Web Kahanian
     markazi safha ttlion key des men   fati or billu ki kahanian men zindagi new   Kahanian hi Kahanian Tehreer Bhejen

Kahanian2

 زندگی کے کسی نہ کسی  موڑ پر  اچانک کچھ سنہری الفاظ نکل کر آپ کے سامنے آجاتے ہیں آپ کے رہنما بن جاتے ہیں۔  کچھ ایسے ہی الفاظ لیے یہ انمول کہانیاں  اس Category   میں پیشِ خدمت ہیں۔ 


رزق کا انتظام

arrownew e0 حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ ایک درویش ایک جنگل میں سفر کررہا تھا اس نے ایک لنگڑی لومڑی کودیکھا جوبے بسی کی چلتی پھرتی تصور تھی۔ اس درویش کے دل میں خیال آیا کہ اس لومڑی کے رزق کاانتظام کیسے ہوتا ہوگا جبکہ یہ شکار کرنے کے بھی قابل نہیں ہے؟

درویش ابھی یہ بات سوچ رہاتھاکہ اس نے ایک شیر کودیکھا جومنہ میں گیڈر دبائے اس لومڑی کے نزدیک آیا۔ اس نے گیڈر کے گوشت کاکچھ حصہ کھایا اور باقی وہیں چھوڑ کرچلا گیا۔ لومڑی نے اس باقی کے گوشت میں سے کھایا اور اپنا پیٹ بھرا۔ 
درویش نے جب سارا ماجرادیکھا توا سے اتفاق قرار دیا اور یہ دیکھنے کے لئے کہ یہ لومڑی دوبارہ اپنا پیٹ کیسے بھرے گی وہیں قیام کیا۔ اگلے روز بھی وہی شیر منہ میں گیڈر دبائے اس جگہ آیا اور اس نے کچھ گوشت کھانے کے بعد باقی ویسے ہی چھوڑ دیا۔ لومڑی نے وہ باقی گوشت کھالیا اور اپنا پیٹ بھر لیا۔ درویش سمجھ گیا کہ اس کے رزق پہنچانے کاانتظام اللہ کی طرف سے ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

میں ایک باورچی ہوں

 میرے قریبی دوست اور رشتہ دار جانتے ہیں کہ میں ایک اچھا باورچی ہوں لیکن میں نے کبھی اس بات پر غرور نہیں کیا۔ میں خود کو شیف بھی کہہ سکتا تھا کہ بعض لوگوں کے نزدیک یہ ماڈرن لفظ زیادہ معزز لگتا ہے لیکن سچ بات ہے شیف کے لفظ میں مجھے ایک خاص قسم کی چالاکی اور پیشہ ورانہ تفاخر محسوس ہوتا ہے۔ اس لئے میں دیسی لفظ باورچی کو زیادہ پسند کرتا ہوں۔ ہمارے اسی معاشرے میں جب دولت کی ریل پیل نہیں ہوئی تھی اور دولت چند ہاتھوں میں جمع نہیں ہوئی تھی تو خاندانی باورچی شادی بیاہ کے موقع پر بلائے جاتے تھے۔ یہ لاکھوں روپے کی کیٹرنگ نہیں ہوتی تھی نہ ہی یہ اسٹیٹس سمبل بنا تھا کہ شادیوں پر چار چار دن انواع و اقسام کے کھانوں کے سلسلے چلتے رہیں۔

خاندانی باورچی ہر شادی کے موقع پر مرکزی کردار ہوتا تھا. بڑے وقار سے بلایا جاتا تھا اور اسے کرسی دی جاتی تھی۔ پھر وہ صاحب تقریب سے مذاکرات کرتا تھا اور ہر قسم کے بجٹ کے مطابق دیانتداری سے صحیح مشورہ دیتا تھا۔ مجھے یاد ہے میرے ایک دوست کی بہن کی شادی میں دولہا والے بغیر بتائے زیادہ تعداد میں باراتی لے کر آ گئے۔ میرا دوست بہت پریشان ہوا اور اس نے خاندانی باورچی کو صورتحال سے آگاہ کیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

نازک صاحب کا بکرا ۔ قسط ۱

 نازک صحب ہمارے محلے میں رہتے تھے۔ نام تو ان کا اللہ جانے کیا تھا لیکن اپنی حرکتوں اور حلیے کی وجہ سے سارے محلے میں نازک صاحب کے نام سے مشہور تھے۔

دبلے پتلے دھان پان آدمی تھے۔ پھونک مارو تو اڑ جائیں۔ ذرا سی بات پر بگڑ جاتے تھے۔ جب وہ کوٹ پتلون پہنے، باریک سنہری کمانی کا چشمہ لگائے، ایک ہاتھ میں چھڑی اور دوسرے میں بکرےے کی رسی تھامے محلے میں نکلتے تھے تو ان کی دلچسپ حرکتوں کی وجہ سے راہ چلتے لوگ بھی رک کر انہیں دیکھنے لگتے تھے۔ کبھی چھوٹے چھوٹے پتھروں پر پائوں رکھنے سے انہیں موچ آجاتی اور کبھی اپنے بکرے کی مریل سی "میں ایں" سن کر ڈر جاتے۔ ان کا بکرا بھی خوب تھا۔ موٹا تازہ کالے رنگ کا لیکن کان دونوں سفید۔ محلے میں نازک صاحب سےز یادہ ان کا بکرا مشہور تھا۔ نازک صاحب نے اسے بڑے پیار سے پالاتھا۔ کسی کی مجال نہیں تھی کہ ان کے بکرے کو ہاتھی بھی لگائے۔ وہ اکثر اپنے بکرے کی عظمت، ذہانت اور اس کے اعلیٰ خاندان کے قصے سنایا کرتے تھے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

بکرے میاں کی آب بیتی

 میں ایک صاف ستھرے گھر میں رہتا تھا۔ میرا مالک بہت خوش اخلاق انسان تھا۔ وہ مجھ سے بہت پیار کرتا تھا ۔ہر وقت میرا خیال رکھتا تھا۔ ابھی میں چھوٹا ساہی تھا جب میرے مالک نے میری دیکھ بھال شروع کی، وہ میری ہر ضرورت کا خیال رکھتا تھا، مجھے وقت پر کھانا دیتا اور کبھی بلاوجہ مجھے نہیں ڈانتا تھا۔

میرے مالک کے دو چھوٹے بچے بھی تھے وہ بھی مجھ سے بے حد پیار کرتے تھے، پیار سے میری پیٹھ سہلاتے تو میں خوشی سے نہال ہوجاتا تھا۔ میں صبح سویرے خود ہی سیر کو نکل جاتا تھا۔ اور کچھ ہی دور رہنے والے اپنے دوستوں سے مل لیتا تھا۔ انہیں اپنے مالک کی باتیں سناتا تھا، اور پھر مقررہ وقت پر واپس آکر کھانا کھاتا تھا۔ اور دن بھر اپنے مالک کے گھر اور کبھی گھر سے باہر گھومتا رہتا تھا۔ ہرے بھرے پتے اور نرم گھاس کھا کر میں کافی صحت مند ہوگیا تھا۔ میرے مالک کے دونوں بچوں کا مجھ سے پیار بہت عجیب تھا۔ وہ اپنی زبان میں نہ جانے مجھے کیا کچھ سناتے رہتے اور میں چپ چاپ بس انہیں دیکھتا رہتا۔ وہ کبھی کبھی گھنٹوں میرے پاس بیٹھے رہتے تھے۔ اور اپنے ننھے منے ہاتھوں سے کبھی میری گردن کو پکڑنے کی ناکام کوشش کرتے اور سبھی میرے لمبے لمبے کانوں کو ہاتھ لگا کر خوش ہوتے تھے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

چڑیا بی کے بچے

گھنے جنگل کے پار افق پر سورج پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا اور سورج کی شعاعیں درختوں کی اوٹ سے جھانکتے ہوئے جنگل کی ناہموار زمین پر بمشکل پہنچ رہی تھیں۔ گویا جنگل کی زندگی میں ہر سو اجالا پھیل چکا تھا اور اس کے ساتھ ہی تمام چرند پرند بھی اپنی اپنی نگاہوں میں میٹھی اور معصوم سی انگڑائی لے کر بیدار ہوچکے تھے، وہ سب اپنی سریلی اور خوب صورت آواز میں خدائے واحد کی حمد و ثناءمیں مصروف تھے۔

درختوں پر بسیرا کیے پرندے بھی اپنے اپنے بچوں کو بیدار کرکے گزشتہ رات کے جمع کیے دانوں سے ان کو ناشتہ کرارہے تھے، ننھے ننھے پرندوں کے بابا جان آج کے دن کے لیے راشن تلاش کرنے نکل پڑے تھے۔ جب کہ ماما جان اپنے اپنے گھونسلوں کی صفائی ستھرائی کررہی تھیں، انہی درختوں میں سے ایک درخت پر چڑیا بی اپنے دو ننھے ننھے بچوں کے ساتھ رہ رہی تھیں، بچوں کے ابا یعنی چڑے میاں اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ دانہ کی تلاش میں نکل پڑے تھے، معمول کے مطابق چڑیا بی نے اپنے بچوں کو نہلایا دھلایا اور دیگر کام کاج سے فارغ ہو کر اب وہ پڑوس کے درخت پر بی فاختہ کے بچوں کی طبیعت دریافت کرنے گئی ہوئی تھیں۔ بی فاختہ کے بچے کئی روز سے سرد موسم کے باعث بیمار ہوگئے تھے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ملا جی کے کارنامے

 ملا نصر الدین کے پڑوس میں ایک مال دار یہودی رہتا تھا جو اتنا کنجوس تھا کہ کبھی کسی غریب اور محتاج کو ایک پیسہ نہ دیتا تھا۔ ملا نے کئی مرتبہ اسے سمجھایا کہ خدا نے تمہیں دولت عطا کی ہے ، اسے غریب اور مفلس لوگوں پر خرچ کیا کرو، لیکن اس نے ملا کی کوئی نصیحت نہ سنی۔ آخر ملا نصر الدین نے اسے سزا دینے کے لیے ایک ترکیب سوچی۔

ایک روز صبح سویرے وہ نماز پڑھ کر زور زور سے دعا مانگنے لگا۔

یا اللہ، اگر تو مجھے ایک ہزار اشرفیوں کی تھیلی بھیج دے تو میں اسے محتاجوں پر صرف کر دوں۔ لیکن اگر اس میں سے ایک اشرفی بھی کم ہوئی تو ہرگز قبول نہ کروں گا۔

یہودی نے یہ دعا سنی تو سوچا کہ ملا بڑا ایمان دار بنتا ہے ، اس کی ایمانداری آزمانی چاہیے۔ یہ سوچ کر اس نے تھیلی میں نو سو ننانوے اشرفیاں بھریں اور عین اس وقت جب کہ ملا نصر الدین دعا مانگ رہا تھا، اشرفیوں سے بھری ہوئی تھیلی اس کے صحن میں پھینک دی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اونٹ اور لومڑی

میرا ایک دوست اپنی پریشانی کی شکایت لے کر میرے پاس آیا اور کہنے لگا میری آمدنی کم ہے اور بال بچّے بہت ہیں۔ مجھ میں فاقہ کرنے کی طاقت نہیں ہے۔ کئی بار یہ سوچا کہ کسی دوسرے ملک میں چلا جاؤں تاکہ وہاں جس حال میں بھی گزر ہوگا کسی کو میرے بُرے بھلے کی خبر نہ ہوگی۔

بہت سے لوگ بھوکے سو جاتے ہیں اور کوئی نہیں جانتا یہ کون ہیں۔ بہتوں کی جان پر بن آئی مگر کوئی ان کے حال پر رونے والا نہ ہوا۔

پھر میں یہ سوچتا ہوں کہ دشمن میری ہنسی اڑائیں گے اور مجھے طعنہ دیں گے اور کہیں گے کہ اپنے بال بچّوں کو بے سروسامانی میں چھوڑ گیا۔ یہ بات کوئی نہ کہے گا کہ بال بچّوں ہی کے لیے محنت کرکے روپیہ کمانے گیا ہے۔ آپ جانتے ہیں میں علم حساب جانتا ہوں اگر آپ کے ذریعہ کوئی ملازمت مل جائے تو مجھے اطمینان حاصل ہو۔ میں زندگی بھر آپ کا احسان مانوں گا۔ میں نے اس سے کہا۔ اے میرے دوست بادشاہ کی ملازمت دوزخ ہوتی ہے۔ ایک طرف روٹی ملنے کی امید ہے تو دوسرے طرف جان کا خطرہ۔ عقل مندوں کی رائے ہے کہ کسی امید پر جان کو خطرے میں ڈالنا عقل مندی نہیں ہے۔ یا تو پریشان حالی پر راضی ہو جاؤ یا پھر جان کو خطرے میں ڈالو۔

مزید پڑھیے۔۔۔

آرام کی قدر مصیبت کے بعد ہوتی ہے

 ایک بار کوئی بادشاہ اپنے نئے جاہل غلام کے ساتھ کشتی میں بیٹھا۔ اس غلام نے کبھی دریا نہیں دیکھا تھا اور نہ اس کو کشتی پر سوار ہونے کا تجربہ تھا۔ اس نے رونا پیٹنا شروع کر دیا اور خوف سے اس کا بدن کانپنے لگا۔

اسے نرمی کے ساتھ سمجھایا گیا اور ہر طرح اطمینان دلایا گیا لیکن وہ خاموش نہیں ہوا۔ اس کے رونے کی وجہ سے بادشاہ کی طبیعت مکدّر ہوگئی اور سیروتفریح کا لطف ختم ہو گیا۔ کسی کی سمجھ میں نہ آیا کہ اسے کس طرح خاموش کریں۔

 اس کشتی میں ایک عقل مند آدمی بیٹھا تھا اس نے بادشاہ سے کہا۔ اگر آپ حکم دیں تو میں ایک ترکیب سے اس کو چپ کرادوں۔

 بادشاہ نے جواب دیا۔ آپ کی بہت مہربانی اور احسان ہوگا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ننھے بندر اور زرافہ

Nanhy Bandr aur Zirafah

ایک جنگل میں بندروں کی ایک ٹولی رہتی تھی ۔ اس ٹولی میں دو بچّے بھی تھے ، جو اتنے شرارتی تھے کہ ان کے ماں باپ بھی ان سے بہت زیادہ تنگ آگئے تھے۔

اسی جنگل میں ایک ننھا زرافہ بھی رہتا تھا۔ وہ بہت ہی سیدھا سادا اوربھولا بھالا تھا۔ ایک مرتبہ چرتے چرتے وہ جنگل کے اس حصے میں آگیا جہاں بندروں کی یہ ٹولی درختوں سے پتّے اور پھل فروٹ توڑ توڑ کر کھانے میں مگن تھی ۔دونوں چھوٹے شرارتی بندروں نے زرافہ کو دیکھا تو انھیں حیرت ہونے لگی ۔ کیوں کہ ان بندروں نے کبھی ایسا کوئی بھی جانور نہیں دیکھا تھا۔ 
بندر کے ایک بچّے نے کہا:’’ ارے! دیکھو تو کتنا عجیب و غریب جانور ہے ، آؤ اسے چھیڑتے اور ستاتے ہیں۔‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

تبدیلی

’’اوئے چھوٹے جلدی ہاتھ چلا، دیکھ نہیں رہا آج رش بہت زیادہ ہے اور بقیہ بھی کام ایسے مر مر کر کررہا ہے۔‘‘

نگران نے برتن دھونے والی جگہ کا معائنہ کیا تو وہاں ساجد دھیرے دھیرے برتن مانجھنے میں مصروف تھا۔ آج رش بھی زیادہ تھا اس لیے نگران کو اس کی سستی پر خوب غصہ چڑھا اور زبردست ڈانٹ پلادی۔
بارہ سالہ ساجد اس کی دھاڑ سن کر اندر تک کانپ اٹھا اور تیز تیز ہاتھ چلانےلگا۔ نگران جسے اس کام پر مامور کیا گیا تھا کہ وہ اس ہوٹل پر کام کرنے والے افراد کی نگرانی کرے کہ کوئی اپنے کام میں کوتاہی تو نہیں برت رہا ہے۔ ساجد نے برتن دھو کر سوکھا کپڑا بھی ماردیا تو نگران نے اسے میزیں اور کرسیوں کی صفائی کا حکم صادر فرمایا۔ ایک بج چکا تھا ہوٹل پر رش میں اضافہ ہوچکا تھا۔ اسے بھوک بھی ستارہی تھی۔ بارہ بجے سے ہی اس کے پیٹ میں چوہے دوڑنے شروع ہوچکے تھے جب کہ کھانا تین بجے ملنا تھا مجبوراً اپنے ناتواں جسم کو اٹھاتا ہوا میزیں اور کرسیوں کی صفائی میں لگ گیا۔ وہ ابھی چھوٹا سا تھا کہ جب اس کے والد کینسر کی وجہ سے اس دنیا سے رخصت ہوگئے تھے۔ علاج کے حوالے سے قرض بھی خاصا بڑھ چکا تھا۔ رشتہ داروں نے تو فوراً آنکھیں پھیر لیں۔ زاہدہ نے گھر کو سنبھالا دیا اور بچے کی پڑھائی کو جاری رہنے دیا۔ مگر اچانک لوگوں کی طرف سے قرض کی ادائیگی کے تقاضے نے ساجد کی ماں کو پریشان کردیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

حیرت ہے

Hairat hy

ارشد صاحب  لاٹھی پر دونوں ہاتھ ٹکائے اتنی دیر سے بولے جارہے تھے۔ اچانک سعیدہ خاتون کے منہ سے نکلا۔ ’’حیرت ہے!‘‘

’’یہ کیا بات ہوئی بھلا؟ میں اتنی دیر کیا کہے جارہے ہوں  اور تم نے جواب میں یہ کیا کہا۔ حیرت ہے۔ کس بات پر حیرت ہے۔‘‘ ارشد صاحب کہتے کہتے جھلا اٹھے۔ وہ کافی دیر سے دل کی بھڑاس نکال رہے تھے ۔ ہمیشہ کی طرح آج سعیدہ خاتون نے ان کی ہاں میں ہاں نہیں ملائی۔

******************

’’یہ گملہ کس نے توڑا ہے؟‘‘ ارشد  آفس سے آتے ہی گرجا۔گیارہ سالہ صائم دوڑا چلا آیا۔

’’باباوہ کل ذیشان آیا تھا ناں۔ اس نے پاؤں مار کر گملہ گرا دیا تھا۔ میں نے خود دیکھا تھا۔ ‘‘ صائم نے ڈرتے ڈرتے جواب دیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

پہلوان کا آخری داؤ

ایک پہلوان کشتی لڑنے کے فن میں بہت زیادہ ہوشیار تھا۔ وہ کشتی کے تین سو ساٹھ داؤں جانتا تھا۔ ہر روز ایک داؤں سے کشتی لڑتا تھا۔ وہ اپنے ایک شاگرد پر بہت مہربان تھا۔ اس کو تین سو انسٹھ داؤں سکھا دیے۔ صرف ایک داؤں نہیں سکھایا اور اس کے سکھانے میں ٹال مٹول کرتا رہا۔ اس کا شاگرد کشتی لڑنے میں بہت ماہر ہوگیا۔ ہر طرف اس کی شہرت پھیل گئی۔ کوئی پہلوان اس سے مقابلہ کرنے کے لیے اکھاڑے میں نہیں آتا تھا۔ اس ملک کے بادشاہ کے سامنے پہلوان کے شاگرد نے کہہ دیا کہ استاد مجھ سے بڑے ہیں اس لیے ان کی عزت کرتا ہوں، ورنہ طاقت اور داؤں پیچ میں مجھ سے زیادہ قابل نہیں ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

بستہ

Basta

بلّو اسکول سے نکلا، تو سخت گرمی تھی۔ سورج لگتا تھا جیسے عین سڑک کے اوپر اتر آیا ہے۔گرمی کی چھٹیاں ہونے میں ابھی کچھ دن باقی تھے… اوپر سے گھر جانے والی سڑک بھی سیدھی اور سپاٹ تھی۔ پورے راستے میں کوئی درخت نہ سایہ! بلو اسی طرف جانے والی لڑکوں کی ایک ٹولی کے ساتھ گھر جایا کرتا تھا۔ آج بھی انہی کے ساتھ تھا۔ کئی بار اس نے اپنی امی سے سائیکل کی فرمائش کی تھی۔ مگر سڑک پر ٹریفک کا جو برا حال تھا، اسے دیکھتے ہوئے تیسری جماعت کے بچے کو کون سائیکل پر اسکول جانے دیتا؟

ہر بار جواب ملتا کہ پانچویں جماعت میں پہنچو گے، تو سائیکل ملے گی۔ ویسے بلو کو سائیکل چلانی اچھی طرح آتی تھی۔ بازار میں اس کے سائز کی دو پہیوں والی سائیکلیں بھی موجود تھیں۔ مگر اس کی سنتا کون، ہر بار یہی جواب ملتا کہ پانچویں سے پہلے سائیکل نہیں ملے گی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

آنسو

 یار اورنگزیب ایک بات پوچھوں سچ سچ بتا گے۔ مشتاق نے اپنے بے تکلف دوست سے پوچھا۔

اورنگزیب نے حیرت سے مشتاق کو دیکھا اوربولا۔
اب مجھ سے اجازت لیا کرو گے بات پوچھنے کی بھی۔
یار وہ بات ہی ایسی ہے مجھے ڈر ہے کہیں تم ناراض نہ ہوجا۔ مشتاق نے جھجک کر کہا۔ اللہ کے بندے اب کہہ بھی ڈالو۔ اورنگزیب جھلا گیا۔
کل بھی میں نے تمہیں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اور پھر تم رو رو کر دعا بھی مانگ رہے تھے میں حیران ہوں کہ تم نے کب سے نماز شروع کردی اور پھر یہ رو رو کر نماز پڑھنا میری سمجھ میں نہیں آیا، دعا تو ہر نمازی مانگتا ہے مگر میں نے کسی کو روتے ہوئے دعا مانگتے نہیں دیکھا۔ مشتاق کہتا چلا گیا۔
اورنگزیب کے لبوں پر مسکراہٹ دوڑ گئی اس نے پیار بھری نظروں سے مشتاق کی طرف دیکھا اور پھر کہنے لگا۔ میں نے چند دن قبل سے باقاعدہ نماز پڑھنی شروع کردی تھی، ایک دن اتفاق سے میرے سر میں درد تھا اور میں لیٹا ہوا تھا بس سوچتے سوچتے میں اپنی سابقہ زندگی کا سدباب کر بیٹھا تب مجھ پر انکشاف ہوا کہ میں نے تو آخرت کے لیے کچھ بھی نہیں کمایا سوائے گناہوں کے، مجھے یہ احساس ہوا کہ ہر آدمی صبح اٹھ کر کسی نہ کسی صورت میں روزگار کے لیے نکلتا ہے اسی طرح ہم بھی دنیا میں ایک خاص مقصد کے لیے آئے ہیں، بس یہ وہی لمحہ تھا کہ میں نے فیصلہ کیا کہ اب اپنی زندگی کو اسلام کے مطابق گزاروں گا۔ اورنگزیب چپ ہوگیا مشتاق بہت متاثر نظر آرہا تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

بادشاہ اور فقیر

بادشاہ اور فقیر

بادشاہ عیش و آرام میں مست ہو کر کہہ رہا تھا:

میرے لیے دنیا میں اس وقت سے اچھا اور کوئی وقت نہیں ہے۔ نہ تو اس وقت اچھے بُرے کی فکر ہے نہ کسی کا غم!

محل کے نیچے ایک فقیر سردی میں لیٹا ہوا تھا۔ اس نے بادشاہ کی باتیں سن لیں اور پکار کر کہا!

اے بادشاہ! تیری شان وشوکت کا مقابلہ دنیا میں کوئی نہیں کرسکتا ہے۔ میں نے مانا کہ تجھ کو کوئی غم نہیں ہے۔ مگر کیا ہمارا غم بھی نہیں ہے (یعنی ہم جیسے ننگے بھوکوں کی بھی فکر نہیں ہے)!

بادشاہ نے فقیر کی باتیں سن لیں۔ اس کے دل پر اثر ہوا۔ ایک ہزار اشرفیوں کی تھیلی نکالی اور کھڑکی سے باہر لٹکا کر کہا۔ اے درویش اپنا دامن پھیلا۔ فقیر نے جواب دیا میرے بدن پر کپڑے ہی نہیں ہیں، دامن کہاں سے لاؤں بادشاہ کو اس کی غریبی پر بہت رحم آیا۔ ایک قیمتی لباس اور اشرفیوں کی تھیلی

مزید پڑھیے۔۔۔

اپنا کام خود کرو

  کسی باغ میں ایک کبوتر نے اپنا آشیانہ بنایا ہوا تھا۔ جس میں وہ دن بھر اپنے بچوں کو دانہ چگاتا۔ بچوں کے بال و پر نکل رہے تھے۔ ایک دن کبوتر دانہ چونچ میں دبائے باہر سے آیا تو سارے بچوں نے انہیں تشویش سے بتایا کہ اب ہمارے آشیانے کی بربادی کا وقت آ گیا ہے۔ آج باغ کا مالک اپنے بیٹے سے کہہ رہا تھا۔

"پھل توڑنے کا زمانہ آ گیا ہے۔ کل میں اپنے دوستوں کو ساتھ لاؤں گا اور ان سے پھل توڑنے کا کام لوں گا۔ خود میں اپنے بازو کی خرابی کی وجہ سے یہ کام نہ کر سکوں گا۔"
کبوتر نے اپنے بچوں کو تسلی دیتے ہوئے کہا۔ " باغ کا مالک کل اپنے دوستوں کے ساتھ نہیں آئے گا۔ فکر کرنے کی کوئی بات نہیں۔"
اور حقیقتاً ایسا ہی ہوا۔ باغ کا مالک دوسرے روز اپنے دوستوں کے ہمراہ پھل توڑنے نہ آیا۔ کئی روز بعد باغ کا مالک اپنے بیٹے کے ساتھ باغ میں آیا اور کہنے لگا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

محنت کی کمائی

محنت کی کمائی

کہتے ہیں کہ ایک دفعہ کہیں ایک خوشحال شخص رہتا تھا۔ اس کا اکلوتا بیٹا تھا۔ وہ ماں کے ناز و نعم میں پلا بڑھا  یہاں تک کہ جوان ہو گیا۔ نہ کوئی ہنر ، نہ ہی کسی کام کا تجربہ۔ اسے ایک ہی کام آتا تھا اور وہ تھا باپ سے چھپا کر ماں کے دیئے ہوئے پیسوں سے کھیل کود اور مستیاں کرنا اور سڑکوں چوراہوں پر وقت گزارنا۔

اور ایک دن صبح کے وقت باپ نے اسے آواز دیکر اپنے پاس بلایا اور کہا: بیٹے اب تم بڑے ہو گئے ہو اور خیر سے جوان بھی ہو۔ آج سے اپنی ذات پر...........

مزید پڑھیے۔۔۔

جینوچوہابال بال بچا

  ایک چوہا تھا۔اُس کا نام جینو تھا۔ وہ بہت ہی لالچی ، کاہل اور سُست تھا۔ کاہل چوہا بہت زیادہ پیٹّو بھی تھا۔ اس کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا تھا۔

ایک دن کی بات ہے جینو کی ماں نے کہا کہ :’’بیٹا! تم بہت زیادہ کھاتے ہو ، لیکن کام کاج سے جی چراتے ہو ، تم اپنے حصے کے علاوہ میرے اور تمہارے پاپا کا کھانا بھی چٹ کر جاتے ہو، یہ اچھی بات نہیں ہے آج سے تم اپنا کھانا خود تلاش کروگے ۔ ہاں! ایک بات یاد رکھنا لالچ مت کرنا، زیادہ کھانے کے چکر میں کبھی کسی مصیبت میں مت پڑ جانا، اپنا دھیان رکھنا ۔‘‘
جینو بہت اُداس ہوگیا ۔ مگر اسے جانا ہی پڑا ۔ وہ کھانے کی تلاش میں نکل گیا ، ابھی وہ کچھ ہی دور گیاتھا کہ اُسے راستے میں ایک گیہوں کا دانا مِلا۔ وہ خوش ہو گیا۔ اس نے گیہوں کا دانا اٹھا لیا ۔ تب ہی اس کی نظر خرگوش پر پڑی ، خرگوش اسے دیکھ کر ہنس رہا تھا۔
’’تم مجھے دیکھ کر کیوں ہنس رہے ہو؟‘‘ جینو نے خرگوش سے پوچھا۔

’’مَیں تو تمہاری بے وقوفی پر ہنس رہا ہوں ، ارے! ایک کسان کی بیل گاڑی یہاں سے گذری ہے ۔ تھوڑا اور آگے جاؤ تمہیں گیہوں کی بالی مل جائے گی۔
‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

غلام ہندوستان سے آزاد پاکستان تک حصہ دوم

غلام ہندوستان سے آزاد پاکستان تک

(جناب مصطفیٰ صادق صاحب  کا وہ تاریخی مضمون جس پر انہیں تحریک پاکستان کے ایک مجاہد کی حیثیت سے گولڈمیڈل کا حقدار ٹھہرایا گیا)

(آخری حصہ)

آج جب میں یہ سطور سپرد قلم کر رہا ہوں، ان اذیت ناک لمحوں کو بیتے کم و بیش 45 سال گزر چکے ہیں اور اسی مرقی پنجاب میں جہاں ہم پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے آئے دن قتل و غارت گری اور دہشت و بربریت کی ایسی لرزہ خیز وار داتیں رونما ہو رہی ہیں جن کا علم ہونے پر ہر شریف انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

نازک صاحب کا بکرا ۔ قسط 2

 کئی لوگوں نے اپنے بکرے گھر میں چھپا لیے۔ بڑی مشکل سے اسے قابو میں کرکے ایک کوٹھڑی میں بند کیا۔ اب محلے بھر میں اس کی دھاک بیٹھ چکی۔ لوگ اسے غنڈا بکرا کہنے لگے تھے۔ نازک صاحب نے جب اس بکرے کی شہرت سنی تو انہوں نے اپنے بکرے کو باہر نکالنا بند کردیا اور کہنے لگے "اپنے نامعقول بکرے کو باندھ کر رکھنا۔ اگر وہ دوسرے بکروں کے ساتھ گھلا ملا تو اس کی بری صحت میں پڑ کر سارے بکرے خراب ہوجائیں گے۔ بالکل اسی کی طرح سب بکرے شیطان ہوجائیں گے۔ اسی لیے میں نے اپنے بکرے کو باہر نکالنا بند کردیا ہے۔ ہاں میاں! تمہارا کیا ہے۔ تمہارا بکرا تو دو تین دن میں کٹ جائے گا لیکن میں نے اپنا بکرا بڑی محنت سے پالا ہے۔ اس کی تربیت کی ہے یہ کوئی کٹنے والا بکرا نیہں ہے۔ اس کا دادا جو تھا۔۔۔۔۔۔۔"۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

غلام ہندوستان سے آزاد پاکستان تک حصہ اول

غلام ہندوستان سے آزاد پاکستان تک

(جناب مصطفی صادق کا وہ تاریخی مضمون جس پر انہیں تحریک پاکستان کے ایک مجاہد کی حیثیت سے گولڈ میڈل کا حقدار ٹھہرایا گیا)

(حصہ  اول)

پاؤں سے خون رس رہا تھا، سر میں باریک باریک پھنسیاں، ذرا سا کھجلاؤں تو انگلیاں خون سے بھر جاتیں، کپڑے میلے کچیلے بلکہ گدلے، اس لئے کہ کم و بیش چھ ہفتے اس عالم میں گزر گئے

مزید پڑھیے۔۔۔