رکن کی درجہ بندی: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 
Tandarust rahen

اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے ۔اس کی نعمتوں پر شکر بجالا نا لازم ہے۔غذائیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کے لئے بہترین عطیہ ہیں اور غذاں میں سے گوشت نہایت عمدہ غذا ہے ۔جو لذیذ بھی ہے اور صحت بخش بھی ۔گوشت کے استعمال سے جسم کی توانائی، قوت اور طاقت میں اضافہ اور صالح خون پیدا ہوتا ہے ۔حضور سید عالم ﷺ کو گوشت بے حد مرغوب تھا ۔گویا آپ ﷺ نے گوشت کو کھانوں کا سردار قرار دیا ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ گوشت کا سالن دنیا اور آخرت میں سب سالنوں میں سے سردار سالن ہے ۔یہی وجہ ہے کہ معاشرے کے تمام افراد اپنی حیثیت ،استطاعت اور پسند کے مطابق وقتاً فوقتاً مختلف جانوروں کے گوشت کو استعمال میں لاتے رہتے ہیں۔

وطن عزیز کے چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر میں گوشت کی مختلف قسم کی ڈشیں تیار کی جاتی ہیں ۔گھریلو پکوانوں سے لے کر کڑاہی تک اور شامی کبابوں سے لے کر تکوں تک گوشت کا استعمال معاشرتی معمول ہے ۔بلکہ اب تو بعض مخصوص موافع پر گوشت کو خاص انداز میں پکا کر پیش کرنا تقریبا ثقافت کا حصہ بن کر رہ گیا ہے ۔گوشت کو سالن کے طور پر مفرد بھی پکایا جا سکتا ہے اور مختلف قسم کی ترکاریوں سبزیوں کے ساتھ بھی پکایا جا تا ہے ۔بلکہ گوشت اور ترکاریاں اکٹھی پکائی جائیں تو ان کی لذت میں اضافہ ہوتا ہے اور اہمیت و افادیت میں بھی طبی حوالے سے بھی گوشت کی حد ت ترکاری کی وجہ سے معتدل ہو جاتی ہے اورنہایت لذیذ اور صحت بخش سالن تیار ہوتا ہے ۔حضور سید عالم ﷺ گوشت اور سبزی کا سالن پسند فرماتے تھے ۔حضرت عبد اللہ بن ابو طلحہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ایک درزی نے حضور اکرم ﷺ کی دعوت کی ۔میں (حضرت انس ) بھی آپ ﷺ کے ہمراہ تھا ۔ اس نے جو کی روٹی کے ساتھ خشک گوشت اور کدو کا شوربا پیش کیا ۔حضور اکرم ﷺ پیالے کے کناروں سے کدو کے قتلے تلاش کر رہے تھے ۔اس دن سے میں بھی کدو کو برابر پسند کرتا ہوں ۔(شمائل ترمذی)

مظہر مصطفےٰ امیر المومنین حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ لوگو! گوشت کھایا کرو کہ گوشت کھانا حلق کو اچھا کرتا ہے ۔حضور اکرم ﷺ ”قدید“ کو بہت شوق سے تناول فرماتے تھے ۔قدید اس سالن کو کہتے ہیں جو خشک کئے ہوئے گوشت کو پانی میں بھگونے کے بعد پکایا جاتا ہے ۔پاکستان میں گوشت پکانے کے مختلف اور بہت سارے طریقے رائج ہیں ۔خصوصاً عید قربان کے موقعہ پر ملک بھر میں ہر گھرانے کے اندر اپنی اپنی پسند اور ذوق کے مطابق گوشت پکائے جاتے ہیں ۔بعض لوگ اس موقع پر گوشت کی فراوانی سے اس قدر جذبات میں آجاتے ہیں کہ بے تحاشا کھاتے ہیں اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بیمار پڑ جاتے ہیں ۔لہٰذا اس موقعہ پر حریصانہ انداز میں بسیار خوری سے بچنا از بس ضروری ہے ۔مختلف جانوروں کے گوشت کا ذائقہ اور تاثیر مختلف ہوتی ہے اور پرندوں کا گوشت بھی نہایت عمدہ ہوتا ہے ۔حضور سید عالم ﷺنے مختلف پرندوں اور جانوروں کا گوشت پسند فرمایا ۔گویاحضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اکرم ﷺ کو دیکھا آپ مرغی کا گوشت تناول فرما رہے تھے ۔اس طرح ترمذی شریف کی حدیث ہے حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ میں نے حضور اکرم ﷺ کے ہمراہ حبارٰی (بٹیر) کا گوشت کھایا ۔بخاری شریف میں روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے ایک مقام پر ایک خرگوش کو اس کے مقام سے نکالا ۔لوگ اس کے پیچھے بھاگتے بھاگتے تھک گئے مگر میں نے اسے پکڑ ہی لیا ۔پھر میں اسے حضرت ابو طلحہ کے پاس لے آیا ۔انہوں نے اسے ذبح کیا اور اس کے سرین یا رانیں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کیں ۔حضور اکرم ﷺ نے اسے قبول فرما لیا ۔ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے اسے تناول فرما لیا ۔

بخاری شریف ہی میں روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے نیل گائے کا گوشت بھی تناول فرمایا ۔گویا حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ ہم نے جنگل سے ایک نیل گائے کو شکار کیا ۔حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ”اے قتادہ! اس گوشت میں سے کچھ تمہارے پاس ہے؟ عرض کیا گیا کہ اسکا پاں ہے ۔آپ ﷺ نے پکڑا اور اس میں سے تناول فرمایا ۔اسی طرح حضور اکرم ﷺ نے اونٹ ،مچھلی، بکری وغیرہ جیسے متعدد حلال جانوروں کا گوشت تناول فرمایا ۔

حضرت ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جب تم ہانڈی پکا تو اس میں کدو ڈال دو۔ اسلئے کہ یہ غمگین دل کو تقویت دیتا ہے اور طب نبوی میں ہے کہ کد وشامل کیا گیا سالن فرحت بخش ہے اور اسکی ٹھنڈک گوشت کی حرارت کو دور کرتی ہے اور گوشت کی حرارت اس کی رطوبت کو بند کر دیتی ہے اور یوں وہ سالن معتدل ہو جاتا ہے ۔حضرت عبد اللہ بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے حضور اکرم ﷺ کے ساتھ مسجد میں بیٹھ کر بھنا ہوا گوشت کھایا ۔ حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اکرم ﷺ کے لئے کلیجی اور دل بھون کر ہدیہ کیا تو آپ ﷺ نے اسے تناول فرمایا۔(بخاری ،مسلم ،نسائی)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ راوی ہےں کہ حضور اکرم ﷺ کو دست اور شانہ کا گوشت پسند تھا ۔حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ اور حضرت جابر بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ کو شوربا والا گوشت بہت پسند تھا۔

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا راوی ہےں کہ حضور اکرم ﷺ نے ہڈی والا گوشت تناول فرمایا۔(طحاوی)

حضور اکرم ﷺ کو بکری کا مغز بھی پسند تھا اور آپ ﷺ تناول فرماتے تھے ۔

لذت اور ذائقہ کے اعتبار سے بکرے کا گوشت سب سے زیادہ بہتر ہے اس کا اعتدال پسندانہ استعمال جسمانی قوت اور افزائش صحت کے حوالے سے نہایت مفید ہے ۔ مریضوں کو بکرے کے گوشت کا شوربا غذا کے طورپر دیا جانا بحالی صحت کا موجب بنتا ہے ۔ہڈی کے قریب والے گوشت میں زیادہ رطوبت ہوتی ہے اوروہ زیادہ لذیذ اور غذائیت سے بھر پور ہوتا ہے ۔لیکن ہضم ہونے میں دوسرے گوشت کی نسبت تاخیر سے ہضم ہوتا ہے ۔
دنبے کے گوشت کے بارے میں اطباع قدیم اور جدید ماہرین صحت کا متفقہ فیصلہ ہے کہ تمام حلال جانوروں میں سے دیر ہضم اور لحمیات کے حوالے سے لطیف ترین غذا کی حیثیت رکھتا ہے نہایت مقوی اور لذیذ ہے مناسب مقدار میں کھانے سے طبیعت میں فرحت و تاز گی پیدا ہوتی ہے ۔
بھیڑ کا گوشت صحت پروری کے حوالے سے بکرے کے گوشت کے بعد پہلے نمبر پر خیال کیا جاتا ہے اس کی تاثیر گرم تر ہے۔ اس کی تاثیر بکری کے گوشت سے صرف ایک حوالے سے مختلف ہے کہ اس کا زیادہ استعمال اپھارے کا موجب بنتا ہے ۔اگر بھیڑ کے گوشت کو پکاتے وقت بڑی الائچی ،دارچینی اور سیاہ زیرہ کی مقدار بڑھادی جائے تو اس سے اپھارے والا نقص بھی دور ہو جاتا ہے ۔گائے کا گوشت ہمارے ہاں کثرت سے استعمال ہوتا ہے لیکن لوگ اسے بکرے کے گوشت سے کم عذائیت کا حامل خیال کرتے ہیں جو غلط ہے ۔طبی نقطہ نگاہ سے گائے کا گوشت بکرے کے گوشت کی نسبت جسم کو زیادہ حرارت اور طاقت بخشتا ہے البتہ اس کا کثرت سے استعمال سوداوی امراض پیدا کرتا ہے ۔عرق النساءاور درد مفا صل کی حالت میں گائے کے گوشت کا استعمال نقصان دہ ہے ۔جو لوگ زیادہ محنت اور مشقت کے عادی نہیں گائے کے گوشت سے احتیاط بہترہے ۔

اونٹ کا گوشت اگر چہ پاکستان میں بہت کم کھایا جاتا ہے لیکن اتنا زیادہ لذیذ نہیں ہوتا۔یہ گوشت زیادہ ثقیل بھی ہوتا ہے۔ گائے کی طرح یہ بھی جسم میں سوداوی خون پیدا کرتا ہے ۔تا ہم بواسیر کے مریضوں کے لئے مفید ہے۔ شرعی حوالے سے یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ حلال جانوروں کے صحیح ذبح شدہ جسم میں سے جاری خون ،سفید سخت پٹھے ،مغز حرام ،کھر ،دانت ،سینگ، ہڈی (جس سے ضرر پہنچے) حد ضرر تک بال کھانا حرام ہے ۔ کپورے ،غدود ، اعضائے مخصوص (نر و مادہ ) مثانہ پتہ وغیرہ حرام کے قریب ہے ۔اوجھڑی اور آنتوں کا کھانا مکروہ تحریمی ہے اورشرعاً مکروہ تحریمی کا ارتکاب گناہ اور ناجائز ہے ۔سیدنا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمة اللہ علیہ نے فتاویٰ رضویہ میں قوی دلائل کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ اوجھڑی اور آنتیں کھانا مکروہ تحریمی یعنی حرام کے قریب ہے ۔اس لئے اجتناب ضروری ہے ویسے طبی نقطہ نگاہ سے بھی صحت انسانی کے لئے ضرر رساں ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حلال غذا کو اعتدال سے استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین۔

(بشکریہ ہماری ویب ڈاٹ کام)