Web Kahanian
     markazi safha ttlion key des men   fati or billu ki kahanian men zindagi new   Kahanian hi Kahanian Tehreer Bhejen

Kahanian2

 زندگی کے کسی نہ کسی  موڑ پر  اچانک کچھ سنہری الفاظ نکل کر آپ کے سامنے آجاتے ہیں آپ کے رہنما بن جاتے ہیں۔  کچھ ایسے ہی الفاظ لیے یہ انمول کہانیاں  اس Category   میں پیشِ خدمت ہیں۔ 


وہ ایک شعر

 arrownew e0ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی استاد کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کیلئے چھٹی پرجانا پڑا توایک نئے استاد کواس کے بدلے ذمہ داری سونپ دی گئی۔نئے استاد نے سبق کی تشریح کر چکنے کے بعد، ایک طالب علم سے سوال پوچھا تواس طالب علم کے ارد گرد بیٹھے دوسرے سارے طلباء ہنس پڑے۔ استاد کو اس بلا سبب ہنسی پر بہت حیرت ہوئی، مگراس نے ایک بات ضرورمحسوس کر لی کہ کوئی نہ کوئی وجہ ضرور ہوگی۔طلباء کی نظروں، حرکات اور رویئے کا پیچھا کرتے آخرکار استاد نے یہ نکتہ پا لیا کہ یہ والا طالب ان کی نظروں میں نکما،  احمق، پاگل اورغبی ہے، ہنسی انہیں اس بات پرآئی تھی کہ استاد نے سوال بھی پوچھا تو کسی پاگل سے ہی پوچھا۔جیسے ہی چھٹی ہوئی، سارے طلباء باہر جانے لگے تو استاد نے کسی طرح موقع پا کراس طالب کو علیحدگی میں روک لیا۔ 

مزید پڑھیے۔۔۔

صرف آٹھ مسئلے

ایک روز شیخ شفیق بلخی رحمہ اللہ نے اپنے شاگرد حاتم رحمہ اللہ سے پوچھا۔

’’حاتم ! تم کتنے دنوں سے میرے ساتھ ہو؟‘‘

انہوں نے کہا۔’’بتیس برس سے۔ ‘‘

شیخ نے پوچھا۔ "بتاؤ اتنے طویل عرصے میں تم نے مجھ سے کیا سیکھا؟"

حاتم نے کہا ۔"صرف آٹھ مسئلے!"

شیخ نے کہا۔ "انا للہ وانا الیہ راجعون میرے اوقات تیرے اوپر ضائع چلے گئے تُو نے صرف آٹھ مسئلےسیکھے؟"

حاتم نے کہا ۔"استادِ محترم ! زیادہ نہیں سیکھ سکا اور جھوٹ بھی نہیں بول سکتا۔"

مزید پڑھیے۔۔۔

ملا جی کے کارنامے

 ملا نصر الدین کے پڑوس میں ایک مال دار یہودی رہتا تھا جو اتنا کنجوس تھا کہ کبھی کسی غریب اور محتاج کو ایک پیسہ نہ دیتا تھا۔ ملا نے کئی مرتبہ اسے سمجھایا کہ خدا نے تمہیں دولت عطا کی ہے ، اسے غریب اور مفلس لوگوں پر خرچ کیا کرو، لیکن اس نے ملا کی کوئی نصیحت نہ سنی۔ آخر ملا نصر الدین نے اسے سزا دینے کے لیے ایک ترکیب سوچی۔

ایک روز صبح سویرے وہ نماز پڑھ کر زور زور سے دعا مانگنے لگا۔

یا اللہ، اگر تو مجھے ایک ہزار اشرفیوں کی تھیلی بھیج دے تو میں اسے محتاجوں پر صرف کر دوں۔ لیکن اگر اس میں سے ایک اشرفی بھی کم ہوئی تو ہرگز قبول نہ کروں گا۔

یہودی نے یہ دعا سنی تو سوچا کہ ملا بڑا ایمان دار بنتا ہے ، اس کی ایمانداری آزمانی چاہیے۔ یہ سوچ کر اس نے تھیلی میں نو سو ننانوے اشرفیاں بھریں اور عین اس وقت جب کہ ملا نصر الدین دعا مانگ رہا تھا، اشرفیوں سے بھری ہوئی تھیلی اس کے صحن میں پھینک دی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

شیر اور لومڑی

حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ ایک درویش ایک جنگل میں سفر کررہا تھا اس نے ایک لنگڑی لومڑی کودیکھا جوبے بسی کی چلتی پھرتی تصور تھی۔ اس درویش کے دل میں خیال آیا کہ اس لومڑی کے رزق کاانتظام کیسے ہوتا ہوگا جبکہ یہ شکار کرنے کے بھی قابل نہیں ہے؟
درویش ابھی یہ بات سوچ رہاتھاکہ اس نے ایک شیر کودیکھا جومنہ میں گیڈر دبائے اس لومڑی کے نزدیک آیا۔ اس نے گیڈر کے گوشت کاکچھ حصہ کھایا اور باقی وہیں چھوڑ کرچلا گیا۔ لومڑی نے اس باقی کے گوشت میں سے کھایا اور اپنا پیٹ بھرا۔
درویش نے جب سارا ماجرادیکھا توا سے اتفاق قرار دیا اور یہ دیکھنے کے لئے کہ یہ لومڑی دوبارہ اپنا پیٹ کیسے بھرے گی وہیں قیام کیا۔ اگلے روز بھی وہی شیر منہ میں گیڈر دبائے اس جگہ آیا اور اس نے کچھ گوشت کھانے کے بعد باقی ویسے ہی چھوڑ دیا۔ لومڑی نے وہ باقی گوشت کھالیا اور اپنا پیٹ بھر لیا۔ درویش سمجھ گیا کہ اس کے رزق پہنچانے کاانتظام اللہ کی طرف سے ہے۔ اس نے دل میں فیصلہ کرلیا کہ میں بھی اب اپنے رزق کے لئے کوئی جستجو نہیں کروں گا اور میرا رزق اللہ عزوکل مجھے خود پہنچادے گا جس طرح لنگڑی لومڑی کو شیرے کے ذریعے رزق پہنچارہا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

آرام کی قدر مصیبت کے بعد ہوتی ہے

 ایک بار کوئی بادشاہ اپنے نئے جاہل غلام کے ساتھ کشتی میں بیٹھا۔ اس غلام نے کبھی دریا نہیں دیکھا تھا اور نہ اس کو کشتی پر سوار ہونے کا تجربہ تھا۔ اس نے رونا پیٹنا شروع کر دیا اور خوف سے اس کا بدن کانپنے لگا۔

اسے نرمی کے ساتھ سمجھایا گیا اور ہر طرح اطمینان دلایا گیا لیکن وہ خاموش نہیں ہوا۔ اس کے رونے کی وجہ سے بادشاہ کی طبیعت مکدّر ہوگئی اور سیروتفریح کا لطف ختم ہو گیا۔ کسی کی سمجھ میں نہ آیا کہ اسے کس طرح خاموش کریں۔

 اس کشتی میں ایک عقل مند آدمی بیٹھا تھا اس نے بادشاہ سے کہا۔ اگر آپ حکم دیں تو میں ایک ترکیب سے اس کو چپ کرادوں۔

 بادشاہ نے جواب دیا۔ آپ کی بہت مہربانی اور احسان ہوگا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

بادشاہ اور درویش

ایک بار کا واقعہ ہے کہ ایک بادشاہ کے دِل میں یہ خیال آیا کہ کتنا اچھا ہو اگر مجھے یہ معلوم ہو جایا کرے کہ :

۱۔ صحیح کام کرنے کا صحیح وقت کیا ہے ؟

۲۔ وہ کون لوگ ہیں جن کی مجھے سخت ضرورت ہے ؟

۳۔ اور وہ کون سے معاملات ہیں جن پر فوری توجہ دینی چاہیے ؟

دل میں خیال آتے ہی بادشاہ نے اپنی پوری سلطنت میں اعلان کرا دیا کہ جو شخص بادشاہ کے ان تین سوالوں کے مطمئن کر دینے والے جواب دے گا، اس کو انعام و اکرام سے مالا مال کر دیا جائے گا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

تبدیلی

’’اوئے چھوٹے جلدی ہاتھ چلا، دیکھ نہیں رہا آج رش بہت زیادہ ہے اور بقیہ بھی کام ایسے مر مر کر کررہا ہے۔‘‘

نگران نے برتن دھونے والی جگہ کا معائنہ کیا تو وہاں ساجد دھیرے دھیرے برتن مانجھنے میں مصروف تھا۔ آج رش بھی زیادہ تھا اس لیے نگران کو اس کی سستی پر خوب غصہ چڑھا اور زبردست ڈانٹ پلادی۔
بارہ سالہ ساجد اس کی دھاڑ سن کر اندر تک کانپ اٹھا اور تیز تیز ہاتھ چلانےلگا۔ نگران جسے اس کام پر مامور کیا گیا تھا کہ وہ اس ہوٹل پر کام کرنے والے افراد کی نگرانی کرے کہ کوئی اپنے کام میں کوتاہی تو نہیں برت رہا ہے۔ ساجد نے برتن دھو کر سوکھا کپڑا بھی ماردیا تو نگران نے اسے میزیں اور کرسیوں کی صفائی کا حکم صادر فرمایا۔ ایک بج چکا تھا ہوٹل پر رش میں اضافہ ہوچکا تھا۔ اسے بھوک بھی ستارہی تھی۔ بارہ بجے سے ہی اس کے پیٹ میں چوہے دوڑنے شروع ہوچکے تھے جب کہ کھانا تین بجے ملنا تھا مجبوراً اپنے ناتواں جسم کو اٹھاتا ہوا میزیں اور کرسیوں کی صفائی میں لگ گیا۔ وہ ابھی چھوٹا سا تھا کہ جب اس کے والد کینسر کی وجہ سے اس دنیا سے رخصت ہوگئے تھے۔ علاج کے حوالے سے قرض بھی خاصا بڑھ چکا تھا۔ رشتہ داروں نے تو فوراً آنکھیں پھیر لیں۔ زاہدہ نے گھر کو سنبھالا دیا اور بچے کی پڑھائی کو جاری رہنے دیا۔ مگر اچانک لوگوں کی طرف سے قرض کی ادائیگی کے تقاضے نے ساجد کی ماں کو پریشان کردیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

سہیل صدیقی {یوراج سنگھ}گجرات سے ایک چشم کشا ملاقات

احمد اواہ    :  السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہٗ

محمد سہیل   :  و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہٗ

سوال  :   سہیل بھائی آپ کے  علم میں ہے  کہ ہمارے  یہاں سے  ایک دعوتی میگزین ارمغان کے  نام سے  نکلتی ہے  اس میں اسلام قبول کرنے  والے  خوش قسمت بھائی اور بہنوں کی آپ بیتی انٹر ویو کے  ذریعہ شائع کی جاتی ہے، ابی کا حکم ہے  کہ میں آپ سے  اس کے  لئے  ایک انٹرویو لوں، اس لئے  آپ کو اندر بلایا ہے۔

جواب  :  بھائی احمد ضرور، میری خود بڑی خواہش ہے  کہ مجھ گندے  پر اللہ کے  کرم کی کہانی لوگ پڑھیں، تاکہ لوگوں کو فائدہ ہو۔

سوال  :   آپ اپنا خاندانی پریچے  (تعارف) کرائیں ؟

مزید پڑھیے۔۔۔

پہلوان کا آخری داؤ

ایک پہلوان کشتی لڑنے کے فن میں بہت زیادہ ہوشیار تھا۔ وہ کشتی کے تین سو ساٹھ داؤں جانتا تھا۔ ہر روز ایک داؤں سے کشتی لڑتا تھا۔ وہ اپنے ایک شاگرد پر بہت مہربان تھا۔ اس کو تین سو انسٹھ داؤں سکھا دیے۔ صرف ایک داؤں نہیں سکھایا اور اس کے سکھانے میں ٹال مٹول کرتا رہا۔ اس کا شاگرد کشتی لڑنے میں بہت ماہر ہوگیا۔ ہر طرف اس کی شہرت پھیل گئی۔ کوئی پہلوان اس سے مقابلہ کرنے کے لیے اکھاڑے میں نہیں آتا تھا۔ اس ملک کے بادشاہ کے سامنے پہلوان کے شاگرد نے کہہ دیا کہ استاد مجھ سے بڑے ہیں اس لیے ان کی عزت کرتا ہوں، ورنہ طاقت اور داؤں پیچ میں مجھ سے زیادہ قابل نہیں ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

چڑیا کی نصیحتیں

 ایک شخص نے چڑیا پکڑنے کےلئے جال بچھایا۔ اتفاق سےایک چڑیا اس میں پھنس گئی اور شکاری نے اسے پکڑ لیا۔

چڑیا نے اس سے کہا۔ ” اے انسان ! تم نے کئی ہرن ‘ بکرے اور مرغ وغیرہ کھائے ہیں۔ ان چیزوں کے مقابلے میں میری کیا حقیقت ہے۔ ذرا سا گوشت میرے جسم میں ہے اس سے تمہارا کیا بنے گا۔؟ تمہارا تو پیٹ بھی نہیں بھرے گا۔ لیکن اگر تم مجھے آزاد کردو تو میں تمہیں تین نصیحتیں کروں گی جن پر عمل کرنا تمہارے لئے بہت مفید ہوگا۔ان میں سے ایک نصیحت تو میں ابھی کروں گی۔ جبکہ دوسری اس وقت جب تم مجھے چھوڑ دو گے اور میں دیوار پر جا بیٹھوں گی۔ اس کے بعد تیسری اور آخری نصیحت اس وقت کروں گی جب دیوار سے اڑکرسامنے درخت کی شاخ پر جا بیٹھوں گی۔‘‘
اس شخص کے دل میں تجسس پیدا ہوا کہ نہ جانے چڑیا کیا فائدہ مند نصیحتیں کرے ۔ اس نے چڑیا کی بات مانتے ہوئے اس سے کہا۔ ” تم مجھے پہلی نصیحت کرو  پھر میں تمہیں چھوڑ دونگا۔‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

آنسو

 یار اورنگزیب ایک بات پوچھوں سچ سچ بتا گے۔ مشتاق نے اپنے بے تکلف دوست سے پوچھا۔

اورنگزیب نے حیرت سے مشتاق کو دیکھا اوربولا۔
اب مجھ سے اجازت لیا کرو گے بات پوچھنے کی بھی۔
یار وہ بات ہی ایسی ہے مجھے ڈر ہے کہیں تم ناراض نہ ہوجا۔ مشتاق نے جھجک کر کہا۔ اللہ کے بندے اب کہہ بھی ڈالو۔ اورنگزیب جھلا گیا۔
کل بھی میں نے تمہیں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اور پھر تم رو رو کر دعا بھی مانگ رہے تھے میں حیران ہوں کہ تم نے کب سے نماز شروع کردی اور پھر یہ رو رو کر نماز پڑھنا میری سمجھ میں نہیں آیا، دعا تو ہر نمازی مانگتا ہے مگر میں نے کسی کو روتے ہوئے دعا مانگتے نہیں دیکھا۔ مشتاق کہتا چلا گیا۔
اورنگزیب کے لبوں پر مسکراہٹ دوڑ گئی اس نے پیار بھری نظروں سے مشتاق کی طرف دیکھا اور پھر کہنے لگا۔ میں نے چند دن قبل سے باقاعدہ نماز پڑھنی شروع کردی تھی، ایک دن اتفاق سے میرے سر میں درد تھا اور میں لیٹا ہوا تھا بس سوچتے سوچتے میں اپنی سابقہ زندگی کا سدباب کر بیٹھا تب مجھ پر انکشاف ہوا کہ میں نے تو آخرت کے لیے کچھ بھی نہیں کمایا سوائے گناہوں کے، مجھے یہ احساس ہوا کہ ہر آدمی صبح اٹھ کر کسی نہ کسی صورت میں روزگار کے لیے نکلتا ہے اسی طرح ہم بھی دنیا میں ایک خاص مقصد کے لیے آئے ہیں، بس یہ وہی لمحہ تھا کہ میں نے فیصلہ کیا کہ اب اپنی زندگی کو اسلام کے مطابق گزاروں گا۔ اورنگزیب چپ ہوگیا مشتاق بہت متاثر نظر آرہا تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

الٹی ہو گئی سب تدبیریں

آپ سب کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ ابا جان ہمیں سیر کے لیے کسی اچھے سے تفریحی مقام پر لے جانے کے لیے راضی ہوگئے ہیں اس لیے فوری طور پر تیاری کرلی جائے۔ ہانیہ نے اپنا چھوٹا سا دوپٹا ہوا میں لہرایا۔ خوشی اس کے چہرے سے عیاں تھی۔

کیا تم نے ابا جان کے منہ سے خود سنا ہے یا سنی سنائی بات پھیلانے لگی ہو۔ وقاض نے پرتجسس لہجے میں پوچھا۔
نہیں یقین تو نہ کرو، اریشہ، عروج، ثمن سب نے ہی سنا ہے اور خوب سنا ہے کہ ابا جان کچھ دیر بعد ہم سب کو سیر کے لیے بہت اچھے سے تفریحی پارک لے جائیں گے اور واپسی پر مزیدار آئسکریم سے ہم سب کی تواضع ہوگی۔ ہانیہ نے مزید تفصیلات بتائیں۔
ہزار کا نوٹ تو آئسکریم پر ہی نکل جائے گا پھر پارک کے ٹکٹ، جھولوں کے کرائے اور سب سے بڑھ کر پیٹرول۔ بھائی جان نے ہمیشہ کی طرح پیسوں کا حساب کتاب کیا۔ یہ ان کی پرانی عادت تھی۔ ریڑھی والے سے فالسے بھی لے لیں تو حساب کتاب کرنے بیٹھ جاتے، غرض کہ وہ اب تک فلسفیانہ انداز میں گم تھے اور ہانیہ پورے گھر میں شور مچاتی پھر رہی تھی، کچھ ہی دیر بعد چکن کڑاہی، روغنی پراٹھے اور فروٹ کی مہک سے سارے گھر میں ایک سماں سا بندھ گیا تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اپنا کام خود کرو

  کسی باغ میں ایک کبوتر نے اپنا آشیانہ بنایا ہوا تھا۔ جس میں وہ دن بھر اپنے بچوں کو دانہ چگاتا۔ بچوں کے بال و پر نکل رہے تھے۔ ایک دن کبوتر دانہ چونچ میں دبائے باہر سے آیا تو سارے بچوں نے انہیں تشویش سے بتایا کہ اب ہمارے آشیانے کی بربادی کا وقت آ گیا ہے۔ آج باغ کا مالک اپنے بیٹے سے کہہ رہا تھا۔

"پھل توڑنے کا زمانہ آ گیا ہے۔ کل میں اپنے دوستوں کو ساتھ لاؤں گا اور ان سے پھل توڑنے کا کام لوں گا۔ خود میں اپنے بازو کی خرابی کی وجہ سے یہ کام نہ کر سکوں گا۔"
کبوتر نے اپنے بچوں کو تسلی دیتے ہوئے کہا۔ " باغ کا مالک کل اپنے دوستوں کے ساتھ نہیں آئے گا۔ فکر کرنے کی کوئی بات نہیں۔"
اور حقیقتاً ایسا ہی ہوا۔ باغ کا مالک دوسرے روز اپنے دوستوں کے ہمراہ پھل توڑنے نہ آیا۔ کئی روز بعد باغ کا مالک اپنے بیٹے کے ساتھ باغ میں آیا اور کہنے لگا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

دلشاد خان پوری پر کیا گزری

 اس رات غالباً دو بجے کا عمل ہو چلا تھا اور میں نیم نیند کے عالم میں کروٹیں بدل رہا تھا۔ اگر عوام کی فلاح و بہبود کا خیال نہ ہوتا تو میں یہ کبھی نہ بتاتا کہ کروٹیں بدلتے رہنے کی ایک سنگین وجہ بجلی کی عدم موجودگی تھی، جبکہ باہر موسلا دھار بارش ہورہی تھی۔ اچانک دروازے پر زوردار دستک ہوئی اور میں ہڑبڑا کر اُٹھ بیٹھا۔ مجھے سو فیصد شک تھا کہ کسی نے میرے ہی دروازے پر دستک دی ہے۔

اس موسلا دھار بارش میں کون آٹپکا؟ بہرحال جبکہ اندھیرے میں ہاتھ کو ہاتھ اور پیر کو پیر سجھائی نہ دیتا تھا، کسی طرح اپنے اندازوں اور مفروضوں کی جانچ پڑتال کرتے ہوئے دروازے تک گیا۔ دروازے میں بنائے گئے ایک ایمرجنسی سوراخ سے باہر دیکھنے کی کوشش کی اور آنے والے کا چہرہ دیکھ کر دم بخود رہ گیا، بلکہ یوں کہیے کہ دم نکلتے نکلتے رہ گیا۔ یہ عزت مآب محترم و مکرم، معزز مہمانِ گرامی جناب دلشاد خانپوری صاحب تھے۔ یہ خود اپنے آپ کو ملک کے چوٹی کے ادیبوں میں شمار کرواتے ہیں۔ کئی کتابیں لکھ چکے ہیں، مگر شائع کوئی بھی نہ ہوئی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

جینوچوہابال بال بچا

  ایک چوہا تھا۔اُس کا نام جینو تھا۔ وہ بہت ہی لالچی ، کاہل اور سُست تھا۔ کاہل چوہا بہت زیادہ پیٹّو بھی تھا۔ اس کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا تھا۔

ایک دن کی بات ہے جینو کی ماں نے کہا کہ :’’بیٹا! تم بہت زیادہ کھاتے ہو ، لیکن کام کاج سے جی چراتے ہو ، تم اپنے حصے کے علاوہ میرے اور تمہارے پاپا کا کھانا بھی چٹ کر جاتے ہو، یہ اچھی بات نہیں ہے آج سے تم اپنا کھانا خود تلاش کروگے ۔ ہاں! ایک بات یاد رکھنا لالچ مت کرنا، زیادہ کھانے کے چکر میں کبھی کسی مصیبت میں مت پڑ جانا، اپنا دھیان رکھنا ۔‘‘
جینو بہت اُداس ہوگیا ۔ مگر اسے جانا ہی پڑا ۔ وہ کھانے کی تلاش میں نکل گیا ، ابھی وہ کچھ ہی دور گیاتھا کہ اُسے راستے میں ایک گیہوں کا دانا مِلا۔ وہ خوش ہو گیا۔ اس نے گیہوں کا دانا اٹھا لیا ۔ تب ہی اس کی نظر خرگوش پر پڑی ، خرگوش اسے دیکھ کر ہنس رہا تھا۔
’’تم مجھے دیکھ کر کیوں ہنس رہے ہو؟‘‘ جینو نے خرگوش سے پوچھا۔

’’مَیں تو تمہاری بے وقوفی پر ہنس رہا ہوں ، ارے! ایک کسان کی بیل گاڑی یہاں سے گذری ہے ۔ تھوڑا اور آگے جاؤ تمہیں گیہوں کی بالی مل جائے گی۔
‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

رزق کا انتظام

 حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ ایک درویش ایک جنگل میں سفر کررہا تھا اس نے ایک لنگڑی لومڑی کودیکھا جوبے بسی کی چلتی پھرتی تصور تھی۔ اس درویش کے دل میں خیال آیا کہ اس لومڑی کے رزق کاانتظام کیسے ہوتا ہوگا جبکہ یہ شکار کرنے کے بھی قابل نہیں ہے؟

درویش ابھی یہ بات سوچ رہاتھاکہ اس نے ایک شیر کودیکھا جومنہ میں گیڈر دبائے اس لومڑی کے نزدیک آیا۔ اس نے گیڈر کے گوشت کاکچھ حصہ کھایا اور باقی وہیں چھوڑ کرچلا گیا۔ لومڑی نے اس باقی کے گوشت میں سے کھایا اور اپنا پیٹ بھرا۔ 
درویش نے جب سارا ماجرادیکھا توا سے اتفاق قرار دیا اور یہ دیکھنے کے لئے کہ یہ لومڑی دوبارہ اپنا پیٹ کیسے بھرے گی وہیں قیام کیا۔ اگلے روز بھی وہی شیر منہ میں گیڈر دبائے اس جگہ آیا اور اس نے کچھ گوشت کھانے کے بعد باقی ویسے ہی چھوڑ دیا۔ لومڑی نے وہ باقی گوشت کھالیا اور اپنا پیٹ بھر لیا۔ درویش سمجھ گیا کہ اس کے رزق پہنچانے کاانتظام اللہ کی طرف سے ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

نازک صاحب کا بکرا ۔ قسط 2

 کئی لوگوں نے اپنے بکرے گھر میں چھپا لیے۔ بڑی مشکل سے اسے قابو میں کرکے ایک کوٹھڑی میں بند کیا۔ اب محلے بھر میں اس کی دھاک بیٹھ چکی۔ لوگ اسے غنڈا بکرا کہنے لگے تھے۔ نازک صاحب نے جب اس بکرے کی شہرت سنی تو انہوں نے اپنے بکرے کو باہر نکالنا بند کردیا اور کہنے لگے "اپنے نامعقول بکرے کو باندھ کر رکھنا۔ اگر وہ دوسرے بکروں کے ساتھ گھلا ملا تو اس کی بری صحت میں پڑ کر سارے بکرے خراب ہوجائیں گے۔ بالکل اسی کی طرح سب بکرے شیطان ہوجائیں گے۔ اسی لیے میں نے اپنے بکرے کو باہر نکالنا بند کردیا ہے۔ ہاں میاں! تمہارا کیا ہے۔ تمہارا بکرا تو دو تین دن میں کٹ جائے گا لیکن میں نے اپنا بکرا بڑی محنت سے پالا ہے۔ اس کی تربیت کی ہے یہ کوئی کٹنے والا بکرا نیہں ہے۔ اس کا دادا جو تھا۔۔۔۔۔۔۔"۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

میں ایک باورچی ہوں

 میرے قریبی دوست اور رشتہ دار جانتے ہیں کہ میں ایک اچھا باورچی ہوں لیکن میں نے کبھی اس بات پر غرور نہیں کیا۔ میں خود کو شیف بھی کہہ سکتا تھا کہ بعض لوگوں کے نزدیک یہ ماڈرن لفظ زیادہ معزز لگتا ہے لیکن سچ بات ہے شیف کے لفظ میں مجھے ایک خاص قسم کی چالاکی اور پیشہ ورانہ تفاخر محسوس ہوتا ہے۔ اس لئے میں دیسی لفظ باورچی کو زیادہ پسند کرتا ہوں۔ ہمارے اسی معاشرے میں جب دولت کی ریل پیل نہیں ہوئی تھی اور دولت چند ہاتھوں میں جمع نہیں ہوئی تھی تو خاندانی باورچی شادی بیاہ کے موقع پر بلائے جاتے تھے۔ یہ لاکھوں روپے کی کیٹرنگ نہیں ہوتی تھی نہ ہی یہ اسٹیٹس سمبل بنا تھا کہ شادیوں پر چار چار دن انواع و اقسام کے کھانوں کے سلسلے چلتے رہیں۔

خاندانی باورچی ہر شادی کے موقع پر مرکزی کردار ہوتا تھا. بڑے وقار سے بلایا جاتا تھا اور اسے کرسی دی جاتی تھی۔ پھر وہ صاحب تقریب سے مذاکرات کرتا تھا اور ہر قسم کے بجٹ کے مطابق دیانتداری سے صحیح مشورہ دیتا تھا۔ مجھے یاد ہے میرے ایک دوست کی بہن کی شادی میں دولہا والے بغیر بتائے زیادہ تعداد میں باراتی لے کر آ گئے۔ میرا دوست بہت پریشان ہوا اور اس نے خاندانی باورچی کو صورتحال سے آگاہ کیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

نازک صاحب کا بکرا ۔ قسط ۱

 نازک صحب ہمارے محلے میں رہتے تھے۔ نام تو ان کا اللہ جانے کیا تھا لیکن اپنی حرکتوں اور حلیے کی وجہ سے سارے محلے میں نازک صاحب کے نام سے مشہور تھے۔

دبلے پتلے دھان پان آدمی تھے۔ پھونک مارو تو اڑ جائیں۔ ذرا سی بات پر بگڑ جاتے تھے۔ جب وہ کوٹ پتلون پہنے، باریک سنہری کمانی کا چشمہ لگائے، ایک ہاتھ میں چھڑی اور دوسرے میں بکرےے کی رسی تھامے محلے میں نکلتے تھے تو ان کی دلچسپ حرکتوں کی وجہ سے راہ چلتے لوگ بھی رک کر انہیں دیکھنے لگتے تھے۔ کبھی چھوٹے چھوٹے پتھروں پر پائوں رکھنے سے انہیں موچ آجاتی اور کبھی اپنے بکرے کی مریل سی "میں ایں" سن کر ڈر جاتے۔ ان کا بکرا بھی خوب تھا۔ موٹا تازہ کالے رنگ کا لیکن کان دونوں سفید۔ محلے میں نازک صاحب سےز یادہ ان کا بکرا مشہور تھا۔ نازک صاحب نے اسے بڑے پیار سے پالاتھا۔ کسی کی مجال نہیں تھی کہ ان کے بکرے کو ہاتھی بھی لگائے۔ وہ اکثر اپنے بکرے کی عظمت، ذہانت اور اس کے اعلیٰ خاندان کے قصے سنایا کرتے تھے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

بکرے میاں کی آب بیتی

 میں ایک صاف ستھرے گھر میں رہتا تھا۔ میرا مالک بہت خوش اخلاق انسان تھا۔ وہ مجھ سے بہت پیار کرتا تھا ۔ہر وقت میرا خیال رکھتا تھا۔ ابھی میں چھوٹا ساہی تھا جب میرے مالک نے میری دیکھ بھال شروع کی، وہ میری ہر ضرورت کا خیال رکھتا تھا، مجھے وقت پر کھانا دیتا اور کبھی بلاوجہ مجھے نہیں ڈانتا تھا۔

میرے مالک کے دو چھوٹے بچے بھی تھے وہ بھی مجھ سے بے حد پیار کرتے تھے، پیار سے میری پیٹھ سہلاتے تو میں خوشی سے نہال ہوجاتا تھا۔ میں صبح سویرے خود ہی سیر کو نکل جاتا تھا۔ اور کچھ ہی دور رہنے والے اپنے دوستوں سے مل لیتا تھا۔ انہیں اپنے مالک کی باتیں سناتا تھا، اور پھر مقررہ وقت پر واپس آکر کھانا کھاتا تھا۔ اور دن بھر اپنے مالک کے گھر اور کبھی گھر سے باہر گھومتا رہتا تھا۔ ہرے بھرے پتے اور نرم گھاس کھا کر میں کافی صحت مند ہوگیا تھا۔ میرے مالک کے دونوں بچوں کا مجھ سے پیار بہت عجیب تھا۔ وہ اپنی زبان میں نہ جانے مجھے کیا کچھ سناتے رہتے اور میں چپ چاپ بس انہیں دیکھتا رہتا۔ وہ کبھی کبھی گھنٹوں میرے پاس بیٹھے رہتے تھے۔ اور اپنے ننھے منے ہاتھوں سے کبھی میری گردن کو پکڑنے کی ناکام کوشش کرتے اور سبھی میرے لمبے لمبے کانوں کو ہاتھ لگا کر خوش ہوتے تھے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

چڑیا بی کے بچے

گھنے جنگل کے پار افق پر سورج پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا اور سورج کی شعاعیں درختوں کی اوٹ سے جھانکتے ہوئے جنگل کی ناہموار زمین پر بمشکل پہنچ رہی تھیں۔ گویا جنگل کی زندگی میں ہر سو اجالا پھیل چکا تھا اور اس کے ساتھ ہی تمام چرند پرند بھی اپنی اپنی نگاہوں میں میٹھی اور معصوم سی انگڑائی لے کر بیدار ہوچکے تھے، وہ سب اپنی سریلی اور خوب صورت آواز میں خدائے واحد کی حمد و ثناءمیں مصروف تھے۔

درختوں پر بسیرا کیے پرندے بھی اپنے اپنے بچوں کو بیدار کرکے گزشتہ رات کے جمع کیے دانوں سے ان کو ناشتہ کرارہے تھے، ننھے ننھے پرندوں کے بابا جان آج کے دن کے لیے راشن تلاش کرنے نکل پڑے تھے۔ جب کہ ماما جان اپنے اپنے گھونسلوں کی صفائی ستھرائی کررہی تھیں، انہی درختوں میں سے ایک درخت پر چڑیا بی اپنے دو ننھے ننھے بچوں کے ساتھ رہ رہی تھیں، بچوں کے ابا یعنی چڑے میاں اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ دانہ کی تلاش میں نکل پڑے تھے، معمول کے مطابق چڑیا بی نے اپنے بچوں کو نہلایا دھلایا اور دیگر کام کاج سے فارغ ہو کر اب وہ پڑوس کے درخت پر بی فاختہ کے بچوں کی طبیعت دریافت کرنے گئی ہوئی تھیں۔ بی فاختہ کے بچے کئی روز سے سرد موسم کے باعث بیمار ہوگئے تھے۔

مزید پڑھیے۔۔۔