Web Kahanian
     markazi safha ttlion key des men   fati or billu ki kahanian men zindagi new   Kahanian hi Kahanian Tehreer Bhejen

Kahanian2

 زندگی کے کسی نہ کسی  موڑ پر  اچانک کچھ سنہری الفاظ نکل کر آپ کے سامنے آجاتے ہیں آپ کے رہنما بن جاتے ہیں۔  کچھ ایسے ہی الفاظ لیے یہ انمول کہانیاں  اس Category   میں پیشِ خدمت ہیں۔ 


جینوچوہابال بال بچا

arrownew e0  ایک چوہا تھا۔اُس کا نام جینو تھا۔ وہ بہت ہی لالچی ، کاہل اور سُست تھا۔ کاہل چوہا بہت زیادہ پیٹّو بھی تھا۔ اس کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا تھا۔

ایک دن کی بات ہے جینو کی ماں نے کہا کہ :’’بیٹا! تم بہت زیادہ کھاتے ہو ، لیکن کام کاج سے جی چراتے ہو ، تم اپنے حصے کے علاوہ میرے اور تمہارے پاپا کا کھانا بھی چٹ کر جاتے ہو، یہ اچھی بات نہیں ہے آج سے تم اپنا کھانا خود تلاش کروگے ۔ ہاں! ایک بات یاد رکھنا لالچ مت کرنا، زیادہ کھانے کے چکر میں کبھی کسی مصیبت میں مت پڑ جانا، اپنا دھیان رکھنا ۔‘‘
جینو بہت اُداس ہوگیا ۔ مگر اسے جانا ہی پڑا ۔ وہ کھانے کی تلاش میں نکل گیا ، ابھی وہ کچھ ہی دور گیاتھا کہ اُسے راستے میں ایک گیہوں کا دانا مِلا۔ وہ خوش ہو گیا۔ اس نے گیہوں کا دانا اٹھا لیا ۔ تب ہی اس کی نظر خرگوش پر پڑی ، خرگوش اسے دیکھ کر ہنس رہا تھا۔
’’تم مجھے دیکھ کر کیوں ہنس رہے ہو؟‘‘ جینو نے خرگوش سے پوچھا۔

’’مَیں تو تمہاری بے وقوفی پر ہنس رہا ہوں ، ارے! ایک کسان کی بیل گاڑی یہاں سے گذری ہے ۔ تھوڑا اور آگے جاؤ تمہیں گیہوں کی بالی مل جائے گی۔
‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

نازک صاحب کا بکرا ۔ قسط 2

 کئی لوگوں نے اپنے بکرے گھر میں چھپا لیے۔ بڑی مشکل سے اسے قابو میں کرکے ایک کوٹھڑی میں بند کیا۔ اب محلے بھر میں اس کی دھاک بیٹھ چکی۔ لوگ اسے غنڈا بکرا کہنے لگے تھے۔ نازک صاحب نے جب اس بکرے کی شہرت سنی تو انہوں نے اپنے بکرے کو باہر نکالنا بند کردیا اور کہنے لگے "اپنے نامعقول بکرے کو باندھ کر رکھنا۔ اگر وہ دوسرے بکروں کے ساتھ گھلا ملا تو اس کی بری صحت میں پڑ کر سارے بکرے خراب ہوجائیں گے۔ بالکل اسی کی طرح سب بکرے شیطان ہوجائیں گے۔ اسی لیے میں نے اپنے بکرے کو باہر نکالنا بند کردیا ہے۔ ہاں میاں! تمہارا کیا ہے۔ تمہارا بکرا تو دو تین دن میں کٹ جائے گا لیکن میں نے اپنا بکرا بڑی محنت سے پالا ہے۔ اس کی تربیت کی ہے یہ کوئی کٹنے والا بکرا نیہں ہے۔ اس کا دادا جو تھا۔۔۔۔۔۔۔"۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

غلام ہندوستان سے آزاد پاکستان تک حصہ اول

غلام ہندوستان سے آزاد پاکستان تک

(جناب مصطفی صادق کا وہ تاریخی مضمون جس پر انہیں تحریک پاکستان کے ایک مجاہد کی حیثیت سے گولڈ میڈل کا حقدار ٹھہرایا گیا)

(حصہ  اول)

پاؤں سے خون رس رہا تھا، سر میں باریک باریک پھنسیاں، ذرا سا کھجلاؤں تو انگلیاں خون سے بھر جاتیں، کپڑے میلے کچیلے بلکہ گدلے، اس لئے کہ کم و بیش چھ ہفتے اس عالم میں گزر گئے

مزید پڑھیے۔۔۔

نازک صاحب کا بکرا ۔ قسط ۱

 نازک صحب ہمارے محلے میں رہتے تھے۔ نام تو ان کا اللہ جانے کیا تھا لیکن اپنی حرکتوں اور حلیے کی وجہ سے سارے محلے میں نازک صاحب کے نام سے مشہور تھے۔

دبلے پتلے دھان پان آدمی تھے۔ پھونک مارو تو اڑ جائیں۔ ذرا سی بات پر بگڑ جاتے تھے۔ جب وہ کوٹ پتلون پہنے، باریک سنہری کمانی کا چشمہ لگائے، ایک ہاتھ میں چھڑی اور دوسرے میں بکرےے کی رسی تھامے محلے میں نکلتے تھے تو ان کی دلچسپ حرکتوں کی وجہ سے راہ چلتے لوگ بھی رک کر انہیں دیکھنے لگتے تھے۔ کبھی چھوٹے چھوٹے پتھروں پر پائوں رکھنے سے انہیں موچ آجاتی اور کبھی اپنے بکرے کی مریل سی "میں ایں" سن کر ڈر جاتے۔ ان کا بکرا بھی خوب تھا۔ موٹا تازہ کالے رنگ کا لیکن کان دونوں سفید۔ محلے میں نازک صاحب سےز یادہ ان کا بکرا مشہور تھا۔ نازک صاحب نے اسے بڑے پیار سے پالاتھا۔ کسی کی مجال نہیں تھی کہ ان کے بکرے کو ہاتھی بھی لگائے۔ وہ اکثر اپنے بکرے کی عظمت، ذہانت اور اس کے اعلیٰ خاندان کے قصے سنایا کرتے تھے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

بیربل کی دانشمندی

 بیربل کی دانشمندی

          Print

اکبر بادشاہ کے  نورتنوں میں سے ایک راجہ بیربل کی ذہانت ، حاضر جوابی ، کی کہانیاں اور لطیفے بہت مشہور ہیں۔ بیربل کی دانشمندی نے بیربل کے کردار کو افسانوی بنا دیا۔

اکبر اور بیربل سے متعلق ایک واقعہ بہت مشہور ہے۔ روایت کے مطابق ایک رات کو جب بادشاہ اور بیربل بھیس بدل کر شہر کا گشت کر رہے تھے۔ دونوں کا گزر ایک حجام کی جھونپڑی کے پاس سے ہوا۔ حجام جھونپڑی کے باہر چار پائی پر بیٹھا حقہ پی رہا تھا۔ اکبر نے اس سے پوچھا۔ بھائی یہ بتاؤ کہ آج کل اکبر بادشاہ کے راج میں لوگوں کا

مزید پڑھیے۔۔۔

چڑیا بی کے بچے

گھنے جنگل کے پار افق پر سورج پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا اور سورج کی شعاعیں درختوں کی اوٹ سے جھانکتے ہوئے جنگل کی ناہموار زمین پر بمشکل پہنچ رہی تھیں۔ گویا جنگل کی زندگی میں ہر سو اجالا پھیل چکا تھا اور اس کے ساتھ ہی تمام چرند پرند بھی اپنی اپنی نگاہوں میں میٹھی اور معصوم سی انگڑائی لے کر بیدار ہوچکے تھے، وہ سب اپنی سریلی اور خوب صورت آواز میں خدائے واحد کی حمد و ثناءمیں مصروف تھے۔

درختوں پر بسیرا کیے پرندے بھی اپنے اپنے بچوں کو بیدار کرکے گزشتہ رات کے جمع کیے دانوں سے ان کو ناشتہ کرارہے تھے، ننھے ننھے پرندوں کے بابا جان آج کے دن کے لیے راشن تلاش کرنے نکل پڑے تھے۔ جب کہ ماما جان اپنے اپنے گھونسلوں کی صفائی ستھرائی کررہی تھیں، انہی درختوں میں سے ایک درخت پر چڑیا بی اپنے دو ننھے ننھے بچوں کے ساتھ رہ رہی تھیں، بچوں کے ابا یعنی چڑے میاں اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ دانہ کی تلاش میں نکل پڑے تھے، معمول کے مطابق چڑیا بی نے اپنے بچوں کو نہلایا دھلایا اور دیگر کام کاج سے فارغ ہو کر اب وہ پڑوس کے درخت پر بی فاختہ کے بچوں کی طبیعت دریافت کرنے گئی ہوئی تھیں۔ بی فاختہ کے بچے کئی روز سے سرد موسم کے باعث بیمار ہوگئے تھے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

بادشاہ اور قیدی

بادشاہ اور قیدی

          Print

کسی بادشاہ نے ایک قیدی کے قتل کا حکم دیا۔ قیدی بیچارہ جب زندگی سے ناامید ہو گیا تو اس نے بادشاہ کو بُرا بھلا کہا اور گالیاں دیں۔ کسی نے سچ کہا ہے:

جو اپنی جان سے ہاتھ دھولیتا ہے وہ جو جی میں آتا ہے کہہ گذرتا ہے۔ مجبوری کے وقت جب بھاگنے کا موقع نہیں ملتا ہے تو انسان اپنی جان بچانے کے لیے تیز تلوار کی دھار کو ہاتھ سے پکڑ لیتا ہے اسی طرح جب آدمی

مزید پڑھیے۔۔۔

اونٹ اور لومڑی

میرا ایک دوست اپنی پریشانی کی شکایت لے کر میرے پاس آیا اور کہنے لگا میری آمدنی کم ہے اور بال بچّے بہت ہیں۔ مجھ میں فاقہ کرنے کی طاقت نہیں ہے۔ کئی بار یہ سوچا کہ کسی دوسرے ملک میں چلا جاؤں تاکہ وہاں جس حال میں بھی گزر ہوگا کسی کو میرے بُرے بھلے کی خبر نہ ہوگی۔

بہت سے لوگ بھوکے سو جاتے ہیں اور کوئی نہیں جانتا یہ کون ہیں۔ بہتوں کی جان پر بن آئی مگر کوئی ان کے حال پر رونے والا نہ ہوا۔

پھر میں یہ سوچتا ہوں کہ دشمن میری ہنسی اڑائیں گے اور مجھے طعنہ دیں گے اور کہیں گے کہ اپنے بال بچّوں کو بے سروسامانی میں چھوڑ گیا۔ یہ بات کوئی نہ کہے گا کہ بال بچّوں ہی کے لیے محنت کرکے روپیہ کمانے گیا ہے۔ آپ جانتے ہیں میں علم حساب جانتا ہوں اگر آپ کے ذریعہ کوئی ملازمت مل جائے تو مجھے اطمینان حاصل ہو۔ میں زندگی بھر آپ کا احسان مانوں گا۔ میں نے اس سے کہا۔ اے میرے دوست بادشاہ کی ملازمت دوزخ ہوتی ہے۔ ایک طرف روٹی ملنے کی امید ہے تو دوسرے طرف جان کا خطرہ۔ عقل مندوں کی رائے ہے کہ کسی امید پر جان کو خطرے میں ڈالنا عقل مندی نہیں ہے۔ یا تو پریشان حالی پر راضی ہو جاؤ یا پھر جان کو خطرے میں ڈالو۔

مزید پڑھیے۔۔۔

وفا دار ہاتھی

وفا دار ہاتھی

          Print

یہ کہانی پرانی ہونے کے ساتھ ساتھ سچی بھی ہے۔ یہ بات مغلوں کے دور کی ہے آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کا ایک ہاتھی تھا۔ نام تھا اس کا “مولا بخش” یہ ہاتھی اپنے مالک کا بے حد وفادار تھا۔ ہاتھی خاصہ بوڑھا تھا مگر تھا بہت صحت مند۔ بہادر شاہ ظفر سے پہلے بھی کئی بادشاہوں کو سواری کروا چکا تھا۔ فطرتاً شریر اور شوخ تھا۔ ہر وقت مست رہتا تھا۔ اپنے مہاوت کے علاوہ کسی کو پاس نہ آنے دیتا تھا۔

    یہ ہاتھی کھیلنے کا بڑا شیدائی تھا۔ قلعے کے قریب بچے اس کے گرد اکٹھے ہو جاتے تھے اور مولا بخش

مزید پڑھیے۔۔۔

ننھے بندر اور زرافہ

Nanhy Bandr aur Zirafah

ایک جنگل میں بندروں کی ایک ٹولی رہتی تھی ۔ اس ٹولی میں دو بچّے بھی تھے ، جو اتنے شرارتی تھے کہ ان کے ماں باپ بھی ان سے بہت زیادہ تنگ آگئے تھے۔

اسی جنگل میں ایک ننھا زرافہ بھی رہتا تھا۔ وہ بہت ہی سیدھا سادا اوربھولا بھالا تھا۔ ایک مرتبہ چرتے چرتے وہ جنگل کے اس حصے میں آگیا جہاں بندروں کی یہ ٹولی درختوں سے پتّے اور پھل فروٹ توڑ توڑ کر کھانے میں مگن تھی ۔دونوں چھوٹے شرارتی بندروں نے زرافہ کو دیکھا تو انھیں حیرت ہونے لگی ۔ کیوں کہ ان بندروں نے کبھی ایسا کوئی بھی جانور نہیں دیکھا تھا۔ 
بندر کے ایک بچّے نے کہا:’’ ارے! دیکھو تو کتنا عجیب و غریب جانور ہے ، آؤ اسے چھیڑتے اور ستاتے ہیں۔‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

شہزادے کی سمجھ داری

شہزادے کی سمجھ داری

          Print

ایک شہزادہ کم صورت تھا اور اس کا قد بھی چھوٹا تھا۔ اس کے دوسرے بھائی نہایت خوبصورت اور اچھے ڈیل ڈول کے تھے۔ ایک بار بادشاہ نے بدصورت شاہزادے کی طرف ذلّت اور نفرت کی نظر سے دیکھا۔ شہزادہ نے اپنی ذہانت سے باپ کی نگاہ کو تاڑ لیا اور باپ سے کہا ’’اے ابّا جان! سمجھ دار ٹھگنا لمبے بیوقوف سے اچھا ہے۔ ضروری نہیں ہے کہ جو چیز دیکھنے میں بڑی ہے وہ قیمت میں بھی زیادہ ہو۔ دیکھیے ہاتھی کتنا بڑا ہوتا ہے، مگر حرام سمجھا جاتا ہے اور اس کے مقابلہ میں بکری کتنی چھوٹی ہے مگر اس کا گوشت حلال

مزید پڑھیے۔۔۔

حیرت ہے

Hairat hy

ارشد صاحب  لاٹھی پر دونوں ہاتھ ٹکائے اتنی دیر سے بولے جارہے تھے۔ اچانک سعیدہ خاتون کے منہ سے نکلا۔ ’’حیرت ہے!‘‘

’’یہ کیا بات ہوئی بھلا؟ میں اتنی دیر کیا کہے جارہے ہوں  اور تم نے جواب میں یہ کیا کہا۔ حیرت ہے۔ کس بات پر حیرت ہے۔‘‘ ارشد صاحب کہتے کہتے جھلا اٹھے۔ وہ کافی دیر سے دل کی بھڑاس نکال رہے تھے ۔ ہمیشہ کی طرح آج سعیدہ خاتون نے ان کی ہاں میں ہاں نہیں ملائی۔

******************

’’یہ گملہ کس نے توڑا ہے؟‘‘ ارشد  آفس سے آتے ہی گرجا۔گیارہ سالہ صائم دوڑا چلا آیا۔

’’باباوہ کل ذیشان آیا تھا ناں۔ اس نے پاؤں مار کر گملہ گرا دیا تھا۔ میں نے خود دیکھا تھا۔ ‘‘ صائم نے ڈرتے ڈرتے جواب دیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ہمارے پڑوسی

ہمارے پڑوسی

          Print

سنتے ہیں کہ اچھے پڑوسی اللہ کی نعمت ہیں، لیکن یہ بات شاید ہمارے پڑوسیوں نے نہیں سنی۔ ہم نہیں کہتے کہ ہمارے پڑوسی اچھے نہیں ہیں۔ صرف آپ کے سامنے ایک نقشا سا کھینچتے ہیں جس سے آپ کو اندازہ ہو گا کہ ہمارے پڑوسی کیسے ہیں۔

سب سے پہلے مرزا صاحب کو لیجئے۔ یہ حضرت ریڈیو بجانے کے بہت شوقین ہیں، بلکہ یوں لگتا ہے کہ مارکونی صاحب کو ریڈیو ایجاد کرنے کا خیال مرزا صاحب کے ذوق و شوق

مزید پڑھیے۔۔۔

بستہ

Basta

بلّو اسکول سے نکلا، تو سخت گرمی تھی۔ سورج لگتا تھا جیسے عین سڑک کے اوپر اتر آیا ہے۔گرمی کی چھٹیاں ہونے میں ابھی کچھ دن باقی تھے… اوپر سے گھر جانے والی سڑک بھی سیدھی اور سپاٹ تھی۔ پورے راستے میں کوئی درخت نہ سایہ! بلو اسی طرف جانے والی لڑکوں کی ایک ٹولی کے ساتھ گھر جایا کرتا تھا۔ آج بھی انہی کے ساتھ تھا۔ کئی بار اس نے اپنی امی سے سائیکل کی فرمائش کی تھی۔ مگر سڑک پر ٹریفک کا جو برا حال تھا، اسے دیکھتے ہوئے تیسری جماعت کے بچے کو کون سائیکل پر اسکول جانے دیتا؟

ہر بار جواب ملتا کہ پانچویں جماعت میں پہنچو گے، تو سائیکل ملے گی۔ ویسے بلو کو سائیکل چلانی اچھی طرح آتی تھی۔ بازار میں اس کے سائز کی دو پہیوں والی سائیکلیں بھی موجود تھیں۔ مگر اس کی سنتا کون، ہر بار یہی جواب ملتا کہ پانچویں سے پہلے سائیکل نہیں ملے گی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ٹنکو میاں نے مدد کی

ٹنکو میاں نے مدد کی

          Print

ٹنکو میاں بھی۔۔۔۔ بس کیا بتائیں۔۔۔۔ ایک عجیب ہی تماشا تھے۔

ان کا نام تو ان کے دادا جان نے مرزا اظہر خان خاناں رکھا تھا مگر جتنا لمبا چوڑا اور بھاری بھرکم ان کا نما تھا خود اتنے ہی چنے منے سے تھے ، اسی لیے محلہ بھر میں ٹنکو میاں کے نام سے مشہور تھے۔

گول گول آنکھیں ہروقت شرارت سے ناچتی رہتی تھیں، چہرے پر ہر وقت معصومیت اور ایک مسکراہٹ سی طاری

مزید پڑھیے۔۔۔

بادشاہ اور فقیر

بادشاہ اور فقیر

بادشاہ عیش و آرام میں مست ہو کر کہہ رہا تھا:

میرے لیے دنیا میں اس وقت سے اچھا اور کوئی وقت نہیں ہے۔ نہ تو اس وقت اچھے بُرے کی فکر ہے نہ کسی کا غم!

محل کے نیچے ایک فقیر سردی میں لیٹا ہوا تھا۔ اس نے بادشاہ کی باتیں سن لیں اور پکار کر کہا!

اے بادشاہ! تیری شان وشوکت کا مقابلہ دنیا میں کوئی نہیں کرسکتا ہے۔ میں نے مانا کہ تجھ کو کوئی غم نہیں ہے۔ مگر کیا ہمارا غم بھی نہیں ہے (یعنی ہم جیسے ننگے بھوکوں کی بھی فکر نہیں ہے)!

بادشاہ نے فقیر کی باتیں سن لیں۔ اس کے دل پر اثر ہوا۔ ایک ہزار اشرفیوں کی تھیلی نکالی اور کھڑکی سے باہر لٹکا کر کہا۔ اے درویش اپنا دامن پھیلا۔ فقیر نے جواب دیا میرے بدن پر کپڑے ہی نہیں ہیں، دامن کہاں سے لاؤں بادشاہ کو اس کی غریبی پر بہت رحم آیا۔ ایک قیمتی لباس اور اشرفیوں کی تھیلی

مزید پڑھیے۔۔۔

بھیا کے روزے

بھیا کے روزے

          Print 

ڈز کی آواز سے سلیم بھیا چونک پڑے۔

’’کم بخت اتنے پٹاخے چلا رہے ہیں جیسے ہمیں معلوم ہی نہیں کہ کل پہلا روزہ ہے۔‘‘

’’اچھا تو بھائی جان! آپ کو معلوم ہے کہ کل پہلا روزہ ہے۔‘‘ باجی ثریا نے شرارت کے لہجے میں کہا۔

’’لو! یہ بھی کوئی بھولنے کی بات ہے۔ ‘‘ بھیا بولے۔

’’لیکن بھیا! آپ تو ہر سال بھول جاتے ہیں۔‘‘  طاہر بولا۔

’’کیسے ؟‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

محنت کی کمائی

محنت کی کمائی

کہتے ہیں کہ ایک دفعہ کہیں ایک خوشحال شخص رہتا تھا۔ اس کا اکلوتا بیٹا تھا۔ وہ ماں کے ناز و نعم میں پلا بڑھا  یہاں تک کہ جوان ہو گیا۔ نہ کوئی ہنر ، نہ ہی کسی کام کا تجربہ۔ اسے ایک ہی کام آتا تھا اور وہ تھا باپ سے چھپا کر ماں کے دیئے ہوئے پیسوں سے کھیل کود اور مستیاں کرنا اور سڑکوں چوراہوں پر وقت گزارنا۔

اور ایک دن صبح کے وقت باپ نے اسے آواز دیکر اپنے پاس بلایا اور کہا: بیٹے اب تم بڑے ہو گئے ہو اور خیر سے جوان بھی ہو۔ آج سے اپنی ذات پر...........

مزید پڑھیے۔۔۔

روزہ دار کی حاضر جوابی

روزہ دار کی حاضر جوابی

          Print 

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ تین شخص کہیں جارہے تھے۔ چونکہ رمضان کا مہینہ تھااس لئے ان میں ایک کا تو روزہ تھا لیکن باقی دونوں نے کچھ اپنی سستی اور کچھ سفر کی وجہ سے روزہ نہ رکھا تھا۔ چلتے چلتے سورج غروب ہونے کوآیاتورات گذارنے کےلئے یہ تینوں ایک گاؤں میں پہنچے ۔ اورایک مسجد میں چلےگئے ، مسجد کےپڑوسی نے تینوں کو روزہ دارسمجھ کر بہت ساپکوان پکایااورایک برتن میں ڈال کر لے آیا۔اورکہاکہ لوبھائیو ،روزہ افطارکرو۔پکوان دیکھ کر ایک شخص نے دوسرے سے مشورہ کیا کہ ہمارا یہ ساتھی روزہ سے ہے

مزید پڑھیے۔۔۔

غلام ہندوستان سے آزاد پاکستان تک حصہ دوم

غلام ہندوستان سے آزاد پاکستان تک

(جناب مصطفیٰ صادق صاحب  کا وہ تاریخی مضمون جس پر انہیں تحریک پاکستان کے ایک مجاہد کی حیثیت سے گولڈمیڈل کا حقدار ٹھہرایا گیا)

(آخری حصہ)

آج جب میں یہ سطور سپرد قلم کر رہا ہوں، ان اذیت ناک لمحوں کو بیتے کم و بیش 45 سال گزر چکے ہیں اور اسی مرقی پنجاب میں جہاں ہم پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے آئے دن قتل و غارت گری اور دہشت و بربریت کی ایسی لرزہ خیز وار داتیں رونما ہو رہی ہیں جن کا علم ہونے پر ہر شریف انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

قیمتی موتی

قیمتی موتی

          Print 

پرانے زمانے کی بات ہے، ایک تاجر تجارت کی غرض سے بغداد پہنچا۔ پچھلے وقتوں میں تجارت کا یہ قانون تھا کہ تاجر جس ملک میں تجارت کرنے جاتا، سب سے پہلے وہاں کے بادشاہ سے ملاقات کرتا، اپنا سارا سامان تجارت دکھاتا اور اس کی خوبیوں اور انفرادیت سے آگاہ کرتا تھا۔ چنانچہ اس تاجر کو بھی بغداد پہنچنے کے بعد بادشاہ کے دربار میں پیش کردیا گیا۔ تاجر نے بادشاہ کے حضور تحائف پیش کیے۔

مزید پڑھیے۔۔۔