درس قرآن ڈاٹ کام کی تمام لنکس

 

ای میگزینپیامِ حیاء

(شمارہ نمبر : 16)


القرآن:

’’یا وہ ذات (بہتر ہے) جس نے آسمان اور زمین کوبنایا اور اس نے تمہارے لیے آسمان سے پانی بر سایا پھر اس (پانی) کے ذریعہ سے ہم نے رونق دار باغ اگائے (اور نہ) تم سے ممکن نہ تھا کہ تم ان (باغوں) کے درختوں کو اگا سکو (یہ سن کر بتلاؤ کہ) کیا الله تعالیٰ کے ساتھ (عبادت میں شریک ہونے کے لائق) کوئی اور معبود ہے (مگر مشرکین پھر بھی نہیں مانتے)بلکہ یہ ایسے لوگ ہیں کہ (دوسروں کو)  خدا کے برابر ٹھہراتے ہیں۔‘‘ (آیت 60، سورۃ النمل)


الحدیث:

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ () نے فرمایا: ''جب مسلمان یا مومن بندہ وضو کرتا ہے اور اپنا چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرے سے پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ وہ تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں جو اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھ کر کیے تھے، پھر جب وہ اپنے ہاتھ دھوتا ہے۔ تو پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ اس کے وہ تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں جو اس کے ہاتھوں نے کیے تھے، پھر جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ اس کے وہ تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں جو اس کے پاؤں نے چل کر کیے تھے حتیٰ کہ وہ گناہوں سے پاک صاف ہوجاتا ہے۔''  

(توثیق الحدیث # 129 ، أخرجہ مسلم-244)


حرفِ اول
) محمد اسماعیل ریحان(

آج کل ہر شخص امیر سے امیر ترہوناچاہتاہے۔ کوئی مفلس نہیں بنناچاہتا۔ غریب ہونے سے سب ڈرتے ہیں۔ گھبراتے ہیں ۔مگر یہ مفلسی کچھ بھی نہیں ،یہ غریبی کچھ حیثیت نہیں رکھتی اگر ہمیں اصل مفلسی اوراصل غریبی کاپتا چل جائے۔اوریہ پتا کون بتائے گا۔ ہمارے پیار ے رہبر ورہنما حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم ہی ایسے حقائق بتلانے والے ہیں۔ایک بار حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے پوچھا: ’’جانتے ہو مفلس کون ہے؟‘‘.............

 

(آگے پڑھیے)

 


آپ سے کچھ کہنا ہے

(آمنہ خورشید)

احمد کی نئی کلاس شروع ہوچکی تھی۔ اس نے بہت ہی شوق سے کاپیوں پر نئے کور چڑھائےلیکن جب میڈم نے اس کی کاپیز دیکھیں تو مسکرائے بغیر نہ رہ سکیں۔ دراصل احمد نے ہلکی پھلکی کاپیوں پر کور چڑھانے کے لیے موٹی سیاہ ٹیپ استعمال کی ہوئی تھی جبکہ سائنس کے جرنل کے  موٹے گتے پر کور کو چپکانے کے لیے ہلکی سی سیلوشن ٹیپ  لگا رکھی تھی......................

 

(آگے پڑھیے)

 


رحمت کے دریچے اور کھلے

(مرسلہ: فائزہ ممتاز ۔ کراچی)

جب شامِ سفر تاریک ہوئی ،وہچاند ہویدااور ہوا

منزل کی لگن کچھ اور بڑھی ، دل زمزمہ پیرا اور ہوا

 

(آگے پڑھیے)

 


کانٹوں کے بیج

(تحریر: اہلیہ محمد عبد اللہ خان)

(تیسری  قسط)

زرینہ بیگم ایک پل کو تو خاموش رہ گئیں پھر کہنے لگیں۔’’ ہاں دیکھو ، ڈائری میں نمبر لکھا تو تھا میں نے۔ اللہ خیر کرے زینب کو ڈاکٹر نے کیوں کہ دیا۔۔ سب ٹھیک تو ہے ناں ۔۔‘‘ یہ کہتے کہتے وہ اٹھ کھڑی ہوئیں اور نازیہ کو لیے اپنے کمرے میں چلی گئیں۔  شرمندگی یا ندامت کے ذرا بھی آثار ان کے چہرے پر دور دور تک نہیں تھے.............

 

(آگے پڑھیے)

 


اپنے آپ کو پہچانیں

(بنتِ احمد – اسلام آباد)

مجھے یاد ہے میں شادی سے پہلےپینٹنگز بنایا کرتی تھی۔ پنسل شیڈنگ،  واٹر کلرز اور آئل پینٹس۔ یہ شوق میری زندگی   میرا جنون تھا ۔ میں پینٹنگ بورڈ کے سامنے گھنٹوں کھڑی رہتی تھی۔ کبھی مجھے تھکاوٹ محسوس نہیں ہوتی تھی۔یہ اور بات ہے کہ...........

 

(آگے پڑھیے)

 


شکریہ درس قرآن ڈاٹ کام

(تحریر: زویا ممتاز، ملتان)


’’تم لوگوں کی فرمائشیں ہی ختم نہیں ہوتیں۔جب دیکھو نیا مطالبہ لے کر آجاتی ہو۔ ہمارے پاس بھی کوئی خزانہ نہیں ہے بی بی۔محنت کی کمائی ہے لٹا نہیں سکتی ۔‘‘ جھنجهلائے لہجے میں سکینہ کی کلاس لی تھی میں نے۔سکینہ چپ چاپ اٹھ کے کام پہ لگ گئی مگر میرا موڈ خراب ہی رہا.............

 

(آگے پڑھیے)

 


آ بیل !مجھے مار!
(انتخاب کہانی قسط ۱)
(تحریر: امِّ وردہ)
’’
دیکھاآپ نے ۔۔۔قاریات کتنے شوق سے بار بار مطالبہ کر رہی ہیں کہ بھابھی کی تحریر بھی لگائیے مگر۔۔۔ مگر آ پ ہیں کہ بس ۔۔۔ کیاکوئی دشمنی ہے آپ کومیری تحریروں سے۔۔۔‘‘ میں نے خواتین کے خطوط والاصفحہ یکدم ان کے سامنے کرتے ہوئے کہاتووہ جوکہ مطالعے میں مصروف تھے، بوکھلاہی گئے............

 

(آگے پڑھیے)

 


جنت کیسی ہو گی؟

)بنت محمد۔ لاہور(

جنت کی چھت ؟
اللہ کا عرش ہو گا۔
جنت کی کنکریاں؟...................


(آگے پڑھیے)

 


نعلین  مبارک

(مرسلہ: ام کلثوم ۔ کراچی)

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو نعلین پاک استعمال فرمائے وہ بھی بڑے بابرکت ہو گئے، صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے ان نعلین پاک کو تبرکاً محفوظ رکھا اور ان کے فیوض و برکات سے مستفیض ہوتے رہے۔ ان بابرکت نعلین پاک کے حوالے سے چند احادیث مبارکہ درج ذیل ہیں :..............

 

(آگے پڑھیے)

 


کہاوت کہانی

)مرسلہ:  بنتِ عبد الرحمٰن۔گلبرگ لاہور)

آپ کی جوتیوں  کا صدقہ ہے:   

یعنی  جو کچھ بھی ہے وہ آپ کی ہی بدولت ہے اور اس میں  میرا کوئی ہاتھ نہیں  ہے۔ ’’جوتیوں  کا صدقہ‘‘ سے مراد ہے کہ آپ کے لئے یہ سب کرنا کوئی بڑی بات نہ تھی۔اس کہاوت سے ایک لطیفہ منسوب ہے۔ ایک شخص نے کچھ دوستوں  کی دعوت کی۔

 

(آگے پڑھیے)

 


سنہر ی بات

(عائشہ فاروق  ۔ فیصل آباد)

وہ مجھ سے پوچھتے ھیں عبادت کیا ھے
کسی پیاسے کو اپنے حصے کا پانی پلانا
عبادت ہے !
بھنور میں ڈوبتے کو ساحلوں تک لے کے جانا.......

 

(آگے پڑھیے)

 


محترمہ مومنہ تبسم عبدالکریم  {ارچنا} سےایک ملاقات

(مرسلہ: عائشہ مجید ۔ ساہیوال)

  ۲۹ نومبر  ۲۰۰۳ء کی خوش گوار صبح تھی موسم کہر آلود تھا، ذرا سی خنکی بھی تھی تقریباً ۹ بجے صبح میں اپنی بچی سمتا کو گود میں لے کر کانپور سے لکھنؤ جانے والی بس پر بیٹھ گئی،  تھوڑی دیر بعد بس چل پڑی اور................

 

(آگے پڑھیے)

 


بریک فاسٹ برگر

(مرسلہ: مریم عبدالغفور ۔ آکسفورڈ، یوکے)

اجزاء:

ساسجز ڈیڑھ کپ

قیمہ ایک کپ  اُبلا ہوا

نمک حسبِ ذائقہ.............

 

(آگے پڑھیے)

 


کچن کی دیکھ بھال

(بنت عبد اللہ ۔ کراچی)

آپ اپنے کچن کی منصوبہ بندی اور ڈیزائننگ کررہی ہیں یا اس کو جدید ترین بنانا چاہتی ہیں۔ اگر آپ کا جواب ہاں میں ہے تو آپ کو اس کیلئے باقاعدہ منصوبہ بندی پر عمل پیرا ہونا پڑے گا...............

 

(آگے پڑھیے)