Web Kahanian
     markazi safha ttlion key des men   fati or billu ki kahanian men zindagi new   Kahanian hi Kahanian Tehreer Bhejen

خودغرضی کی سزا

          Print

دانش آج بھی بڑے شوق سےاپنے پسندیدہ درخت کے اوپرچڑھ کر بیٹھا تھا۔اسکول سےواپسی پر وہ راستے میں پڑنے والے باغ میں رک کر کچھ دیر سستاتاتھا۔اسی باغ کے ایک درخت کی شاخوں پر بیٹھ کراپنا بچا ہوا لنچ کھاتا اور پھراپنے گھر کو جاتا تھا۔
دانش پڑھنے میں جتنا اچھا تھا ، اسکول میں ہم جماعتوں کو ساتھ اتنا ہی لا تعلق رہتا تھا۔ گھرپر اچھی ٹیوشن لینے کے ساتھ ساتھ وہ خود بھی اپنی پڑھائی پر خوب محنت کرتا تھا اور ہمیشہ اپنی جماعت میں نمایاں پوزیشن لیتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ دانش کو کبھی کسی کی مدد کی ضرورت نہیں پڑی۔ اسی وجہ سے اس کےدل میں یہ خیال بیٹھ گیا تھا کہ خود اچھا پڑھ لینا ہی کافی ہوتا ہے۔

دوسرے بچوں کے ساتھ نہ اس کو کھیلنے کا شوق تھا نہ ہی ان کے کسی کام میں گھسنے کا اور نہ ہی کبھی کسی کی مدد کرنے کا خیال اسکو آتا تھا۔ وہ ایک خودغرض اور الگ تھلگ رہنے والا لڑکا بن چکا تھا۔ شروع میں تو کلاس اورمحلے کےبچوں نے کوشش کی کہ دانش ان کے ساتھ کھیلے، باتیں کرے مگراس کے رویے کی وجہ سے آہستہ آہستہ سارے لڑکے پیچھے ہٹ گئے۔ دانش کو اس سے کوئی فرق بھی محسوس نہیں ہوتا تھا۔
اسی لیے وہ اپنا آدھا لنچ بچا لیتا تھا اور اسکول سے چھٹی کے بعد باغ میں درخت پر چڑھ کر مزے سےکھاتا تھا۔ ایک دن جب وہ درخت پر بیٹھا آس پاس کے نظارے سے لطف اندوز ہو رہا تھا تب اس درخت کے نیچے دو لڑکے آ کر بیٹھے۔ ان دونوں نے دانش کے اسکول کا یونیفارم ہی پہنا ہوا تھا۔مگر وہ دونوں دانش سے بڑی کلاس کے لڑکے تھے۔ دانش درخت کی شاخ پر پاوں لٹکائے خاموشی کے ساتھ بیٹھا ان دونوں کو دیکھتا رہا۔یہ دونوں لڑکے اپنے ساتھ بہت سا سامان بھی لائے تھے اور ان کو آپس میں بانٹ رہے تھے۔ ان کی باتوں سے دانش کو پتہ لگا کہ یہ سارا سامان ان لڑکوں نے اسکول سے چوری کیا ہے جو اب وہ آپس میں بانٹ رہے ہیں۔۔۔۔
اب یہ تقریباً روز کا معمول بن گیا کہ دانش جلد باغ میں آکر درخت پر چڑھ کر بیٹھ جاتا اور کچھ دیر بعد دونوں لڑکے بھی وہاں پہنچ جاتے ۔ پھر وہاں سکون سے بیٹھ کر چوری کے سامان بانٹتے جن میں کبھی اچھے اچھے مہنگے قلم، کیلکیولیٹر، موبائل فون، اساتذہ کے پرس سے پیسے اورقیمتی اشیاء شامل ہوتیں توکبھی اسکول کی کینٹین سے مزے مزے کی کھانے کی چیزیں ہوتیں۔ چونکہ دانش کو صرف اپنے آپ سے مطلب تھا اس لیے اس نے کبھی ان لڑکوں کو نہ تنگ کیا اور نہ ہی ان کی شکایت اسکول میں کی۔ بلکہ اس کے ہاتھ تو ایک نیا مشغلہ آگیا تھا۔ وہ اس طرح درخت میں چھپ کر ان لڑکوں کی لائی ہوئی چیزوں کو دیکھ کر خوش ہوتا اور اس کو تجسس ہوتا کہ یہ دونوں کل کیا نئی نئی چیزیں لائیں گے ۔ اسی وجہ سے ان لڑکوں کو ا اوپر بیٹھے دانش کی موجودگی کا کبھی احساس نہیں ہو سکا۔
ادھر اسکول میں بچوں سمیت تمام اساتذہ اور پرنسپل سب ہی پریشان تھے کہ اتنی زیادہ چوریاں کون کر رہا ہے۔ وہ اب تک چورکو پکڑنے میں ناکام رہے تھے۔ مگر دانش کی کو کسی کی پروہ نہیں تھی ا ور اپنی دنیا میں مگن رہ رہا تھا۔
ایک دن اسپورٹس پیریڈ کے بعد جب دانش اپنی کلاس میں واپس آیا تو اس کے بستے سے تمام چیزیں غائب تھیں، جس میں اسکا کیلکیولیٹراور قیمتی موبائل بھی شامل تھا۔ یہ موبائل وہ گھر والوں سے چھپا کر لاتا تھا کیونکہ اسکول میں موبائل لانا منع تھا۔ اب تو دانش کی ڈر کے مارے حالت خراب ہو گئی کہ وہ اپنے ابو کو کیا جواب دے گا۔اسکول میں کوئی دوست تو تھا نہیں ، اس لیے اس نے جا کر اپنے ٹیچر سے شکایت کی کہ اس کے بیگ سے پیسے ، کیلکیولیٹر اورموبائل چوری ہو گیا ہے۔ ساتھ ہی اس نےرو رو کر ٹیچر کو ان دونوں لڑکوں کے بارے میں بھی بتایا ۔ دانش سے مزید باز پرس کی گئی کہ وہ کیوں اتنے یقین کے ساتھ ان لڑکوں کا نام لے رہا ہے تو اس نے تمام واقعات اپنے پرنسپل کو گوش گزارکیے کہ وہ اسکول سے کی جانے والی چوری کا سامان کیسے باغ میں بیٹھ کر بانٹتے ہیں ۔اسکول کے ہیڈماسٹر کوافسوس کے ساتھ ساتھ دانش پر بہت غصہ بھی آیا جب ان کو پتہ چلا کہ دانش کو چوروں کی خبر بالکل شروع سے تھی مگراپنی خود غرضی کی وجہ سے اس نے اسکول میں کسی کی مدد کی ۔ اس کے کلاس کے ساتھیوں کے علاوہ اسکول کے دوسرے بچے بھی غصے کی نگاہ سے دانش کو دیکھ رہے تھے۔
جلد ہی ان دونوں لڑکوں کو پکڑ لیا گیا اورجب سختی کی گئی تو انھوں نے اپنی چوریاں بھی مان لیں۔ ان دونوں لڑکوں کو تو سزا ہوئی ہی، مگردانش کے والدین کو بھی اسکول بلالیا گیا۔ ان سے دانش کی شکایت کی گئی جس پر اس کے والدین اپنے بیٹے کی طرف سے بہت شرمندہ ہوئے۔ آج اپنی چیزوں کے چوری ہونے کے بعد سانش کو احساس ہوا کہ اس طرح قیمتی چیزیں چوری ہو جانے سے کتنی تکلیف اور پریشانی ہوتی ہے اور اپنے والدین کے شرمندگی سے جھکے ہوئے سردیکھ کر دانش کو اپنی خود غرضی پر افسوس اور بہت دکھ ہوا ۔ اس نے اپنے اساتذہ، پرنسپل اور ماں باپ سے سچے دل کے ساتھ معافی مانگی۔اب دانش اچھا طالبعلم ہونےکے علاوہ سب کےمسائل کا احساس کرنے والا لڑکا ہے اوراس وجہ سے سارے ہم جماعت اس کے بہترین دوست ہیں۔


اپنی قیمتی رائے سے آگاہ کیجیے

Invalid Input
Invalid Input
Invalid Input
Invalid Input