Web Kahanian
     markazi safha ttlion key des men   fati or billu ki kahanian men zindagi new   Kahanian hi Kahanian Tehreer Bhejen

Fati or

        درمیانی عمر کے  بچے زندگی کے مناظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہیں نصیحت کی لمی چوڑی باتیں کم ہی بھاتی ہیں۔ پھر ان کو کیسے بتایا جائے  کہ  آنے والے دور کے زینے کیسے چڑھنے ہیں؟ یہ جاننے کے لیے فاتی اور بلّو کی کہانیاں ضرور پڑھیں۔


 

خوشی کے آنسو

arrownew e0  مسز سعید لمبی سی گاڑی سے اتریں۔  گھر میں داخل ہوتے ہی ملازمہ سے بولیں کہ جلدی سے کھانا میز پر لگا دو پھر مجھے اپنی ایک دوست کے گھر جانا ہے۔

 اتنے میں فیصل جو ان کا اکلوتا بیٹا تھا لاؤنج میں داخل ہوا۔ اس کے ساتھ اس کا دوست عمر بھی تھا۔

 عمر کو دیکھتے ہی مسز سعید کا منہ بن گیا۔ وہ فیصل کے غریب دوستوں کو بالکل پسند نہیں کرتی تھیں۔

’’ خیریت ہے عمر ! کیسے آنا ہوا؟   فیصل! میں نے کئی بار تم سے کہا ہے کہ جو بھی بات ہو تم لوگ یونیورسٹی میں ہی کرلیا کرو۔یوں ان ۔۔ کو گھر لانے کی کیا ضرورت ہے۔‘‘مسز سعید کے لہجے میں واضح حقارت تھی جس کو عمر نے بری طرح محسوس کیا۔
’’ ماما عمر کو کچھ کام ہے وہ اس لیے میرے ساتھ چلا آیا ہے۔‘‘ فیصل کو ماما کی ناپسندیدگی کا اچھی طرح علم تھا۔ اس لیے ہچکچاتے ہوئے بولا۔ ’’عمر کو کچھ سافٹ وئیر چاہیے تھے جن کی سی ڈی میرے پاس ہے۔ وہی دینی تھی۔‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

اور حارث جیت گیا

اس کے لیے یہ خبر کسی صدمے سے کم نہیں تھی کہ اب وہ اپنے ہی گھر میں دادی اماں سے نہیں مل سکے گا، اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اس پر دادی اماں سے ملاقات پر پابندی کیوں عائد کردی گئی تھی۔

اگر اب میں نے تمہیں اماں کے ساتھ دیکھا تو اچھا نہیں ہوگا۔

امی کے ان الفاظ نے حارث کو اداس کردیا تھا، اس نے نم آنکھوں سے ابو کی طرف دیکھا لیکن ان کے جھکے ہوئے سر کو دیکھ کر وہ سمجھ گیا کہ وہ بھی اس فیصلے میں شامل ہیں یا شاید انہیں اس فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں۔ حارث بہت ہونہار، ذہن اور فرمانبردار بچہ اور ساتویں جماعت کا طالب علم تھا، پڑھائی اور کھیل سے فارغ ہونے کے بعد رات کو سونے سے پہلے دادی اماں سے مزیدار کہانی سننا گویا اس کے روزمرہ کا معمول تھا، وہ اپنی دادی سے بہت پیار کرتا تھا اور وہ بھی اسے بہت چاہتی تھیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

سچ بولو ہمیشہ

سچ  بولو ہمیشہ

arrownew e0عائشہ  نے نانا  جان  کو تکیہ  رکھتے  ہوے  کہا  : "  آج آپ ہمیں کون سی کہانی سنائیں گے؟" نانا  جان نے عمارہ  اور محمد   کو اپنے پاس بٹھاتے  ہوے  کہا  :" میرے پیارے بچو ! آج  میں آپ  کو ایک سبق آموز  کہانی  سنانے  والا ہوں۔ "

محمد خوشی خوشی جگ سے  گلاس میں  پانی ڈال کر  نانا جان کو دینے لگا :" بس نانا جان  ہم سب سننے کے لئے

مزید پڑھیے۔۔۔

ایک دن کی آپی

Zaroor amal kru gi

اتوارکا دن تھا۔ فاتی نے کھیلنے کی غرض سے ابھی کھلونے جوڑے ہی تھے کہ اچانک آپی کی آواز آئی ۔

’’فاتی! فاتی!بہنابات سنو ناں!‘‘
’’جی آپی!‘‘
’’میری پیاری سی بہنا جلدی سے جاؤ اور میری سہیلی حمیراکو یہ رسالہ تو پکڑا آؤ ۔‘‘ آپی نے حکم دیا۔
’’اووں ..آپی ! میں کھیلنے لگی تھی۔ ‘‘ فاتی منمنائی ۔
’’ایک منٹ لگے گابس ۔گڑیا جاؤ ناں!‘‘ آپی نے پچکاراتوفاتی نہ چاہتے ہوئے بھی اٹھ کھڑی ہوئی ۔جاتے آتے تو دس منٹ لگ ہی گئے۔
واپس آ کرفاتی پھر کھلونوں میں مصروف ہوگئی۔ چند لمحے ہی گزرے تھے کہ آپی پھر فاتی کو پکارتے ہوئے آن وارد ہوئیں۔
’’فاتی بہناجلدی سے میرابلیک جوتا تو ڈھونڈلاؤ۔ مجھے ٹیوشن کے لیے دیر ہو رہی ہے ۔شاباش !‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

میرا جہاز مل گیا!

میرا جہاز مل گیا!

          Print

arrownew e0جیسے ہی فاتی اور بلو گھر میں داخل ہوئے، حیران رہ گئے۔ پورے گھر کی سیٹنگ بدل چکی تھی۔ بھیا  مالی انکل کے ساتھ پچھلے والے باغ میں مصروف تھے۔ پورا گھر چمک رہا تھا۔ امی کچن میں تھیں اور  مزیدار کھانوں کی خوشبو آ رہی تھی۔

’’فاتی اور بلو بیٹا! جلدی سے کپڑے بدل لو۔ آپ کی دادی جان آرہی ہیں۔ ‘‘ امی جان نے مسکراتے ہوئے بتایا۔

’’یا ہو!‘‘ فاتی اور بلو نے خوشی سے

مزید پڑھیے۔۔۔

آپا کی آہٹ

Zaroor amal kru gi

 ’’بیٹا ! تم کہاں تھے مغرب کے بعد سے؟‘‘ علی جیسے ہی گھر میں داخل ہواتو آپا نے سوال کیا۔

’’ کچھ نہیں آپا بس ایسے ہی دیر ہوگئی ۔‘‘ علی نے ہچکچاتے ہوئے جواب دیا۔
’’کیا مطلب؟‘‘ انہوں نے سختی سے پوچھا ۔

’’آپا وہ باہر جو چوکیدار خان بابا ہیں ناں! وہ کل سے بہت بیمار ہیں۔ میں ان کو لے کرمحلے کے  ڈاکٹر کے پاس لے گیا تھا۔وہاں رش تھا توباری کے انتظار میں دیر ہوگئی ۔‘‘
آپا حسبِ توقع یک دم برہم ہوگئیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

بسم اللہ کی برکت

بسم اللہ کی برکت

          Print

’’دادا جان! کہانی سنائیں ناں! ‘‘ سعد نے کہا تو دادا ابو نے عینک اتار کر سائیڈ ٹیبل پر رکھ دی۔ پھر کہنے لگے۔

’’اچھا ٹھیک ہے! سناتا ہوں۔‘‘ ابھی انہوں نے اتنا ہی کہا تھا کہ امی کمرے میں داخل ہوئیں۔ ان کے ہاتھ میں ٹرے تھی جس میں نیم گرم دودھ کے دو گلاس رکھے ہوئے تھے۔ ایک گلاس انہوں نے دادا ابو کو پکڑایا اور ایک سعد کوتھماتے ہوئے بولیں۔

’’بیٹا! کہانی بھی سنو اور دودھ بھی پی لو۔ ‘‘ یہ کہ کر انہوں نے سعد کو پیار کیا اور

مزید پڑھیے۔۔۔

ضرور عمل کروں گی

Zaroor amal kru gi

’’ امی امی ! کھانا کب لگے گا بہت زور دار بھوک لگی ہے ۔‘‘ ند ا نے کچن میں آتے ہی پوچھا۔ وہ اپنا ہوم ورک مکمل کر چکی تھی۔’’ندا! تمھارے ابو اور بھیا نماز پڑھ کر آجائیں تو کھانا لگاتے ہیں۔‘‘ امی جان نے کہا۔ 

تھوڑی ہی دیر میں ندا کی آواز بلند ہوئی ۔ ’’امی! ابو اور بھیا آگئے ! پھل بھی لائے ہیں۔ ‘‘ ابو کو پانی پلانے کے بعد ندا نے امی کے ساتھ مل کر پھل دھو کر فریج میں رکھے اور کھانے کے برتن کمرے میں لے گئی۔

تھوڑی دیر بعد سب کھانے میں مشغول ہو گئے۔ امی جان نے بہت مزیدار پلاؤ بنایا تھا۔ ندا جلدی جلدی کھا رہی تھی۔ اسی کوشش میں کچھ چاول پلیٹ سے نیچے گر گئے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

سائنس کی کاپی

سائنس کی کاپی

          Print

گرمیوں کی چھٹیاں ختم ہونے کو تھیں۔ فاتی اور بلو نے ویسے تو سارا ہوم ورک ختم کر لیا تھا لیکن ابھی سائنس کا ہوم ورک باقی تھا۔ یہ ایک ایکٹیویٹی تھی جس میں مختلف قسم کے پتے اکھٹے کر کے کاپی کے سادہ صفحے پر چپکانے تھے۔

اس دن شام کو ناصر ماموں چلے آئے۔ وہ  آرمی میں انجنئیر تھے اورنور پور بیس کمال آباد میں رہا کرتے تھے۔  کبھی کبھی راولپنڈی  اپنے زیر تعمیر مکان  کا چکر لگاتے تو فاتی اور بلو سے ملنے بھی ضرور آتے

مزید پڑھیے۔۔۔

نیم حکیم

Neem Hakeem

فاتی اور بلوّ کی دادی جان گاؤں سے آئی ہوئی تھیں۔ دادا ابو ہاسپٹل میں داخل تھے۔ اصل میں انہوں نے گاؤں میں ایک اناڑی حکیم سے دوا لے لی تھی جس کی وجہ سے ان کی طبیعت مزید بگڑ گئی۔ ابو جان نے اطلاع ملتے ہی فوراً ان کو بڑے ہسپتال میں داخل کروا دیا۔ ابھی بھی وہ ان کی تیمارداری کے لیے ہسپتال میں ہی تھے۔

رات ہو چلی تھی لیکن نیند کس کو آتی۔ صبح ویسے بھی اتوار کا دن تھا۔ امی جان نے بھی فاتی اور بلوّ کو سونے کے لیے نہیں کہا۔ وہ دادی جان سے باتیں کر رہی تھیں۔

’’امی! نیم حکیم خطرہ ٔ جان ہوتا ہے۔ وہ تو شکر ہے کریم انکل نے ہمیں فون کر دیا ورنہ نہ جانے کیا ہو جاتا۔‘‘ امی جان نے دادی جان سے کہا۔

بلوّ کو سمجھ  نہ آئی ۔ وہ یکدم بول اٹھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

میری پنسل کہاں گئی؟

میری پنسل کہاں گئی؟

’’سٹوڈنٹس! اپنا کلاس ورک مانیٹر کو جمع کروادیں۔‘‘ سائنس کے سر ذیشان نے کہا تو سب بچے جلدی جلدی کاپیاں بند کرنے لگے۔ بلو نے بھی حاشیے کے اوپر تاریخ اور ’’کلاس ورک‘‘ لکھا اور کاپی بند کرکے مانیٹر احسن کا انتظار کرنے لگا جو کاپیاں اکھٹی کرتے کرتے اِسی سمت آرہا تھا۔ اگلا پیرڈ سر حسیب کا تھا جو اسلامیات پڑھایا کرتے تھے۔ 

’’اب آپ لوگ باب ’’سیرت النبی صلی اللہ علیہ و سلم‘‘ کی مشق نمبر 4 اپنی نوٹ بکس میں لکھیں۔ ‘‘ سر نے بک بند کرکے میز پر رکھتے ہوئے کہا۔
’’ہائیں! میری پنسل کہاں گئی؟ابھی تو میرے پاستھی۔‘‘ بلو نے پریشانی سے سوچا۔ 

مزید پڑھیے۔۔۔

بہترین دن

Behtreen Din

  اسکول  میں  ١٤  اگست  پر جشن  کا ماحول تھا  ۔جگمگاتے  سے روشن درو دیوار  تھے  ۔ہر طرف  جھنڈے  لہرا  رہے تھے  ۔ بچیوں کے ہاتھوں میں ہری  جھنڈیاں  تو  بچوں  کے چہرے اور ہاتھوں پر   جھنڈیوں کے نقشے ، سب کی زبان  پر  جشن آزادی  مبارک کا نعرہ  تھا ۔اس خوبصورت  سماں  میں فائق  اسٹیج  پر جوش و خروش  سے تقریر کر رہا  تھا ۔

’’ محترم  سامعین اور ہم  وطنو ! میں اپنی   تقریر  کے آخر  میں  اپنے  خوبصورت  بانی  کے  شاندار  الفاظ  بیان کرنا چاہوں  گا  کہ ١٣ اگست ١٩٤٨  کو اسلامیہ کالج  پشاور  میں تقریر  کرتے ہوے بانی  و   قائد ا عظم محمد علی جناح  نے فرمایا تھا ۔’’ہم نے پاکستان  کا مطالبہ  زمین کا ٹکڑا  حاصل   کرنے  کے  لئے  نہیں کیا   بلکہ  ہم  ایسی جاےٴ پناہ  چاہتے  ہیں جہاں  ہم اسلامی  اصولوں کے مطابق  زندگی بسر  کر سکیں ۔‘‘

’’  میرا پاکستان زندہ  باد!‘‘   نعرہ  لگاتے ہوے  فائق  نے اپنی تقریر  کو ختم  کیا  اور تالیوں  کی گونج  میں  اسٹیج  سے اترتے  ہوئے  دو دن پہلے کا منظر  یاد  آ گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ابھی دو دن پہلے ہی تو وہ   بہت پریشان  اپنے کمرے  میں بیٹھا  تھا  کہ ابو جی  کے  آنے  کا پتہ  ہی نہ چلا۔

’’بیٹا  فائق  تم  کیوں  اتنے پریشان   لگ رہے  ہو ؟‘‘ ابو نے پیار سے پوچھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

! ایک بار پھر عید

! ایک بار پھر عید

          Print

’’فاتی!  تمھارے پاس کتنی عیدی اکھٹی ہوئی؟‘‘ بارہ  سالہ بلو نے اشتیاق سے پوچھا۔

’’میرے پاس کل ملا کر 1ہزار۔ ‘‘ دس سالہ فاتی نے بتایا۔ ’’اور تمھارے پاس؟‘‘

’’میرے پاس بھی 8 سو ہیں۔ لیکن یہ کم ہیں۔ ‘‘ بلو کچھ اداس ہو گیا۔

’’کیا مطلب؟‘‘ فاتی نے پوچھا۔

’’بس ایسے ہی! میں ایک بات سوچ رہا تھا...‘‘  یہ کہ کر بلو نے فاتی کو اپنا پلان سنایا۔

’’اوہ

مزید پڑھیے۔۔۔

میرا دوست

جب چھٹیاں ہوئیں!

فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد  چھ سالہ عبداللہ سیدھے بسترمیں چلا گیا۔ ماما جان کے کئی دفع آواز دینے پر بھی اس نے بستر نہیں چھوڑا۔

’’عبداللہ اٹھ جاؤ بیٹا آپ نے اسکول نہیں جانا، دیکھو نور آپی تیار ہورہی ہے۔‘‘  ماما جان نے پیار سے عبداللہ کے سر پر ہاتھ پھیرا۔

’’نہیں ماما مجھے اسکول جانا اچھا نہیں لگتا۔‘‘ عبداللہ نےچادر سے سر نکال کر جواب دیا۔

"اسکول جانا اچھا کیوں نہیں لگتا آپ کو تو وہاں اچھی اچھی باتیں سیکھنے ملتی ہے۔دیکھو تو نور آپی بھی اسکول جارہی ہے"۔ ماما جان نے اسے پیار سے سمجھانا چاہا۔

"نہیں ماما مجھے اسکول جانے سے ڈر لگتا ہے وہاں ڈھیر سارے بچے ہوتے ہیں اور ٹیچرز بھی۔ مجھے خوف آتا ہے مجھے نہیں جانا۔‘‘ عبداللہ نے کمبل سر تک اوڑھ لی۔

’’دیکھو ضد نہیں کرتے جلدی سے اٹھو۔‘‘ ما ما جان نے ڈانٹ کر کہا۔  اب ایک ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔ عبداللہ نے زور زور سے رونا شروع کردیا۔’’ ماما میں نے اسکول نہیں جانا!!‘‘  بابا نے بھی سمجھایا اور بھیا نے بھی لیکن عبداللہ کسی کی بات سننے کو تیار نہیں تھا۔

عبداللہ کے رونے کی آواز سن کر دادی جان اپنے کمرے سے باہر آئیں

مزید پڑھیے۔۔۔

بعد میں کروں گا

بعد میں کروں گا

          Print

پیارے بچو! آج میں آپ کو شیری کی کہانی سناؤں گی۔ شیری اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا۔ وہ آٹھویں جماعت میں پڑھتا تھا۔ پڑھائی میں تیز تھا اور کھیل کود کا بھی شوقین تھا۔ ویسے تو شیری میں تمام اچھی خوبیاں موجود تھیں۔لیکن اس کی ایک عادت ٹھیک نہیں تھی۔ وہ یہ کہ وہ ہر کام کو بعد میں کرنے کے لئے ٹال دیتا۔ اپنی اس عادت کی وجہ سے اسے  \اکثر ڈابھی پڑتی۔نٹ 

ایک دفعہ امی نے اسے کہا،"شیری بیٹا! دروازے پر دودھ والا آیا ہے، اس سے دودھ لے

مزید پڑھیے۔۔۔

جب چھٹیاں ہوئیں!

جب چھٹیاں ہوئیں!

فاتی اور بلوّ بہت خوش تھے۔ آج ان کے اسکول کا آخری دن تھا۔ ان کو سکو ل سے پوری دس چھٹیاں مل گئی تھیں۔ تین چھٹیاں سپورٹس ویک کے آخر والی پھر ایک اتوار کو ملا کے اگلا پورا ہفتہ بڑی عید کی چھٹیوں کے لیے۔ وہ اسکول سے واپسی پر وین میں بیٹھے اپنے اپنے پلان بنا رہے تھے ۔

’’میں تو سارے جاسوسی ناول ختم کر دوں گی جو مجھے ناصر ماموں نے لا کر دیے تھے۔ ‘‘ فاتی نے تصور ہی تصور میں خود کو انسپکٹر جمشیدسمجھتے ہوئے کہا۔
وہ سوچ رہی تھی کہ وہ کون کون سے پسندیدہ ناول محلے......

مزید پڑھیے۔۔۔

! سوری چنو منو

سچی! سوری چنو منو

          Print

احمد نے پہلے چنو کو پنجرے سے نکالا اور پھر منو کو۔ دونوں چوزے دوڑ کر اس کے پاس چلے آئے۔ احمد نے پیار سے دونوں کو ہاتھوں میں اٹھا لیا اور کھیلنے لگا۔ پھر اس نے دونوں کو سحری کے طور پر باجرہ کھلایا اور پانی پلایا۔ پھر خوشی خوشی انہیں واپس پنجرے میں بند کر کے ہاتھ دھونے چلا گیا۔

’’احمد بیٹا! تم آج بہت خوش نظر آرہے ہو۔ ‘‘ امی جان

مزید پڑھیے۔۔۔

گڈو اور چودہ اگست

گڈو اور چودہ اگست

(آخری قسط)

’’چلیں جلدی آئیں!‘‘ ابھی گڈو کچھ سوچ ہی رہا تھا کہ امی  نے کہا اور اسکا ہاتھ پکڑ کر دوسری دکا ن میں داخل ہوگئیں۔گڈو کا اب دل نہیں لگ رہا تھا۔  اسکا سارا دھیان اس رونے والےبچے کی طرف تھا اسکا رونا بہت تکلیف دہ تھا۔

’’گڈو بیٹا! یہ شرٹ دیکھیے۔کیسی ہے؟ آپکی پسند کی ہے ناں! آپ پہ خوب جچ بھی رہی ہے۔‘‘ امی جان کہ رہی تھیں۔گڈو بس گردن ہلا کے رہ گیا۔ وہ مسلسل اسی بچےکو سوچ رہا تھا۔ جب وہ دکا ن سے باہر نکلا اسے پھر وہی بچہ روتا ہوا نظر آیا۔وہ اس بچے کے پاس پہنچ گیا۔اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر پوچھنے لگا۔ ’’دوست السلام علیکم! آپ  رو کیو ں رہے ہیں؟‘‘

بچے  نے جواب دیا۔ ’’مجھے بھی 14 اگست منا نی ہے ،چیزیں خریدنی ہیں۔‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

سچی خوشی کا راز

سچی خوشی کا راز

          Print

سندر بن واقعی بہت ہی زیادہ سندر اور خوب صورت تھا۔چاروں طرف قدرت نے اپنی خوب صورتی بکھیردی تھی۔ کل کل کرتے جھرنے ، اور خوب صورت چمکیلی ہری بھری گھاس، ایسے لگتی تھی جیسے جنگل میں کسی نے قالین بچھادی ہو۔ان مناظر کودیکھ کر جانوروں اور پرندوں کے دل باغ باغ ہوجاتے تھے۔ ہر طرف رنگ برنگے پھول تھے ۔ جن پر تتلیاں اور بھونرے منڈلاتے رہتے۔

یہ کہانی اس زمانے کی ہے

مزید پڑھیے۔۔۔

گڈو اور چودہ اگست

گڈو اور چودہ اگست

نو سالہ گڈو اپنے گھر میں سب سے چھوٹا تھا اور اس وجہ سے سبھی کا لاڈلا بھی۔اسکی ہر خواہش پوری کردی جاتی ۔ایسا کم وبیش ہی ہوتا کہ اس کی کسی با ت سے انکارکیا جائے۔

وہ بہت ہی پیا را بچہ تھا۔اسکی شرارتیں اور حرکتیں اتنی پیا ری ہوتیں کہ ٹوٹ کے پیار آتا اور تو اور اسکی با تیں بھی بڑی دلچسپ تھیں۔ یو ں وہ سب کی آنکھ کا تارا تھا

مزید پڑھیے۔۔۔

خودغرضی کی سزا

خودغرضی کی سزا

          Print

دانش آج بھی بڑے شوق سےاپنے پسندیدہ درخت کے اوپرچڑھ کر بیٹھا تھا۔اسکول سےواپسی پر وہ راستے میں پڑنے والے باغ میں رک کر کچھ دیر سستاتاتھا۔اسی باغ کے ایک درخت کی شاخوں پر بیٹھ کراپنا بچا ہوا لنچ کھاتا اور پھراپنے گھر کو جاتا تھا۔
دانش پڑھنے میں جتنا اچھا تھا ، اسکول میں ہم جماعتوں کو ساتھ اتنا ہی لا تعلق رہتا تھا۔ گھرپر اچھی ٹیوشن لینے کے ساتھ ساتھ وہ خود بھی اپنی پڑھائی پر خوب محنت کرتا تھا اور ہمیشہ اپنی جماعت میں نمایاں پوزیشن لیتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ دانش کو کبھی کسی کی مدد کی ضرورت نہیں پڑی۔ اسی وجہ سے اس کےدل میں یہ خیال بیٹھ گیا تھا کہ خود اچھا پڑھ لینا ہی کافی ہوتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔