رکن کی درجہ بندی: 1 / 5

Star ActiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 
Kahani Ye Rasta koi aur tha

الله  الله کر کے35 منٹ  کا پیریڈ ختم ہوا  اور ایک آنکھ  کی آئی برو  کی کچھ شیپ نکلی   ۔ چھوٹے سے آئینے میں دیکھ کر خود  پر کسی شہزادی  کا  گمان  ہوا ۔ ابھی ایک آئی برو  باقی تھی۔ ہم  کیمسٹری کا پیریڈ بنک کر کے کالج کی کینٹین میں بیٹھے ہوئے تھے۔ میری کلاس فیلو شازیہ کئی دنوں سے اصرار کر رہی تھی۔

’’سیماآؤ ناں! تمھاری آئی بروز بنا دوں۔ اف کتنی عجیب لگتی ہیں۔ تم نے کبھی  اپنی شکل دیکھی ہے غور سے؟ الجھن نہیں ہوتی؟‘‘

باقی اگلے  دن پر چھوڑ دی ۔

وقت کی کمی اور کچھ  امی  کی ڈانٹ کا خوف کہ گھر  جا کر  امی کو پتا لگا  تو کیا ہو گا۔  خیر  اس دن تو  امی اور ابو میرے گھر پہنچتے ہی ایک شادی میں چلے گئے۔ میں نے احتیاطاً دوپٹہ  نماز  کے انداز  میں  باندھے  رکھا   تھا۔نہ جانے کیوں دل خالی خالی سا لگ رہا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کچھ بہت غلط کام کر لیا ہو۔

خیر اگلے دن  ہمت کر کے دوسری  بھی بنوا  لی۔ بنوا کیا لی بلکہ بنوانی پڑی۔ کیونکہ جو بھی دوست دیکھتی ہنس پڑتی۔ درد تو بہت ہو رہا تھا لیکن  خود کو    آئینہ  میں دیکھنا اچھا  لگنے لگا ۔ میں جو اپنے تیئں  چھپ کر بار بار  آئینہ  دیکھ رہی تھی  امی کی زیرک نگاہوں  سے  چھپا نہیں رہ سکا  اور پھر ایسی ڈانٹ پڑی کہ  الامان والحفیظ  ! ہمیں توبہ  کرتے  ہی بنی  ۔خیر یہ  تو تھی کالج کی بات۔

جب پڑھائی ختم ہوئی تو آئےروز رشتہ کروانے والی آنٹیاں  کہتیں ۔’’بیٹی کا حلیہ تو  درست کروائیں۔  آج کل لڑکے والوں کی بڑی ڈیمانڈز  ہوتی ہیں  کہ لڑکی خوبصورت  ہو ،اپ  ڈیٹ  ہو۔‘‘

  خاندان کی   خواتین نے امی کو سمجھایا   ۔’’ بھابھی سیما  کی آئی بروز  تو بنوائیں  کچھ  شکل نظر آئےلڑکے  والوں  نے واضح  طور پر کہہ  دیا  اس  کی شکل  دیکھیں گے تبھی  بات   بنے گی۔‘‘

اس طرح دوبارہ سے آئی  بروز بنوانے  کا سلسلہ  جاری ہو گیا۔  الله  کی مہربانی  سے  شو ہر سسرال ایسا  سیدھا  اور اچھا ملا  کہ کون سی  آئی  برو  کیسی صورت  ،مقدر  میں اچھا  گھرانہ  تھا  سو آنا  فانا  شادی طے  پا گئی۔

میاں جی نے کبھی مجھے کچھ نہیں کہا لیکن  سہیلیوں کی باتیں میرے دل میں پیوست تھیں کہ میاں کے دل پر راج کرنا ہے  تو آئی  برو  زکی  تراش خراش  پر دھیان  رکھنا  ۔سو نادانی کا یہ سلسلہ شادی کے بعد بھی جاری رہا۔

حد  تو یہ ہے  کہ پہلے بچے  کی پیدائش  سے چند روز پہلے  ہمسائے  سے ایک خاتون آئیں ۔ بڑی  حیرت  سے بولیں ۔’’تم  نے ہاسپٹل  جانا  ہے تیاری  نہیں کی ؟‘‘

  میں نے بڑے اطمینان سے کہا  ۔’’جی سب  تیا ری  ہے  بس  آپ  دعا  کرنا ۔‘‘

’’ارے  کیا خاک تیاری ہے!  منہ  دیکھو اپنا  آئی  بروز تو  بنواؤ  اپنی ، ڈاکٹر  کیا کہیں  گے   کہ کتنی پھوہڑ  عورت  ہے۔‘‘

’’ہاں یہ  بات  تو   میں   نے  سوچی نہیں ۔‘‘

آناً  فانا ًآئی  برو  بنوائیں۔  جب ہسپتال  پہنچی تو تکلیف  سے  بے  حال ، وہاں کون  سی آئی  برو  اور کیسا  پھوہڑ  پن  ،  سب  بھول گیا۔   

کچھ عرصہ  پہلے  اپنی ایک دوست  سے ملی ، جو اپنا بیوٹی  سیلون چلا رہی  تھی  باتوں باتوں میں اس  نے  بتایا  کہ  اس  نے کسٹمرز کی   آئی  بروز  بنانا  چھوڑ دی اور آمدن  میں واضح  کمی آئی  ہے۔

 میں حیران  ہوئی۔ ’’لیکن کیوں؟‘‘

’’ارے  تمہیں  نہیں معلوم  آئی برو  زبنوانا حرام  ہے۔  آنحضرت  صل  الله  علیہ وسلم   نے  واضح  طور  پر  ارشاد  فرمایا  ہے۔  بھئی میں  نے  تو استغفار   کر  لی  ۔  حرام کام  کروں  گی  لوگوں  کی آئی برو بناؤں  گئی  تو حرام کماؤں  گی  اور  بچوں  کو بھی حرام ہی   کھلاؤں گی    ناں۔‘‘ اس  کی بات دل  کو لگی۔ آج  سے پہلے بھی  دو خواتین  سے ایسی  ہی بات  سنی تھی پر اب دل پُر ملال  ہو گیا تھا۔ اپنے گناہِ مسلسل پر سخت شرمندگی ہو نے لگی تھی۔بے چینی میری زندگی میں آکر جیسے ٹھہر گئی تھی۔    پھر ایک دن ایک دوست  نے واٹس اپ  کیا جس  میں بڑی تفصیل سے  آئی  برو   ز بنانے  کی ممانعت  کی گئی تھی۔

’’اللہ تعالیٰ نے بھنویں بنوانے والیوں اور خوبصورتی کے لیے دانتوں کے درمیان فاصلہ کروانے والیوں پر لعنت فرمائی ہے۔ اس لیے کہ یہ اللہ کی پیدا کی ہوئی تخلیق کو تبدیل کرتی ہیں۔‘‘ (بخاری)

مکمل حدیث پڑھ کر میرا دل بھر  آیا، دل   میں  پختہ ارادہ کر  لیا   کہ اب تو حکم کی تعمیل  کرنی ہے  لیکن  عمل  کرنا بہت  مشکل لگا  ۔شیطان  نے دس تاویلیں  دیں۔  پھر دل  کو اس بات  پر جما  لیا  کہ نبی  صل  الله  علیہ وسلم  کا حکم  پورا کر رہی ہوں   جو  کرنے میں مجھے  مشکل  ہو  رہے  تھی  لیکن الله  اور  ا س کے رسول صل الله  علیہ وسلم  کے حکم پر پر  جان  بھی قربان!(آمین )

وہ جو لوٹ آئیں تو کچھ کہنا نہیں بس دیکھنا انہیں غور سے

جنہیں راستے میں خبر ہوئی کہ یہ راستہ کوئی اور تھا!