نجومِ ہدایت: جاں نثار و غمگسار بیوی

پیامِ حیاء کیا ہے؟

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نہ صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہم خیال اور غمگسار تھیں بلکہ ہر موقع پر اور ہر مصیبت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کیلئے تیار رہتی تھیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے:
’’
میں جب کفار سے کوئی بات سنتا تھا اور وہ مجھ کو ناگوار معلوم ہوتی تھی تو میں خدیجہ سے کہتا، وہ اس طرح میری ڈھارس بندھاتی تھیں کہ میرے دل کو تسکین ہو جاتی تھی اور کوئی ایسا رنج ایسا نہ تھا جو خدیجہ رضی اللہ عنہا کی باتوں سے آسان اور ہلکا نہ ہوجاتا تھا۔‘‘
عفیف کندی کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ میں زمانہ جاہلیت میں کچھ اشیاء خریدنے کیلئے مکہ آیا اور عباس بن عبدالمطّلب کے پاس ٹہرا۔ دوسرے دن جب صبح کے وقت عباس کے ہمراہ بازار کی طرف چلا۔ جب کعبہ کے پاس سے گزرا تو میں نے دیکھا ایک نوجوان شخص آیا، اپنا سر آسمان کی طرف اٹھا کر دیکھا پھر قبلہ کی طرف منہ کرے کھڑا ہو گیا،

مزید پڑھیے: نجومِ ہدایت: جاں نثار و غمگسار بیوی

دیکھو ذرا!

دیکھو ذرا!

’’ہیلو! بھائی جان! السلام علیکم!‘‘ نزہت نے اپنے بھائی ، فاروق صاحب کو کال کی۔

’’وعلیکم السلام ! نزہت! کیا حال چال ہیں؟‘‘ فاروق صاحب نے خوشدلی سے پوچھا۔

’’سب خیر یت ہے بھائی۔ اللہ کا شکر ہے۔ وہ آپ سے ایک بات کہنا تھی۔۔!‘‘ نزہت نے ہچکچاتے ہوئے کہا۔

’’ہاں ہاں کہو!‘‘ فاروق صاحب کے لہجے کی پچاس فیصد خوشدلی کم  ہو گئی جس کا اندازہ نزہت کو بھی ہوچکا تھا لیکن کہے بنا چارہ کہاں تھا۔

مزید پڑھیے: دیکھو ذرا!

القرآن

القرآن

’’اے پیغمبر اپنی بیبیوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور دوسرے مسلمان کی بیبیوں سے بھی کہہ یجیئے کہ (سر سے) نیچے کر لیا کریں اپنے تھوڑی سی اپنی چادریں اس سے جلدی پہچان ہو جایا کرے گی تو آزار نہ دی جایا کریں گی اور الله تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘  (۵۹۔ سورۃ الاحزاب)


 

کانٹوں کے بیج - قسط نمبر 5

دیکھو ذرا!

عائشہ ہسپتال سے گھر آچکی تھی۔ وہ بلڈ پریشر لو ہونے کی وجہ سے بے ہوش ہو گئی تھی ۔ کچھ رات کی نیند بھی پوری نہ ہوئی تھی اور کچھ زرینہ بیگم کی ناراضگی کی ٹینشن۔ اس نے دو وقت سے کھانا بھی نہیں کھایا تھا۔ چنانچہ اس کے  کمزور اعصاب  یہ سب برداشت نہ کر پائے تھے۔

’’آپ کی وائف بہت کمزور ہیں۔ ان کی غذا کا خاص خیال رکھیں۔‘‘ جب ڈاکٹر نے کوئی تیسری بات اظہر سے یہ بات کہی تو وہ چڑ گیا۔

’’یہ میں اتنے جو پھل فروٹ لاتا ہوں وہ تم کھاتی کیوں نہیں ہو؟ کہاں جاتا ہے سب۔ بے بی بھی ویک ہو رہا ہے۔ آخر تم اپنا خیال کیوں نہیں رکھتیں؟‘‘ گاڑی میں بیٹھتے ہی اظہر شروع ہو گیا۔

مزید پڑھیے: کانٹوں کے بیج - قسط نمبر 5

الحدیث

القرآن

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علہی وسلم عید الفطر کے دن جب تک چند چھوہارے نہ کھا لیتے، عید گاہ کی طرف نہ جاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چھوہارے طاق عدد میں کھاتے تھے۔( بخاری۔ جلد اول:حدیث نمبر 904)