Issue no 22

القرآن

Al Quran

’’قسم ہے انجیر ( کے درخت)کی اور زیتون (کے درخت) کی۔  اور طور سینین کی۔  اور اس امن والے شہر (یعنی مکہ معظمہ) کی۔ کہ ہم نے انسان کو بہت خوبصورت سانچے میں ڈھالا ہے۔  پھر (ان میں جو بوڑھا ہو جاتا ہے) ہم اس کو پستی کی حالت والوں سے بھی پست ترکر دیتے ہیں۔  لیکن جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے تو ان کے لیے اس قدر ثواب ہے جو کبھی منقطع نہ ہوگا۔ ‘‘  [سورۃ التین۔ 1-6]


الحدیث

Al Hadith

حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ اﷲ تعالیٰ کو کون سا عمل سب سے زیادہ محبوب ہے؟ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

’’نماز کو اس کے مقررہ وقت پر پڑھنا۔‘‘(مسلم)

 

ہدایت کے سنگِ میل: پیارے نبی پاک ﷺ کیسے تھے؟

آپﷺ گفتگو کیسے کرتے تھے؟

    رسول اللہﷺ  اپنا وقت فالتو باتوں میں برباد نہیں کرتے تھے۔ آپﷺ زیادہ تر خاموش رہتے۔ ایسا معلوم ہوتا جیسے کچھ سوچ رہے ہوں۔ آپﷺ اسی وقت گفتگو فرماتے جب بولنے کی ضرورت ہوتی۔ آپﷺ جلدی جلدی اور کٹے کٹے لفظ نہیں بولتے تھے۔ آپﷺ کی گفتگو بہت صاف اور واضح ہوتی۔ نہ آپ ضرورت سے زیادہ لمبی بات کرتے اور نہ اتنی مختصر ہوتی کہ سمجھ میں نہ آتی۔ آپ کے جملے بہت نپے تلے ہوتے۔

    حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ ٹھہر ٹھہر کر بولتے۔ ایک ایک فقرہ اس طرح واضح ہوتا کہ سننے والے کو پوری تقریر یاد ہو جاتی۔ آپﷺ کی آواز بلند تھی اور اچھی طرح سنی جا سکتی تھی۔

    آپﷺ کسی کی بات بیچ سے کاٹتے نہ تھے بلکہ پوری بات کہنے کا موقع دیتے اور توجہ سے سنتے تھے۔

مزید پڑھیے: ہدایت کے سنگِ میل: پیارے نبی پاک ﷺ کیسے تھے؟

حرفِ اوّل

Harf e awwal

ہمارے بڑوں کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ ان کے ہاں ’’علم برائے علم‘‘ کے بجائے ’’علم برائے عمل‘‘ پرزور دیا جاتا تھا ، محض معلومات ،مطالعہ اور تعلیمی قابلیت ان کے نزدیک کوئی قابل رشک بات نہ تھی بلکہ وہ ہمیشہ اس کوشش میں رہتے تھے کہ جو کچھ پڑھا اورسیکھاجائے اس کی عملی مشق بھی ہو۔
چھوٹوں پر وہ اس سلسلے میں پوری نگاہ رکھتے تھے ۔ اگر اس میں وہ کوئی کمی محسوس کرتے تو حکمت وبصیرت کے ساتھ اس کی اصلاح کرتے۔ہمارے بزرگوں کے گھروں میں عملی واخلاقی تربیت کا یہ حال تھا کہ بچے بھی تہجد کے پابند ہوا کرتے تھے، لڑکے تمام نمازوں میں جماعت اور تکبیر اولیٰ کی پابندی کیا کرتے، لڑکیاں گھروں میں اذان سنتے ہی وضو بنانے لگتیں۔بلا ناغہ قرآنِ مجید کی تلاوت کیا کرتی تھیں، مسنون دعاؤں کااہتمام ہوتاتھا،بچے بڑوں کا ادب ملحوظ رکھتے تھے۔صرف والدین ہی نہیں بڑے بھائی ،بڑی بہن کو بھی ادب سے بلاتے تھے۔ قلم ،کتاب کاپی روشنائی وغیرہ کابھی احترام کرتے تھے۔

مزید پڑھیے: حرفِ اوّل

سیرت النبی ﷺ کوئز

Seerat un Nabi Quiz

پچھلے کوئزکے جوابات:

 ۱) یکم شوال، ۲ ہجری ۲) 27 رجب المرجب، ۲ نبوی ۳) بابِ محمد ﷺ ۴) فجر و عصر ۵) بیت المعمور

 

صحیح جوابات بھیجنے والی خواتین کے نام:

(صائمہ بنت عبدالواحد۔ کراچی، نائلہ اخلاق۔ بدین، ایمن مریم۔ برمنگھم، حرا سعید۔ آکسفورڈ، فضیلہ بیگم۔ فیصل آباد)

مزید پڑھیے: سیرت النبی ﷺ کوئز

نعت: درود پہنچے سلام آئے

مرے لبوں پر کسی گھڑی جب ثنائے خیر الانامؐ آئے
زمیں سے پیغام تہنیت کا فلک سے مجھ کو سلام آئے
وہ راحتِ جانِ آمنہ جب بہ ارضِ بیت الحرام آئے
جھلک ذرا دیکھنے کو ان کی پرائے اپنے تمام آئے
بہ شکلِ نوری، بچشمِ میگوں، بہ قلبِ اطہر، بہ خلقِ احسن
نبیِ عالی مقامؐ آئے رسولِ والا کرامؐ آئے

مزید پڑھیے: نعت: درود پہنچے سلام آئے

گوشۂ ادب: لالٹین

ایک رات میں نے لالٹین سے پوچھا:
کیوں بی! تم کو رات بھر جلنے سے کچھ تکلیف تو نہیں ہوتی؟
بولی:
آپ کا خِطاب کس سے ہے؟
بتّی سے، تیل سے، ٹین کی ڈِبیہ سے، کانچ کی چِمنی سے یا پیتل کے اس تار سے جس کو ہاتھ میں لے کر لالٹین کو لٹکائے پھرتے ہیں۔  میں تو بہت سے اجزاء کا مجموعہ ہوں۔
لالٹین کے اس جواب سے دل پر ایک چوٹ لگی ۔ یہ میری بھول تھی۔ ا گر میں اپنے وجود کی لالٹین پر غور کر لیتا تو ٹین اور کانچ کے پنجرے سے یہ سوال نہ کرتا۔

مزید پڑھیے: گوشۂ ادب: لالٹین

کہانی: ستارے نہیں آتے

وہ وہی نہیں رہی تھی۔ اس کی شباہت بھی نہیں  رہی تھی بلکہ یہ تو اس وجود کا سایہ سا تھا۔ ایک لمبے عرصے بعد نائلہ میرے سامنے تھی۔ وقت نے اپنے سارے نشان اس کی ذات پہ ثبت کیے تھے۔میں نے سامنے دیکھا، بے حال سا وجود اپنی تمام تر رعنائی کھو چکا تھا ، اس کی شہابی رنگت سیاہ پڑ چکی تھی۔ بھرا بھرا سا چہرہ ہوا کرتا تھا ۔اب تو گالوں کی ہڈیاں ابھر آئیں تھی۔ اس کے لب خشک تھے وہاں سرخی کا شائبہ تک نہیں تھا۔ لمبی زلفیں کچھڑی بالوں میں بدل گئے تھے۔ سب سے زیادہ حیرت مجھے اس کی پھیکی سی آنکھوں پہ ہوئی تھی ۔وہاں زندگی کی کوئی چمک نہیں تھی۔ ڈھلتی شام کے جیسی پیلی آنکھیں ویران تھیں۔کیا وقت اتنی جلدی گزر جاتا ہے؟ میں نے سوچا۔

مزید پڑھیے: کہانی: ستارے نہیں آتے

بچوں کو سردی سے بچائیں

سردیوں کا موسم اکثر بچوں کے لیے خاصی زحمت کا باعث بن جاتا ہے۔ نزلہ، زکام، گلے کی خراش، نمونیہ، بخار وغیرہ اس موسم کی دین ہیں ان سے بچائو کی تدابیر اختیار کرلیں تو آپ کے نونہال بیمار ہونے سے بچے رہیں گے۔
دراصل اپنی ناتواں قوت مدافعت کے باعث نوزائیدہ بچے موسمی سختی برداشت نہیں کر پاتے اور ماحول اور آب و ہوا کی تبدیلی سے بہت جلد متاثر ہو جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ناسمجھی کے باعث انہیں احتیاطی تدابیر کا بھی زیادہ شعور نہیں ہوتا اور وہ نتائج سے بے پروا ہو کر اپنے کاموںمیں مگن رہتے ہیں، لہٰذا سردیوں میں ان کا متاثر ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔
ایسے میں اکثر مائیں موسم کو الزام دیتی نظر آتی ہیں جو کہ نہایت عجیب امر ہے، کیوں کہ بچے تو ٹھہرے بچے، وہ کیوں کر موسم اور اس کے لیے احتیاطوں کو سمجھ سکتے ہیں؟ یہ کام تو ہے ہی سراسر ان کی ماؤں کا کہ انہیں احتیاط کرائیں۔ اگر سرد موسم کے شروع ہوتے ہی بچوں کو مناسب گرم کپڑے پہنائے جائیں۔

مزید پڑھیے: بچوں کو سردی سے بچائیں

کہانی: ہم دیارِ غیر میں ۔ آخری حصہ

Ap sey kuch kehna hy

"تو  پھر کیا کریں ؟"  میں نے پوچھا۔

"ڈاکٹر کہتی ہے کہ اگر آپ انتظار  کرنا چاہتے  ہیں  تو ٢٤ گھنٹے  انتظار  کر لیں ، لیکن چوبیس  گھنٹے  بعد  بھی  آپریٹ 

ہی کرنا ہوگا ۔"  وہ بولے

"ٹھیک  ہے  آپ  پیپرز  سائن کر دیں ، جب آپریٹ  ہی کرنا ہے  تو ابھی کیوں نہیں ۔"  میں نے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں  سوچ کر  بہت مضبوط لہجے میں ان کو کہہ  دیا۔

"دیکھ  لو فاطمہ ، کچھ ہو نہ جاےٴ۔ " خان  صاحب بولے۔

" کچھ نہیں  ہو گا ، الله ہے نا ! بس آپ سائن کریں ۔" 

" حد  ہے  تمہیں ذرا  بھی  پریشانی  نہیں ہے فاطمہ ۔" 

"بالکل بھی نہیں ہے  الحمدللہ !‘‘ میں نے خان  صاحب کی بات کا جواب دیا اور  آنکھیں بند  کر کے درود شریف  پڑھنے لگی ۔

مزید پڑھیے: کہانی: ہم دیارِ غیر میں ۔ آخری حصہ

کہانی: آ بیل مجھے مار: قسط نمبر 6

ثنانے ہمیں تفصیل سے تمام خطرات سے آگاہ کیااورہماری آنکھوں کے آگے تارے ناچنے لگے۔میاں جی کے سامنے بے عزتی ۔۔۔نہیں نہیں ۔۔۔ہم شمارہ تیار کرکے دکھائیں گے۔
’’ثنا تم جلدی سے نظموں کابنڈل کھولو،دیکھو جوصرف اچھی نظمیں ہوں،بس وہی نکال کرمجھے دینا،ہم اتنے میں اداریہ لکھ لیں۔‘‘
یہ کہہ کرہم نے جلدی سے قلم کاغذسنبھالا اوراداریہ لکھنے لگے۔
’’عزیز قاریات ،السلام علیکم ورحمۃا للہ وبرکاتہ! امیدہے آپ سب خیریت سے ہوں گی ،میں بھی خیریت سے ہوں۔صورتِ احوال یہ ہے کہ ۔۔۔‘‘
اوہو یہ توخط بنتاجارہاہے۔ہم نے لکھاہواقلم زدکرکے ردی کی ٹوکر ی میں ڈال دیا۔

مزید پڑھیے: کہانی: آ بیل مجھے مار: قسط نمبر 6

پکوان: مزیدار نہاری

آج حاضر ہے نہاری کی ترکیب وہ بھی مکمل طور پر گھر کے مصالحوں سے تیار کی ہوئی۔بازار کے تیار کردہ مصالحے استعمال کرنے میں کبھی مرچ کم یا تیز یا کبھی نمک کم یا تیز رہ جاتا ہے۔لیکن گھر کے مصالحوں سے ایک دم ایک دم پرفیکٹ ذائقہ آتا ہے۔
اجزاء:
گوشت:بونگ کا گوشت ایک کلو۔ اگر چکن استعمال کرنا چاہیں تو وہ بھی کر سکتے ہیں۔
ہڈیاں،نلیوں کے ساتھ:آدھا کلو
پیاز۔ ایک عدد درمیانے سائز کی باریک کٹی ہوئی
لہسن:چار سے پانچ جوئے
تیز پات ۔ ایک چائے کا چمچہ پسا ہوا

مزید پڑھیے: پکوان: مزیدار نہاری

سنہری باتیں

Ap sey kuch kehna hy

زندگی  گراں مایہ ہے۔ اسکی قدر اس سے پوچھوجس کو جینے کی چاہ ہے مگر اسکے پاس مہلت نہیں۔

موت کا اک وقت تعین ہے اور اسکا آنا برحق ہے۔ تو ہر دن ایسے جیو جیسے وہ زندگی کا آخری دن ہے۔🔹🔸

اخلاق ایسا خوبصورت ہتھیار ہےجس سے ساری دنیا اپنے نام کی جاسکتی ہے۔ 🔹🔸

غصہ اپنے ساتھ تباہی کے سوا کچھ نہیں لاتا۔ اصل بہادر وہی شخص کہلاتا ہے جو غصے میں خود کو باز رکھے اور یوں بڑے نقصان سےبچ جاتا ہے۔ 🔹🔸

مسکراہٹ دنیا کا وہ انمول تحفہ ہے جو سب سے زیادہ سستا ہے مگر اسکے نتائج بہترین ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیے: سنہری باتیں

ٹیکنالوجی: مسلم سائنسدانوں کی ایجادات

کافی: کیا آپ کو معلوم ہے کہ کافی جو آج دنیا کے مقبول ترین مشروبات میں سے ایک ہے، درحقیقت مسلمانوں کی ایجاد ہے اور یہ کسی سائنسدان کا نہیں بلکہ عام چرواہے عرب کا کارنامہ ہے، جو اپنے جانوروں کو چرا رہا تھا کہ اسے ایک نئے طرز کا بیری ملا اور انہیں ابالنے کے بعد دنیا میں پہلی بار کافی تیار ہوئی۔

اس مشروب کی تیاری کا یہ پہلا ریکارڈ ہے جس کے بعد بیج ایتھوپیا سے یمن پہنچا جہاں صوفی بزرگ اہم مواقعوں پر اسے پی کر ساری رات جاگتے تھے، پندرہویں صدی کے اختتام تک یہ مشروب مکہ اور ترکی سے ہوتا ہوا 1645 میں یورپی شہر وینس اور پھر دیگر ممالک تک پہنچ گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ لندن میں پہلا کافی ہاؤس بھی ایک ترک شخص نے ہی اوپن کیا۔

مزید پڑھیے: ٹیکنالوجی: مسلم سائنسدانوں کی ایجادات

کیا آپ جانتے ہیں

گھونگھا تین سال تک لگاتار سو سکتا ہے۔
ہاتھی وہ واحد جانور ہے جو چھلانگ نہیں لگا سکتا۔
کتے وہ آواز بھی سننے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو کہ ایک انسان نہیں سن سکتا۔
دوسروں کو روشنی دینے والا مؤجد تھامس ایڈیسن جس نے بلب ایجاد کیا٬ خود اندھیرے سے خوفزدہ رہتا تھا۔

تقریباً 3000 سال قبل زیادہ تر مصری باشندے 30 سال کی عمر تک پہنچتے ہی انتقال کر جاتے تھے۔
زمین پر صرف ایک منٹ کے مختصر عرصے میں تقریباً 6 ہزار مرتبہ بجلی چمکتی ہے۔

مزید پڑھیے: کیا آپ جانتے ہیں

تندرست رہیں: مچھلی کے فوائد

انسانی صحت کے لئے مچھلی کا گوشت اورتیل بہت ہی مفید ہے مثلا دل کے امراض کو لیسٹر ول، وزن کا بڑھنا، ڈپریشن، کینسر، حاملہ ،آنکھ کی تکالیف، جلد، زخم اور دوسرے بہت سارے امراض میں مچھلی کا تیل بہت ہی مفید ہوتا ہے کیونکہ مچھلی کے تیل میں موجود اومیگا دل کے امراض میں ایک بہت مفید چیز ہے امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی ایک تحقیق کے مطابق مچھلی دل کے امراض کی شرح کو بہت حد تک کم کر سکتاہے وزن کو کم کرنے میں مچھلی کا تیل بہت مفید ہوتا ہے۔

یو نیو رسٹی آف سائو تھ آسٹر یلیا ء کی ایک تحقیق...

مزید پڑھیے: تندرست رہیں: مچھلی کے فوائد