درس قرآن ڈاٹ کام کی تمام لنکس

مدارس بنات میں اہم مدرسہ ،انٹرنیٹ پر تعلیمی سلسلہ کا حکم ،وظائف کا حکم اور بدعت کی تعریف

سوال

آج کل مدارس سے آ پ کا بھی تعلق ہے اور میں بھی اسلام آباد کے ایک عربک مدرسہ میں پڑھتی ہوں جس کی ایک شاخ کراچی میں بھی ہے عرض ہے کہ آجکل مدارس میں چپ کرایاجاتاہے دلائل سے بات کرنے اور سمجھنے کا زمانہ گزرگیاہے سوائے فقہ کے تفسیر بھی برائے نام پڑھائی جاتی ہے اور باقی مضامین بھی،اب ایسے میں مردحضرات تو جیدمدارس کی طرف سفر کرکے چلے جاتے ہیں میں ایک لڑکی ہوںایسابھی نہیں کرسکتی ہوں میں نے عصری تعلیم آٹھویں تک ایک انگلش میڈیم سکول میں حاصل کرکے ادہر آئی تاکہ تمام استعداد یہاں صرف کروں باوجود اس کے سب کا اصرار تھا کہ میں ڈاکٹر بنوں کچھ رہنمائی فرمائیںکیا محقق فی العلم مرد ہی ہوسکتے ہیں ؟
(۲)کیاآپ مجھے کوئی علمی ویب سائٹ بتاسکتے ہیں جس سے میں علمی فائدہ حاصل کرسکوں ؟
(۳)کیاہمارے علماء انٹرنیٹ ؍سکائپ پر کوئی علمی سلسلہ شروع نہیں کرسکتے کہ مجھ جیسے بھی فائدہ حاصل کریں؟
(۴)کیاو ظائف کرناصحیح ہے ؟اگر صحیح ہے تو پھر بدعت کی ڈیفینیشن کیاہے ؟(بنت ارشد ،اسلام آباد
)

جواب

(۱)یہ اہم سوال ہے بنات کے کئی ایسے مدارس ہیں جنمیں صحیح اور اعلی معیار کے مطابق تعلیم کا انتظام نہیں ہوتا جس سے بہت تکلیف ہوتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی ذہن میں رکھیں کہ ہمارا زمانہ یا ماحول ایسے معیاری مدارس سے خالی بھی نہیں ہیں آپ نے درست کہا کہ لڑکوں کے ایسے مدارس تو الحمد للہ بہت ہیں مگر بنات کے ایسے مدارس کی تلاش واقعی ایک مسئلہ ہے ۔ اگراسلام آباد میں مدرسہ عائشہ گلستان جوہر کراچی ( ڈاکٹر امجد صاحب ) کی کوئی شاخ یا مولانا فیض الرحمن صاحب کے ادارہ علوم اسلامیہ میں بنات کی تعلیم کا کوئی نظام ہو تو ان سے رابطہ کرنا مفید ہوگا ۔
(۲و۳)پاکستان میں انٹرنیٹ یا سکائپ کا کوئی ایسا منظم تعلیمی نظام تو میرے ذہن میں نہیں ہے البتہ کینیڈا کے ایک عالم مولانا یوسف ملاں صاحب ہیں وہ انگلش میں پڑھاتے ہیں مگر انتہائی ذی استعداد عالم ہیں اور بہترین پڑھاتے ہیں اگر ان سے رابطہ کی کوئی صورت ہوسکے تو مفید ہوگا ۔نیٹ پر انکا ایڈریس وغیرہ تلاش کیا جاسکتا ہے ۔
(۴)وظائف قرآن وحدیث یا جائز کلمات پر مشتمل ہوں تو انہیں پڑھا جاسکتا ہے مگر اس کیلئے کسی متبع سنت اور مستند عالم ومصلح سے رہنمائی حاصل کرنا ضروری ہے ۔بدعت ایسے نئے کام کو کہتے ہیں جو دین سمجھ کر کیا جائے ۔مگر قرآن ،حدیث ،اوراقوال صحابہ سے اسکا کوئی ثبوت نہ ہو۔ اس کی تفصیل کیلئے’’ اختلاف امت اور صراط مستقیم،، ملاحظہ فرمائیں۔