درس قرآن ڈاٹ کام کی تمام لنکس

والدہ کو دی گئی رقم پر زکوۃ کا حکم

سوال

 اگر میں اپنی والدہ کو کچھ روپے دیدوں تو ان پیسوںکی زکوۃ دینا میرے ذمہ ہوگا یا نہیں ؟(واصف لاہور)

جواب

اگر آپ اپنی والدہ کو یہ رقم ھبہ یعنی گفٹ کے طور پر دینگے تو پھر اسکی زکوۃ (اگر یہ رقم خود یا دیگر قابل زکوۃ اموال سے مل کر نصاب تک پہنچ جائے تو ) آپ پر واجب نہیں بلکہ آپکی والدہ پر اسکی زکوۃ ادا کرنا لازم ہوگا ۔اور اگروالدہ کو  آپ یہ رقم بطور قرض دینگے تو پھر اسکی زکوۃ آپ پر لازم ہوگی ۔ 

سید کو زکوۃ دینے کا حکم

سوال

 مجھے اس بات کا علم ہے کہ سید کو زکوٰۃ اور کسی قسم کے صدقات ہم نہیں دے سکتے ،ازراہ کرم تسلی بخش جواب دیں دلیل کے ساتھ ۔!(حناکامران ، کراچی)

جواب

جی ہا ں سید کوزکوٰۃ نہیں دی جاسکتی اسی طرح صدقات واجبہ مثلا صدقہ فطر اور نذر کے پیسے وغیرہ بھی ان کو نہیں دیئے جاسکتے ،البتہ صدقات نافلہ دے سکتے ہیںاور مختلف احادیث سے یہ بات ثابت ہے مختلف مستند احادیث کے علاوہ صحیح مسلم شریف کی درج ذیل حدیث میں بھی آپ ﷺنے ارشاد فرمایا :۔
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :ان ھذہ الصدقات انماھی اوساخ الناس وانھالاتحل لمحمدولالآل محمد(مسلم ۱؍۱۶۱)واللہ اعلم

نیاز کی حقیقت

سوال

میرا تعلق تو الحمد للہ دیوبندی خاندان سے ہے مگر میری ایک دوست نے مجھ سے کہا ہے کہ کسی اہل حق عالم سے پوچھ کر بتائو کہ نیاز کی کیا حقیقت ہے ؟(حرا صدیقی کراچی (

جواب

نیاز کے نام سے اگر صدقہ مراد ہو تو خاموشی سے حسب استطاعت صدقہ کرنا باعث اجروثواب ہے اور اگر کسی بزرگ کے ایصال ثواب کیلئے کوئی صدقہ کرنا چاہیں تو اسمیں بھی شرعاً کوئی حرج نہیں بشرطیکہ یہ صرف اور صرف اللہ کے نام پر ہو غیر اللہ کے نام کی نیاز حرام ہے نیز آج کل نیاز کے نام سے کئی بدعات رائج ہوچکی ہیں مثلاً کوئی خاص دن متعین کرنا ،کسی پیر یا بزرگ کے نام سے اس پیر یا بزرگ کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے اجتماع اور دعوتوں کا اہتمام وغیرہ یہ افعال بدعات ہیں۔ ان سے احتراز کرنا لازم ہے۔واللہ اعلم