’’ویسے تم خواب میں دیکھ کیا  رہی تھیں؟‘‘ حرا تجسس سے اسے دیکھنے لگی۔

’’یہی کہ میں سفید خوبصورت گھوڑے پہ بیٹھی ہوئی ہوں۔سفید رنگ کی بڑی گھیر والی پیاری سی  فراک پہنے ہوئے پھولوں سے بھرے باغ میں گھوم رہی ہوں۔ میرا سکول بیگ ایک پیارے سے بینچ پر پڑا ہوا ہے ۔ اور پھر وہاں...عائشہ آگئی۔ اس نے  میرا سارا ہوم ور ک کرنا شروع کردیا۔ابھی وہ مضمون حساب کے  ہوم ورک میں ملا آخری سوال حل کرہی رہی تھی بس کچھ دیر میں جواب ملنے والا  تھا کہ اچانک  اماں نے اٹھا دیا۔‘‘

ماریہ کا چہرہ اتر گیا۔

’’لو بھئی میں سمجھی پتہ نہیں ایسا کیا دیکھ لیا تھا۔جو اس قدر غم منایا جارہا ہے۔ اس میں اداس ہونے والی تو کوئی بات نہیں لگی مجھے۔‘‘ حرا نے منہ بناتے ہوئے کہا۔

’’بات دراصل یہ ہے حرا! ‘‘ ماریہ نے رازدارانہ انداز میں کہا۔

’’ہاں  ہاں بولو ماریہ!‘‘

’’عائشہ جو سوال حل کر نے والی تھی وہ آج ٹیچر چیک کریں گی۔کتنا اچھا ہوتا  ناں اگر وہ حل کردیتی۔‘‘ ماریہ نے حسرت سے کہا تو حرا کو ہنسی ہی تو آگئی۔

’’بالکل بالکل  ماریہ ! وہ حل کردیتی اور خواب میں ہی  جواب چل کر تمھاری کاپی میں آجاتا اور مس تمہیں پھر  شاباشی دیتیں۔ تم سے بڑا بے وقوف میں نے دنیا میں نہیں دیکھا۔‘‘

اتنا کہ کر حرا زور زور سے ہنسنے لگی۔

’’ویسے اک بات ہے حرا!‘‘ ماریہ پر تو جیسے حرا کے ہنسنے کا اثر ہی نہ ہوا تھا۔ وہ ہنوز سنجیدہ تھی۔

’’میں نے پڑھا تھا کہ خواب میں انسان کچھ بھی تصور کرسکتاہے ... جو چاہے وہ پا سکتا ہے۔‘‘

’’ تو میں سوچ رہی ہوں کہ میں خود کو خواب میں  مس حنا تصور کرلوں۔امتحان بھی قریب ہیں ۔ان کا پرچہ  بھی  خواب میں بنالوں گی اور یوں  مجھے  پیپر کا علم بھی ہو جائیگا۔ اسی طرح دوسر ے دن مس عینی بن جاؤں گی پھر تیسرے دن مس آمنہ ۔۔یوں سب پیپرز کا پتہ چل جائےگا مجھے!‘‘

اس کے لہجے میں جوش تھا۔

’’ ماریہ! آئیڈیا برا نہیں۔  کیوں نہ تم پرنسپل ہی بن جاؤ خواب میں۔  یوں رزلٹ  اور دیگر چیزوں کا بھی پتہ چل جائے گااورپرنسپل بن کے تم بہت کچھ کرسکوگی۔‘‘

حرا  نے ہنسی دباتے ہوئے کہا۔

’’ارے واہ حرا یہ تو میں نےسوچا ہی نہ تھا۔پھر تو مسئلہ ہی ختم ہوجائےگا!‘‘

پاس سے گزرتی فرزانہ نے بانک لگائی۔

"جناب خواب والی پرنسپل صاحبہ! مجھے دس دن کی چھٹی دینا مت بھولیے گااور جو پکنک کا  ہم کب سے سوچ رہے ہیں وہاں کا ٹرپ ضرور پکا کر دیں۔‘‘

علیزہ بھی ساتھ آگئی تھی۔

’’اور ہاں جب مس آمنہ بن جا ؤ تو دیکھو میری کاپی چیک کرتے وقت رعایت ضرور دینا۔ میں نے سوال نمبر چار کی تصویر نہیں بنائی تھی۔‘‘

پھر سب کھلکھلا کر ہنسنے لگیں جبکہ ماریہ  ابھی تک گہری سوچ میں ڈوبی تھی کہ اس سے پرنسپل بن کر اور کیا کیا کرنا چاہیئے۔