گھر دیا اور اپنی محبت دی ۔ مگر میں ان تمام نعمتوں پر غور کرنے کی بجائے گھر کے کام کاج کا بوجھ اور زندگی کی دیگر سہولیات کے نہ ہونے کا رونا روتی رہی۔ شجاع کئی بار مجھے پیار سے سمجھاتا، کبھی غصے میں آکر لڑائی شروع کردیتا۔ 

مزید پڑھیے۔۔۔

روایت ۔ آخری حصہ

  ہم یہی رویے دیکھ کر بڑے ہوتے گئے۔ نانا جان کو ملنے جانا ہو تو امی ہر وقت تیار ۔ تایا ابو کی طبیعت پوچھنے جانا ہے تو امی نے مشین لگا لی ہے اور باجی کا ٹیسٹ بھی ہے۔ ماموں کے گھر جاتے وقت مٹھائی اور پھل اور پھپھو کے گھر کچھ لے کر جانے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ کون تین دن تک امی کے خراب ترین موڈ کا سامنا کرے۔ ابو بھی اسی ڈگر پر چل نکلے تھے اور اب انہیں بالکل عجیب نہیں لگتا تھا جب پھپھو کی شکل دیکھے ہوئے بھی انہیں کئی سال  ہو جاتے۔

اس دن گاؤں میں فوتگی ہو گئی۔ابو کی طرف کے سب رشتہ داروں کی حاضری لازمی تھی۔ ہم بھی گئے لیکن سارا راستہ امی کچھ نہ بولیں۔ ابو تو تھے ہی اداس۔ ان کے سگی تائی جان کی ڈیتھ ہو ئی تھی۔ ہم شیشے سے باہر دیکھتے گئے۔ گاؤں میں لہلہاتے سرسوں کے کھیت ہمیں جتنا اٹریکٹ کرتے تھے اتنا شاید ہی کوئی اور منظر کرتا ہو۔

مزید پڑھیے۔۔۔

من کا رنگ

نازیہ کی نئی نئی شادی ہوئی تھی۔ پہلے پہل تو سب ہی خوش اخلاقی سے پیش آتے رہے پھر آہستہ آہستہ میٹھے بولوں کی پرت اترنا شروع ہوئی ۔ دبے دبے لفظوں میں نازیہ کی پکی رنگت پر باتیں ہونے لگیں۔ نازیہ کی چار نندیں تھیں۔ نازیہ کے شوہر طاہر سب سے بڑے تھے۔

ایک دن وہ عام سے کپڑے پہنے کچن میں کام کر رہی تھی کہ اس کی چھوٹی والی نند اند ر داخل ہوئی ۔

’’اوہ! یہ آپ ہیں نازیہ بھابھی! میں سمجھی ساتھ والوں کی کام والی آئی ہوئی ہے۔ ‘‘ ماریہ نے بظاہر ہنستے ہوئے کہا لیکن اس کی آنکھیں صاف مذاق اڑارہی تھیں۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

روایت ۔ پہلا حصہ

 ’’کتنے پیسے دیے تھے  تمھارے ابو نے؟  بس یہی چالیں ہیں ان کی۔ عید عید پر  ہم ملنے کیا چلے جاتے ہیں ہمیشہ اپنا دکھڑا لے کر بیٹھ جاتی ہیں۔ بس ہماری کمائی پر نظر ہے ان کی۔ ‘‘ امی  پھپھو کے گھر سے واپسی پر غصے سے بڑبڑا رہی تھیں۔ آج عید کا دن تھا۔ ہم پہلے ماموں کے گھر گئے ۔ وہاں نانا ابو سے خوب باتیں کیں۔ماموں کے بڑے سے لان میں ہم سب  کزنز نے آنکھ مچولی کھیلی۔   بہت مزہ آیا۔

پہلے نانا ابو ہمارے ساتھ ہی رہتے تھے۔ ابو چونکہ کافی عرصہ باہر رہے تھے  تو نانا ابو اور نانی جان ہی ہمارے ساتھ تھیں۔ اس لیے ہم سب بہن بھائی ان سے کافی اٹیچ تھے۔ ماموں کے گھر سے واپسی پر اچانک ابو جان نے گاڑی پھپھو کے گھر کی طرف موڑ لی۔ یہیں سے امی کا موڈ خراب ہونا شروع ہوا۔ ابو کے سامنے وہ زیادہ تو کچھ نہیں کہہ سکتی تھں بس دبے دبے لہجے میں اتنا کہا۔

’’کیا ضرورت ہے جانے کی۔ گھر میں مہمان آنے والے ہوں گے۔اتنے کام پڑے ہیں۔‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

اب پچھتاوے کیا ہوت

 یاسمین گل کے کنگھی کرتے ہاتھ اچانک رک گئے اور فون کی گھنٹی پروہ فوراً اس طرف متوجہ ہوئی ۔
برش ڈریسنگ ٹیبل پر رکھتے ہوئے مسلسل ہونے والی بیل پر جیسے ہی فون کے قریب گئی تو سکرین پر وہی نمبر جگمگارہا تھا جو پچھلے ہفتے سے اس کو بڑی الجھن میں مبتلا کیے ہوئے تھا ۔اس نے لرزتے ہاتھوں اور کپکپاتی آواز سے اور بے ترتیب ہوتی ہوئی سانسوں کے ساتھ کال سنی تو وہی جانی پہچانی آواز اور وہی مطالبہ تھا تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ۔۔۔ کہ اگر ایک لاکھ نہ دیا تو انجام تمہارے سامنے ہے۔
یاسمین گل ادھ موئی سی بیڈپرگرگئی اورماضی کے دنوں کویادکرنے لگی۔ایک غلطی نے اسے تباہی کے موڑتک پہنچادیاتھا۔
*
دروازہ کھلتے ہی ناجیہ کی چہکتی ہوئی آواز یاسمین کے کانوں سے ٹکرائی:
’’ ہیلو یاسمین !کل کی پارٹی کی تیاری کیسی ہے؟ میں ذرا بازار سے آرہی تھی ،سوچا یاسمین سے اس کی تیاری کی خبرلوں۔‘‘
’’ہاں ناجیہ زبردست تیاری ہے۔ ‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

اعتماد

 آئے رو ز کے شور شرابے سے میں تنگ آ گیا ہوں بیگم! شیخ راشد نے تقریباً چیختے ہوئے کہا۔ تمہارے وعدوں نے مجھے مار دیا ہے۔ کب سے کہہ رہی ہو کہ کوئی نوکر رکھ کر مجھ سے اب گھر کا کام کاج نہیں ہوتا۔ بیگم نے تحکمانہ انداز میں جواب دیا۔ بس بس! سن لیا کون سا وعدہ؟ شیخ راشد بولے۔

وہ نوکر رکھنے کا وعدہ اور کیا؟ بیگم نے تنک کر کہا۔

اگلے روز شیخ راشد گھر میں داخل ہوئے تو ان کے ساتھ کوئی اجنبی لڑکا تھا۔ ان کی بیگم نے اس لڑکے کی طرف حیران ہو کر دیکھا اور کہا کہ یہ آپ کسے لے آئے ہیں ؟ خود ہی تو بیس پچیس دن سے کہہ رہی تھیں کہ گھر کے کام کاج کے لیے کوئی ملازم ہونا چاہیے۔ سو لے آیا ہوں۔ اب گھر کا سارا سامان اس سے منگوا لیا کریں۔

شیخ راشد نے نہایت اطمینان سے جواب دیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ایک لمحے کے لیے

arrownew e0 ’’آج تو یہ میری تعریف ضرور کریں گے۔‘‘ زلیخا نے اپنا آپ آئینے میں دیکھتے ہوئے سوچا۔ وہ آج بہت دل لگا کر تیا ر ہوئی تھی اور بہت اچھی لگ تھی۔

انصاری صاحب کے آنے کا ٹائم ہو چکا تھا۔ زلیخا نے جلدی جلدی ڈریسنگ ٹیبل سمیٹا اور کچن میں چلی گئی۔ چائے کا سامان تیار تھا۔ اتنے میں گاڑی کے ہارن کی آواز آئی۔ گڑیا باہر بھاگی۔

’’بابا آگئے ! بابا آگئے۔‘‘

انصاری صاحب اندر داخل ہوئے تو ان کے ہاتھ میں سبزی، فروٹ اور دیگر سامان تھا۔ گڑیا نے اپنے کھلونوں والا شاپر کھول لیااور زلیخا نے پانی کا گلاس انصاری صاحب کو پیش کیا۔

انصاری صاحب نے بس سرسری سی نظر سے زلیخا کی ساری تیاریوں کو دیکھا اور کہنے لگے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

جب رابرٹ کو ہدایت ملی

تین ماہ پہلے میں نے Fortsworth میں ایک مسجد میں خطبہ دیا۔ میں اس مسجد میں کوئی چار پانچ سال بعد آیا تھا۔ کسی وجہ سے انہوں نے مجھے خطبہ دینے کی دعوت دی۔ میرا خطبہ "دعا" کے موضوع پہ تھا۔

ایک جوان مصری میرے پاس آیا اور کہا کہ اللہ تعالٰی نے آج میری دعا قبول کر لی ہے۔ میں نے پوچھا آپ کی دعا کیا تھی؟ اس نے کہا کہ میری دعا تھی کہ نعمان علی خان، رابرٹ Rober Davilla سے ملیں۔ میں ہنس پڑا اور کہا کہ آپ رابرٹ ہیں؟ اس نے کہا "نہیں Robert Davilla میرا دوست ہے۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ اللہ تعالٰی نے میری دعا قبول کی ہے۔" میں نے کہا بتائیے میں سننا چاہتا ہوں۔ "

          رابرٹ، ایک جوان آدمی تھا اور وہ Fortsworth    سے 40 منٹ کی مسافت میں ایک قصبہ میں رہتا تھا۔ وہ ایک کسان تھا لیکن وہ ایک کسی جینیاتی بیماری کا شکار ہوا جس نے جوانی میں اپنا اثر دکھایا اور گردن کے نیچے اس کا تمام جسم مفلوج ہو گیا۔ وہ اب nursing  home میں رہتا ہے۔ زیادہ تر لوگ اس nursing home میں 80 یا 90 سال کے ہیں۔ اور پھر وہ ہے تیس سال کا جوان آدمی۔ وہ 10 سال سے اس nursing home میں ہے۔ اس کی فیملی نے اس کو ایک کمپیوٹر لے کر دیا ہے جو کہ آواز کے سہارے چلتا ہے( computer 💻 that operates on voice commands) تاکہ وہ آواز کے ذریعے Google کر سکے۔ چیزوں کو search کر سکے۔ معلومات حاصل کر سکے۔ اس کا بہترین دوست اس کے کمرے میں موجود مریض تھا ۔ جس سے اس کی ملاقات nursing home میں ہوئی۔ اس کے دوست کو جگر کے ٹرانسپلانٹ( liver transplant) کی ضرورت تھی۔ اور وہ ہر وقت خدا کے بارے میں باتیں کرتے تھے۔ وہ دونوں کرسچن کافی گہرے دوست تھے۔ اس کے دوست کو اطلاع دی گئی کہ ایک ڈونر مل گیا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔