درس قرآن ڈاٹ کام کی تمام لنکس

القرآن

ناامید مت ہونا

          Print

’’یا وہ ذات (بہتر ہے) جس نے آسمان اور زمین کوبنایا اور اس نے تمہارے لیے آسمان سے پانی بر سایا پھر اس (پانی) کے ذریعہ سے ہم نے رونق دار باغ اگائے (اور نہ) تم سے ممکن نہ تھا کہ تم ان (باغوں) کے درختوں کو اگا سکو (یہ سن کر بتلاؤ کہ) کیا الله تعالیٰ کے ساتھ (عبادت میں شریک ہونے کے لائق) کوئی اور معبود ہے (مگر مشرکین پھر بھی نہیں مانتے)بلکہ یہ ایسے لوگ ہیں کہ (دوسروں کو)) خدا کے برابر ٹھیراتے ہیں۔ ‘‘ (آیت 60، سورۃ النمل)


.

الحدیث

الحدیث

          Print

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ () نے فرمایا: ''جب مسلمان یا مومن بندہ وضو کرتا ہے اور اپنا چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرے سے پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ وہ تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں جو اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھ کر کیے تھے، پھر جب وہ اپنے ہاتھ دھوتا ہے۔ تو پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ اس کے وہ تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں جو اس کے ہاتھوں نے کیے تھے، پھر جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ اس کے وہ تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں جو اس کے پاؤں نے چل کر کیے تھے حتیٰ کہ وہ گناہوں سے پاک صاف ہوجاتا ہے۔''   (توثیق الحدیث # 129 ، أخرجہ مسلم-244)


.

رحمت کے دریچے اور کھلے

رحمت کے دریچے اور کھلے

          Print

(نعت)

جب شامِ سفر تاریک ہوئی ،وہچاند ہویدااور ہوا

منزل کی لگن کچھ اور بڑھی ، دل زمزمہ پیرا اور ہوا

جب کہر فضاوں پر چھائی ، جب صورتِ فردا دھندلائی

منظر منظر سےجلوہ فشاںوہگنبدِ خضرااور ہوا

ہر حال میں ان کی موجِ کرم تھی چارہ گرِ ادبار و الم

مزید پڑھیے: رحمت کے دریچے اور کھلے

حرفِ اول

حرفِ اول

          Print

آج کل ہر شخص امیر سے امیر ترہوناچاہتاہے۔ کوئی مفلس نہیں بنناچاہتا۔ غریب ہونے سے سب ڈرتے ہیں۔ گھبراتے ہیں ۔مگر یہ مفلسی کچھ بھی نہیں ،یہ غریبی کچھ حیثیت نہیں رکھتی اگر ہمیں اصل مفلسی اوراصل غریبی کاپتا چل جائے۔اوریہ پتا کون بتائے گا۔ ہمارے پیار ے رہبر ورہنما حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم ہی ایسے حقائق بتلانے والے ہیں۔ایک بار حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے پوچھا: ’’جانتے ہو مفلس کون ہے؟‘‘

مزید پڑھیے: حرفِ اول

کانٹوں کے بیج

رحمت کے دریچے اور کھلے

          Print

(پہلی قسط)

’’زینب کے میاں نے آٹو میٹک مشین لا کر دی ہے ۔ بس میلے کپڑے ڈالو اور پون گھنٹے میں دھلے کپڑے نکال لو۔‘‘ زرینہ خالہ پڑوس کی خالہ امتل کو بتا رہی تھیں۔ ’’ماشاءاللہ میری بیٹی راج کر رہی ہے۔ کام والی آتی ہے ۔ صفائی برتن جھاڑو کے لیے۔ آٹا بھی گوندھ جاتی ہے۔ ‘‘ خالہ زرینہ خوشی خوشی بتار ہی تھیں۔کچھ ہی عرصہ پہلے انہوں نے اپنی ایک رشتے کی بہن کے ہاں زینب کو بیاہا تھا۔

مزید پڑھیے: کانٹوں کے بیج