Web Kahanian
     markazi safha ttlion key des men   fati or billu ki kahanian men zindagi new   Kahanian hi Kahanian Tehreer Bhejen

Fati or

        درمیانی عمر کے  بچے زندگی کے مناظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہیں نصیحت کی لمبی چوڑی باتیں کم ہی بھاتی ہیں۔ پھر ان کو کیسے بتایا جائے  کہ  آنے والے دور کے زینے کیسے چڑھنے ہیں؟ یہ جاننے کے لیے فاتی اور بلّو کی کہانیاں ضرور پڑھیں۔


 

لائٹ بند کر دو

arrownew e0رات کے کوئی دو بجے ہوں گے جب فاتی کی آنکھ کھل گئی۔ کمرے میں گھپ اندھیرا تھا۔
’’یہ کیا!بجلی چلی گئی کیا؟ لیکن یہاں تو بجلی نہیں جاتی۔‘‘  نو سالہ فاتی نے سوچا۔ان کا گھر ایک مشہور سوسائٹی میں تھا جہاں سال میں شاذو نادر ہی بجلی جاتی تھی وہ بھی ایک آدھ گھنٹے کے لیے ۔ و ہ بمشکل اندھیرے میں چلتی ہوئی بلّو  کےکمرے میں گئی۔ اسے بہت ڈر لگ رہا تھا۔

’’بلّو! اٹھو ذرا دیکھو۔ بجلی چلی گئی ہے۔‘‘ گیارہ سالہ بلّو آنکھیں ملتا ہو ا اٹھ بیٹھا۔وہ بھی پسینے میں شرابوز تھا۔

’’اوہ! ٹھہرو۔ ‘‘ یہ کہہ کر وہ اٹھا اور سوئچ بورڈ کے سارے بٹن دبا دیے لیکن  نہ زیرو بلب لگا نہ ہی انرجی سیور۔ پنکھا بھی رکا ہو ا تھا۔

’’بجلی چلی گئی ہے یا پھر ہمارا فیوزاڑ گیا ہے۔‘‘ یہ کہہ بلّو کمرے سے باہر نکل آیا۔ لاؤنج میں گھپ اندھیرا تھا۔ امی ابو کی آنکھ ابھی نہیں کھلی تھی۔ اچانک فاتی زور سے چیخی۔

’’بلّو !۔۔۔ بھوت! بھوت!!‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

تبدیلی

یہ جون کی تپتی دوپہر تھی ۔ سورج اپنے جوبن پر تھا۔ حمزہ کا حلق جیسے سوکھ گیاتھا۔ بھوک سے اس کی ہمت جواب دے رہی تھی ۔ ایسے میں حمزہ کو یاد آیا کہ فریج میں کولڈ ڈرنک اور کچھ کھانے کی چیزیں موجود ہیں۔ آج تو میرا روزہ ہے وہ بھی پہلا۔نہیں میں ایسانہیں کرسکتا۔ ہاں توکیا ہوا ویسے بھی یہاں کون دیکھ رہاہے ؟ لفظ گڈ مڈ ہونے لگے تھے …ہاں …ہاں …نہیں …اللّٰہ جی تو ہر جگہ ہوتے ہیں۔ دادی اماں اپنے کمرے میں عبادت کررہی ہیں۔ امی اور ابو ویسے گھر پر نہیں ہیں۔ فاریہ ابھی بہت چھوٹی ہے اس کو کیا پتا …اپنی چھوٹی بہن کا خیال آتے ہی حمزہ سوچ میں پڑ گیا ۔ فاریہ کو کیا پتا روزہ کیاہوتاہے ۔ اب حمزہ کے دل ودماغ ایک دوسرے کا ساتھ چھوڑ رہے تھے ۔ فریج کا دروازہ آدھا کھلا ہواتھا۔ فریج میں جو قسم قسم کے مشروبات اور لذیذ آم صاف نظر آ رہے تھے ۔ یہ ٹھنڈے مشروب سوکھے حلق کو سیراب کرسکتے تھے۔ اللّٰہ جی ناراض ہوں گے ۔ آخر اللّٰہ جی کی ناراضگی کے خوف کا خیال غالب آنے لگاتھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

باتونی لڑکی

 میری چھوٹی بہن شنّو بڑی باتونی لڑکی ہے۔ ابھی اسکول سے آ کر بستہ رکھا بھی نہ تھا کہ اسکول کا قصہ لے بیٹھی۔

امی جان جھنجھلا کر بولیں۔ ’’اے لڑکی ! تجھے کیا بھوک نہیں لگتی؟ دوسروں کے بچے اسکول سے آتے ہی کھانا مانگتے ہیں، لیکن تو ہے کہ باتیں کئے جا رہی ہے، پہلے کھانا کھا لے، پھر بک بک کرنا۔ ‘‘

شنو کھانا کھانے کے لئے بیٹھ تو گئی مگر کیا مجال جو کھانا کھاتے وقت بھی اُس کی زبان بند رہتی، کوئی سُنے یا نہ سُنے اُسے اِس کی پرواہ نہیں، اُس کا کام تو بولنا ہے، وہ بولنے سے کبھی نہیں تھکتی، لگاتار بولتی رہتی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

آٹے کے تھیلے

"شہباز!" باورچی خانے سے امی کی آواز آئی۔ میں گھر کے پچھواڑے میں گیند سے کھیل رہا تھا، ان کی آواز سن کر رک گیا۔ میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ امی نے کس لیے بلایا ہے۔

"شہباز، کدھر ہو؟" امی کی آواز میں مجھے وہ سختی محسوس ہوئی جو کٹہرے میں کھڑے ملزم سے سوال کرتے ہوئے وکیل کی آواز میں ہوتی ہے۔ تیسری بار آواز آئی تو میں نے آہستہ آہستہ گھر کے دروازے کی جانب چلنا شروع کر دیا۔ ساتھ ہی میں یہ بھی سوچنے لگا کہ امی کو کیا جواب دوں گا۔ دروازے کے ساتھ ہی بائیں جانب باورچی خانہ تھا، جہاں امی چوکی پر بیٹھی تھیں۔

"جی؟" میں دروازے کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا اور نظریں اپنے ننگے پاؤں پر گاڑ دیں، جن پر مٹی جمی ہوئی تھی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

خواب والی پرنسپل

 ’’ماریہ تم  نےیہ رونی شکل کیوں بنائی ہوئی ہے؟‘‘

حرا نے ماریہ کا اداس چہرے دیکھتے ہی سوال جھاڑا۔

’’کیا بتاؤں حرا!!میں آج دوپہر کو اتنا حسین خواب دیکھ رہی تھی کہ عین کلائیمکس کے وقت امی حضور سر پہ آدھمکیں۔وہ جھنجھوڑاکہااللہ کی پناہ۔میں سر تا پا ہل کے رہ گئی اور خواب سب بھک سے اڑ گیا۔‘‘وہ افسردگی سے آہ بھر کے رہ گئی۔

’’ویسے انھوں نے ایسا کیا کیوں ماریہ؟‘‘

حرا نے رازداری سے پوچھا۔

’’انہیں سوئی میں دھاگا جو دلوانا تھا اور کافی دیر سے مجھے آوازیں دے رہی تھیں!‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

میں کیا بنوں گی

مَیں ہوںنینا۔ مَیں چھٹی جماعت میں پڑھتی ہوں ۔ ویسے تو مَیں پڑھائی میں بہت اچھی ہوں پر کھیل کود میں تو ہمیشہ پہلے نمبر پر آتی ہوں۔ اسکول میں میری ڈھیر ساری سہیلیاں ہیں اور سبھی ٹیچر مجھے بہت پسند کرتی ہیں۔ سب کچھ بہت اچھا چل رہاتھا لیکن ایک دن مَیں بہت پریشان ہو گئی۔
کلا س میں پڑھاتے وقت ایک دن ٹیچر نے بتایا کہ راستے میں پتھریلا راستا، اونچے پہاڑ ، بادلوں بھرا آسمان ملے گا۔ لیکن ہمیں ڈرنا نہیں ہے، ننگے پاوں اُن راستوں پر بس چلتے ہی جانا ہے۔ اگرکہیں پھول یا ہریالی نظر آئے تو بھی نہیں رُکنا ۔ مَیں نے اپنی سہیلیوں سے تو کچھ نہیں پوچھا لیکن مجھے بہت ڈر لگنے لگا۔ گھر پہنچ کر امّی پاپا سے بات چیت کیے بغیر مَیں نے اسکول کا ڈریس بدلا اور اپنے کمرے میں جاکر بیڈ پر لیٹ گئی ۔

مزید پڑھیے۔۔۔

بھول بھلکڑ

 کسی جنگل میں ایک ننھا منا ہاتھی رہا کرتا تھا۔ نام تھا جگنو۔ میاں جگنو ویسے تو بڑے اچھے تھے۔ ننھی سی سونڈ، ننھی سی دم اور بوٹا سا قد، بڑے ہنس مکھ اور یاروں کے یار، مگر خرابی یہ تھی کہ ذرا دماغ کے کمزور تھے۔ بس کوئی بات ہی نہیں رہتی تھی۔ امی جان کسی بات کو منع کرتیں تو ڈر کے مارے ہاں تو کرلیتے مگر پھر تھوڑی ہی دیر بعد بالکل بھول جاتے اور اس بات کو پھر کرتے لگتے۔ ابا جان پریشان تھے تو امی جان عاجز، تمام ساتھی میاں جگنو کا مذاق اڑاتے اور انہیں بھول بھلکڑ کہا کرتے۔

ابا جان میاں جگنو کا کان زور سے اینٹھ کر کہتے۔ دیکھو بھئی جگنو۔ تم نے تو بالکل ہی حد کردی۔ بھلا ایسا بھی دماغ کیا کہ کوئی بات یاد ہی نہ رہے۔ تم باتوں کو یاد رکھنے کی کوشش کیا کرو۔ ہاتھی کی قوم تو بڑے تیز دماغ ہوتی ہے۔ برس ہا برس کی باتیں نہیں بھولتی۔ مگر خدا جانے تم کس طرح کے ہاتھی ہو۔اگر تمہاری یہی حالت رہی تو تم سارے خاندان کی ناک کٹوادو گے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

سبزی پکی یا نہیں

’’امی جان ! آج کیا پکایا ہے؟‘‘ آٹھ سالہ راشد جیسے ہی سکول سے گھر آیا تو سوال کیا۔

’’بیٹا! بھنڈی پکی ہے۔ آپ جلدی سے کپڑے بدل لو  ۔ میں کھانا لگاتی ہوں۔‘‘ امی جان نے شفقت سے کہا۔

’’نہیں!  آج پھر بھنڈی! اف! میں کھانا نہیں کھاؤں گا۔بس!‘‘ راشد نے منہ بنایا اور بھاگ کر کمرے میں چلاگیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

راشد اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا۔ اس کے والدین اس کو بہت چاہتے تھے اور اس کی ہر خواہش پوری کرنے کی کوشش کرتے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کی پوری کوشش ہوتی کہ وہ راشد کو اچھے  سے اچھا اور صحت مند کھانا کھلائیں ۔ اس کے لیے امی جان نے گھر میں ایک فوڈ چارٹ بھی لگا رکھا تھاجس پر ایک  معتدل روٹین درج تھی۔ 


مزید پڑھیے۔۔۔

دوستی اور ایثار

کسی بادشاہ کے دربار میں بہت سے خدمت گاروں میں دو گہرے دوست بھی تھے ۔ باقر دریا سے پانی بھر کر لاتا تھااور عاقل سوداسلف لانے اور کھانے پکانے پر مامور تھا۔ عاقل نہایت لاپروا اور فضول خرچ تھا ، مگر اس کے ساتھ نہایت ذہین بھی تھا۔ سلطنت کے بعض ایسے کام جن کو حل کرنے میں بادشاہ اور اس کے وزیر کو وقت پیش آتی ، اور وہ مسئلہ جب عاقل کے علم میں آتا تو وہ اسے نہایت آسانی سے حل کردیتا ۔ اپنی اسی خوبی کی وجہ سے عاقل بادشاہ کی نظر میں ایک خاص مقام رکھتا تھا۔ بادشاہ اکثر اسے بہت سے انعامات سے نوازتا رہتا ۔

باقر عام سی سمجھ بوجھ رکھنے والا شخص ، مگر وہ کسی بھی قسم کی فضول خرچی واسراف کو سخت ناپسند کرتا تھا۔ عاقل باورچی کانے میں کام کے دوران کھانے پینے کا بہت سا سامان اپنی لاپروائی سے ضائع کردیتا ، بلکہ پانی بھی بے تحاشا ضائع کرتا ۔ باقر عاقل کو ہمیشہ ٹوکٹا رہتا ۔ جواب میں عاقل کہتا : تم مجھے پانی کے استعمال پر اس لیے ٹوکتے ہو کہ تمھیں زیادہ پانی نہ لانا پڑے اور تم مشقت سے بچ جاؤ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ تم نہایت کنجوس بھی ہو ۔

مزید پڑھیے۔۔۔

سیدھا سادا عبدو 2

 

’’ارے وہی جو تم نے اتوار والے روز بھیجی تھی۔ لو بھئی! عبدو کی ماں ہو ناں۔ بھول گئی ہو تم بھی۔‘‘ خالہ جان نے امی سے کہا اور مسکراتے ہوئے نانی جان کے پاس بیٹھ گئیں۔

امی نے عبدو کو دیکھا۔ وہ سمجھ چکی تھیں ضرور عبدو نے گڑ بڑ کی ہے۔

’’جلدی بتاؤ! سوجی کا حلوہ کہاں گیا؟‘‘ امی جان ڈنڈا لیے سر پر آن کھڑی ہوئی تھیں۔ نانی جان سنبھلتے ہوئے تخت سے نیچے اتریں اور عبدو کو اپنے ساتھ چمٹا لیا۔


مزید پڑھیے۔۔۔

بخشو کے اونٹ

پیارے بچو!سندھ کے ریگستانی علاقے میں ایک چھوٹا سا گاؤں تھا۔یہ کہانی اس گاؤں کے ایک لڑکے کی ہے جس کانام خدا بخش تھا۔ سب گاؤں والے خدابخش کو بخشو کے نام سےپکارتے تھے۔

یہ گاؤں صحرائے تھر کے ساتھ لگتا تھا جس کی وجہ سے گاؤں والوں کے لئے پینے کا پانی حاصل کرنا ایک بہت بڑا مسئلہ تھا۔ گاؤں کے لوگ اپنی زندگیوں کا قیمتی وقت پانی کی تلاش میں گزار دیتے تھے۔ کبھی سال میں ایک آدھ بار بارش ہو جاتی تھی اور پانی گڑھوں یا تالابوں کی شکل میں جمع ہو جاتا تو گاؤں والے وہاں سے پانی حاصل کرتے۔ گاؤں میں کئی جگہوں پر سینکڑوں فٹ گہرے کنویں تھے۔ گاؤں والوں کو کئی کئی میل کا سفر طے کر کے پانی لینے جانا پڑتا۔ ان ساری مشکلات میں وہ اونٹوں کی مدد لیتے تھے کینونکہ صحرا میں ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرنا اونٹوں کے بغیر ممکن نہیں اس لئے گاؤں کے اکثر لوگوں کے پاس اونٹ تھے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

سیدھا سادا عبدو

 arrownew e0ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک چھوٹا سا لڑکا عبدو رہتا تھا۔ عبدو کا کوئی کام سیدھا نہیں تھا۔ جب وہ بوتل سے پانی گلاس میں ڈالنے لگتا ، تو پانی یہاں وہاں گر جاتا۔ وہ روٹی کا نوالہ بناتا تو انگلیاں آدھی آدھی شوربے میں ڈبو لیتا۔ جب وہ ہوم ورک کرنے بیٹھتا تو اس کا ربر گم جاتا اور کبھی پنسل بنی ہوئی نہ ہوتی۔ کبھی اس کی امی اسے نکڑ کی دکان پر بھیجتیں کہ کچھ ٹماٹر لے آؤ۔ عبدو جب تک دکان پر پہنچتا اسے بھول چکا ہوتا کہ اس نے کیا لانا تھا۔ کبھی وہ توریوں کی جگہ ٹینڈے لے آتا کبھی پودینے کی جگہ پالک۔

ایک بار عبدو کی امی نے سوجی کا حلوہ بنایا اور عبدو کو دیتے ہوئے کہا۔

’’یہ حلوہ خالہ جان کے گھر دے آؤ۔ دیکھو! سیدھے جانا اور سیدھے آنا۔‘‘

عبدو نے غور سے امی کی بات سنی اور سر ہلا دیا۔ پھر اس نے حلوہ کا ٹفن پکڑا اور گھر سے چل دیا۔ وہ ناک کی سیدھ میں چلا جارہا تھا کہ اچانک اسے اپنا دوست ماجو مل گیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

جب نینی نے تتلی پکڑی

  ’’مما آج تو ہم باغ جائیں گے ناں ۔۔۔ ‘‘ چھ سالہ نینی نے ماکے پا س آکر لاڈ بھرے انداز میں کہا۔

’’ بالکل نینی! آج چونکہ موسم بھی اچھا ہو رہا ہے تو آج ہم ضرور چلیں گے باغ ۔۔۔۔‘‘ مسز وقار نے اسے مسکرا کر دیکھتے ہوئے کہا 
’’
مگر ۔۔۔‘‘ مسز وقار کہہ کر رکیں اور نینی منہ اٹھا کرسوالیہ انداز میں ماں کو دیکھنے لگی۔
’’
جانے سے پہلے آپ کو اپنا گھر کاکام مکمل کرنا ہو گا ‘‘ انہوں نے بات مکمل کی ۔
’’
جی مما! میں اپنا کام ضرور پورا کر کے جاؤں گی ۔۔کیونکہ واپسی پر بہت تھکن ہو جائے گی پھر کام کرنے کو دل نہیں چاہے گا ناں ‘‘۔ نینی بڑوں کی طرح اپنی بات مکمل کی ۔
’’
شاباش ! میری بیٹی تو بہت سمجھدار ہے ۔۔‘‘ مسز وقار نے محبت سے نینی کے ماتھے پر پیار اور کہا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

نیکی کا ہوم ورک

 پیارے بچو ! ولی ایک بہت ہی پیارا بچہ ہے ۔  وو گھر کےقریب ہی واقع ایک سکول میں پڑھتا ہے ۔ ولی پہلی جماعت میں پڑھتا ہے۔ آفس جاتے ہوئے اس کے بابا اس کو سکول چھوڑتے ہیں اور چھٹی ٹائم اسکی امی اسے سکول سے لاتی ہیں۔   دونوں ماں بیٹا راستے میں ایک دوسرے سے بہت سی باتیں کرتےہیں۔

کل جب ولی کی امی اسے سکول سے لینے آئیں تو ولی کسی سوچ میں گم اورچپ چپ سا تھا ۔ امی نے حسب معمول ولی کو پیار کیا اور اس کے ہاتھ سے بیگ لے لیا ۔

"آج میرا بیٹا چپ کیوں ہے ؟" امی نے تھوڑا سا چلنے کے بعد محسوس کیا توکہا ۔

مزید پڑھیے۔۔۔

فائدہ

 کمپیوٹر کلاس شروع ہوتے ہی پوری کلاس کے طلبہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کیونکہ پانچویں جماعت کے ہر ایک طالب علم کو کمپیوٹر لیب جانے کا بے تابی سے انتظار ہوتا ۔ہر ہفتے کے دو پیریڈز میں پندرہ پندر ہ طلبہ کو لیب میں بھیجا جاتا۔

سر عمار کے کلاس میں آمد پر سب نے پر جوش سلام کیا۔

’’جی سر آج ہم سے کون جائے گا؟‘‘ حمدان نے بے چین ہوکر پوچها۔

تھوڑی سی بات چیت کے بعد سر عمار نے 15 طلبہ  کے نام لیے اور باقی طلبہ کو کلاس ورک کرنے کو کہا۔ان طلبہ میں  بارہ سالہ حمدان بھی شامل تھا۔ لیب میں پہنچ کر سب نے اپنے اپنے کمپیوٹر آن کیے اور کام میں مشغول ہو گئے۔

چھٹی کی بیل بجتے ہی تمام لڑکوں نے کمپیوٹر آف کیےاور باہر کی جانب بڑھ گئے۔ سوائے حمدان کے کیونکہ وہ ابھی تک کام میں مشغول تھا۔ اس کا خیال تھا تھوڑا سا ہی کام رہ گیا ہے۔ پانچ دس منٹ تک میں بھی اٹھتا ہوں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اور علی بدل گیا

’’وہ دیکھو! وہ دیکھو! لنگڑے بابا جا رہے ہیں! ہی ہی ہی!‘‘

علی نے گلی میں جاتے ہوئے امجد صاحب کا مذاق اڑایا اور سب دوست ہنسنے لگے۔ امجد صاحب کا کچھ عرصے پہلے ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا۔ ان کی ٹانگ میں چوٹ آئی تھی جس کی وجہ سے وہ لنگڑا کر چلتے لگے تھے۔

تھوڑی دیر بعد زرنیہ خالہ سبزی لینے گھر سے نکلیں تو علی نے پھر نعرہ لگایا۔

’’کالی خالہ ۔۔ آفت کی پرکالہ!‘‘ زرینہ خالہ نے مڑ کر علی کو گھور تے ہوئے دیکھا اور دکان پر چلی گئیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے

 امجد کی نگاہ اک گاڑی پہ پڑی جو چند لمحے پہلے ہی سنگل پہ آکر رکی تھی۔ گاڑی کے فرنٹ شیشے پہ کسی پرندے نےاپنا کام کر دکھایا تھا۔ وہ بڑی پھرتی سے گاڑی کی جانب لپکا۔

مبادا کوئی اور بچہ پہلے پہنچ جائے اور اسکے ہاتھ سے کام لے لے۔

اس نے وائپر ایک ہاتھ میں پکڑا اور دوسرے میں سرف میں دبویا ہوا اسپنج اور لگا شیشہ صاف کرنے۔

’’اے لڑکے! کس نے کہا تم سے صاف کرنے کو؟‘‘

زبیر صاحب کی کڑک دار آواز سہم کے رہ گیا۔

’’پتہ نہیں کہاں سے چلے آتے ہیں۔ اپنا پیشہ بنالیا ہے مسکین شکل بناکے ذرا سا ہاتھ چلاکے پیسے بٹورنے کا!"

زبیر صاحب کا پارہ چڑھا ہوا تھا۔وہ مسلسل بڑبڑا رہے تھے۔

امجد کو لگا کوئی اس کے دل کو کاٹ رہا ہے۔اس کو کام شروع کیے  ابھی کچھ ہی دن ہوئے تھے۔  اتنے تلخ الفاظ اس نے پہلی بار سنے تھے۔

’’صاحب جی آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔ میں محنت مزدوری کرکے عزت کی روٹی کماتا ہوں۔ ‘‘

وہ تھوڑی دیر رکا اورگال پہ آئے آنسو پونچھے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

بارش کا پہلا قطرہ

شدید گرمیو ں کے دن تھے۔ ابھی سکول میں چھٹیاں ہونے میں کچھ دن باقی تھے۔ بیلا اپنا سکول کا بستہ اٹھائے ہوئے تھکے ہوئے قدموں سے گھر کی طرف جانے والی راہ پر سر جھکائے جا رہی تھی۔ سر پر رکھی ہوئی ٹوپی اسے دھوپ سے بچانے کو ناکافی تھی۔ لیکن اسے پڑھنے کا بہت شوق تھا اور اسی شوق میں وہ گھر سے اتنی دور واقع سکول پیدل چل کر آتی جاتی تھی۔ پانی کی بوتل میں تھوڑا سا پانی باقی تھا۔ بیلا سخت پیاس محسوس کر رہی تھی۔ لیکن اس نے سوچا کہ چند قدموں پر واقع جو برگد کا بوڑھا درخت ہے وہ اس کے نیچے تھوڑی دیر رک کر پانی بھی پی لے گی اور درخت کی چھاؤں میں تھوڑی دیر آرام بھی کر لے گی۔ وہ درخت کے نیچے جا کر بیٹھ گئی اس نے بوتل کا ڈھکن کھولا اورجیسے ہی پانی پینے لگی اسے ایک آواز سنائی دی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

شاہی حکیم کا نسخہ

 یونان میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ وہ بڑا نیک دل اور دانش مند تھا،اسی لیے عقل مندوں اور حکیموں کا بڑا قدر دان تھا، خود بھی بہت بڑا عالم تھا اور عالموں کی بہت زیادہ قدر کرتا۔اسے اچھی اچھی باتیں لکھوانے اور انہیں اپنے کتب خانے میں جمع کرنے کا بہت شوق تھا۔ دس برس کے عرصے میں اس نے سینکڑوں کتابیں جمع کرلی تھیں، وہ ان نادر کتب کا مطالعہ کرکے بہت خوش ہوا کرتا۔

بادشاہ ایک دن بیٹھا مطالعے میں مصروف تھا کہ اسے خیال آیا، کتب خانے میں ایسی کوئی کتاب موجود نہیں جس میں انسانی جسم کی تمام بیماریوں کی علامت اور ان کا علاج تحریر ہو، اس نے فیصلہ کیا کہ وہ ایسی کتاب ضرور لکھوائے گا۔
بادشاہ نے اسی وقت شاہی حکیم کو بلایا اور کہا۔ حکیم صاحب میں چاہتا ہوںکہ آپ حکمت پر ایسی کتاب لکھیں جس میں تمام انسانی بیماریوں کی علامات اور ان کا علاج تحریر ہو۔

مزید پڑھیے۔۔۔

سب سے اچھا قلم

چھٹی کا دن تھا۔امی جان لاؤنج میں ناشتہ لگاچکی تھیں ۔سب ہی دسترخوان پر موجود تھے سوائے محمد امین کے جو صبح سے ہی اپنے کمرے کی سیٹنگ میں مگن تھا۔چند لمحے انتظار کے بعد انہوں نے اس کے کمرے جھانکا۔

’’بیٹاآؤ ناشتہ کرلو۔‘‘
’’جی امی جان آتاہوں ۔‘‘اس نے اپنے ارد گرد بکھرے  مختلف  رنگ و سائز کے قلم اور پنسلوں کوسمیٹا اور ہاتھ دھوکر ناشتے کی میز سلام کرکے براجمان ہوگیا۔
’’وعلیکم سلام بیٹانکل آئے ہو اپنی پنسلوں کے گھیرے سے ۔‘‘باباجان مسکراتے ہوئے بولے۔
’’جی باباجان۔‘‘جواباًوہ ہنس پڑا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کل ہی

 ’’انعم پلیز ضد مت کرو ۔ جب سے رزلٹ آیا ہے ایک ہی رٹ لگائی ہوئی ہے۔ تمھیں کتنی مرتبہ سمجھایا ہے کہ ہمارے خاندان میں لڑکیاں بہت زیادہ نہیں پڑھتیں ۔ تمھیں جتنا پڑھاسکتے تھے پڑھوادیا۔‘‘ امی نے آخر کار جھنجھلائے ہوئے لہجے میں کہا۔

’’مگرامی آپ ایک مرتبہ ابو سے بات کریں تو سہی۔‘‘  انعم کہ رہی تھی۔ اس کے لہجے میں امید  کی کرن تھی۔

 ’’ بیٹا تمھیں تمہارے ابو نے بارھویں جماعت تک پڑھوادیا۔ میرے ابا نے تو مجھے آٹھویں جماعت سے ہی اسکول جانے سے منع کردیا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ لڑکیوں کا کام گھر سنبھالنا ہوتا ہے ۔‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔