انوکھا حل

آخر شکو میاں کے اسکول جانے کا دن آ ہی  گیا وہ صبح خود ہی اٹھ گئے تھے جلدی سے ناشتہ کیا  اور تیار ہو گئے۔ اب وہ شیشے  کے سامنے کھڑے ہو کر اپنا جائزہ لے رہے تھے  ۔خود کو وہ بہت پیارے لگ رہے تھے۔ امی جان نے شکو  کو آواز دی کہ وین آنے والی ہے  ۔شکو میاں نے جلدی سے بیگ اٹھایا اور گیٹ پر آگے۔  وین نے ہارن بجایا  تو شکو کو امی  نے پیار کیا  اور الله  حافظ کہہ کر وین  میں جا بیٹھے۔

اسکول  پہنچ کر  شکو میا ں کو امی  جان تھوڑی تھوڑی دیر بعد یاد تو آ رہی تھیں لیکن وہ بہادری کا مظاہرہ کر رہے تھے  اور اک آنسو کو بھی باہر نہیں نکلنے دیا  سب کچھ شکو میاں کی امیدوں کے مطابق تھا  بڑا سا اسکول ، بڑا سا کلاس  روم  ، اچھی سی ٹیچر  اور بہت سارے بچے بس  کچھ بچوں کو  امی یاد آرہی  تھیں اور وہ رو رہے تھے ٹیچر نے  شکو میاں  کو چاکلیٹ بھی دی تھی۔

کیوں کہ شکو میاں بالکل  بھی نہیں روئے تھے  لیکن یہ کیا  ! ابھی ٹیچر  چاکلیٹ دے کر واپس ہی مڑ یں تھیں کہ ارسال نے اس کی چاکلیٹ  چین لی ارسل تو شکو میاں کو ویسے بھی اچھا نہیں لگا تھا  اور اب  اس نے  چاکلیٹ بھی چھین لی تھی۔ شکو میاں نے سوچا کوئی بات نہیں  مھے تو امی جان نے  لنچ بھی دیا ہے  میں وہ کھا لیتا ہوں  شکو میاں نے جیسے ہی لنچ باکس نکالا  ارسل نے وہ بھی چین لیا  یہ سب کچھ دیکھ  کر شکو میاں کو غصہ تو بہت آیا  لیکن وہ کر ہی  کیا سکتے تھے  ارسل نے انہاں دھمکی بھی دی تھی کہ اگر انہوں نے ٹیچر سے شکایت کی  تو اچھا نہیں ہو گا۔

گھر آکر شکو میاں نے  طوفان برپا کر دیا  کہ آخر کیا ہو گیا  امی  جان نے شکو کو پیار کیا اور آرام سے شکو کو ساری بات  بتانے کو کہا تو وہ رو رو کر پوری کہانی سنانے لگے  سب گھر  والوں کو ارسل پر بہت غصہ آیا  لیکن امی جان نے اس کا  انوکھا حل تجویزکیا۔

 اگلے دن  امی جان نے  شکو میاں کے  ساتھ ساتھ ارسل کے لئے بھی لنچ رکھا تھا  اور شکو سے کہا تھا کہ وہ ارسل کے ساتھ اپنا  لنچ شئیر کرے کیوں کہ  برے کاموں کا بدلہ اچھائی سے دینے سے اللہ پاک بہت خوش ہوتے ہیں اور مل کر کھانے سے برکت  بھی پیدا ہوتی  ہے ۔ شکو نے ایسا ہی کیا اس طرح ارسل سے دوستی ہو گئی  اب ارسل بھی اپنا لنچ شکو کے ساتھ  شئیر  کرتا ہے  دونوں گہرے دوست بن گئے ہیں ۔


اپنی قیمتی رائے سے آگاہ کیجیے

Invalid Input
Invalid Input
Invalid Input
Invalid Input