رحمت کے دریچے اور کھلے

          Print

(پہلی قسط)

’’زینب کے میاں نے آٹو میٹک مشین لا کر دی ہے ۔ بس میلے کپڑے ڈالو اور پون گھنٹے میں دھلے کپڑے نکال لو۔‘‘ زرینہ خالہ پڑوس کی خالہ امتل کو بتا رہی تھیں۔ ’’ماشاءاللہ میری بیٹی راج کر رہی ہے۔ کام والی آتی ہے ۔ صفائی برتن جھاڑو کے لیے۔ آٹا بھی گوندھ جاتی ہے۔ ‘‘ خالہ زرینہ خوشی خوشی بتار ہی تھیں۔کچھ ہی عرصہ پہلے انہوں نے اپنی ایک رشتے کی بہن کے ہاں زینب کو بیاہا تھا۔

اسی اثنا میں ان کی بہو عائشہ صحن میں آئی ۔وہ پورے دنوں سے تھی اور تھکن اور اداسی اس کے چہرے سے ہویدا تھی۔ اس نے بالٹی ایک طرف رکھی اور کپڑے نچوڑنچوڑ کر الگنی پر پھیلانے لگی۔

’’ارےبیٹا! ہاتھ تو دیکھو برف جیسے سفید ہورہے ہیں۔ کیا ٹھنڈے پانی سے دھوئے ہیں کپڑے؟‘‘ خالہ امتل نے اس کے ہاتھوں کو دیکھ کر پوچھے بغیر نہ رہ سکیں۔

اس سے پہلے کہ عائشہ کچھ بولتی، زرینہ خالہ کہنے لگیں۔’’ہاں تو ہاتھ ہی سے دھوتی ہے یہ۔ مشین میں اس کوچلانے نہیں دیتی ہوں۔ اظہر خرچہ نہیں دیتا ناں گھر میں۔ نہ ہی بل بھرتا ہے۔ پھر اس کی بیوی بجلی کی چیزیں کیوں استعمال کرے؟ اور گیزر بھی بند کیا ہوا ہے میں نے۔‘‘ زرینہ خالہ کی بے حسی دیدنی تھی۔

 عائشہ کپڑے پھیلا کر تھکے قدموں کے ساتھ اپنے کمرے میں چلی گئی۔

’’زرینہ! اظہرتمھارا اپنا بیٹا ہے کوئی غیر تو نہیں۔ پھراس  کی نوکری تو لگ جائے کوشش کر رہا ہے  وہ۔ اس میں عائشہ کا کیا قصور ہے ؟ اس کے دن بھی قریب۔۔‘‘ خالہ امتل کی بات زرینہ خالہ نے کاٹ دی۔ ’’چھوڑ و بھی امتل! تم کیا باتیں لے کر بیٹھ گئی ہو۔ یہ اندر سے بڑی گھنی ہے۔ ہر وقت مظلوم بی بی بنی رہتی ہے۔ بھئی ہم نے اسے کیا نہیں دیا۔ کبھی کسی بات سے روکا ٹوکا نہیں۔ایک کپڑے کیا ہاتھ سے دھونے پڑگئے نزلہ زکام لی لگا لیا اپنے آپ کو۔ ہونہہ! نازک پری۔ ایک ہمارے زمانے تھے مصالحے کوٹنے سے لے کر کپڑے سینےپرونےتک سارے کام کر لیتے تھے۔‘‘

زرینہ خالہ بولتی چلی جارہی تھیں لیکن خالہ امتل دل کی صاف اور نرم مزاج خاتون تھیں اور اپنی آنکھیں کھلی رکھتی تھیں۔ وہ صاف دیکھ رہی تھیں مظلوم کون ہے اور ظالم کون۔ لیکن  زرینہ بیگم کو سمجھانا اس دنیا کا سب سے مشکل کام تھا۔

’’یہ دیکھو امتل! یہ زینب کا فرنیچر۔ اور یہ کراکری ۔۔ اچھی سیٹنگ کی ہے ناں!‘‘ زرینہ خالہ نے        خالہ امتل کو زینب کی بھیجی ہوئی تصویریں دکھاتے ہوئے کہا۔

’’میں نے اس کو کہ رکھا ہے کہ کوئی ضرورت نہیں کراکری نکالنے کی۔ سسرال والے تو بس مفت کا مال سمجھ کر استعمال کرنے لگتے ہیں۔ جب اپنا گھر ہو گا پھر ہی کھولنا سب کچھ۔‘‘ زرینہ خالہ نے بتایا۔ خالہ امتل نے ایک نظر سامنے کچن پر ڈالی جہاں عائشہ کا لایا ہوا ڈنر سیٹ ، جوسر سیٹ  ، ٹوسٹر اور دیگر چیزیں رکھی ہوئی تھیں اور روز بے دھڑک استعمال کی جاتی تھیں۔

اسی دوران نازیہ یونیورسٹی سے آگئی ۔ کچن میں عائشہ ہانڈی بنا چکی تھی اور اب روٹیاں بنا رہی تھی۔ نازیہ نے جلدی سے تازہ پکی ہوئی دو روٹیاں دسترخوان میں رکھیں، بڑی سی پلیٹ میں سالن ڈالا اورٹرے لے کر اوپر اپنے کمرے میں چلی گئی ۔

’’سارا کام بہو ہی سے کراتی ہو یا نازیہ  بھی کچھ کرتی ہے؟‘‘ انہوں نے ہلکے پھلکے انداز میں مسکراتے ہوئے پوچھا۔

زرینہ خالہ فوراً بولیں ۔’’ہاں کیوں نہیں اوپر کا سارا پورشن نازیہ ہی صاف کرتی ہے۔ اور اپنے کپڑے بھی خود دھوتی ہے۔‘‘

اب خالہ امتل کو یہ کون بتاتا کہ اوپر کے پورشن کو ہفتے میں صرف ایک یا دو بار ہی صفائی کی ضرورت پڑتی تھی  کیونکہ اوپر صرف نازیہ ہی کا بیڈ روم تھا اور باقی دونوں کمرے بند رہتے تھے۔ لیکن نیچے کا حصہ جو لاؤنج، ڈرائنگ روم ،دو بیڈ روم، دو باتھ روم ، ایک کچن اور ایک پورچ پر مشتمل تھا روز کا روز ہی صاف کرنا پڑتا تھا۔ اور یہ صفائی ’’انصاف ‘‘ کے تقاضے پورے کرتے ہوئے عائشہ کے ذمے لگائی گئی تھی۔

کچن کے کاموں میں نازیہ کے ذمے ہانڈی پکانا تھی۔وہ بھی پیاز عائشہ کاٹ کر رکھ چھوڑتی ، ادرک لہسن پیس کر دیتی، سبزی زرینہ خالہ بناتیں یوں جب سارے اجزائے ترکیب کسی کچن شو کی طرح شیلف پر سجادیے جاتے تو نازیہ بیگم نیچے قدم رنجہ فرماتیں اور ہانڈی میں چمچہ ہلانا شروع کرتیں۔ برتن ، آٹا اور روٹیاں عائشہ کی ذمہ داری تھیں ۔ زرینہ بیگم کو سنک میں کسی بھی وقت ایک بھی گندا برتن پڑا منظور نہیں تھا۔ یوں  عائشہ کا سارا دن کچن میں ہی گزر جاتا۔

اس دن عائشہ نے گیلے کپڑوں سے بھری ہوئی بالٹی اٹھانے کی کوشش کی تو جھکی ہی جھکی ہی رہ گئی۔ درد کی شدید ٹیسیوں نے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا اور اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔

(جاری ہے)

(دوسری قسط)

اظہر آفس سے دوڑا چلا آیا۔ زرینہ خالہ نے محلے کی ایک لیڈی ڈاکٹر کو بلوایا تھا۔

’’آپ کی بہو بہت ویک ہے۔ خون کی کمی ہے ۔پھل اور جوسز زیادہ استعمال کرائیں۔‘‘ ڈاکٹر نے ہدایات دیں تو زرینہ خالہ کا منہ بن گیا۔

’’ہونہہ! بھئی اچھا کھاتی پیتی ہے۔ کسی چیز کی روک ٹوک نہیں۔ بس مکر ہی ختم نہیں ہوتے۔ ایک ہمارے زمانے تھے ۔ نویں مہینے تک کام کاج کرتے رہتے تھے۔ ایک یہ نواب زادی ہیں چھٹے ماہ ہی میں پلنگ توڑنے لیٹ گئیں۔‘‘ وہ دالان میں بچھے تخت پر بیٹھی دیر تک باآواز بلند بڑبڑاتی رہیں۔

اندر اظہر شرمندہ شرمندہ سا عائشہ کا ہاتھ پکڑے بیٹھا تھا۔

’’میں کل ہی کام والی کا انتظام کرتا ہوں۔‘‘

’’نہیں رہنے دیں! خالہ ناراض ہوں گی۔ میں کر لوں گی۔ بس آج کچھ زیادہ ہی کمزوری ہو گئی۔‘‘ نقاہت کے باوجود عائشہ نے مسکرا کر کہا۔

’’لیکن تم کچھ کھاتی بھی تو نہیں ہو۔ میں کل سیب لایا تھا۔ تم نے چکھے بھی نہیں۔‘‘ اظہر  بولا۔

’’وہ تو۔۔ ہاں مجھے بھول گیا۔ بس آج ہی جوس بنا لیتی ہوں۔‘‘ عائشہ بتاتے بتاتے رہ گئی کہ سیبوں کا شاپر تو زرینہ خالہ نے اپنے کمرے کے شوکیس میں رکھ کر تالا لگا دیا تھا۔

اگلے دن خالہ امتل عائشہ کو دیکھنے آئیں تو زرینہ خالہ بولیں۔ ’’آجکل کی لڑکیوں کے نخرے ختم نہیں ہوتے۔ دودھ انہوں نے نہیں پینا۔ دیسی گھی سے ان کو الرجی ہے۔ بھئی ہم تو سب کچھ کھا لیا کرتے تھے۔ ‘‘

خالہ امتل کو ہنسی آگئی۔ ’’زرینہ! ہمارے زمانے میں دودھ خالص ہوتا تھا ۔ پھر اس میں نانیاں دادیاں ڈرائی فروٹ سے بنی پنجیری ڈال کر کھیر سی بنا دیتی تھیں۔ آج تو دودھ کے نام پر ہم پتہ نہیں کیا پیے جارہے ہیں۔ ملائی کے نام پر ہلکی سی جھلی جو اترتی ہے وہ تو تم ایک پیالے میں اکھٹے کرتی جاتی ہو۔پھر بہو کیا کھائے؟‘‘ خالہ امتل خطرناک حد تک منہ پھٹ تھیں لیکن زرینہ خالہ کے لیے قابلِ برداشت اس لیے تھیں کہ ان کا جوان برسرروزگار بیٹا انہوں نے نازیہ کے لیے سوچ رکھا تھا۔

۔۔۔۔۔۔

اس دن اظہر نے کہا۔’’عائشہ ! میں کل تمھیں نرسنگ ہوم لے کر جاؤں گا۔ میں نے شام کا ٹائم بھی لے لیا ہے۔ پھر کھانا بھی باہر کھائیں گے۔‘‘ عائشہ کو تو اتنی خوشی ہوئی کہ بس۔ جب سے شادی ہوئی تھی وہ صرف ایک دفعہ گھومنے جاسکی تھی وہ بھی زرینہ خالہ اور نازیہ کے ساتھ۔  اس کے بعد بھی جب اظہر گھومنے کے لیے پروگرام بناتا زرینہ خالہ اور نازیہ بھی تیار  ہو جاتیں۔ پھر ٹیکسی کے کرائے کون دے گا۔ آجکل کرائے بہت بڑھ گئے ہیں۔ سے شروع ہو کر بات یہاں ختم ہوتی کہ کیا ضرورت ہے جانے کی۔ جو کھانا ہے پیک کراکے لا آؤ۔ رومانٹک ماحول میں پیار بھری باتیں، نرم سبز گھاس اور ٹھنڈی تازہ ہوا عائشہ کے لیے خواب سابن گیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔

اگلا سارا دن اس نے بے حد خوشی خوشی کام نبٹائے۔ شام کو اظہر جلدی گھر آگیا ۔ عائشہ تیار تھی۔ دونوں موٹر سائیکل پر بیٹھ کر چلے گئے اور زرینہ خالہ کے سینے پر سانپ لوٹ گئے۔

رات دس بجے واپسی ہوئی تو ایک افتاد ان کی منتظر تھی۔

’’ہائے مجھ بڑھیا کو اکیلا چھوڑ کر چلے گئے۔ میں کیا کروں۔ صبح سے بخار میں پھنک رہی ہوں۔ میرا کوئی خیال نہیں کسی کو۔‘‘ زرینہ خالہ کے واویلے سن کر عائشہ ششدر رہ گئی۔ ابھی شام کو تو وہ تخت پر بیٹھ اخبار پڑھ رہی تھیں ڈرائے فروٹ کھا رہی تھیں۔ اور یہ نازیہ کہاں چلی گئی۔

’’نازیہ تو یونیورسٹی سے آتے ہی سو گئی تھی۔ اس کو کیوں پریشان کروں میں۔ مجھ دکھیاری کا تو ایک ہی سہارا تھا۔ وہ بھی زن مرید ہو گیا  میں کہاں جاؤں؟‘‘

 محمودصاحب نے اظہرکی خوب  کلاس لی کہ ماں کی طبیعت خرا ب ہونے کے باوجود وہ سیر سپاٹے کرنے چلا گیا۔ پھر وہ تو سونے کے لیے اپنے کمرے میں چلے گئےلیکن زرینہ بیگم دونوں کو بٹھا کر دیر تک سمجھاتی رہیں کہ ہسپتالوں کے چکر میں نہ پڑو۔ پہلے زمانے میں تو گھروں میں ہی ڈلیوری ہو جایا کرتی تھی۔ میری ایک جاننے والی دائی ہےبڑی ماہر ہے۔ اور خرچہ بھی کم ہو گا۔

اتنے میں نازیہ نیچے آئی تو اس کے ہاتھ میں موبائل تھا۔ ’’امی آپ فون کیوں نہیں اٹھا رہیں۔ زینب آپی کا فون ہے۔ وہ کہ رہی ہیں ۔ ڈاکٹر شہیر کا نمبر چاہیے۔ انہیں گائنا کولوجسٹ نے تفصیلی الٹراساؤنڈ لکھ کر  دیا ہے ناں۔ اس لیے۔‘‘

(جاری ہے )

(تیسری  قسط)

زرینہ بیگم ایک پل کو تو خاموش رہ گئیں پھر کہنے لگیں۔’’ ہاں دیکھو ، ڈائری میں نمبر لکھا تو تھا میں نے۔ اللہ خیر کرے زینب کو ڈاکٹر نے کیوں کہ دیا۔۔ سب ٹھیک تو ہے ناں ۔۔‘‘ یہ کہتے کہتے وہ اٹھ کھڑی ہوئیں اور نازیہ کو لیے اپنے کمرے میں چلی گئیں۔  شرمندگی یا ندامت کے ذرا بھی آثار ان کے چہرے پر دور دور تک نہیں تھے۔

۔۔۔۔

عائشہ کا بیٹا پیدا ہوا تھا۔ محمود صاحب بے حد خوش تھے البتہ زرینہ بیگم ذرا اکھڑی اکھڑی سی تھیں۔ زرینہ بیگم کی زریں ہدایات اپنی جگہ رہ گئی  تھیں ۔ اظہر نے اچھے سے ہسپتال میں عائشہ کی ڈلیوری کرائی تھی۔حالانکہ نارمل کیس تھا لیکن پھر بھی  ہزاروں کا خرچہ ہوا تھا۔ عائشہ بے حد کمزور لگ رہی تھی۔ اس کی حالت  دیکھتے ہوئے ڈاکٹر نے  ایک رات کے لیے اسے مزید ایڈمٹ رکھنے کا کہا تھا۔

 اظہر کے تو پاؤں زمیں پر نہ ٹکتے تھے۔ بہانے بہانے سے  بےبی کاٹ کے پاس جاتاا ور بچے کے نرم گلابی ہاتھ پکڑ لیتا۔ ’’بس بھی کریں! یہ اتنی جلدی تو آپ کو بابا کہنے سے رہا۔‘‘ عائشہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔

’’ہاں ! لیکن بس!  یہ آنکھیں کب کھولے گا؟‘‘ اظہر نے جب کوئی پانچویں بار پوچھا تو عائشہ کوہنسی آگئی۔

اسی اثنا ء میں زرینہ خالہ اندر داخل ہوئیں تو دونوں کو ہنستا دیکھ کر ان کے سینے پر سانپ لوٹ گئے۔ اندر ہی اندر جلتے بھنتے لیکن بظاہر مسکراتے ہوئے وہ آگے بڑھیں اور بچے کو اٹھا لیا۔

چند ثانیے کے لیے تو انہیں ایسا لگا کہ ان  کے اندر کی تمام نفرت ختم ہو گئی ہو۔ وہ بچے کے گلابی گالوں پر بے اختیار بوسہ دینے لگیں۔

۔۔۔۔

عائشہ کے میکے میں صرف اس کا بھائی اور والدہ تھیں۔ بھائی جان  فیملی سمیت کینڈا میں ہوتے تھے۔ والدہ ، الفت خاتون آج سرگودھا سے آرہی تھیں۔ڈلیوری سے پہلے انہوں نے فون پر کتنا ہی اصرار کیا کہ عائشہ کو چلّے کے لیے یہاں بھیج دیا جائے لیکن زرینہ خالہ کا کہنا تھا ۔’’ہماری یہ روایت ہے کہ پہلا بچہ تو سسرال والے ہی سنبھالتے ہیں!‘‘ الفت خاتون ڈلیوری کے دن ہی چلی آتیں لیکن ان کی بہن کے شوہر کا ایکسیڈینٹ ہوگیا تو تین دن کے لیے وہاں چلی گئیں۔

عائشہ نے ایان کو نہلایا تو کمردرد کے مارے جیسے ٹوٹ ہی گئی۔ وہ ایان کو کپڑے پہنا کر ہلکان سی بیڈ پر لیٹ گئی۔ باہر امتل خالہ آئی بیٹھی تھیں۔

’’بہو کو پنجیری بھی بنا کر دی یا خالی یخنی ڈبل روٹی پر ٹرخا رہی ہو؟‘‘ وہ ہمیشہ کی طرح اپنے مخصوص انداز میں بول رہی تھیں۔

’’کیسی یخنی ؟ میں اور اس کے لیے یخنی بناؤں۔ امتل توبہ کرو ۔ تم بھی بس۔‘‘  زرینہ خالہ ماتھے پر بل لا کر بولیں۔

’’تو کیا وہ خود ہی کھانا پینا کر رہی ہے۔ دیکھو یہ صحیح۔۔‘‘ امتل خالہ کہنے جارہی تھیں لیکن زرینہ خالہ نے ان کی بات کاٹ دی۔

’’کیا صحیح ہے کیا غلط ہمیں نہیں معلوم بھئی۔ گھٹنوں کا درد میری تو جان نہیں چھوڑتا۔ کھانا باہر سے لا رہا ہے اظہر ۔ ہفتے دو ہفتے میں ٹھیک ہو جائے گی تو بنا لے گی یخنی بھی۔  اور یہ وہ نسل نہیں جو پنجیری جیسی بھاری غذا ہضم کر جائے۔ چھوڑو ان باتوں کو !‘‘  زرینہ خالہ نے ناک سے  مکھی اڑائی۔

’’دیکھو! تمھاری بہو ہے ۔ لوگ کیا کہیں گے۔ اتنی کمزور دِکھ رہی تھی ۔ چلو ڈرائی فروٹ کی کھیر ہی بنا دیا کرو۔ طاقت آئے گی تو گھر کے کام کاج اور بچے  کو صحیح سنبھال سکے گی ۔ہوٹل کا نان تو نرا ربڑ ہو تا ہے۔ کھایا نہ کھایا برابر۔ ‘‘  امتل خالہ اپنے موقف پر قائم تھیں۔

’’چھوڑو بھی! دودھ تو پلایا جاتا نہیں اس سے۔ لگتا ہے ڈبے کا ہی لگوانا پڑے گا۔ بس میرے اظہر ہی کمائی اسی ڈائن کے لیے رہ گئی ہے۔ہمیں تو اس نے پوچھنا کب کا چھوڑ دیا ہے۔‘‘ زرینہ خالہ بات کو ہمیشہ اپنے مطلب پر لانے والی خاتون تھیں۔ لیکن امتل خالہ کہنا چاہتی تھیں نیا نیا بچہ ہو ا ہے سو باتیں سکھانی پڑتی ہیں لیکن یہ سب وہ کرتا ہے جو بہو کو بیٹی نہ سہی بیٹی کی طرح ہی سمجھ لے۔

اتنے میں باہر ٹیکسی کے رکنے کی آواز آئی توعائشہ کا دل خوشی سے پھول گیا۔ ’’امی جی آ گئیں!‘‘

زرینہ خالہ  منہ بنائے بڑبڑا رہی تھیں۔ ’’لو آگئے مفت خورے! کیا زمانہ آگیا ہے۔ ایک ہم تھے بیٹی کےسسرال کا پانی پینے کو بھی حرام سمجھتے تھے!‘‘

(جاری ہے)


اپنی قیمتی رائے سے آگاہ کیجیے

Invalid Input
Invalid Input
Invalid Input
Invalid Input