Web Kahanian
     markazi safha ttlion key des men   fati or billu ki kahanian men zindagi new   Kahanian hi Kahanian Tehreer Bhejen

Kahanian2

 زندگی کے کسی نہ کسی  موڑ پر  اچانک کچھ سنہری الفاظ نکل کر آپ کے سامنے آجاتے ہیں آپ کے رہنما بن جاتے ہیں۔  کچھ ایسے ہی الفاظ لیے یہ انمول کہانیاں  اس Category   میں پیشِ خدمت ہیں۔ 


سونے کی چونچ

arrownew e0ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک جنگل میں ایک مینا اور ایک چڑیا رہتی تھیں۔ دونوں کی آپس میں بہت دوستی تھی۔ وہ مل کر کھیلتیں اور مل کر کام کرتیں۔ ایک دفعہ چڑیا اڑتے اڑتے دور جا نکلی۔ اسے پیاس لگی تو وہ ایک پہاڑ میں سے بہتے ہوئے چشمے سے ٹھنڈا پانی پینے لگی۔ اس پہاڑ میں سے چند قطرے اس کی چونچ پر آن پڑے۔ اسے اپنی چونچ بھاری بھاری محسوس ہونے لگی اس نے ادھر ادھر سر جھٹکا مگر چونچ پر پڑا وزن کم نہ ہو سکا۔ اس نے پہاڑ سے سوال کیا۔ ا ے پہاڑ میری چونچ پر آخر اتنا وزن کیوں ؟ پہاڑ بولا، ننھی چڑیا۔ میں سال میں ایک دفعہ روتا ہوں۔ میرے آنسو سونے کے ہوتے ہیں۔ جب تم نے پانی پیا۔ اتفاق سے میرے آنسوؤں کے چند قطرے تمہاری چونچ پر پڑے اور تمہاری چونچ کے اوپر سونے کا خول چڑھ گیا ہے۔ چڑیا گھر واپس لوٹ آئی۔

اگلے دن سب پرندے چڑیا کو غور سے دیکھ رہے تھے۔ سونے کی چونچ کی چمک دمک ہی نرالی تھی۔ چڑیا سے سب سونے کی اس چونچ کا راز پوچھتے۔ چڑیا بھولی بھالی ساری کہانی سنا دیتی۔ جنگل میں چڑیا سونے کی چونچ والی مشہور ہو گئی۔ سب اس کی خوبصورتی کی تعریف کرنے لگے۔ باقی تمام چھوٹے پرندے بھی چڑیا سے دوستی کے خواہش مند ہو گئے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

بادشاہ اور ملازم

بہت پہلے جب ہر جگہ بادشاہ ہی حکومت کیا کرتے تھے، ایک مرتبہ ایک بادشاہ اپنے ایک ملازم سردار سے ناراض ہوگیا اور اُسے دربار سے نکال دیا اور حکم دیا گیاکہ تم دن رات اپنے گھر میں پڑے رہو نہ کہیں باہر جاسکتے ہو اور نہ ہی کہیں کام کرسکتے ہو۔ یہ بظاہر معمولی حکم تھا کیونکہ دن رات گھر میں پڑے رہنا کچھ کام کاج نہ کرنا اور فارغ وقت گزارنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ ویسے بھی ایک آدمی ایک ہی جگہ اور ایک قسم کے لوگوں میں رہتے رہتے گھبرا جاتا ہے اور تو اور بہت وحشت ہوتی ہے۔ وقت کاٹنا دوبھر ہوجاتا ہے چنانچہ اُسکے ساتھ بھی ایسی ہی ہوا۔ وہ سارا دن پڑا رہتا اور کوئی کام نہیں کرسکتا تھا۔ سردار بہت پریشان تھا کیونکہ اسکے بچوں کے پیٹ بھرنے کا سوال تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

شیر اور لومڑی

حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ ایک درویش ایک جنگل میں سفر کررہا تھا اس نے ایک لنگڑی لومڑی کودیکھا جوبے بسی کی چلتی پھرتی تصور تھی۔ اس درویش کے دل میں خیال آیا کہ اس لومڑی کے رزق کاانتظام کیسے ہوتا ہوگا جبکہ یہ شکار کرنے کے بھی قابل نہیں ہے؟
درویش ابھی یہ بات سوچ رہاتھاکہ اس نے ایک شیر کودیکھا جومنہ میں گیڈر دبائے اس لومڑی کے نزدیک آیا۔ اس نے گیڈر کے گوشت کاکچھ حصہ کھایا اور باقی وہیں چھوڑ کرچلا گیا۔ لومڑی نے اس باقی کے گوشت میں سے کھایا اور اپنا پیٹ بھرا۔
درویش نے جب سارا ماجرادیکھا توا سے اتفاق قرار دیا اور یہ دیکھنے کے لئے کہ یہ لومڑی دوبارہ اپنا پیٹ کیسے بھرے گی وہیں قیام کیا۔ اگلے روز بھی وہی شیر منہ میں گیڈر دبائے اس جگہ آیا اور اس نے کچھ گوشت کھانے کے بعد باقی ویسے ہی چھوڑ دیا۔ لومڑی نے وہ باقی گوشت کھالیا اور اپنا پیٹ بھر لیا۔ درویش سمجھ گیا کہ اس کے رزق پہنچانے کاانتظام اللہ کی طرف سے ہے۔ اس نے دل میں فیصلہ کرلیا کہ میں بھی اب اپنے رزق کے لئے کوئی جستجو نہیں کروں گا اور میرا رزق اللہ عزوکل مجھے خود پہنچادے گا جس طرح لنگڑی لومڑی کو شیرے کے ذریعے رزق پہنچارہا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کھڑکی کے پار

دو بہت ہی بیمار آدمی اسپتال کے ایک ہی کمرے میں زیر علاج تھے۔ وہ دونوں اس قدر علیل تھے کہ بستر سے اٹھ کر بیٹھ بھی نہیں سکتے ہیں۔ صرف ایک شخص کو ایک گھنٹے کے لئے اپنے بستر سے اٹھ کر بیٹھنے کی اجازت تھی اور اس شخص کا بستر ان کے کمرے کی واحد کھڑکی عین سامنے تھا جبکہ دوسرا شخص اپنے بستر سے بالکل بھی اٹھ نہیں سکتا تھا وہ چوبیس گھنٹے اسی بستر پر لیٹا رہتا۔
وہ دنوں ایک دوسرے سے زندگی کے گزرے لمحات اپنے خاندان اور ملازمت کی باتیں کرتے رہتے اور اپنے احساسات ایک دوسرے سے بانٹتے رہتے ۔ روزانہ جب وہ پہر کے بعد کھڑکی کے سامنے والے آدمی کے اٹھ کر بیٹھنے کا وقت ہوتا تو وہ اس ایک گھنٹے میں اپنے ساتھی کو کھڑکی کے باہر کے تمام مناظر بتایا کرتا تھا ۔ دوسرا آدمی اپنی اس دن کی زندگی اسی ایک گھنٹے میں جی لیتا تھا جب ا س کی بے رنگ زندگی میں باہر کی دنیا کے رنگ شامل ہو جاتے تھے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

بادشاہ اور درویش

ایک بار کا واقعہ ہے کہ ایک بادشاہ کے دِل میں یہ خیال آیا کہ کتنا اچھا ہو اگر مجھے یہ معلوم ہو جایا کرے کہ :

۱۔ صحیح کام کرنے کا صحیح وقت کیا ہے ؟

۲۔ وہ کون لوگ ہیں جن کی مجھے سخت ضرورت ہے ؟

۳۔ اور وہ کون سے معاملات ہیں جن پر فوری توجہ دینی چاہیے ؟

دل میں خیال آتے ہی بادشاہ نے اپنی پوری سلطنت میں اعلان کرا دیا کہ جو شخص بادشاہ کے ان تین سوالوں کے مطمئن کر دینے والے جواب دے گا، اس کو انعام و اکرام سے مالا مال کر دیا جائے گا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ادلے کا بدلہ

ایک لومڑی ایک چیل کی سہیلی بن گئی۔ دونوں میں اتنا پیار ہوا کہ ایک دوسرے کے بغیر رہنا مشکل ہو گیا۔ ایک دن لومڑی نے چیل سے کہا۔
"کیوں نہ ہم پاس رہیں۔ پیٹ کی فکر میں اکثر مجھے گھر سے غائب رہنا پڑتا ہے۔ میرے بچے گھر میں اکیلے رہ جاتے ہیں اور میرا دھیان بچوں کی فکر میں لگا رہتا ہے۔ کیوں نہ تم یہیں کہیں پاس ہی رہو۔ کم از کم میرے بچوں کا تو خیال رکھو گی۔"
چیل نے لومڑی کی بات سے اتفاق کیا اور آخرکار کوشش کرکے رہائش کے لیے ایک پرانا پیڑ تلاش کیا جس کا تنا اندر سے کھوکھلا تھا۔ اس میں شگاف تھا۔ دونوں کو یہ جگہ پسند آئی۔ لومڑی اپنے بچوں کے ساتھ شگاف میں اور چیل نے پیڑ پر بسیرا کر لیا۔
کچھ عرصہ بعد لومڑی کی غیر موجودگی میں چیل جب اپنے گھونسلے میں بچوں کے ساتھ بھوکی بیٹھی تھی، اس نے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ بھرنے کے لیے لومڑی کا ایک بچہ اٹھایا اور گھونسلے میں جا کر خود بھی کھایا اور بچوں کو بھی کھلایا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

سہیل صدیقی {یوراج سنگھ}گجرات سے ایک چشم کشا ملاقات

احمد اواہ    :  السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہٗ

محمد سہیل   :  و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہٗ

سوال  :   سہیل بھائی آپ کے  علم میں ہے  کہ ہمارے  یہاں سے  ایک دعوتی میگزین ارمغان کے  نام سے  نکلتی ہے  اس میں اسلام قبول کرنے  والے  خوش قسمت بھائی اور بہنوں کی آپ بیتی انٹر ویو کے  ذریعہ شائع کی جاتی ہے، ابی کا حکم ہے  کہ میں آپ سے  اس کے  لئے  ایک انٹرویو لوں، اس لئے  آپ کو اندر بلایا ہے۔

جواب  :  بھائی احمد ضرور، میری خود بڑی خواہش ہے  کہ مجھ گندے  پر اللہ کے  کرم کی کہانی لوگ پڑھیں، تاکہ لوگوں کو فائدہ ہو۔

سوال  :   آپ اپنا خاندانی پریچے  (تعارف) کرائیں ؟

مزید پڑھیے۔۔۔

بے فکر چڑیا

ایک بار ایک ہاتھی جنگل میں گھومنے کے لیے نکلا ۔ ہاتھی بہت ہی زیادہ رحم دل اور اچھی عادتوں والا تھا۔ وہ ہاتھی اپنی دُم ہلاتا ، آنکھیں مٹکاتا، جھومتا ، گاتا چلا جارہاتھا۔
جب وہ ندی کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ چوہے کا ایک چھوٹا سا بچّہ پانی میں ڈوبا جارہا ہے۔ وہ بچّہ زور زور سے بچاؤ بچاؤ بھی چلاتے جارہاتھا۔ ہاتھی کو اس پر رحم آگیا وہ فوراً پانی میں اترا اور چوہے کے بچّے کواپنی سونڈ میں اٹھاکر باہر نکال لایااور وہاں سے چلنے لگا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

چڑیا کی نصیحتیں

 ایک شخص نے چڑیا پکڑنے کےلئے جال بچھایا۔ اتفاق سےایک چڑیا اس میں پھنس گئی اور شکاری نے اسے پکڑ لیا۔

چڑیا نے اس سے کہا۔ ” اے انسان ! تم نے کئی ہرن ‘ بکرے اور مرغ وغیرہ کھائے ہیں۔ ان چیزوں کے مقابلے میں میری کیا حقیقت ہے۔ ذرا سا گوشت میرے جسم میں ہے اس سے تمہارا کیا بنے گا۔؟ تمہارا تو پیٹ بھی نہیں بھرے گا۔ لیکن اگر تم مجھے آزاد کردو تو میں تمہیں تین نصیحتیں کروں گی جن پر عمل کرنا تمہارے لئے بہت مفید ہوگا۔ان میں سے ایک نصیحت تو میں ابھی کروں گی۔ جبکہ دوسری اس وقت جب تم مجھے چھوڑ دو گے اور میں دیوار پر جا بیٹھوں گی۔ اس کے بعد تیسری اور آخری نصیحت اس وقت کروں گی جب دیوار سے اڑکرسامنے درخت کی شاخ پر جا بیٹھوں گی۔‘‘
اس شخص کے دل میں تجسس پیدا ہوا کہ نہ جانے چڑیا کیا فائدہ مند نصیحتیں کرے ۔ اس نے چڑیا کی بات مانتے ہوئے اس سے کہا۔ ” تم مجھے پہلی نصیحت کرو  پھر میں تمہیں چھوڑ دونگا۔‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

لالچی مکھی

ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک چیونٹی جو کے دانے جمع کرنے کے لیے ایک رستے سے گذر رہی تهی کہ اچانک اس کی نظر شہد کے ایک چهتے پر پڑی۔ شہد کی خوشبو سے اس کے منہ میں پانی بهر آیا۔ چهتّا ایک پتهر کے اوپر لگا تها۔ چیونٹی نے ہر چند کوشش کی کہ وه پتهر کی دیوار سے اوپر چڑھ کر چهتے تک رسائی حاصل کرے مگر ناکام رہی کیوں کہ اس کے پاؤں پهسل پهسل جاتے تهے اور وه گر گر پڑتی تهی۔

شہد کے لالچ نے اسے آواز لگانے پر مجبور کر دیا اور وه فریاد کرنے لگی: " اے لوگو، مجهے شہد کی طلب ہے۔ اگر کوئی جواں مرد مجهے  شہد کے چهتے تک پهنچا دے تو میں اسے معاوضہ طور پر ایک جو پیش کروں گی۔"

مزید پڑھیے۔۔۔

الٹی ہو گئی سب تدبیریں

آپ سب کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ ابا جان ہمیں سیر کے لیے کسی اچھے سے تفریحی مقام پر لے جانے کے لیے راضی ہوگئے ہیں اس لیے فوری طور پر تیاری کرلی جائے۔ ہانیہ نے اپنا چھوٹا سا دوپٹا ہوا میں لہرایا۔ خوشی اس کے چہرے سے عیاں تھی۔

کیا تم نے ابا جان کے منہ سے خود سنا ہے یا سنی سنائی بات پھیلانے لگی ہو۔ وقاض نے پرتجسس لہجے میں پوچھا۔
نہیں یقین تو نہ کرو، اریشہ، عروج، ثمن سب نے ہی سنا ہے اور خوب سنا ہے کہ ابا جان کچھ دیر بعد ہم سب کو سیر کے لیے بہت اچھے سے تفریحی پارک لے جائیں گے اور واپسی پر مزیدار آئسکریم سے ہم سب کی تواضع ہوگی۔ ہانیہ نے مزید تفصیلات بتائیں۔
ہزار کا نوٹ تو آئسکریم پر ہی نکل جائے گا پھر پارک کے ٹکٹ، جھولوں کے کرائے اور سب سے بڑھ کر پیٹرول۔ بھائی جان نے ہمیشہ کی طرح پیسوں کا حساب کتاب کیا۔ یہ ان کی پرانی عادت تھی۔ ریڑھی والے سے فالسے بھی لے لیں تو حساب کتاب کرنے بیٹھ جاتے، غرض کہ وہ اب تک فلسفیانہ انداز میں گم تھے اور ہانیہ پورے گھر میں شور مچاتی پھر رہی تھی، کچھ ہی دیر بعد چکن کڑاہی، روغنی پراٹھے اور فروٹ کی مہک سے سارے گھر میں ایک سماں سا بندھ گیا تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ملا جی کے کارنامے

آپ نے ملا نصر الدین کا نام تو سنا ہو گا۔ یہ شخص ترکی کا ایک مسخرہ تھا جس طرح ہمارے ہاں ملا دو پیازہ اور شیخ چلی کے لطیفے مشہور ہیں، اسی طرح ترکی میں ملا نصر الدین کے لطیفے بڑے مزے لے لے کر بیان کیے جاتے ہیں۔ کہتے ہیں ملا نصر الدین یوں تو نہایت عقل مند اور عالم فاضل شخص تھا مگر لوگوں کی اصلاح اور تفریح کے لیے بے وقوف بنا رہتا اور ایسی ایسی حرکتیں کرتا کہ لوگ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو جاتے۔

ملا نصر الدین کے پڑوس میں ایک مال دار یہودی رہتا تھا جو اتنا کنجوس تھا کہ کبھی کسی غریب اور محتاج کو ایک پیسہ نہ دیتا تھا۔ ملا نے کئی مرتبہ اسے سمجھایا کہ خدا نے تمہیں دولت عطا کی ہے ، اسے غریب اور مفلس لوگوں پر خرچ کیا کرو، لیکن اس نے ملا کی کوئی نصیحت نہ سنی۔ آخر ملا نصر الدین نے اسے سزا دینے کے لیے ایک ترکیب سوچی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

دلشاد خان پوری پر کیا گزری

 اس رات غالباً دو بجے کا عمل ہو چلا تھا اور میں نیم نیند کے عالم میں کروٹیں بدل رہا تھا۔ اگر عوام کی فلاح و بہبود کا خیال نہ ہوتا تو میں یہ کبھی نہ بتاتا کہ کروٹیں بدلتے رہنے کی ایک سنگین وجہ بجلی کی عدم موجودگی تھی، جبکہ باہر موسلا دھار بارش ہورہی تھی۔ اچانک دروازے پر زوردار دستک ہوئی اور میں ہڑبڑا کر اُٹھ بیٹھا۔ مجھے سو فیصد شک تھا کہ کسی نے میرے ہی دروازے پر دستک دی ہے۔

اس موسلا دھار بارش میں کون آٹپکا؟ بہرحال جبکہ اندھیرے میں ہاتھ کو ہاتھ اور پیر کو پیر سجھائی نہ دیتا تھا، کسی طرح اپنے اندازوں اور مفروضوں کی جانچ پڑتال کرتے ہوئے دروازے تک گیا۔ دروازے میں بنائے گئے ایک ایمرجنسی سوراخ سے باہر دیکھنے کی کوشش کی اور آنے والے کا چہرہ دیکھ کر دم بخود رہ گیا، بلکہ یوں کہیے کہ دم نکلتے نکلتے رہ گیا۔ یہ عزت مآب محترم و مکرم، معزز مہمانِ گرامی جناب دلشاد خانپوری صاحب تھے۔ یہ خود اپنے آپ کو ملک کے چوٹی کے ادیبوں میں شمار کرواتے ہیں۔ کئی کتابیں لکھ چکے ہیں، مگر شائع کوئی بھی نہ ہوئی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

عقلمند وزیر

 arrownew e0ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک ملک کا باشاہ بہت ظالم تھا۔ہر وقت عجیب و غریب فرمائشیں کرتا رہتا تھا۔اس کی عوام اور خاص طور پر اسکا وزیر اس سے بہت تنگ تھا ۔وزیر ایک نیک دل اور عقلمند انسان تھا جس کی وجہ سے ملک کے حالات کافی بہتر تھے۔

ایک دن باشاہ کو ایک عجیب و غریب خواہش سوجھی۔اس نے اپنے وزیر کو حکم دیا کہ مجھے ایک ایسا محل بنا کر دو جس کی تعمیر اوپر سے نیچے کی طرف کی جائے اور اگر وزیر دس دن کے اندر یہ کام شروع نہ کر سکے تو اس کا سر قلم کر  دیا جائے۔وزیر بیچارا بہت پریشان ہوا کہ اب کیا کرے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

رزق کا انتظام

 حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ ایک درویش ایک جنگل میں سفر کررہا تھا اس نے ایک لنگڑی لومڑی کودیکھا جوبے بسی کی چلتی پھرتی تصور تھی۔ اس درویش کے دل میں خیال آیا کہ اس لومڑی کے رزق کاانتظام کیسے ہوتا ہوگا جبکہ یہ شکار کرنے کے بھی قابل نہیں ہے؟

درویش ابھی یہ بات سوچ رہاتھاکہ اس نے ایک شیر کودیکھا جومنہ میں گیڈر دبائے اس لومڑی کے نزدیک آیا۔ اس نے گیڈر کے گوشت کاکچھ حصہ کھایا اور باقی وہیں چھوڑ کرچلا گیا۔ لومڑی نے اس باقی کے گوشت میں سے کھایا اور اپنا پیٹ بھرا۔ 
درویش نے جب سارا ماجرادیکھا توا سے اتفاق قرار دیا اور یہ دیکھنے کے لئے کہ یہ لومڑی دوبارہ اپنا پیٹ کیسے بھرے گی وہیں قیام کیا۔ اگلے روز بھی وہی شیر منہ میں گیڈر دبائے اس جگہ آیا اور اس نے کچھ گوشت کھانے کے بعد باقی ویسے ہی چھوڑ دیا۔ لومڑی نے وہ باقی گوشت کھالیا اور اپنا پیٹ بھر لیا۔ درویش سمجھ گیا کہ اس کے رزق پہنچانے کاانتظام اللہ کی طرف سے ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

خوشی کی تلاش

  ایک لڑکا جب تیرہ سال کا ہوا تو اس کے باپ نے اسے بلایا اور ایک پتہ ہاتھ میں پکڑا کر بولا کہ جاؤ ادھر ایک بہت دانا آدمی رہتا ہے۔ اس کی حکمت دنیا بھر میں مشہور ہے۔ اس کے پاس جا کر اس سے یہ سیکھو کہ خوشی کیا ہے اور کیسے اسے پایا جا سکتا ہے۔ وہ لڑکا پتے کو سمجھنا شروع ہوا۔ وہ کسی صحرا میں ایک محل کا پتہ تھا۔ لڑکا نکل کھڑا ہوا۔ وہ چالیس دن مسلسل صحرا میں سفر کرتا رہا۔ آخر کار وہ اس پتے پر پہنچ گیا۔ اس نے دیکھا تو سامنے ایک بہت عالی شان، وسیع و عریض محل بنا ہوا تھا۔ وہ محل کے اندر داخل ہوا تو دیکھا کہ ارد گرد جوق در جوق لوگ جمع تھے۔ اس نے بالکل بھی یہ سب تصور نہیں کیا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ اندر مکمل سناٹا ہو گا اور کوئی بوڑھا سا دانا بابا بیٹھا ہو گا جو اسے حکمت کی دو چار باتیں بتا کر چلتا کرے گا۔ ادھر تو ماحول ہی الگ تھا۔ اتنے ڈھیر سارے لوگ اور میزوں پر تھال کے تھال بھرے پڑے تھے۔ اتنے لذیذ اور طرح طرح کے کھانے سجے تھے۔ اتنے میں وہ دانا آدمی آیا اور اس کو مخاطب کیا کہ تم ادھر نئے آئے ہو، کیا چاہیے ؟ لڑکے نے ساری کہانی سنا دی کہ میرے باپ نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے کہ میں خوشی کا مفہوم سیکھ کر واپس جاؤں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

میں ایک باورچی ہوں

 میرے قریبی دوست اور رشتہ دار جانتے ہیں کہ میں ایک اچھا باورچی ہوں لیکن میں نے کبھی اس بات پر غرور نہیں کیا۔ میں خود کو شیف بھی کہہ سکتا تھا کہ بعض لوگوں کے نزدیک یہ ماڈرن لفظ زیادہ معزز لگتا ہے لیکن سچ بات ہے شیف کے لفظ میں مجھے ایک خاص قسم کی چالاکی اور پیشہ ورانہ تفاخر محسوس ہوتا ہے۔ اس لئے میں دیسی لفظ باورچی کو زیادہ پسند کرتا ہوں۔ ہمارے اسی معاشرے میں جب دولت کی ریل پیل نہیں ہوئی تھی اور دولت چند ہاتھوں میں جمع نہیں ہوئی تھی تو خاندانی باورچی شادی بیاہ کے موقع پر بلائے جاتے تھے۔ یہ لاکھوں روپے کی کیٹرنگ نہیں ہوتی تھی نہ ہی یہ اسٹیٹس سمبل بنا تھا کہ شادیوں پر چار چار دن انواع و اقسام کے کھانوں کے سلسلے چلتے رہیں۔

خاندانی باورچی ہر شادی کے موقع پر مرکزی کردار ہوتا تھا. بڑے وقار سے بلایا جاتا تھا اور اسے کرسی دی جاتی تھی۔ پھر وہ صاحب تقریب سے مذاکرات کرتا تھا اور ہر قسم کے بجٹ کے مطابق دیانتداری سے صحیح مشورہ دیتا تھا۔ مجھے یاد ہے میرے ایک دوست کی بہن کی شادی میں دولہا والے بغیر بتائے زیادہ تعداد میں باراتی لے کر آ گئے۔ میرا دوست بہت پریشان ہوا اور اس نے خاندانی باورچی کو صورتحال سے آگاہ کیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

وہ ایک شعر

 arrownew e0ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی استاد کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کیلئے چھٹی پرجانا پڑا توایک نئے استاد کواس کے بدلے ذمہ داری سونپ دی گئی۔نئے استاد نے سبق کی تشریح کر چکنے کے بعد، ایک طالب علم سے سوال پوچھا تواس طالب علم کے ارد گرد بیٹھے دوسرے سارے طلباء ہنس پڑے۔ استاد کو اس بلا سبب ہنسی پر بہت حیرت ہوئی، مگراس نے ایک بات ضرورمحسوس کر لی کہ کوئی نہ کوئی وجہ ضرور ہوگی۔طلباء کی نظروں، حرکات اور رویئے کا پیچھا کرتے آخرکار استاد نے یہ نکتہ پا لیا کہ یہ والا طالب ان کی نظروں میں نکما،  احمق، پاگل اورغبی ہے، ہنسی انہیں اس بات پرآئی تھی کہ استاد نے سوال بھی پوچھا تو کسی پاگل سے ہی پوچھا۔جیسے ہی چھٹی ہوئی، سارے طلباء باہر جانے لگے تو استاد نے کسی طرح موقع پا کراس طالب کو علیحدگی میں روک لیا۔ 

مزید پڑھیے۔۔۔

بکرے میاں کی آب بیتی

 میں ایک صاف ستھرے گھر میں رہتا تھا۔ میرا مالک بہت خوش اخلاق انسان تھا۔ وہ مجھ سے بہت پیار کرتا تھا ۔ہر وقت میرا خیال رکھتا تھا۔ ابھی میں چھوٹا ساہی تھا جب میرے مالک نے میری دیکھ بھال شروع کی، وہ میری ہر ضرورت کا خیال رکھتا تھا، مجھے وقت پر کھانا دیتا اور کبھی بلاوجہ مجھے نہیں ڈانتا تھا۔

میرے مالک کے دو چھوٹے بچے بھی تھے وہ بھی مجھ سے بے حد پیار کرتے تھے، پیار سے میری پیٹھ سہلاتے تو میں خوشی سے نہال ہوجاتا تھا۔ میں صبح سویرے خود ہی سیر کو نکل جاتا تھا۔ اور کچھ ہی دور رہنے والے اپنے دوستوں سے مل لیتا تھا۔ انہیں اپنے مالک کی باتیں سناتا تھا، اور پھر مقررہ وقت پر واپس آکر کھانا کھاتا تھا۔ اور دن بھر اپنے مالک کے گھر اور کبھی گھر سے باہر گھومتا رہتا تھا۔ ہرے بھرے پتے اور نرم گھاس کھا کر میں کافی صحت مند ہوگیا تھا۔ میرے مالک کے دونوں بچوں کا مجھ سے پیار بہت عجیب تھا۔ وہ اپنی زبان میں نہ جانے مجھے کیا کچھ سناتے رہتے اور میں چپ چاپ بس انہیں دیکھتا رہتا۔ وہ کبھی کبھی گھنٹوں میرے پاس بیٹھے رہتے تھے۔ اور اپنے ننھے منے ہاتھوں سے کبھی میری گردن کو پکڑنے کی ناکام کوشش کرتے اور سبھی میرے لمبے لمبے کانوں کو ہاتھ لگا کر خوش ہوتے تھے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

صرف آٹھ مسئلے

ایک روز شیخ شفیق بلخی رحمہ اللہ نے اپنے شاگرد حاتم رحمہ اللہ سے پوچھا۔

’’حاتم ! تم کتنے دنوں سے میرے ساتھ ہو؟‘‘

انہوں نے کہا۔’’بتیس برس سے۔ ‘‘

شیخ نے پوچھا۔ "بتاؤ اتنے طویل عرصے میں تم نے مجھ سے کیا سیکھا؟"

حاتم نے کہا ۔"صرف آٹھ مسئلے!"

شیخ نے کہا۔ "انا للہ وانا الیہ راجعون میرے اوقات تیرے اوپر ضائع چلے گئے تُو نے صرف آٹھ مسئلےسیکھے؟"

حاتم نے کہا ۔"استادِ محترم ! زیادہ نہیں سیکھ سکا اور جھوٹ بھی نہیں بول سکتا۔"

مزید پڑھیے۔۔۔

ملا جی کے کارنامے

 ملا نصر الدین کے پڑوس میں ایک مال دار یہودی رہتا تھا جو اتنا کنجوس تھا کہ کبھی کسی غریب اور محتاج کو ایک پیسہ نہ دیتا تھا۔ ملا نے کئی مرتبہ اسے سمجھایا کہ خدا نے تمہیں دولت عطا کی ہے ، اسے غریب اور مفلس لوگوں پر خرچ کیا کرو، لیکن اس نے ملا کی کوئی نصیحت نہ سنی۔ آخر ملا نصر الدین نے اسے سزا دینے کے لیے ایک ترکیب سوچی۔

ایک روز صبح سویرے وہ نماز پڑھ کر زور زور سے دعا مانگنے لگا۔

یا اللہ، اگر تو مجھے ایک ہزار اشرفیوں کی تھیلی بھیج دے تو میں اسے محتاجوں پر صرف کر دوں۔ لیکن اگر اس میں سے ایک اشرفی بھی کم ہوئی تو ہرگز قبول نہ کروں گا۔

یہودی نے یہ دعا سنی تو سوچا کہ ملا بڑا ایمان دار بنتا ہے ، اس کی ایمانداری آزمانی چاہیے۔ یہ سوچ کر اس نے تھیلی میں نو سو ننانوے اشرفیاں بھریں اور عین اس وقت جب کہ ملا نصر الدین دعا مانگ رہا تھا، اشرفیوں سے بھری ہوئی تھیلی اس کے صحن میں پھینک دی۔

مزید پڑھیے۔۔۔