Web Kahanian
     markazi safha ttlion key des men   fati or billu ki kahanian men zindagi new   Kahanian hi Kahanian Tehreer Bhejen

Fati or

        درمیانی عمر کے  بچے زندگی کے مناظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہیں نصیحت کی لمبی چوڑی باتیں کم ہی بھاتی ہیں۔ پھر ان کو کیسے بتایا جائے  کہ  آنے والے دور کے زینے کیسے چڑھنے ہیں؟ یہ جاننے کے لیے فاتی اور بلّو کی کہانیاں ضرور پڑھیں۔


 

اور علی بدل گیا

arrownew e0’’وہ دیکھو! وہ دیکھو! لنگڑے بابا جا رہے ہیں! ہی ہی ہی!‘‘

علی نے گلی میں جاتے ہوئے امجد صاحب کا مذاق اڑایا اور سب دوست ہنسنے لگے۔ امجد صاحب کا کچھ عرصے پہلے ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا۔ ان کی ٹانگ میں چوٹ آئی تھی جس کی وجہ سے وہ لنگڑا کر چلتے لگے تھے۔

تھوڑی دیر بعد زرنیہ خالہ سبزی لینے گھر سے نکلیں تو علی نے پھر نعرہ لگایا۔

’’کالی خالہ ۔۔ آفت کی پرکالہ!‘‘ زرینہ خالہ نے مڑ کر علی کو گھور تے ہوئے دیکھا اور دکان پر چلی گئیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

بارش کا پہلا قطرہ

شدید گرمیو ں کے دن تھے۔ ابھی سکول میں چھٹیاں ہونے میں کچھ دن باقی تھے۔ بیلا اپنا سکول کا بستہ اٹھائے ہوئے تھکے ہوئے قدموں سے گھر کی طرف جانے والی راہ پر سر جھکائے جا رہی تھی۔ سر پر رکھی ہوئی ٹوپی اسے دھوپ سے بچانے کو ناکافی تھی۔ لیکن اسے پڑھنے کا بہت شوق تھا اور اسی شوق میں وہ گھر سے اتنی دور واقع سکول پیدل چل کر آتی جاتی تھی۔ پانی کی بوتل میں تھوڑا سا پانی باقی تھا۔ بیلا سخت پیاس محسوس کر رہی تھی۔ لیکن اس نے سوچا کہ چند قدموں پر واقع جو برگد کا بوڑھا درخت ہے وہ اس کے نیچے تھوڑی دیر رک کر پانی بھی پی لے گی اور درخت کی چھاؤں میں تھوڑی دیر آرام بھی کر لے گی۔ وہ درخت کے نیچے جا کر بیٹھ گئی اس نے بوتل کا ڈھکن کھولا اورجیسے ہی پانی پینے لگی اسے ایک آواز سنائی دی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

شاہی حکیم کا نسخہ

 یونان میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ وہ بڑا نیک دل اور دانش مند تھا،اسی لیے عقل مندوں اور حکیموں کا بڑا قدر دان تھا، خود بھی بہت بڑا عالم تھا اور عالموں کی بہت زیادہ قدر کرتا۔اسے اچھی اچھی باتیں لکھوانے اور انہیں اپنے کتب خانے میں جمع کرنے کا بہت شوق تھا۔ دس برس کے عرصے میں اس نے سینکڑوں کتابیں جمع کرلی تھیں، وہ ان نادر کتب کا مطالعہ کرکے بہت خوش ہوا کرتا۔

بادشاہ ایک دن بیٹھا مطالعے میں مصروف تھا کہ اسے خیال آیا، کتب خانے میں ایسی کوئی کتاب موجود نہیں جس میں انسانی جسم کی تمام بیماریوں کی علامت اور ان کا علاج تحریر ہو، اس نے فیصلہ کیا کہ وہ ایسی کتاب ضرور لکھوائے گا۔
بادشاہ نے اسی وقت شاہی حکیم کو بلایا اور کہا۔ حکیم صاحب میں چاہتا ہوںکہ آپ حکمت پر ایسی کتاب لکھیں جس میں تمام انسانی بیماریوں کی علامات اور ان کا علاج تحریر ہو۔

مزید پڑھیے۔۔۔

سب سے اچھا قلم

چھٹی کا دن تھا۔امی جان لاؤنج میں ناشتہ لگاچکی تھیں ۔سب ہی دسترخوان پر موجود تھے سوائے محمد امین کے جو صبح سے ہی اپنے کمرے کی سیٹنگ میں مگن تھا۔چند لمحے انتظار کے بعد انہوں نے اس کے کمرے جھانکا۔

’’بیٹاآؤ ناشتہ کرلو۔‘‘
’’جی امی جان آتاہوں ۔‘‘اس نے اپنے ارد گرد بکھرے  مختلف  رنگ و سائز کے قلم اور پنسلوں کوسمیٹا اور ہاتھ دھوکر ناشتے کی میز سلام کرکے براجمان ہوگیا۔
’’وعلیکم سلام بیٹانکل آئے ہو اپنی پنسلوں کے گھیرے سے ۔‘‘باباجان مسکراتے ہوئے بولے۔
’’جی باباجان۔‘‘جواباًوہ ہنس پڑا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کل ہی

 ’’انعم پلیز ضد مت کرو ۔ جب سے رزلٹ آیا ہے ایک ہی رٹ لگائی ہوئی ہے۔ تمھیں کتنی مرتبہ سمجھایا ہے کہ ہمارے خاندان میں لڑکیاں بہت زیادہ نہیں پڑھتیں ۔ تمھیں جتنا پڑھاسکتے تھے پڑھوادیا۔‘‘ امی نے آخر کار جھنجھلائے ہوئے لہجے میں کہا۔

’’مگرامی آپ ایک مرتبہ ابو سے بات کریں تو سہی۔‘‘  انعم کہ رہی تھی۔ اس کے لہجے میں امید  کی کرن تھی۔

 ’’ بیٹا تمھیں تمہارے ابو نے بارھویں جماعت تک پڑھوادیا۔ میرے ابا نے تو مجھے آٹھویں جماعت سے ہی اسکول جانے سے منع کردیا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ لڑکیوں کا کام گھر سنبھالنا ہوتا ہے ۔‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

باتونی لڑکی

 میری چھوٹی بہن شنّو بڑی باتونی لڑکی ہے۔ ابھی اسکول سے آ کر بستہ رکھا بھی نہ تھا کہ اسکول کا قصہ لے بیٹھی۔

امی جان جھنجھلا کر بولیں۔ ’’اے لڑکی ! تجھے کیا بھوک نہیں لگتی؟ دوسروں کے بچے اسکول سے آتے ہی کھانا مانگتے ہیں، لیکن تو ہے کہ باتیں کئے جا رہی ہے، پہلے کھانا کھا لے، پھر بک بک کرنا۔ ‘‘

شنو کھانا کھانے کے لئے بیٹھ تو گئی مگر کیا مجال جو کھانا کھاتے وقت بھی اُس کی زبان بند رہتی، کوئی سُنے یا نہ سُنے اُسے اِس کی پرواہ نہیں، اُس کا کام تو بولنا ہے، وہ بولنے سے کبھی نہیں تھکتی، لگاتار بولتی رہتی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

رحم کرنے والا

"تمہاری  ہمت کیسی ہوئی  میرے بیٹ  کو ہاتھ لگانے کی ، تمہیں پتہ  ہے  یہ کتنا مہنگا بیٹ  ہے۔  ماموں جان  نےآسٹریلیا  سے میری برتھ ڈے  پر گفٹ بھیجا  ہے اور تم اسے خراب  کرنا چاہتے ہو ۔؟  تمہاری اوقات  بھی ہے  ایسا  بیٹ  خریدنے کی؟  آئندہ اگر  میری  کسی چیز  کو ہاتھ لگایا   تو تمہارے  ہاتھ توڑ دوں گا میں ، دفع  ہو  جاؤ  اب یہاں سے۔ "

ارحم انتہائی  حقارت  سے مالی بابا کے  بچے کو ڈانٹ رہا تھا حالانکہ  بے چارے بچے نے  بس  اس کے نئے بیٹ  کو بس چھوا  ہی تھا  ،لیکن  ارحم نے  انتہائی  بری طرح اس کو جھڑک  دیا۔

بیچارہ آٹھ سالہ  ناصر روتے ہوے اپنے کوارٹر  کی طرف بھاگ گیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

خواب والی پرنسپل

 ’’ماریہ تم  نےیہ رونی شکل کیوں بنائی ہوئی ہے؟‘‘

حرا نے ماریہ کا اداس چہرے دیکھتے ہی سوال جھاڑا۔

’’کیا بتاؤں حرا!!میں آج دوپہر کو اتنا حسین خواب دیکھ رہی تھی کہ عین کلائیمکس کے وقت امی حضور سر پہ آدھمکیں۔وہ جھنجھوڑاکہااللہ کی پناہ۔میں سر تا پا ہل کے رہ گئی اور خواب سب بھک سے اڑ گیا۔‘‘وہ افسردگی سے آہ بھر کے رہ گئی۔

’’ویسے انھوں نے ایسا کیا کیوں ماریہ؟‘‘

حرا نے رازداری سے پوچھا۔

’’انہیں سوئی میں دھاگا جو دلوانا تھا اور کافی دیر سے مجھے آوازیں دے رہی تھیں!‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

نور کی گنتی

 ’’بیٹایہ پانچ سو روپے ہیں ۔‘‘باباکے یہ کہتے ہی وہ اچھل پڑی۔

’’کیاواقعی ؟‘‘سات سالہ  نور باباکو ناقابل یقین نگاہوں سے دیکھنے لگی۔
’’ہاں بیٹا!‘‘
’’یہ ۔۔کیسے ہوسکتاہے !‘‘ نور بڑبڑائی۔
’’یہ ہوسکتاہے تبھی تو ہوا ہے۔‘‘ بابامسکرائے۔
’’لیکن بابامیں نے بھی تو گنتی کی تھی لیکن اتنے تو نہ تھے ۔‘‘ وہ مصر تھی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

بھول بھلکڑ

 کسی جنگل میں ایک ننھا منا ہاتھی رہا کرتا تھا۔ نام تھا جگنو۔ میاں جگنو ویسے تو بڑے اچھے تھے۔ ننھی سی سونڈ، ننھی سی دم اور بوٹا سا قد، بڑے ہنس مکھ اور یاروں کے یار، مگر خرابی یہ تھی کہ ذرا دماغ کے کمزور تھے۔ بس کوئی بات ہی نہیں رہتی تھی۔ امی جان کسی بات کو منع کرتیں تو ڈر کے مارے ہاں تو کرلیتے مگر پھر تھوڑی ہی دیر بعد بالکل بھول جاتے اور اس بات کو پھر کرتے لگتے۔ ابا جان پریشان تھے تو امی جان عاجز، تمام ساتھی میاں جگنو کا مذاق اڑاتے اور انہیں بھول بھلکڑ کہا کرتے۔

ابا جان میاں جگنو کا کان زور سے اینٹھ کر کہتے۔ دیکھو بھئی جگنو۔ تم نے تو بالکل ہی حد کردی۔ بھلا ایسا بھی دماغ کیا کہ کوئی بات یاد ہی نہ رہے۔ تم باتوں کو یاد رکھنے کی کوشش کیا کرو۔ ہاتھی کی قوم تو بڑے تیز دماغ ہوتی ہے۔ برس ہا برس کی باتیں نہیں بھولتی۔ مگر خدا جانے تم کس طرح کے ہاتھی ہو۔اگر تمہاری یہی حالت رہی تو تم سارے خاندان کی ناک کٹوادو گے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کامیاب انسان

 میں تیز رفتاری کے ساتھ سائیکل چلا رہا تھا۔سانس پھول رہاتھا۔موسم میں حبس کے باعث جسم پسینہ سے شرابور ہوچکاتھا۔ میری نظرباربار دستی گھڑی کی جانب جارہی تھی۔ کوشش تھی کہ بروقت ٹیوشن سینٹر پہنچ جاؤں۔ دراصل آج اسکول سے آنے کے بعد کھانے کے بعد جو سویا تو عین عصر کی اذان کے وقت آنکھ کھلی۔ بھاگم بھاگ گھر سے نکل کر مرکزی سڑک پر آیا تو جیسے جیسے آگے بڑھتاگیا ، ویسے ویسے سڑک پر ٹریفک جام دکھائی دے رہا تھا۔ ہجوم اتنا تھا کہ محاورۃً نہیں حقیقتاً کھوئے سے کھوا چل رہا تھا ۔ اس صورت حال نے میرے اوپر مزید جھنجلاہٹ اور بے زاری طاری کردی۔ میں نے خطرات کے باوجود عجلت سے کام لیتے ہوئے مخالف سڑک پر سائیکل ڈال دی اور پوری قوت سے پینڈل پر پاؤں مارنے لگا۔ جلد ہی میں سر راشد کے دروازے پر کھڑا تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

دوستی اور ایثار

کسی بادشاہ کے دربار میں بہت سے خدمت گاروں میں دو گہرے دوست بھی تھے ۔ باقر دریا سے پانی بھر کر لاتا تھااور عاقل سوداسلف لانے اور کھانے پکانے پر مامور تھا۔ عاقل نہایت لاپروا اور فضول خرچ تھا ، مگر اس کے ساتھ نہایت ذہین بھی تھا۔ سلطنت کے بعض ایسے کام جن کو حل کرنے میں بادشاہ اور اس کے وزیر کو وقت پیش آتی ، اور وہ مسئلہ جب عاقل کے علم میں آتا تو وہ اسے نہایت آسانی سے حل کردیتا ۔ اپنی اسی خوبی کی وجہ سے عاقل بادشاہ کی نظر میں ایک خاص مقام رکھتا تھا۔ بادشاہ اکثر اسے بہت سے انعامات سے نوازتا رہتا ۔

باقر عام سی سمجھ بوجھ رکھنے والا شخص ، مگر وہ کسی بھی قسم کی فضول خرچی واسراف کو سخت ناپسند کرتا تھا۔ عاقل باورچی کانے میں کام کے دوران کھانے پینے کا بہت سا سامان اپنی لاپروائی سے ضائع کردیتا ، بلکہ پانی بھی بے تحاشا ضائع کرتا ۔ باقر عاقل کو ہمیشہ ٹوکٹا رہتا ۔ جواب میں عاقل کہتا : تم مجھے پانی کے استعمال پر اس لیے ٹوکتے ہو کہ تمھیں زیادہ پانی نہ لانا پڑے اور تم مشقت سے بچ جاؤ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ تم نہایت کنجوس بھی ہو ۔

مزید پڑھیے۔۔۔

خوشی کے آنسو

 مسز سعید لمبی سی گاڑی سے اتریں۔  گھر میں داخل ہوتے ہی ملازمہ سے بولیں کہ جلدی سے کھانا میز پر لگا دو پھر مجھے اپنی ایک دوست کے گھر جانا ہے۔

 اتنے میں فیصل جو ان کا اکلوتا بیٹا تھا لاؤنج میں داخل ہوا۔ اس کے ساتھ اس کا دوست عمر بھی تھا۔

 عمر کو دیکھتے ہی مسز سعید کا منہ بن گیا۔ وہ فیصل کے غریب دوستوں کو بالکل پسند نہیں کرتی تھیں۔

’’ خیریت ہے عمر ! کیسے آنا ہوا؟   فیصل! میں نے کئی بار تم سے کہا ہے کہ جو بھی بات ہو تم لوگ یونیورسٹی میں ہی کرلیا کرو۔یوں ان ۔۔ کو گھر لانے کی کیا ضرورت ہے۔‘‘مسز سعید کے لہجے میں واضح حقارت تھی جس کو عمر نے بری طرح محسوس کیا۔
’’ ماما عمر کو کچھ کام ہے وہ اس لیے میرے ساتھ چلا آیا ہے۔‘‘ فیصل کو ماما کی ناپسندیدگی کا اچھی طرح علم تھا۔ اس لیے ہچکچاتے ہوئے بولا۔ ’’عمر کو کچھ سافٹ وئیر چاہیے تھے جن کی سی ڈی میرے پاس ہے۔ وہی دینی تھی۔‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

بخشو کے اونٹ

پیارے بچو!سندھ کے ریگستانی علاقے میں ایک چھوٹا سا گاؤں تھا۔یہ کہانی اس گاؤں کے ایک لڑکے کی ہے جس کانام خدا بخش تھا۔ سب گاؤں والے خدابخش کو بخشو کے نام سےپکارتے تھے۔

یہ گاؤں صحرائے تھر کے ساتھ لگتا تھا جس کی وجہ سے گاؤں والوں کے لئے پینے کا پانی حاصل کرنا ایک بہت بڑا مسئلہ تھا۔ گاؤں کے لوگ اپنی زندگیوں کا قیمتی وقت پانی کی تلاش میں گزار دیتے تھے۔ کبھی سال میں ایک آدھ بار بارش ہو جاتی تھی اور پانی گڑھوں یا تالابوں کی شکل میں جمع ہو جاتا تو گاؤں والے وہاں سے پانی حاصل کرتے۔ گاؤں میں کئی جگہوں پر سینکڑوں فٹ گہرے کنویں تھے۔ گاؤں والوں کو کئی کئی میل کا سفر طے کر کے پانی لینے جانا پڑتا۔ ان ساری مشکلات میں وہ اونٹوں کی مدد لیتے تھے کینونکہ صحرا میں ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرنا اونٹوں کے بغیر ممکن نہیں اس لئے گاؤں کے اکثر لوگوں کے پاس اونٹ تھے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اور حارث جیت گیا

اس کے لیے یہ خبر کسی صدمے سے کم نہیں تھی کہ اب وہ اپنے ہی گھر میں دادی اماں سے نہیں مل سکے گا، اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اس پر دادی اماں سے ملاقات پر پابندی کیوں عائد کردی گئی تھی۔

اگر اب میں نے تمہیں اماں کے ساتھ دیکھا تو اچھا نہیں ہوگا۔

امی کے ان الفاظ نے حارث کو اداس کردیا تھا، اس نے نم آنکھوں سے ابو کی طرف دیکھا لیکن ان کے جھکے ہوئے سر کو دیکھ کر وہ سمجھ گیا کہ وہ بھی اس فیصلے میں شامل ہیں یا شاید انہیں اس فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں۔ حارث بہت ہونہار، ذہن اور فرمانبردار بچہ اور ساتویں جماعت کا طالب علم تھا، پڑھائی اور کھیل سے فارغ ہونے کے بعد رات کو سونے سے پہلے دادی اماں سے مزیدار کہانی سننا گویا اس کے روزمرہ کا معمول تھا، وہ اپنی دادی سے بہت پیار کرتا تھا اور وہ بھی اسے بہت چاہتی تھیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

جب نینی نے تتلی پکڑی

  ’’مما آج تو ہم باغ جائیں گے ناں ۔۔۔ ‘‘ چھ سالہ نینی نے ماکے پا س آکر لاڈ بھرے انداز میں کہا۔

’’ بالکل نینی! آج چونکہ موسم بھی اچھا ہو رہا ہے تو آج ہم ضرور چلیں گے باغ ۔۔۔۔‘‘ مسز وقار نے اسے مسکرا کر دیکھتے ہوئے کہا 
’’
مگر ۔۔۔‘‘ مسز وقار کہہ کر رکیں اور نینی منہ اٹھا کرسوالیہ انداز میں ماں کو دیکھنے لگی۔
’’
جانے سے پہلے آپ کو اپنا گھر کاکام مکمل کرنا ہو گا ‘‘ انہوں نے بات مکمل کی ۔
’’
جی مما! میں اپنا کام ضرور پورا کر کے جاؤں گی ۔۔کیونکہ واپسی پر بہت تھکن ہو جائے گی پھر کام کرنے کو دل نہیں چاہے گا ناں ‘‘۔ نینی بڑوں کی طرح اپنی بات مکمل کی ۔
’’
شاباش ! میری بیٹی تو بہت سمجھدار ہے ۔۔‘‘ مسز وقار نے محبت سے نینی کے ماتھے پر پیار اور کہا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ایک دن کی آپی

Zaroor amal kru gi

اتوارکا دن تھا۔ فاتی نے کھیلنے کی غرض سے ابھی کھلونے جوڑے ہی تھے کہ اچانک آپی کی آواز آئی ۔

’’فاتی! فاتی!بہنابات سنو ناں!‘‘
’’جی آپی!‘‘
’’میری پیاری سی بہنا جلدی سے جاؤ اور میری سہیلی حمیراکو یہ رسالہ تو پکڑا آؤ ۔‘‘ آپی نے حکم دیا۔
’’اووں ..آپی ! میں کھیلنے لگی تھی۔ ‘‘ فاتی منمنائی ۔
’’ایک منٹ لگے گابس ۔گڑیا جاؤ ناں!‘‘ آپی نے پچکاراتوفاتی نہ چاہتے ہوئے بھی اٹھ کھڑی ہوئی ۔جاتے آتے تو دس منٹ لگ ہی گئے۔
واپس آ کرفاتی پھر کھلونوں میں مصروف ہوگئی۔ چند لمحے ہی گزرے تھے کہ آپی پھر فاتی کو پکارتے ہوئے آن وارد ہوئیں۔
’’فاتی بہناجلدی سے میرابلیک جوتا تو ڈھونڈلاؤ۔ مجھے ٹیوشن کے لیے دیر ہو رہی ہے ۔شاباش !‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

فائدہ

 کمپیوٹر کلاس شروع ہوتے ہی پوری کلاس کے طلبہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کیونکہ پانچویں جماعت کے ہر ایک طالب علم کو کمپیوٹر لیب جانے کا بے تابی سے انتظار ہوتا ۔ہر ہفتے کے دو پیریڈز میں پندرہ پندر ہ طلبہ کو لیب میں بھیجا جاتا۔

سر عمار کے کلاس میں آمد پر سب نے پر جوش سلام کیا۔

’’جی سر آج ہم سے کون جائے گا؟‘‘ حمدان نے بے چین ہوکر پوچها۔

تھوڑی سی بات چیت کے بعد سر عمار نے 15 طلبہ  کے نام لیے اور باقی طلبہ کو کلاس ورک کرنے کو کہا۔ان طلبہ میں  بارہ سالہ حمدان بھی شامل تھا۔ لیب میں پہنچ کر سب نے اپنے اپنے کمپیوٹر آن کیے اور کام میں مشغول ہو گئے۔

چھٹی کی بیل بجتے ہی تمام لڑکوں نے کمپیوٹر آف کیےاور باہر کی جانب بڑھ گئے۔ سوائے حمدان کے کیونکہ وہ ابھی تک کام میں مشغول تھا۔ اس کا خیال تھا تھوڑا سا ہی کام رہ گیا ہے۔ پانچ دس منٹ تک میں بھی اٹھتا ہوں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

آپا کی آہٹ

Zaroor amal kru gi

 ’’بیٹا ! تم کہاں تھے مغرب کے بعد سے؟‘‘ علی جیسے ہی گھر میں داخل ہواتو آپا نے سوال کیا۔

’’ کچھ نہیں آپا بس ایسے ہی دیر ہوگئی ۔‘‘ علی نے ہچکچاتے ہوئے جواب دیا۔
’’کیا مطلب؟‘‘ انہوں نے سختی سے پوچھا ۔

’’آپا وہ باہر جو چوکیدار خان بابا ہیں ناں! وہ کل سے بہت بیمار ہیں۔ میں ان کو لے کرمحلے کے  ڈاکٹر کے پاس لے گیا تھا۔وہاں رش تھا توباری کے انتظار میں دیر ہوگئی ۔‘‘
آپا حسبِ توقع یک دم برہم ہوگئیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے

 امجد کی نگاہ اک گاڑی پہ پڑی جو چند لمحے پہلے ہی سنگل پہ آکر رکی تھی۔ گاڑی کے فرنٹ شیشے پہ کسی پرندے نےاپنا کام کر دکھایا تھا۔ وہ بڑی پھرتی سے گاڑی کی جانب لپکا۔

مبادا کوئی اور بچہ پہلے پہنچ جائے اور اسکے ہاتھ سے کام لے لے۔

اس نے وائپر ایک ہاتھ میں پکڑا اور دوسرے میں سرف میں دبویا ہوا اسپنج اور لگا شیشہ صاف کرنے۔

’’اے لڑکے! کس نے کہا تم سے صاف کرنے کو؟‘‘

زبیر صاحب کی کڑک دار آواز سہم کے رہ گیا۔

’’پتہ نہیں کہاں سے چلے آتے ہیں۔ اپنا پیشہ بنالیا ہے مسکین شکل بناکے ذرا سا ہاتھ چلاکے پیسے بٹورنے کا!"

زبیر صاحب کا پارہ چڑھا ہوا تھا۔وہ مسلسل بڑبڑا رہے تھے۔

امجد کو لگا کوئی اس کے دل کو کاٹ رہا ہے۔اس کو کام شروع کیے  ابھی کچھ ہی دن ہوئے تھے۔  اتنے تلخ الفاظ اس نے پہلی بار سنے تھے۔

’’صاحب جی آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔ میں محنت مزدوری کرکے عزت کی روٹی کماتا ہوں۔ ‘‘

وہ تھوڑی دیر رکا اورگال پہ آئے آنسو پونچھے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ضرور عمل کروں گی

Zaroor amal kru gi

’’ امی امی ! کھانا کب لگے گا بہت زور دار بھوک لگی ہے ۔‘‘ ند ا نے کچن میں آتے ہی پوچھا۔ وہ اپنا ہوم ورک مکمل کر چکی تھی۔’’ندا! تمھارے ابو اور بھیا نماز پڑھ کر آجائیں تو کھانا لگاتے ہیں۔‘‘ امی جان نے کہا۔ 

تھوڑی ہی دیر میں ندا کی آواز بلند ہوئی ۔ ’’امی! ابو اور بھیا آگئے ! پھل بھی لائے ہیں۔ ‘‘ ابو کو پانی پلانے کے بعد ندا نے امی کے ساتھ مل کر پھل دھو کر فریج میں رکھے اور کھانے کے برتن کمرے میں لے گئی۔

تھوڑی دیر بعد سب کھانے میں مشغول ہو گئے۔ امی جان نے بہت مزیدار پلاؤ بنایا تھا۔ ندا جلدی جلدی کھا رہی تھی۔ اسی کوشش میں کچھ چاول پلیٹ سے نیچے گر گئے۔

مزید پڑھیے۔۔۔