شمارہ نمبر 23

القرآن

Al Quran

’’اور ہم نے آپ سے پہلے جتنےپیغمبر بھیجے سب کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں بھی چلتے پھرتے تھے اور ہم نے تم (مجموعہ مکلفین) میں ایک کو دوسرے کے لیے آزمائش بنایا ہے کیا صبر کرو گے؟ (یعنی صبر کرنا چاہیے) اور آپ کا رب خوب دیکھ رہا ہے۔‘‘  [سورۃ الفرقان۔ 20]


الحدیث

Al Hadith

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے میں رسول اکرم ﷺ کے ساتھ جارہا تھا اور آپ ﷺ اس دوران ایک نجرانی قسم کی چادر اوڑھے ہوئے تھے جس کے کنارے موٹے تھے۔ اچانک ایک اعرابی آیا اور اس نے آپ ﷺ کی چادر مبارک زور سے کھینچی۔ میں نے دیکھا اس کی وجہ سے آپؐ کی گردن پر نشان پڑ گیا۔ پھر کہنے لگا۔ اے محمد ﷺ آپؐ کے پاس جو اللہ کا مال ہے اس میں سے مجھے دینے کا حکم دیجئے۔ رسول اکرم ﷺ اس کی طرف متوجہ ہوکر ہنسے اور اس کو مال دینے کا حکم دیا۔‘‘ (مسلم، کتاب الزکاۃ)


آپ سے کچھ کہنا ہے: احساس کا سپرے

Ap sey kuch kehna hy

پہلے  زمانے، ملنے ملانے اور تیمارداری کے حوالے سے بہت اچھے ہوتے تھے۔ جب کوئی بزرگ بیمار ہو جاتا تو سارا کا سارا خاندان اس کو دیکھنے کے لیے چلا آتا۔ کوئی پھل لا رہا ہے۔ کوئی  دیسی گھی یا مکھن کی چاٹی لیے چلا آرہا ہے تو کوئی اپنے کنوئیں کا تازہ پانی ہی گاؤں کے مولوی صاحب سے دم کروا کر لے آیا ہے۔ گھر کی بڑی بوڑھیاں مہمانوں کی تواضع کا انتظام سنبھال لیتیں تو لڑکیاں بالیاں بڑے سے صحن سے لے کر باورچی خانے کے  چکر لگاتی رہتیں۔ چھوٹے بچوں کو بار بار مردان خانے کی جانب دوڑایا جاتا۔ اتنی رونق ، اتنی دیکھ بھال اور اتنی محبت و خلوص پا کر اسّی سال کے  بڑے بوڑھے بھی گاؤں کے  سادہ سے حکیم کی دوا کھا ئے بھلے چنگے اٹھ بیٹھتے تھے۔  

یہ سب احساس کی دولت تھی جو پہلے پہلے ہر ایک کے دل میں جاگزیں ہوتی تھی۔ آج ہم سب بڑے گھروں اور گاڑیوں والے تو ہیں لیکن احساس کی دولت سے یکسر محروم ہیں۔ ابھی کل ہی کی بات ہے۔ ایک فوتگی ہو گئی۔ وہاں جانا ہوا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

حرفِ اوّل

Harf e awwal

۱۴۳۷ھ ختم ہوااور۱۴۳۸ھ شروع۔اسلامی تقویم کے لحاظ سے ہم ایک سال اورآگے بڑھ گئے ہیں۔مگر اس ایک سال میں ہم نے انفرادی اوراجتماعی طورپر خیر کے اہداف میں کتنے نمبر مزید لیے؟اس پر بہت سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
ہجری سال محرم سے شروع ہوتاہے۔اس مہینے کے بہت سے فضائل ہیں۔مگر جس وجہ سے یہ مہینہ عام طورپرمسلم معاشرے میں یادرکھاجاتاہے ،وہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت ہے۔حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت یقیناحق کے لیے تھی۔وہ حق کے داعی اورمظلوم تھے اوریزیدی حکومت ظالم۔کربلامیں جوسانحہ دس محرم کوپیش آیا ،وہ ہمیشہ یادرکھاجائے گا۔مگراس کی یاد منانے کایہ طریقہ نہیں کہ ہم چند رسموں کودین بنالیں ،شورشراباکرکے چنددنوں کے لیے اپنی حسینیت کا چرچا کریں اورپھر ساراسال حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے اسوہ حسنہ کے بالکل خلاف زندگی گزاریں۔یہ بے دینی کی زندگی حسینیت نہیں بلکہ عین یزیدیت ہے۔حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی سیرتِ مبارکہ کے بہت سے پہلو ہیں مگر............

مزید پڑھیے۔۔۔

سیرت النبی ﷺ کوئز

Seerat un Nabi Quiz

پچھلے کوئزکے جوابات:

 ۱) الماثور ۲) 101 (83 مرد، 18 خواتین) ۳) صفر ۴ ھ، رجیع ہذیل کے کنویں کا نام ہے جو مکہ اور طائف کے درمیان واقع ہے ۴) ۶ افراد، ۲ سال قبل ہجرت ۵) شعبان دو ہجری

 

صحیح جوابات بھیجنے والی خواتین کے نام:

(فاطمہ۔ اسلام آباد، بنت اورنگزیب، کراچی، صائمہ رشید احمد، ملتان، ام حریم، کراچی،  ام سعد، یو کے)

مزید پڑھیے۔۔۔

ہدایت کے سنگِ میل: مساکین کی ماں

Ap sey kuch kehna hy

ام المومنین حضرت زینب بنت خزیمہؓ  آپؓ بڑی رحم دل،منکسر المزاج، اور سخی تھیں۔آپ ہمہ وقت دوسروں کی مدد کے لیے تیار رہتی تھیں اور ہمیشہ آپ اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیا کرتی تھیں۔اگرچہ آپ کا بچپن بڑے ناز و نعم میں گذرالیکن اس دور کی دوسری بچیوں کی بہ نسبت آپ بڑی منفرد تھیں۔ بچپن ہی سے انھیں غریبوں ، مسکینوں اور فاقہ مستوں کو کھانا کھلا نے کا بڑا شوق و ذوق تھا۔ جب تک وہ کسی کو کھانا نہ کھلا لیتیں انھیں سکون محسوس نہ ہوتا۔اْن کے باپ خزیمہ کا شمار اْس زمانے کے بڑے رئیسوں میں ہوتا تھا۔ اْس کے پاس کسی چیز کی کمی نہ تھی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کہانی: ہم اور نازو

Ap sey kuch kehna hy

نازیہ ہمارے پڑوس میں رہتی تھی۔  ایک ہی اسکول اور کلاس میں ہونے کی وجہ سے دوستی ہوگئی اور پھر دیکھتے دیکھتے گہری ہوتی گئی۔ہمارا اور اسکا گھر میں آنا جا نا ایسا تھا جیسے ایک ہی گھر ہو۔  نازیہ کو ہم پیار سے نازو کہتے اور وہ ہمیں فیزی۔قصہ مختصریہ کہ نازو کو آئے دن کچھ نہ کچھ نیا کرنے کا جوش چڑھ جاتا اور اسکا ساتھ ہم بھر پور دیتے۔اور یہ آئے روز کے کارنامے نہ صرف نازو کو مقبول کرتے بلکہ ہنسنےکے خوب مواقع فراہم کرتے۔سب تو خوش ہوتے مگر نازو کی والدہ بڑی پریشان ہوتیں کہ آخر اسکا کیا بنے گا۔خالہ جتنی سگھڑ اور دھیمے مزاج کی تھیں نازو اس کی الٹ تھی۔ہر وقت شور شرابہ کرنے والی شوخ چنچل سی۔ اورکام کرتی کم پھیلاتی خوب تھی۔

 ایک دفعہ ہوا کچھ یوں کہ ہم اور  نازو صاحبہ پیپرز ہونے کے بعد فارغ تھیں اور کچھ نیا کرنے کی فکر میں جت گئی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

یکم محرم الحرام، یومِ شہادت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

Ap sey kuch kehna hy

مسلمانوں کے اسلامی سال یعنی محرم الحرام کی ابتداء اس عظیم الشان شخصیت کی یوم شہادت سے ہوتی ہے جو خلیفۂ دوم، امیر المومنین، سسر رسول صلی الله علیہ وسلم ، فاتح قبلتین، پیکروعدل وشجاع، شہید مسجد نبوی، خلیفۂ راشد،اورعشرہ مبشرہ میں داخل ہیں۔ اسلامی تاریخ میں قرونِ اولی میں پیش آمدہ شہادتوں میں پہلی شہادت خلیفۂ ثانی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی شہادت ہے۔

محرم الحرام کی پہلی تاریخ کو امیر المومنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت کا عظیم اور دردناک سانحہ پیش آیا۔ اسلام کو رفعت و عظمت، کی بلندیوں تک پہنچانے والے فاروق اعظم رضی اللہ عنہ ہی تھے جن کو برادر رسول اور مطلوب اسلام ہونے کا شرف حاصل ہے۔جن کے سایہ سے بھی شیطان بھاگتا تھا اور جن کی ذات میں خاتم النبيين سید المرسلین صلی الله علیہ وسلم کوصفات نبوت نظر آئیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کہانی: آ بیل مجھے مار: قسط نمبر 5

Ap sey kuch kehna hy

ہمیں دلچسپی محسوس ہوئی اور غور سے پڑھنے لگے۔یہ کہانی قدیم دورکی کسی دنیاکی ترجمانی کررہی تھی۔تیسرے پیراگراف میں بات یہاں تک پہنچی۔
’’
رانی نے شفقت سے اپنے سرتاج کے تاج پرہاتھ پھیرا اور گویا ہوئی:سرکار! آپ ڈریں نہیں ،میں خود دشمن کی فوج سے آنکھیں چارکروں گی اور انہیں شکست دوں گی۔۔۔نہیں نہیں ملکہ عالیہ میں آپ کا یہ ڈراؤنا خواب کبھی پورا نہیں ہونے دوں گا۔ بادشاہ نے آنکھوں میں آنسو بھر لاتے ہوئے کہا۔ آپ کے ہوتے ہوئے میں بھی اپنی جان دے دوں گا۔یہ دیکھ کر رانی کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے۔ آنسوؤں کی برسات ہونے لگی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کانٹوں کے بیج ۔ قسط 8

Kahani Kanton ky beej

بڑی عید تو جیسے تیسے گزر گئی۔ محرم کا مہینہ بھی اب گزرنے کو تھا۔ زرینہ خاتون کو اپنے فیصلے پر بار بار غور کرنا پڑتا تھا۔ ان کو بوڑھی ہڈیاں کام کی اجازت نہیں دیتی تھیں اور نازیہ کو انہیں نے خود کام چور بنا دیا تھا۔محمود صاحب آئے روز باتیں سنانے لگے تھے۔کبھی انہیں کپڑے میلے ملتے  کبھی جوتے گم ہو جاتے ۔ کبھی بازار کے نان  چنوں سے بد ہضمی ہو جاتی  اور کبھی  ہر جانب دھول مٹی دیکھ کر ان کا دل اچاٹ ہو جاتا۔ زرینہ خاتون نے دو بار کام والی لڑکی رکھی لیکن ان کی انتہا سے زیادہ صفائی پسند طبیعت کے سامنے کوئی بھی نہ ٹک سکی۔ کھانا وہ کسی کام والی سے بنوانے کے لیے تیار نہ تھیں اور خود بنانے کی ہمت جیسے ختم ہوتی جارہی تھی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ٹیکنالوجی

Ap sey kuch kehna hy

ویسے تو آج کل اسمارٹ فون کافی زیادہ اسٹوریج کے حامل ہوتے ہیں لیکن تاحال ہمارے ہاں اکثر طبقے کے پاس ایسے فون موجود ہیں جن میں اسٹوریج کی کمی کا مسئلہ رہتا ہے۔
اس کی اہم وجہ تو ایپلی کیشنز کا بھاری بھرکم سائز اور ان کی اپ ڈیٹس ہیں، اس کے علاوہ میسجنگ ایپلی کیشنز کے ذریعے میڈیا فائلز کا تبادلہ بھی اسٹوریج لوٹنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ہم میسجنگ ایپلی کیشنز جیسے کہ فیس بک میسنجر، وٹس ایپ اور وائبر وغیرہ کے ذریعے تصاویر اور وڈیوز بھیجتے رہتے ہیں جو کہ اسٹوریج بھرتی رہتی ہیں، ہم چیٹس تو حذف کر دیتے ہیں لیکن ڈیوائس میں ڈاؤن لوڈ ان کی میڈیا فائلز کو وہیں رہنے دیتے ہیں جس کی وجہ سے اسٹوریج تیزی سے بھرنا شروع ہو جاتی ہے۔ آئیے آپ کو اسٹوریج کو خالی کرنے کی چند ترکیبیں بتاتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

گوشۂ ادب: جگرمراد آبادی کی توبہ

Ap sey kuch kehna hy

بیسویں صدی کے نصف اول میں مقبول ہونے والے ایک بڑے شاعر حضرت جگر مراد آبادی ہیں۔ آپ کو رئیس المتغزلین اور شہنشاہِ غزل بھی کہا جاتا ہے۔ ان کا مشہور شعر ہے

طولِ غم، حیات سے نہ گھبرا اے جگر
ایسی بھی کوئی شب ہے جس کی سحر نہ ہو

جگر صاحب اپنی خوش فکری اور خوش بیانی کے باعث بہت سوں پر بازی لے گئے۔ بلکہ یہ کہا جائے کہ دستِ قدرت نے شہرت و ناموری کا تاج جگر صاحب کے سر پر سجایا تو مبالغہ نہ ہوگا۔ آپ کی شاعری خوش آہنگ تھی، شاید یہی وجہ ہے کہ بھارت بھر میںان کا طوطی بولتا تھا۔ راقم انہی کی شراب نوشی سے متعلق کچھ چشم کشا انکشافات پیش کر رہا ہے۔

جگر کا پیدائشی نام ’’علی سکندر‘‘ تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کہانی: ہم دیارِ غیر میں

Ap sey kuch kehna hy

’’ساجد اٹھیں  جلدی کریں ، اف  جلدی کریں ، اٹھیں مجھے ہسپتال  لے کر  جائیں۔ فون کریں  سعید کو جلدی  !‘‘

میں  نے اپنے میاں   کو ہلا ہلا کر جگایا  کہ  ما شاء الله  سے  بہت ہی  پکی نیند  فرماتے  ہیں  ۔

’’اچھا اچھا  کرتا ہوں فون ، تم  بیگ نکالو عبایا پہنو۔" وہ ہڑبڑا کر اٹھتے ہوئے بولے۔ تکیے کے نیچے سے موبائل نکالا۔

"نمبر  کدھر  ہے  ؟ کس کو بلانا   تھا  سعیدکو؟ سعید کدھر ہے ؟؟؟ " ساجد  بوکھلاہٹ  میں  با لکل  ہی غائب  دماغ  ہو  چکے تھے۔

  ’’مجھے  دیں موبائل  !‘‘

میں نے  ان  کے ہاتھ سے موبائل  چھین کر ان کو نمبر ڈھونڈ کر دیا  کیونکہ گڑبڑاہٹ میں وہ میرے سے دو ہاتھ آگے نکل جایا کرتے ہیں ۔

’’یہ لیں نمبر  اور  میں  چینج  کر کے  عبایا پہنتی ہوں۔‘‘

’’جلدی  کرنا...! ‘‘ پیچھے  سے انہوں نے آواز دی  مجھے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

نواور دس محرم کے روزے

حضرت عبداﷲ بن عباسؓ سے ہی روایت ہے‘ فرماتے ہیں: ”جب رسول کریم نے عاشورا کے دن کا روزہ رکھا اور اُس کے روزے کا حکم فرمایا تو صحابہ کرامؓ نے عرض کیا‘ یا رسول اﷲ یہ وہ دن ہے جس کی تعظیم یہودی اور عیسائی کرتے ہیں تو سرکارِ کائنات نے فرمایا اگر ہم آئندہ سال اِس دنیا میں رہے تو نویں محرم الحرم کا روزہ بھی رکھیں گے۔ (ابو داؤد، مسند احمد، تفسیر قرطبی، مشکوٰة) ۔
اِس طرح مشابہت ختم ہو جائے گی کہ وہ صرف عاشورا کا روزہ رکھتے ہیں اور ہم نویں تاریخ کا روزہ رکھ کر دور کر لیا کریں گے اور مشابہت کی وجہ سے نیکی بند نہیں کریں گے بلکہ اِس میں اضافہ کرکے فرق کر دیا کریں گے۔
حضرت حکم بن الاعرج سے روایت ہے، فرماتے ہیں: ”کہ میں حضرت عبداﷲ بن عباسؓ کے پاس اُس وقت پہنچا جب وہ زمزم شریف کے قریب اپنی چادر لپیٹے ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ میں نے عرض کیا عاشورا کے روزہ کے بارے میں فرمائیے تو آپ نے فرمایا کہ ”جب تم محرم کا چاند دیکھو تو کھاؤ اور نویں تاریخ کا روزہ رکھو“(ترمذی، مسلم)

مزید پڑھیے۔۔۔

سنہری باتیں

Ap sey kuch kehna hy

وقت دوست اور رشتے یہ وہ چیزیں ہیں جو ہمیں مفت میں‌ملتی ہیں مگر ان کی قیمت کا تب پتہ چلتا ہے جب یہ کہیں کھو جاتی ہیں۔
اتنظار کرنے والوں کو صرف اُتنا ہی ملتا ہے جتنا کوشش کرنے والوں سے بچ جاتا ہے۔
جس طرح جسم کو بیماری کی موجودگی میں کھانے کی لذت حاصل نہیں‌ہوتی اُسی طرح گناہوں کی موجودگی میں دل کو عبادت کی لذت نصیب نہیں ہوتی۔
جو غلطی کر نہیں‌ سکتا وہ فرشتہ ہے جو غلطی کر کے اُس پر ڈٹ جائے وہ شیطان ہے اور جو غلطی کر کے فورا توبہ کر لے وہ انسان ہے۔
جس شخص‌کے دُشمن نہیں‌ہیں‌ اور سب دوست ہیں اُس جیسا منافق کوئی نہیں‌ کیونکہ دُشمن اُس کے ہوتے ہیں‌ جو حق کی بات کرتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کتابوں کے موتی

Ap sey kuch kehna hy

زویا ممتاز (ملتان) کا انتخاب:

’’اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی علامت ہے:
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  جس نے میری سنت کو زندہ کیا اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہو گا۔
یعنی جو حضرات محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دعوٰی رکھتے ہیں اگر ان کے احوال سنتوں کے مطابق ہیں تو وہ سچے ہیں. اور اگر ان کے احوال سنت کے مخالف ہیں تو وہ جھوٹے ہیں ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فرماتے تھے کہ سنتوں کو مضبوطی سے پکڑنا باعث نجات ہے۔
سنت میں نجات:
امام مالک رحمہ اللہ علیہ فرماتے تھے:

مزید پڑھیے۔۔۔

پکوان : جو کا دلیہ ۔ مزیدار تراکیب

Kahani Kanton ky beej

بچوں کی صحت اور تندرستی کے لئیے بہت ضروری ہے کہ انہیں جو کا دلیہ ہر روز دیا جائے۔کبھی نمکین کبھی میٹھاکبھی سوپ کے ساتھ اورکبھی دال سبزی کے ساتھ ۔ دلیے سے تیار شدہ کچھ ڈشز بتارہی ہوں۔

میٹھا دلیہ شہد اور پھلوں کے ساتھ :

کیوکر دلیہ چار ٹیبل اسپون

پانی ایک کپ سے سوا کپ

چینی ایک ٹیبل اسپون

شہد دو ٹیبل اسپون

دھی ایک ٹیبل اسپون

دودھ چھ ٹیبل اسپون

اپنی پسند کے پھل مثلا کیلا چیکو سیب وغیرہ

مزید پڑھیے۔۔۔

تندرست رہیں: انار کے فوائد

انار کا درخت تقریباً پانچ سے سات میٹر لمبا ہوتا ہے جس پر سرخ رنگ کے خوشنما پھول لگتے ہیں جو بعد میں ایک لذیذ اور خوبصورت پھل کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ انار دنیا کے قدیم ترین پھلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ توریت کے مطابق حضرت سلیمان کے پاس اناروں کے باغات تھے۔ بنی اسرائیل کو صحرانوردی کے دوران جن چیزوں کی یاد بار بار آتی رہی، ان میں انار بھی شامل تھا۔ امت مسلمہ کو جنت میں بھی اس کے عطا کئے جانے کی خوشخبری سنائی گئی ہے۔
انار کثیر المنافع پھل ہے۔ اس میں خمیات، چکنائی، کاربوہائیڈریٹ، پوٹاشیم، کیلشیم، میگنیشیم، تانبہ، لوہا، سلفر، فاسفورس، مختلف وٹامنز اور خصوصاً وٹامن سی بڑی مقدار میں پایا جاتاہے۔ ذائقے کے لحاظ سے اس کی تین اقسام ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

جو آپ نے کہا

اکثر مضامین اچھے تھے۔ سوائے تعریف کے کچھ نہیں کہہ سکتی۔’’یہ راستہ کوئی اورتھا‘‘ منفرد موضوع پر بہت اچھی تھی۔’’اسمارٹ فون‘‘ جیسے مضامین کو ہم نے بہت پسند کیا ہے۔’’ واپس بھی جانا ہے‘‘ مزے دار تحریر تھی مگراس میں بعض سطروں میں فونٹ مدہم تھا۔ اس کی وجہ سمجھ نہیں آئی۔ (ام وردہ، حسن الابدال)

جواب: رائے کا بہت شکریہ۔ جی وہ  خرابی ٹھیک کر دی گئی ہے۔

’’کانٹوں کے بیج بہت اچھی جارہی ہے۔ گوشۂ ادب پڑھ کر ہمیں بھی اپنا عمرہ کرنا یاد آگیا۔ ہماری بھی کچھ ایسی ہی حالت ہو ئی تھی۔ چھوٹی کہانی بڑا سبق واقعی سبق آموز تھی۔  (ام حریم ، کراچی)

مزید پڑھیے۔۔۔

کیا آپ جانتے ہیں؟

1. اگر سمندر کی تہہ کو بھی شمار کیا جائے تو دنیا کا سب سے اونچا پہاڑ مائونٹ ایورسٹ نہیں، مائونٹ کیا (Kea) ہے۔ یہ پہاڑ امریکی جزیرے ہوائی میں واقع ایک آتش فشاں ہے۔ اس کی کل بلندی تقریبًا ۱۰ہزار میٹر ہے لیکن اس میں سے تقریبًا ۶ہزار میٹر بلندی پانی کے اندر ہے۔ مگر یہی بلندی مائونٹ کیا کو سب سے بلند پہاڑ بنا دیتی ہے کیونکہ مائونٹ ایورسٹ کی اونچائی ۸۸۰۰؍میٹر ہے۔

2. برطانیہ کے بعض ساحلوں کا ۵ئ۱؍میٹر علاقہ ہر سال سمندر کھا جاتا ہے۔ آپ کو علم ہوگا کہ برطانیہ کے چاروں طرف سمندر ہے۔ اگر یہ تمام ساحلوں کو ۵ئ۱میٹر کے حساب سے کھانے لگے.....

مزید پڑھیے۔۔۔