القرآن

القرآن

’’اور ان چیزوں کو بھی (بنایا) جن کو تمہارے لیے اس طور پرپیدا کیا کہ ان کے اقسام مختلف ہیں بے شک اس میں (بھی) سمجھدار لوگوں کے لیے دلیل (توحیدموجود) ہے۔ (۱۳)اور وہ ایسا ہے کہ اس نے دریا کو (بھی) مسخر بنایا کہ اس میں سے تازہ تازہ گوشت کھاؤ اور اس میں سے (موتیوں کا) گہنا نکالو جس کو تم پہنتے ہو اورتو کشتیوں کو دیکھتا ہے کہ اس (دریا) میں (اس کا) پانی چیرتی ہوئی چلی جا رہی ہیں اورتاکہ تم خدا کی روزی تلاش کرو اور شکر کرو۔ (۱۴)‘‘[سورۃ النحل]


 

الحدیث

القرآن

حضرت ابی ثعلبہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’بلاشبہ قیامت کے دن تم میں سے سب سے زیادہ مجھے محبوب اور سب سے زیادہ میرے نزدیک وہ لوگ ہو نگے جو تم میں سے سب سے اچھے اخلاق کے مالک ہونگے اور میرے نزدیک سب سے زیادہ نفرت کے قابل اور مجھ سے بہت دور وہ لوگ ہونگے جن کے اخلاق برے ، جو فضول باتیں زیادہ بنانے والے ،گفتگو میں احتیاط نہ کرنے والے اور جو تکبر کرتے ہوئے منہ پھیر کر باتیں کرنے والے ہونگے ۔‘‘ (بیقہی)


 

کانٹوں کے بیج - قسط نمبر 6

دیکھو ذرا!

اس دن زرینہ خالہ کے جیٹھ، اظہر کے تایا جان  ان سے ملنے آئے ۔ چوھری داور صاحب بڑی دبنگ اور رعب دار شخصیت کے مالک تھے۔ اظہر سے تو ان سے بات بھی نہیں کی جاتی تھی۔بس ہوں ہاں میں گزارا کرتا تھا۔ ابھی بھی وہ بڑے احترام سے ان کے سامنے والے صوفے پر بیٹھا تھا۔  خودزرینہ بیگم بھی دبی دبی سی بیٹھی  ان کی گفتگو سن رہی تھیں۔

 عائشہ کچن میں تھی۔ اس کو آوازیں آرہی تھیں اور اسے معلوم تھا اس کو کیا کرنا تھا۔ لیکن پھر بھی اندر ہی اندر اس کا دل کانپ رہا تھا۔

’’عائشہ چائے لے آؤ اور مہمانوں سے مل بھی لو۔ ‘‘ زرینہ خالہ نے آواز لگائی۔

عائشہ نے ٹرے سیٹ کی۔ بڑی سی چادرٹھیک طرح سے اورڑھ کر گھونگھٹ نکالااور کمرے میں چلی آئی...

مزید پڑھیے: کانٹوں کے بیج - قسط نمبر 6

آپ سے کچھ کہنا ہے

آپ سے کچھ کہنا ہے

آزادی کسے کہتے ہیں؟ یہ کوئی ان سے پوچھے جو اس نعمت ِ بے کراں کے حصول میں مر مٹے۔ اس دن وہ فوٹوز نظر سے گزریں جس میں ایک امریکی فوٹو گرافر نے 1947ء کے مناظر عکس بند کیے ہیں۔ آہ!دل پارہ پارہ ہو گیا۔  ایک الگ وطن کی قیمت کیسے کیسے نہ چکائی گئی۔کسی سڑک پر جا بجا بکھری ہوئی بے گور و کفن لاشیں ہیں۔ ایک لاش کو بھیڑیا بڑے اطمینان کےساتھ بھنبھوڑنے میں مصروف ہے۔ دریا میں پورے خاندان کی پھولی ہوئی میتیں تیر رہی ہیں۔ٹوٹی ہوئی  دیوار پر گدھوں کی لمبی قطار ہے جبکہ نیچے پوری گلی میں انسانی ڈھانچے  ہر طرف بکھرے پڑے ہیں۔کسی جگہ سیاہ رنگ کا  دھواں دیتا ہوا ڈھیر سا ہے جس میں سے ایک آدھ پیر یا بازو بھی نظر آجاتا ہے۔ کیمپ کے فرش پر ....

مزید پڑھیے: آپ سے کچھ کہنا ہے

گوشۂ ادب

درسِ قرآن ڈاٹ کام اپ ڈیٹ

چوبیس گھنٹے:

ہمیں نرم خوئی کا حکم ہے۔ بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی شخص کے فعل پر ہمیں بہت غصہ آ رہا ہوتا ہے۔ لیکن آپ اس کے باوجود کہ اس پہ غصہ کیا جانا چائے آپ غصہ نہیں کرتے ہیں۔ یہ ان کا کمال فن ہوتا ہے یا پھر وہ نان ڈگری ماہر نفسیات ہوتے ہیں۔ ایک بار ایسا ہی ایک واقعہ میرے ساتھ بھی پیش آیا۔ میں ایک ضروری میٹنگ کے سلسلے میں مری گیا۔ وہ بارشوں کا موسم تھا۔ اب میں جلدی میں تھا اور میں نے دو جوڑے ہی کپڑوں کے ساتھ لیے تھے۔ راستے میں موسلا دھار بارش ہوئی اور خوب برسی - اس شدید بارش میں باوجود بچنے کے میں شدید بھیگ گیا۔ میں شام کو مری پہنچا۔ میں خود بھیگ چکا تھا جب کہ دوسرا جوڑا میرے پاس تھا ، پانی اس میں بھی گھس گیا۔ اب میں سخت پریشان...

مزید پڑھیے: گوشۂ ادب