درس قرآن ڈاٹ کام کی تمام لنکس

آئین، قانون اور قادیانیت

رکن کی درجہ بندی: 4 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Inactive
 
ختم نبوت اسلام کا متفقہ، اساسی اور اہم ترین عقیدہ ہے۔ دین اسلام کی پوری عمارت اس اعتقاد پر کھڑی ہے۔ یہ ایک ایسا حساس عقیدہ ہے کہ اگر اس میں شکوک و شبہات کا ذرا سی بھی رخنہ پیدا ہو جائے تو ایک مسلمان نہ صرف اپنی متاعِ ایمان کھو بیٹھتا ہے بلکہ اپنی بدقسمتی سے وہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے بھی یک قلم خارج ہو جاتا ہے۔ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ آپ کے بعد کسی قسم کا کوئی تشریعی، غیر تشریعی، ظلی، بروزی یا نیا نبی نہیں آئے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو شخص بھی نبوت کا دعویٰ کرے، وہ کافر، مرتد، زندیق اور واجب القتل ہے۔ قرآن مجید کی ایک سو سے زائد آیات مبارکہ اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تقریباً دو سو دس احادیث مبارکہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ اس بات پر ایمان ’’عقیدۂ ختمِ نبوت‘‘ کہلاتا ہے۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن و سنت کی موجودگی میں کسی نبی کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے؟ یہ رشد و ہدایت کے دو سرچشمے ہیں جو قیامت تک عالم اسلام کو سیراب کرنے کے لیے کافی ہیں۔ ان کے ہوتے ہوئے کسی مدعی نبوت کا آنا گمراہی ہے۔
مسلمانان عالم کا حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے پر اجماع اور عقیدہ جہاد 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد اسلام دشمن طاقتوں بالخصوص انگریزوں کے لیے سوہان روح بنا ہوا تھا اور ہے۔ ان کی شدید خواہش تھی اور ہے کہ کسی طرح کوئی ایسا اہتمام ہو جائے کہ مسلمانوں کے دل سے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و عقیدت اور جہاد کی روح دونوں ختم ہو جائیں، اب چونکہ ایک نبی کے حکم میں ترمیم و تنسیخ دوسرے نبی کے ذریعے ہی سے ہوتی ہے، چنانچہ حکومت برطانیہ کی سرپرستی اور لالچ پر سیالکوٹ کی ضلع کچہری کے ایک منشی مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کیا۔ وہ گورداسپور (بھارت) کی تحصیل بٹالہ کے ایک پسماندہ گائوں قادیان کا رہنے والا تھا۔ آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی نے پہلے خود کو عیسائیت اور ہندو مخالف مناظر کی حیثیت سے متعارف کروایا اور مسلمانوں کی جذباتی اور نفسیاتی ہمدردیاں حاصل کیں۔ پھر مجدد، محدث، امتی نبی، ظلی نبی، بروزی نبی، مثیل مسیح اور مسیح موعود کا دعویٰ کرتے ہوئے انجام کار باقاعدہ امرو نہی کے حامل ایک صاحب شریعت نبی ہونے کے اِدعا تک جا پہنچا۔ یعنی باقاعدہ نبی و رسول ہونے کا دعویٰ کیا، حتیٰ کہ اعلان کیا کہ وہ خود ’’محمد رسول اللہ‘‘ ہے (نعوذ باللہ) پھر اس کے بیٹے مرزا بشیر احمد نے کہا کہ قادیان میں اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی کی شکل میں دوبارہ ’’محمد رسول اللہ‘‘ کو بھیجا۔ مزید کہا کہ مرزا قادیانی خود ’’محمد رسول اللہ‘‘ ہے نعوذ باللہ، جو اشاعت اسلام کے لیے دوبارہ دنیا میں آیا، اس لیے ہمیں کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں، کیونکہ اب کلمہ طیبہ میں ’’محمد رسول اللہ‘‘ سے مراد مرزا قادیانی ہے۔ قادیانی آنجہانی مرزا قادیانی کو ’’محمد رسول اللہ‘‘، اس کی بیوی کو ’’ام المومنین‘‘ اس کی بیٹی کو ’’سیدۃ النسائ‘‘ اس کے خاندان کو ’’اہل بیت‘‘ اس کے خاص مریدوں کو ’’صحابہ‘‘ اس کی نام نہاد وحی و الہامات کو ’’قرآن مجید‘‘ اس کی گفتگو کو ’’احادیث‘‘ اس کے شہر قادیان کو ’’مکہ‘‘، ربوہ کو ’’مدینہ‘‘ اور اس کے قبرستان کو ’’جنت البقیع‘‘ قرار دیتے ہیں۔ بلاشبہ یہ سب باتیں ایک ادنیٰ سے ادنیٰ بلکہ فاسق و فاجر مسلمان کے لیے بھی ناقابل برداشت ہیں اور اس کرۂ ارض پر کوئی بے حمیت مسلمان بھی ایسا نہیں جو کسی سے ایسی گستاخانہ باتیں سننا گوارا کرے۔ اسلام اور اس کی مقدس شخصیات کے خلاف قادیانیوں کی گستاخیوں اور ہرزہ سرائیوں کو اکٹھا کیا جائے تو کئی دفتر تیار ہو سکتے ہیں۔ قادیانیوں کی طرف سے شان رسالت میں کی جانے والی بعض گستاخیاں ایسی ہیں جنھیں پڑھ کر کلیجہ منہ کو آتاہے۔
 پنڈت جواہر لعل نہرو کے نام ایک خط میں علامہ اقبال نے فرمایا تھا: ’’قادیانی اسلام اور ملک دونوں کے غدار ہیں۔‘‘ قادیانیوں کے کفریہ عقائد و عزائم کی بناء پر ملک کی منتخب جمہوری حکومت نے متفقہ طور پر 7 ستمبر1974ء کو انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا اورآئین پاکستان کی شق 106(2)اور260(3) میں اس کا اندراج کردیا۔ جمہوری نظامِ حکومت میں کوئی بھی اہم فیصلہ ہمیشہ اکثریتی رائے کی بنیاد پر کیا جاتا ہے لیکن یہ دنیا کی تاریخ کا واحد واقعہ ہے کہ حکومت نے فیصلہ کرنے سے پہلے قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر کو پارلیمنٹ کے سامنے اپنا نکتہ نظر پیش کرنے کے لیے بلایا۔ اسمبلی میں اس کے بیان کے بعد حکومت کی طرف سے اٹارنی جنرل جناب یحییٰ بختیار نے قادیانی عقائد کے حوالے سے اُس پر جرح کی، جس کے جواب میں مرزا ناصر نے نہ صرف مذکورہ بالا تمام عقائد و نظریات کا برملا اعتراف کیا بلکہ باطل تاویلات کے ذریعے ان کا دفاع بھی کیا لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ قادیانی پارلیمنٹ کے اس متفقہ فیصلے کو تسلیم کرنے سے یکسر انکاری ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ دنیا کی کوئی حکومت ،پارلیمنٹ یا کوئی اور ادارہ انہیں ان کے عقائد کی بناء پر غیر مسلم قرار نہیں دے سکتا، بلکہ الٹا وہ مسلمانوں کو کافر اور خود کو مسلمان کہتے ہیں اور آئین میں دی گئی اپنی حیثیت تسلیم نہیں کرتے۔
قادیانی پوری دنیا میں شور مچاتے ہیں کہ پاکستان میں ہم پر ظلم ہو رہا ہے۔ ہمارے حقوق غصب کیے جارہے ہیں۔ ہمیں آزادی اظہار نہیں ہے۔ وہ کبھی اقوام متحدہ سے اپیلیں کرتے ہیں، کبھی یہودیوں اورعیسائیوں سے دبائو ڈلواتے ہیں۔ حالانکہ ہم بڑی سادہ سی جائز بات کہتے ہیں کہ تم مرزا قادیانی کو محمد رسول اللہ نہ کہو۔ کلمہ طیبہ مسلمانوں کا ہے، تم اس پر قبضہ نہ کرو یعنی شراب پر زم زم کا لیبل نہ لگائو لیکن قادیانی اس سے باز نہیں آتے بلکہ الٹا اسلام کے نام پر اپنے خود ساختہ عقائد و نظریات کی تبلیغ و تشہیر کرتے ہیں۔
قادیانیوں کو شعائر اسلام کے استعمال اور اس کی توہین سے روکنے کے لیے 26 اپریل 1984ء کو حکومت پاکستان نے امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کیا، جس کی رو سے قادیانی خود کو مسلمان نہیں کہہ سکتے اور اپنے مذہب کے لیے اسلامی شعائرو اصطلاحات استعمال نہیں کر سکتے۔ اس سلسلہ میں تعزیراتِ پاکستان میں ایک نئی فوجداری دفعہ298/C کا اضافہ کیا گیا۔ ملاحظہ فرمائیں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298/C : ’’قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جو خود کو احمدی یا کسی دوسرے نام سے موسوم کرتے ہیں) کا کوئی شخص جو بلا واسطہ یا بالواسطہ خود کو مسلمان ظاہر کرے یا اپنے مذہب کو اسلام کے طور پر موسوم کرے یا منسوب کرے یا الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعے اپنے مذہب کی تبلیغ یا تشہیر کرے یا دوسروں کو اپنا مذہب قبول کرنے کی دعوت دے یا کسی بھی طریقے سے مسلمانوں کے مذہبی احساسات کو مجروح کرے، کو کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لیے دی جائے گی جو تین سال تک ہو سکتی ہے اور جرمانے کا بھی مستوجب ہو گا۔‘‘
قادیانیوں نے اس پابندی کو وفاقی شرعی عدالت، لاہور ہائی کورٹ، کوئٹہ ہائی کورٹ وغیرہ میں چیلنج کیا، جہاں انھیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ بالآخر قادیانیوں نے پوری تیاری کے ساتھ سپریم کورٹ آف پاکستان میں اپیل دائر کی کہ انھیں شعائر اسلامی استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فل بنچجو جناب جسٹس عبدالقدیر چودھری صاحب، جناب جسٹس شفیع الرحمن، جناب جسٹس محمد افضل لون صاحب، جناب جسٹس سلیم اختر صاحب، جناب جسٹس ولی محمد خاں صاحب پر مشتمل تھا، نے اس کیس کی مفصل سماعت کی۔ دونوں اطراف سے دلائل و براہین دیے گئے۔ اصل کتابوں سے متنازع ترین حوالہ جات پیش کیے گئے۔ یہ بھی یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے یہ جج صاحبان کسی دینی مدرسہ یا اسلامی دارالعلوم کے مفتی صاحبان نہیں تھے بلکہ انگریزی قانون پڑھے ہوئے تھے۔ ان کا کام آئین و قانون کے تحت انصاف مہیا کرنا ہوتا ہے۔ فاضل جج صاحبان نے جب قادیانی عقائد پر نظر دوڑائی تو وہ لرز کر رہ گئے۔ فاضل جج صاحبان کا کہنا تھا کہ قادیانی اسلام کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں جبکہ دھوکہ دینا کسی کا بنیادی حق نہیں ہے اور نہ ہی اس سے کسی کے حقوق سلب ہوتے ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فل بنچ کے تاریخی فیصلہ ظہیرالدین بنام سرکار، (1993 SCMR 1718) کی رو سے کوئی قادیانی خود کو مسلمان نہیں کہلوا سکتا اور نہ ہی اپنے مذہب کی تبلیغ کر سکتا ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں وہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-C اور 298-C کے تحت سزائے موت کا مستوجب ہے۔ اس کے باوجود قادیانی آئین، قانون اور اعلیٰ عدالتی فیصلوں کا مذاق اڑاتے ہوئے خود کو مسلمان کہلواتے، اپنے مذہب کی تبلیغ کرتے، گستاخانہ لٹریچر تقسیم کرتے، شعائر اسلامی کا تمسخر اڑاتے اور اسلامی مقدس شخصیات و مقامات کی توہین کرتے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ قادیانیوں کی ان آئین شکن، خلاف قانون اور انتہائی اشتعال انگیز سرگرمیوں پر قانون نافذ کرنے والے ادارے مجرمانہ غفلت اور خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں جس سے بعض اوقات لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔خود سپریم کورٹ کے فل بنچ نے اپنے نافذ العمل فیصلہ میں لکھا:
’’یہ بات قابل غور ہے کہ صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے قوانین، ایسے الفاظ اور جملوں کے استعمال کا تحفظ کرتے ہیں، جن کا مخصوص مفہوم و معنی ہو اور اگر وہ دوسروں کے لیے استعمال کیے جائیں تو لوگوں کو دھوکہ دینے اور گمراہ کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ جو لوگ دوسروں کو دھوکہ دیتے ہیں، ان کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔ پاکستان ایسی نظریاتی ریاست میں قادیانی جو کہ غیر مسلم ہیں، اپنے عقیدہ کو اسلام کے طوپر پیش کرکے دھوکہ دینا چاہتے ہیں۔ یہ بات خوش آئند اور لائق تحسین ہے کہ دنیا کے اس خطے میں عقیدہ آج بھی ہر مسلمان کے لیے سب سے قیمتی متاع ہے، وہ ایسی حکومت کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا جو اسے ایسی جعل سازیوں اور دسیسہ کاریوں سے اسے تحفظ فراہم کرنے کو تیار نہ ہو۔ قادیانی اصرار کرتے ہیں کہ انہیں نہ صرف اپنے مذہب کو اسلام کے طور پر پیش کرنے کا لائسنس دیا جائے بلکہ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ اسلام کی انتہائی محترم و مقدس شخصیات کے ساتھ استعمال ہونے والے القابات اور خطابات وغیرہ کو ان گستاخ غیر مسلموں (مرزا قادیانی اور اس کے خلیفوں) کے ناموں کے ساتھ چسپاں کیا جائے، جو مسلم شخصیات کی جوتی کے برابر بھی نہیں۔ حقیقتاً مسلمان اس اقدام کو اپنی عظیم ہستیوں کی بے حرمتی اور توہین و تنقیص پر محمول کرتے ہیں۔ پس قادیانیوں کی طرف سے ممنوعہ القابات اور شعائر اسلامی کے استعمال پر اصرار اس بارے میں کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہنے دیتا کہ وہ قصدا ایسا کرنا چاہتے ہیں جو نہ صرف ان مقدس ہستیوں کی بے حرمتی کرنے بلکہ دوسروں کو دھوکہ دینے کے مترادف بھی ہے۔ اگر کوئی مذہبی گروہ (قادیانیت) دھوکہ دہی اور فریب کاری کو اپنا بنیادی حق سمجھ کر اس پر اصرار کرے اور اس سلسلے میں عدالتوں سے مدد کا طلبگار ہو تو اس کا خدا ہی حافظ ہے۔ اگر قادیانی دوسروں کو دھوکہ دینے کا ارادہ نہیں رکھتے تو وہ اپنے مذہب کے لیے نئے القابات وغیرہ کیوں وضع نہیں کر لیتے؟ کیا انہیں اس بات کا احساس نہیں کہ دوسرے مذاہب کے شعائر، مخصوص نشانات، علامات اور اعمال پر انحصار کرکے وہ خود اپنے مذہب کی ریا کاری کا پردہ چاک کریں گے۔ اس صورت میں اس کے معانی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ ان کا نیا مذہب، اپنی طاقت، میرٹ اور صلاحیت کے بل پر ترقی نہیں کرسکتا یا فروغ نہیں پاسکتا بلکہ اسے جعل سازی و فریب پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے؟ آخر کار دنیا میں اور بھی بہت سے مذاہب ہیں، انہوں نے مسلمانوں یا دوسروں لوگوں کے القابات وغیرہ پر کبھی غاصبانہ قبضہ نہیں کیا، بلکہ وہ اپنے عقائد کی پیروی اور اس کی تبلیغ بڑے فخر سے کرتے ہیں…… ہر مسلمان کے لیے جس کا ایمان پختہ ہو، لازم ہے کہ رسول اکرم ؐ کے ساتھ اپنے بچوں، خاندان، والدین اور دنیا کی ہر محبوب ترین شے سے بڑھ کر پیار کرے۔‘‘ (’’صحیح بخاری ‘‘ ’’کتاب الایمان‘‘، ’’باب حب الرسول من الایمان‘‘) کیا ایسی صورت میں کوئی کسی مسلمان کو مورد الزام ٹھہرا سکتا ہے۔ اگر وہ ایسا دل آزار مواد جیسا کہ مرزا صاحب نے تخلیق کیا ہے سننے، پڑھنے یا دیکھنے کے بعد اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکے؟ ہمیں اس پس منظر میں قادیانیوں کے صد سالہ جشن کی تقریبات کے موقع پر قادیانیوں کے علانیہ رویہ کا تصور کرنا چاہیے اور اس ردعمل کے بارے میں سوچنا چاہیے، جس کا اظہار مسلمانوں کی طرف سے ہو سکتا تھا۔ اس لیے اگر کسی قادیانی کو انتظامیہ کی طرف سے یا قانوناً شعائر اسلام کا علانیہ اظہار کرنے یا انہیں پڑھنے کی اجازت دے دی جائے تو یہ اقدام اس کی شکل میں ایک اور ’’رشدی ‘‘ (یعنی رسوائے زمانہ گستاخ رسول ملعون سلمان رشدی جس نے شیطانی آیات نامی کتاب میں حضورe کی شان میں بے حد توہین کی) تخلیق کرنے کے مترادف ہوگا۔ کیا اس صورت میں انتظامیہ اس کی جان، مال اور آزادی کے تحفظ کی ضمانت دے سکتی ہے اور اگر دے سکتی ہے تو کس قیمت پر ؟ رد عمل یہ ہوتا ہے کہ جب کوئی قادیانی سرعام کسی پلے کارڈ، بیج یا پوسٹر پر کلمہ کی نمائش کرتا ہے یا دیوار یا نمائشی دروازوں یا جھنڈیوں پر لکھتا ہے یا دوسرے شعائر اسلامی کا استعمال کرتا یا انہیں پڑھتا ہے تو یہ علانیہ رسول اکرم ؐ کے نام نامی کی بے حرمتی اور دوسرے انبیائے کرام کے اسمائے گرامی کی توہین کے ساتھ ساتھ مرزا صاحب کا مرتبہ اونچا کرنے کے مترادف ہے جس سے مسلمانوں کا مشتعل ہونا اور طیش میں آنا ایک فطری بات ہے اور یہ چیز نقض امن عامہ کا موجب بن سکتی ہے، جس کے نتیجہ میں جان و مال کا نقصان ہو سکتا ہے۔‘‘ ہم یہ بھی نہیں سمجھتے کہ قادیانیوں کو اپنی شخصیات، مقامات اور معمولات کے لیے نئے خطاب، القاب یا نام وضع کرنے میں کسی دشواری کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آخر کار ہندوئوں، عیسائیوں، سکھوں اور دیگر برادریوں نے بھی تو اپنے بزرگوں کے لیے القاب و خطاب بنا رکھے ہیں۔‘‘ (ظہیر الدین بنام سرکار1993 SCMR 1718ئ)
آئین، قانون اور عدالتی فیصلوں کے باوجود قادیانی تقریر و تحریر، جلسہ و جلوس، لٹریچر کی تقسیم اور اپنے اجتماعات منعقد کر کے اسلامی اصطلاحات کو استعمال کرتے اور شعائر اسلامی کی توہین کرتے رہتے ہیں۔ اس سلسلہ میں انہیں انتظامیہ کی مکمل سرپرستی حاصل رہتی ہے۔ بہت کم افسران ایسے ہیں جو تعزیرات پاکستان میں موجود قادیانیوں کی خلاف اسلام سرگرمیوں پر پابندی کی دفعہ 298/C اور اس کی عدالتی تاریخ سے واقف ہوں۔ یہ ظلم نہیں تو اور کیا ہے کہ پورے پاکستان میں شاید ایک بھی افسر ایسا نہیں جس نے قادیانیوں کی طرف سے توہین رسالتe کے اجتماعی اور مسلسل ارتکاب پر سپریم کورٹ کے اس مذکورہ تاریخی فیصلہ کے مطالعہ کی زحمت گوارہ کی ہو جو پاکستان میں امن و امان قائم کرنے میں ایک سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت قانون کی بھاری کتابوں میں تو موجود ہے مگر آج تک اس کے کسی ایک جز پر بھی عمل درآمد نہیں ہوا۔ اس سے بھر کر قانون کے ساتھ اور کیا شرمناک مذاق ہو سکتا ہے؟ حکومت اگر پارلیمنٹ اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے تو وہ قادیانیوں کو آئین قانون اور عدالتی فیصلوں کا پابند کرے تاکہ ملک بھر میں کہیں بھی لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا نہ ہو۔

 

7ستمبر یومِ تحفظِ ختم نبوت یوم تجدیدِ عہد

رکن کی درجہ بندی: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active
پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں ۷؍ ستمبر ایک عہد ساز دن ہے۔ ہم اسے یوم تحفظ ختم نبوت اور یومِ تجدید عہد قرار دیتے ہیں۔ اس روز عقیدہ ختم نبوت اور ناموس رسالت کے تحفظ کی سو سالہ طویل ترین جد وجہد ، فتح مبین سے ہمکنار ہوئی۔ ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس میں متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔
عقیدۂ ختم نبوت، مسلمانوں کے ایمان کی اساس اور روح ہے۔ اگر اس پر حرف آجائے تو اسلام کی ساری عمارت دھڑام سے نیچے آگرے گی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سرِ اقدس پر تاجِ ختمِ نبوّت سجایا اور تختِ ختم نبوّت پر بٹھا کر دنیا میں مبعوث فرمایا۔ حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے بنی نوعِ انسان کو عقیدۂ توحید کی عظیم نعمت عطا فرمائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منصبِ ختم نبوّت پر ایمان، نجات و مغفرت اور حصولِ جنت کا ذریعہ ہے۔
حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کے آخری زمانے میں بعض جھوٹے مدعیان نبوت نے سراٹھایا اور کفر وارتداد پھیلانے کی مذموم کوشش کی مگر نبی ختمی مرتبت سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت یافتہ جماعت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آپ ہی کے حکم پر ان فتنوں کے خلاف جہاد کر کے انہیں کچل کر رکھ دیا۔ اسود عنسی، طلیحہ اور مسیلمہ کذاب کو اُن کے انجام تک پہنچایا۔ امیر المؤمنین خلیفۂ بلافصلِ رسول سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مسیلمہ کذاب کے ارتداد کے خلاف جہاد کر کے قیامت تک تحریکِ تحفظ ختم نبوّت کا علم بلند کر دیا۔
    ماضی کے مختلف ادوار میں کئی بد بخت افراد نے دعویٰ نبوت کرکے مسلمانوں میں افتراق پیدا کرنے اور انہیں گمراہ کرنے کی سعی مذموم کی۔ مگر ہر دور میں اہل ایمان اور حق کے طرف داروں نے ان کے خلاف بھرپور مزاحمت کی، منصب ختم نبوت کی حفاظت کی اور مسلمانوں کو گمراہی اور ارتداد سے بچایا۔
 برصغیر میں فرنگی اقتدار کے خلاف ہندوستان کی تمام اقوام متحد ہوئیں اور سامراج کی غاصب وظالم حکومت کے خلاف ہر محاذ پر زبردست جدوجہد کی۔ خاص طور پر مسلمانوں نے انگریز کے خلاف بغاوت کو جہاد قرار دیا اور اسے توشۂ آخرت سمجھ کر اس محاذ پر سرگرم رہے۔ قربانی و ایثار سے معمور مسلمانوں کی جدوجہد تاریخِ آزادی میں منفرد و بے مثال ہے۔انگریز… دانا اور عیار دشمن تھا۔ یہ بات ہمیشہ اس کے پیش نظر رہی کہ ہم نے اقتدار مسلمانوں سے چھینا اور مسلمان ہی ہمارے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ علمائِ حق نے نہ صرف انگریز کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا بلکہ اس فریضہ کی ادائیگی کے لیے مسلمانوں کی قیادت بھی کی۔
انگریز نے اسی جذبۂ جہاد کو مسلمانوں کے دل ودماغ سے نکالنے کے لیے جعلی اور جھوٹا نبی پیدا کیا۔ ’’قادیان‘‘ کے ایک لالچی اور بدکردار شخص ’’مرزا غلام احمد‘‘ کو دعویٰ نبوت کے لیے آمادہ وتیار کیا اور آخر کار اس بدبخت نے نبوت کا دعویٰ کردیا۔ مرزا قادیانی نے پہلا کام یہ کیا کہ انگریز کے خلاف جہاد کو حرام قرار دیا اور انگریز کی اطاعت وفرمانبرداری کو ہی اصل ایمان قراردیا۔
 یہ لمحہ مسلمانوں کے لیے بہت بڑی آزمائش تھا۔ تب علمائِ حق نے مسلمانوں کا حوصلہ بڑھایا اور اس فتنہ کی سرکوبی کے لیے میدانِ عمل میں آئے۔ فتنۂ قادیانیت کو انگریز کی مکمل سرپرستی حاصل تھی اور آج بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس فتنے کو کچلنے کے لیے مسلمانوں کے نوے سال صرف ہوئے۔
۱۹۲۹ء سے پہلے فتنۂ قادیانیت کے خلاف جتنی جدوجہد ہوئی وہ انفرادی نوعیت کی تھی۔ حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑویؒ، حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ، حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ اور سب سے پہلے علماء لدھیانہ نے علمی محاذ پر اپنی زبان و قلم سے فتنۂ قادیانیت کے تار و پود بکھیر رکھ دیے۔ انہی علمائِ حق کی انفرادی محنت آگے چل کر اجتماعی جدوجہد میں تبدیل ہوئی۔ ۱۹۲۹ء میں حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے مجلس احرارِ اسلام کی بنیاد رکھی اور اس کے اغراض و مقاصد میں فتنۂ قادیانیت کا تعاقب و احتساب کلیدی حیثیت کا حامل تھا۔ چنانچہ مجلس احرارِ اسلام نے قادیانیت کا عوامی اور سیاسی احتساب شروع کیا۔ ۱۹۳۰ء کی ’’کشمیر کمیٹی‘‘ قادیانیوں کی کمین گاہ تھی۔ مجلس احرار نے اس کشمیر کمیٹی کا بائیکاٹ کیا۔ علامہ محمد اقبال، جو قادیانی لابی کے دھوکے سے اس کمیٹی کے سیکرٹری بن گئے تھے۔ اکابرِ احرار خصوصاً امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے ملاقاتیں کر کے قادیانی عقائد و نظریات اور اُمّتِ مسلمہ کے خلاف ان کی سازشتوں سے باخبر کیا۔ علامہ مرحوم نے نہ صرف اس کمیٹی سے استعفیٰ دیا بلکہ قادیانی عقائد کی تردید میں انگریزی میں چار مقالے تحریر کیے۔ اقبال مرحوم نے قادیانیوں کو ’’اسلام اور وطن کا غدار‘‘ قرار دیا۔ ۱۹۳۴ء میں مجلس احرار نے اس جدو جہد کو وسیع تر کرتے ہوئے شعبۂ تبلیغ تحفظ ختمِ نبوت قائم کیا۔ اسی شعبہ کے تحت ’’قادیان‘‘ میں اپنا دفتر قائم کیا۔ قادیان… مرزائیت کا مرکز اور انگریز کی سرپرستی میں بظاہر اُن کی خود مختار ریاست تھی۔ احرار رہنمائوں اور کارکنوں نے مرزائیوں کے ریاستی جبر و تشدد اور اقتدار کی نخوت کو خاک میں ملا دیا۔ مقامی مسلمانوں کو معاشی و سیاسی اور دینی تحفظ فراہم کیا۔ ۱۹۳۴ء میں قادیان میں ’’احرار تبلیغ کانفرنس‘‘ منعقد کی اور ہندوستان بھر کے مسلمانوں کو مرزائیت کے خلاف ہم زبان اور ہم قدم کر کے ارتداد کی تبلیغ کا راستہ پوری قوت سے روک دیا۔
 قیامِ پاکستان، مرزائیوں کے لیے سب سے بڑا سانحہ اور صدمہ تھا۔تقسیم ملک کے وقت بائونڈری کمیشن میں مسلم لیگ کے قادیانی نمائندہ سر ظفر اللہ خان آنجہانی نے بھرپور وار کیا اور پٹھانکوٹ، فیروز پور، گورداس پور، قادیان اور آدھے کشمیر کو پاکستان میں شامل نہ ہونے دیا۔ 
 قیامِ پاکستان کے بعد اس وقت کے گورنر پنجاب سر فرانسس موڈی نے چنیوٹ سے متصل دریائے چناب کے کنارے ایک پوری بستی اپنے اس چہیتے اور پالتو بچے کے نام الاٹ کر دی ۔ جو آج چناب نگر (ربوہ) کے نام سے معروف ہے۔ یہاں قادیانیوں نے اپنا ہیڈ کوارٹر اور بیس کیمپ بنایا اور پاکستان کے خلاف سازشیں شروع کر دیں۔ مرزا بشیر الدین  نے پاکستان کے اقتدار پر قبضہ کا پروگرام بنایا اور بلوچستان کو ’’احمدی سٹیٹ‘‘ بنانے کی منظم منصوبہ بندی مکمل کر لی۔ سر ظفر اللہ (قادیانی) وزیرِ خارجہ تھا۔ اس نے نہ صرف داخلی محاذ پر قادیانیوں سے مکمل تعاون کیا بلکہ خارجی محاذ پر بھی مکمل سیاسی تحفظات فراہم کیے۔ یہ ۱۹۵۲ء بات ہے تب مجلس احرارِ اسلام نے گہرے غور و خوض کے بعد تحریکِ تحفظِ ختمِ نبوّت آغاز کیا۔ پاکستان کے تمام مکاتبِ فکر کے علما کو دعوت دی اور انہیں عقیدۂ ختمِ نبوّت کے تحفظ کی عظیم الشان اساس پر متحد و منظم کر دیا۔ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی قیادت و سیادت میں زور دار تحریک چلی مگر وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کی لیگی حکومت نے گولی کے زور پر تحریک کو کچلنے کی کوشش کی۔ جنرل اعظم خان نے۶؍ مارچ ۱۹۵۳ء کو جنرل ایوب خان کی ہدایت پرلاہور میں پہلا مارشل لاء لگا کر ہزاروں فدائین ختمِ نبوّت کے سینے گولیوں سے چھلنی کردیے۔ بظاہر تحریک کو تشدد کے ذریعے کچل دیا گیا مگر… مسلمانوں کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے ایک جوش، ولولہ اور جذبہ بیدار کر گیا۔حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، حضرت مولانا ابوالحسناتؒ، حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ، حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ، مولانا لال حسین اخترؒ، مولانا محمد حیاتؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ، شیخ حسام الدینؒ، ماسٹر تاج الدین انصاریؒ، مولانا سید ابوذر بخاریؒ اور دیگر علماء و قائدین نے تمام صعوبتوں کو برداشت کر کے تحفظِ ختمِ نبوّت کی جدوجہد جاری رکھا۔ 
    ۲۲؍ مئی ۱۹۷۴ء میں مرزائیوں نے پھر سر اٹھایا۔ ربوہ ریلوے سٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج ملتان کے مسافر طلباء پر حملہ کر کے انہیں زدو کوب کیا۔ یہ حادثہ شعلۂ جوالہ بن گیا۔ اور پورا ملک تحریک تحفظ ختمِ نبوّت کا میدان بن گیا۔ تحریک اتنی شدید اور طاقت ور تھی کہ اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اس مسئلہ کو قومی اسمبلی میں حل کرنے کا فیصلہ کیا۔
    اسمبلی سے باہر کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختمِ نبوّت، محدث العصر مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ کی قیادت میں سرگرم عمل تھی۔ حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ، قائد احرار جانشین امیر شریعت مولانا سید ابوذر بخاریؒ، نواب زادہ نصر اللہ خانؒ، آغا شورش کاشمیریؒ، حافظ عبدالقادر روپڑیؒ، میاں طفیل محمدؒ، غلام احسان الٰہی ظہرؒ، مولانا سید عطاء المحسن بخاریؒ، مولانا سید عطاء المؤمن بخاری، مولانا سید عطاء المہیمن بخاری اور تحریک کے دیگر مرکزی رہنمائوں نے قدم بہ قدم شب و روز ایک کر کے تحریک کو بامِ عروج پر پہنچایا۔ ادھر اسمبلی کے اندر مولانا غلام غوث ہزارویؒ، مولانا مفتی محمودؒ، مولانا عبدالحق، مولانا شاہ احمد نورانیؒ پروفیسر عبدالغفور احمد اور ان کے رفقاء نے آئینی جنگ کر کے تحریک کا مقدمہ جیت لیا۔ آخر۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کو ذوالفقار علی بھٹو نے قومی اسمبلی کے تاریخی فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیّت قرار دے دیا اور یہ فیصلہ ایک ترمیم کے ذریعے پاکستان کے بنا۔
    آج اس آئینی فیصلے کو ۳۹ برس بیت گئے ہیں مگر مرزائیوں نے اسے تسلیم نہیں کیا۔ وہ آئے روز مسلمانوں کے خلاف اپنی سازشوں کا جال پھینکتے رہتے ہیں۔ علما کے خلاف نفرت پیدا کرنا۔ فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینا اور سیاسی طور پر پاکستان کو بدنام اور غیر مستحکم کرنا اور ملکی سلامتی کے خلاف سازشیں کرنا مرزائیوں کا نصب العین ہے۔
    تحریک ختمِ نبوّت ۱۹۸۴ء میں جنرل محمد ضیاء الحق شہید نے حضرت مولانا خواجہ خان محمد رحمہ اللہ کی قیادت میں قائم کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوّت کے مطالبات منظور کرتے ہوئے قانون امتناع قادیانیت جاری کر کے مرزائیوں کو شعائر اسلامی اور اسلامی اصطلاحات استعمال کرنے سے روک دیا۔ یہود و نصاریٰ کی مکمل سرپرستی و تعاون کی وجہ سے اس قانون کا مؤثر نفاذ تو نہ ہو سکا لیکن بہت حد تک مرزائیوں کے اثر و نفوذ کا راستہ روک دیا گیا۔
    پاکستان میں موجود سیکولر انتہا پسند، لبرل فاشسٹ اور نام نہاد دانش وربھی امریکہ و برطانیہ کے یہود و نصاریٰ کی زبان بول رہے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ مرزائیت کا مسئلہ حل ہو چکا ہے۔ اب ان کے خلاف کام کرنا ’’مولویوں کے پیٹ کا دھندہ‘‘ ہے۔ دوسری طرف وہ قادیانیوں کو مسلمان قرار دلوانے کے استعماری مطالبے کی بھی حمایت کرتے ہیں۔ یہ محض پروپیگنڈہ نہیں بلکہ عالمِ کفر کا ایجنڈا۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ یہود و نصاریٰ، قادیانیوں کو مسلمان قرار دلوانے کی محنت کر رہے ہیں۔ قادیانیت کو سمجھنے کے لیے یہی بات کافی ہے۔ مرزائی آج بھی ارتداد کی تبلیغ اور ملک کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ تل ابیب، لندن اور چناب نگر (ربوہ) ان سازشوں کے مراکز ہیں۔ عقیدۂ ختمِ نبوّت کے خلاف مرزائی لٹریچر مسلسل شائع ہو رہا ہے اور حکومت خاموش تماشائی ہے۔ بلکہ موجودہ حکومت میں ختمِ نبوّت کے لٹریچر کو بھی نعوذ باللہ فرقہ وارانہ تناظر میں لیا جا رہا ہے۔ توہین رسالت آرڈینینس کی مخالفت، شناختی کارڈ پر مذہب کے اندراج کی مخالفت میں مرزائی پیش پیش رہے ہیں اور آج فرقہ وارانہ دہشت گردی کے پس منظر میں بھی قادیانی سازشیں ہی کار فرما ہیں۔
    ان حقائق کی روشنی میں ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ۷؍ ستمبر مسلمانوں کے لیے تجدیدِ عہد کا دن ہے۔مسلمان عقیدۂ ختمِ نبوّت کے تحفظ کی جدوجہد کو پوری قوت سے جاری رکھیں گے اور پرچمِ ختمِ نبوّت ہمیشہ لہراتا رہے گا۔ آج ملک بھر میں منعقد ہونے والے اجتماعاتِ ختمِ نبوّت میں مطالبہ کیا جائے گا کہ قادیانیوں کی دین و ملک دشمن سرگرمیوں کی بنیاد پر قادیانی جماعت پر پابندی عائد کرکے اسے خلافِ قانون قرار دیا جائے۔ 
 

عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کا تاریخ ساز دن

رکن کی درجہ بندی: 4 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Inactive
دین اسلام میں عقیدہ توحیدکے بعد دوسرا اہم اور بنیادی عقیدہ ختم نبوت کاہے، پہلی امتوں کے لیے اس بات پر ایمان لانا لازم تھا کہ ان کے انبیاء ورسل علیہم الصلوٰۃ والسلام کے بعد اور نبی ورسول آئیں گے اور اس امت کے لیے اس بات پر ایمان لانا ضروری ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قیامت تک کوئی اور نبی یا رسول نہیں آئے گا، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو بھی پیدا ہوگا وہ امتی کہلائے گا لیکن نبی نہیں بن سکتا، حضرت عیسیٰ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام ضرور قرب قیامت میں تشریف لائیں گے لیکن ان کی آمد کامقصد بھی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا پرچار ہوگا اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے بھی تشریف لاچکے ہیں اور اپنے دور نبوت میں وہ بنی اسرائیل کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی خوشخبری بھی سنا چکے ہیں جوکہ سورۃ الصف میں موجود ہے ’’کہ میرے بعد ایک رسول تشریف لائیں گے‘‘ جن کا نام نامی اسم گرامی ’’احمد‘‘ صلی اللہ علیہ وسلم ہوگا۔
خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے متعلق ارشاد فرمایا جو کتب احادیث میں موجود ہے کہ ’’میں حضر ت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دعائوں کا ثمر اور حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بشارت بن کر آیا ہوں‘‘۔ ہمارا ایمان ہے کہ یہ دین اللہ تعالیٰ کا آخری دین ہے اور اس کا اعلان پروردگار کریم نے حجۃ الوداع کے موقع پر خود زبان نبوت سے کروادیا ہے کہ ’’ آج میں نے تمہارے لیے دین کو کامل کردیا ہے اور تم پر اپنا احسان پورا کردیا ہے اور تمہارے لیے دین اسلام کو پسند کیا ہے ‘‘ (سورۃ المائدہ) اور ساتھ یہ بھی ایمان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں اور اس کا ذکر بھی قرآن مجید میں سورۃ احزاب میں واضح طورپر موجود ہے کہ ’’حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیںہیں البتہ اللہ تعالیٰ کے رسول اور آخری نبی ہیں‘‘۔
در حقیقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت اس امت پر پروردگار کریم کا احسان عظیم ہے کہ اس عقیدے نے اس امت کو وحدت کی لڑی میں پرو دیا ہے، پوری دنیا میں آج مسلمان عقائد وعبادات، احکامات اور ارکان دین کے لحاظ سے جو متفق ہیں وہ صرف اسی عقیدہ کی برکت ہے،مثلاً حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جس طرح پانچ نمازیں فرض تھیں آج بھی وہی ہیں، رمضان المبارک کے روزے، نصاب زکوٰۃ، حج وعمرہ کے ارکان، صدقہ فطر وعشر کانصاب، قربانی کا طریقہ، ایام عیدین سب اسی طرح ہے جس طرح حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں تھا، یہ سب عقیدہ ختم نبوت کی وجہ سے ہے ورنہ اسلامی عقائد وارکان سلامت نہ رہتے، اسلامی عقائد وارکان کی سلامتی کا سب سے بڑا سبب عقیدہ ختم نبوت ہے چونکہ یہ عقیدہ اسلام کی عالمگیریت اور حفاظت کا ذریعہ ہے اس لیے دنیا ئے کفر شروع سے ہی اس عقیدہ میں دراڑیں ڈالنے میں مصروف ہے تاکہ دین اسلام کی عالمگیریت اور مقبولیت میں رکاوٹ کھڑی کی جاسکے اور کسی طرح اس کے ماننے والوں کے ایمان کو متزلزل کیا جاسکے، ان سازشوں کا سلسلہ دور نبوت میں سلیمہ کذاب سے شروع ہوا اور فتنہ قادیانیت تک آن پہنچا لیکن ہر دور میں قدرت نے ان سازشوں کو ناکام کیا ہے اور ان شاء اللہ العزیز قیامت تک یہ سازشیں ناکام ہوتی رہیں گی اور دین اسلام اور ختم نبوت کا پرچم سدا بلند رہے گا۔
فتنہ قادیانیت کا آغاز ہندوستان کے ایک قصبہ ’’قادیان‘‘ سے ہوا اس کا بانی انگریز کا خود ساختہ ایجنٹ ’’مرزا غلام احمد قادیانی،، تھا جس نے انگریز رئوسا کو خوش کرنے کیلئے کبھی خدائی کا دعویٰ کیا تو کبھی نبوت کااعلان کیا، کبھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے آپ کو افضل کہا اور کبھی سب انبیاء ورسل علیہم الصلوٰۃ والسلام سے افضل ہونے کا دعویٰ کیا، کبھی مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تو کبھی ’’تذکرہ‘‘ نامی کتاب کو قرآن مجید سے افضل قراردیا، کبھی قادیان حاضری کو حج وعمرہ سے افضل کہا تو کبھی اپنے گھر والوں اور ماننے والوں کو صحابہ کرام اور اہل بیت عظام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے افضل قراردیا، حتیٰ کہ اپنی بیویوں کو ’’امہات المومنین‘‘ اور ماننے والوں کو صحابہ قرار دیا (نعوذ باللہ)، الغرض اس سے جو ہوا اس نے کیا اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے امتیوں سے جو ہوسکتا تھا انہوں نے خدا کے فضل سے کردکھایا۔
1930ء میں شیخ التفسیر امام الاولیاء حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمۃ اللہ علیہ کی دعوت پر لاہور میں انجمن حمایت اسلام کا سالانہ اجتماع منعقد ہوا، جس میں ملک بھر سے پانچ سو سے زاید علماء کرام شریک ہوئے، استاذالمحدثین، محدث العصر علامہ محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ بھی اس اجتماع میں شریک تھے، آپ رحمۃ اللہ علیہ نے دوران خطاب عقیدہ ختم نبوت پر نہایت جامع بیان فرمایا اور پھر اس کے بعد فرمایا کہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور فتنہ قادیانیت کی تردید کے لیے اپنے شاگرد رشید، نواسہ پیغمبر سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے ہاتھ پر بیعت کرتاہوں اور تردید قادیانیت کا محاذ ان کے سپرد کرتا ہوں، سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ کو’’امیر شریعت ‘‘ کا لقب دیا گیااور تمام علماء کرام نے ان کے ’’دست حق پرست‘‘ پر بیعت کی اور امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری حمۃ اللہ علیہ کی قیادت میں فتنہ قادیانیت کے خلاف سرگرم عمل ہوگئے، امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اپنے استاد محترم کی خوب لاج رکھی اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے دن رات ایک کردیا، آپ رحمۃ اللہ علیہ نے 1934 ء میں ملتان کی مسجد سراجاں میں اپنے رفقاء کے ساتھ طویل مشاورت کے بعد ایک غیر سیاسی جماعت ’’مجلس عمل تحفظ ختم نبوت‘‘ کی بنیاد رکھی جس کا مقصد صرف اور صرف عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ تھا، 1974ء میں ملک پاکستان معرض وجود میں آیا تو قادیانیت کا فتنہ پاکستان آ پہنچا، مرزا غلا م احمد قادیانی کے بیٹے مرزا محمود نے دریائے چناب کے کنارے چنیوٹ کے قریب ایک بڑے زمینی حصے کو کوڑیوں کے دام خرید لیا اور ’’ربوہ‘‘ کے نام سے اپنا اڈا قائم کرلیا، سوئے اتفاق پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ ’’ظفر اللہ خان‘‘ قادیانی تھا چنانچہ قادیانیوں کے لیے ابتداء ہی سے اہم کلیدی آسامیوں اور عہدوں کا حصول آسان ہوگیا اور وہ سرعام اپنے جھوٹے نبی کے مشن کو پھیلانے لگے، مجلس عمل تحفظ ختم نبوت نے تمام مکاتب فکر کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کیا اور 1953ء میں امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی قیادت میں قادیانیت کے خلاف تحریک چلی اس تحریک میں حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ، حضرت پیر مہر علی شاہؒ، حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ، حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ، حضرت مولانا ظفر علی خانؒ، مولانا ابو الحسنات قادریؒ، حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستیؒ، حضرت مولانا مفتی محمودؒ، حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ، مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ، حضرت مولانا محمد اجمل خانؒ اور دیگر اکابر امت نے اہم اور بنیادی کردار ادا کیا، پورے ملک کے طوفانی دورے کیے اور عوام کو اس خطرناک فتنہ سے آگاہ کیا، یہ اللہ تعالیٰ کی خاص مدد، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور ان اکابر کی محنت کا نتیجہ تھا کہ 10 ہزار نوجوانوں نے لاہور کے مال روڈ کو اپنے خون سے سرخ کردیا اور جانوں کے نذرانے پیش کرتے ہوئے اعلان کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، متاع عالم ایجاد سے پیارے، پدر، مادر، برادر، جان، مال و اولاد سے پیارے ان خوش بختوں نے جنگ یمامہ کی یاد تازہ کردی اور قادیانیت کی نیندیں حرام کردیں، حکومت وقت نے اس تحریک کو بظاہر کچل دیا لیکن درحقیقت یہ تحریک ہی 1974ء میں فتنہ قادیانیت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوئی۔
22 فروری 1974ء کو نشتر کالج کے ًطلبہ کا ایک گروپ ’’شمالی علاقہ جات‘‘ کی سیروتفریح کی غرض سے ملتان سے پشاور جانے والی گاڑی چناب ایکسپریس کے ذریعہ روانہ ہوا جب گاڑی ربوہ (چناب نگر) پہنچی تو مرزائیوں نے گاڑی میں مرزا قادیانی کا کفر والحاد پر مشتمل لٹریچر تقسیم کرنا شروع کردیا جس سے طلبہ اور قادیانیوں میں جھڑپ ہوتے ہوتے رہ گئی، 29 مئی 1974ء کو طلبہ چناب ایکسپریس کے ذریعے واپس آرہے تھے کہ گاڑی ربوہ ریلوے سٹیشن پر پہنچی تو قادیانیوں نے طلبہ پر حملہ کردیا اور اتنا تشدد کیا کہ وہ خون میں نہا گئے جب گاڑی فیصل آباد پہنچی اور عوام نے نبی محترم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نام لیوائوں کو اس زخمی حالت میں دیکھا تو وہ برداشت نہ کرسکے اور قادیانیت کے خلاف تحریک کا آغاز ہوگیا، یہ خبر پورے ملک میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی ہر شخص ختم نبوت کا وکیل نظر آیا اور پورے ملک میں احتجاجی ریلیوں، جلسوں اور جلوسوں کا سیلاب امڈ آیا، ختم نبوت کی برکت سے تمام مکتبہ فکر کے علماء کرام ایک جگہ اکٹھے ہوئے اور اتفاق رائے سے مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا صدر محدث العصر علامہ سید محمد یوسف بنوریؒ اور سیکرٹری جنرل علامہ محمود احمد رضویؒ کو منتخب کرلیا گیا، علامہ سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ کی قیادت میں تحریک چلی اس تحریک میں آپ کے ہمراہ مفتی محمودؒ، مولاناغلام غوث ہزارویؒ، مولانا محمد عبداللہ درخواستیؒ، مولانا عبدالحقؒ، مولانا سید ابو ذر بخاریؒ، مولانا محمد اجمل خانؒ، مولانا خواجہ خان محمدؒ، مولانا عبیداللہ انور، آغا شورش کشمیریؒ، مولانا شاہ احمد نورانیؒ، مولانا عبدالستار خان نیازیؒ، علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ، سید مودودیؒ، مولانا عبدالقادر روہڑیؒ، نوابزادہ نصراللہؒ، مظفر علی شمسیؒ اور دیگر اہم راہنما شامل تھے، حکومت تحریک کے آگے گھٹنے ٹیکنے پرمجبور ہوگئی، قومی اسمبلی میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کی نمایندگی مولانا مفتی محمودؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ، مولانا عبدالحقؒ، مولانا شاہ احمد نورانیؒ، پروفیسر غفور احمدؒ، چودھری ظہور الٰہی مرحوم اور دیگر کررہے تھے، مذکورہ حضرات نے شب و روز کی کوششوں سے وہ تمام لٹریچر جمع کیا جو خصوصی کمیٹی کے لیے ضروری تھا، شہداء ختم نبوت کا مقدس خون اور قائدین تحریک تحفظ ختم نبوت کی بے لوث قربانیاں رنگ لے آئیں، قومی اسمبلی نے مرزا ناصر پر 11 دن اور مرزائیت کی لاہوری شاخ کے امیر پر 7 گھنٹے مسلسل بحث کی، 7 ستمبر 1974ء کو وہ مبارک دن آ پہنچا جب قومی اسمبلی نے متفقہ طورپر دن 4بج کر 35 منٹ پر قادیانیوں کی دونوں شاخوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا، ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے قائدایوان کی حیثیت سے خصوصی خطاب کیا، عبدالحفیظ پیرزادہ نے اس سلسلے میں آئینی ترمیم کا تاریخی بل پیش کیا جسے اتفاق رائے سے منظور کیا گیا اور اس عظیم کامیابی پر حزب اقتدار وحزب اختلاف خوشی ومسرت سے آپس میں بغل گیر ہوگئے، آغا شورش کشمیریؒ، علامہ محمود احمد رضویؒ، مولانا محمد اجمل خانؒ، اور علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ کہا کرتے تھے کہ مولیٰ ’’تیری ادا پر قربان جائیں کہ تونے اپنے محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا فیصلہ کسی چوک اور چوراہے میں نہیں کرایا بلکہ پارلیمنٹ میں کروایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو دعویٰ نبوت کرے وہ دائرہ ا سلام سے خارج ہے قادیانی آج بھی پاکستانی قانون کے مطابق غیر مسلم ہونے کے باوجود اپنی سازشوں میں مصروف ہیں اور وہ سادہ لوح مسلمانوں کو یہ کہہ کر دھوکا دے رہے ہیں کہ ہمارا کلمہ، نماز، روزہ تم جیسا ہے پھر فرق کس بات کا ہے، پھر ہم کافر کیوں؟ اس کا واضح اور دو ٹوک جواب ان کا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی ماننا ہے اور حضور خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی امتی کا دعویٰ نبوت کفر ہے اور اس کی نبوت کوتسلیم کرنا بھی کفر ہے، آئیے آج کے اس تاریخی دن ہم اس بات کا عہد کریں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے تحفظ کے لیے دن رات ایک کردیں گے، اللہ تعالیٰ کی ذات بڑی قدر دان ہے وہ اس عمل پر یقیناً اپنی رضا اور جنت کی صورت میں نوازے گی۔  ختم نبوت زندہ باد …
 

اقبال اور قادیانیت

رکن کی درجہ بندی: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active
مفکر پاکستان علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ حضور خاتم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم ِنبوت پر کامل یقین رکھتے تھے اور اس سے انکار کو ناممکنات میں سے گردانتے تھے ،نیز ختم ِنبوت کے منکرین خصوصاََ قادیانیوں کے کفر کا بر ملا اظہار فرماتے تھے ۔ذیل میں علامہ اقبال مرحوم کے عقیدۂ ختم ِنبوت اور قادیانیت کے حوالے سے چند ارشادات نقل کیے جارہے ہیں ۔
٭ علامہ اقبال فرماتے ہیں ’’ذاتی طور پر مجھے اس تحریک ) قادیانیت ( کے متعلق اس وقت شبھات پیدا ہوئے جب ایک نئی نبوت ،جو پیغمبر اسلام کی نبوت سے بھی بر تر تھی، کا دعوی کیا گیا اورتمام عالم اسلام کے کافر ہونے کا اعلان کیا گیا ۔بعدازاں میرے شبھات نے اس وقت مکمل بغاوت کی صورت اختیار کرلی ،جب میں نے اپنے کا نوں سے اس تحریک کے ایک رکن کو پیغمبر اسلام کے بارے میں نہایت ناز یبا زبان استعمال کرتے سنا ‘‘۔
٭’’ ختم ِنبوت اسلام کا ایک نہایت اہم اور بنیادی تصور ہے ۔ اسلام میں نبوت چو نکہ اپنے معراج کو پہنچ گئی لہٰذا اس کا خاتمہ ضروری ہو گیا ہے
٭ختم ِنبوت کے معنی یہ ہیں کہ کوئی شخص بعد اسلام اگر یہ دعوی کرے کہ مجھ میں ہر دو اجزا نبوت کے موجود ہیں۔یعنی یہ کہ مجھے الہام ہوتا ہے اور میری جماعت میں داخل نہ ہونے والا کا فر ہے تو وہ شخص کا ذب ہے ‘‘۔
٭’’اسلام کی اجتماعی اور سیاسی تنظیم میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی ایسے الہام کا امکان ہی نہیں ،جس سے انکار کفر کو مستلزم ہو۔جو شخص ایسے الہام کا دعوی کرتا ہے وہ اسلام سے غداری کرتا ہے‘‘۔
٭جو اہر لعل نہرونے مرزائیوں کی حمایت میں ایک مضمون لکھا ،جس کا علامہ صاحب نے مدلل اور جامع جواب دیا چنا نچہ آخر میں لکھتے ہیں
"In Islam       Prophancy       Reaches    it's     Perfection"-  
٭قادیانی تحریک نے مسلمانوں کے ملی استحکام کو بے حد نقصان پہنچا یا ہے ۔اگر استیصال نہ کیا گیا تو آئندہ شدید نقصان ہوگا ۔
٭ہر ایسی مذہبی جماعت جو تاریخی طور پر اسلام سے وابستہ ہو لیکن اپنی بنیاد نبوت پر رکھے اور بزعم خود اپنے الہامات پر اعتقاد نہ رکھنے والے تمام مسلمانوں کو کافر سمجھے ،مسلمان اسے اسلام کی وحدت کے لئے ایک خطرہ تصور کرے گااور یہ اس لئے کہ اسلامی وحدت ختم ِنبوت ہی سے استوار ہو تی ہے ۔
٭تمام ایکٹر جنہوں نے احمدیت کے ڈرامے میں حصہ لیا ہے ،وہ زوال اور انحطاط کے ہاتھوں میں محض کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں۔
٭ملت اسلامیہ کو اس مطالبہ کا پورا حق حاصل ہے کہ قادیانیوں کو علیحدہ کر دیا جائے ۔اگر حکومت نے یہ مطالبہ تسلیم نہ کیا تو مسلمانوں کو شک گزرے گا کہ حکومت اس نئے مذہب کی علیحدگی میں دیر کررہی ہے ۔کیو نکہ ابھی وہ ) قادیانی( اس قابل ہیں کہ چوتھی جماعت کی حیثیت سے مسلمانوں کی برائے نام اکثریت کو ضرب پہنچا سکے ۔
٭قادیانی جماعت کا مقصد پیغمبر عرب کی امت سے ہندوستانی پیغمبر کی امت تیار کرنا ہے ۔
٭بہائیت، قادیانیت سے کہیں زیادہ مخلص ہے ،کیونکہ وہ کھلے طور پر اسلام سے باغی ہے ،لیکن مؤخرالذکر کو ) قادیانیت ( اسلام کی چند نہایت اہم صورتوں کو ظاہر طور پر قائم رکھتی ہے لیکن باطنی طور پر اسلام کی روح اور مقاصد کے لئے مہلک ہے ،اس کے ضمیر میں یہودیت کے عناصر ہیں۔گویا تحریک ہی یہودیت کی طرف راجع ہے۔
٭نام نہاد تعلیم یافتہ مسلمانوں نے ختم ِنبوت کے تمدنی پہلو پر کبھی غور نہیں کیا۔ مغربیت کی ہوا نے انہیں حفظ نفس کے جذبہ سے عاری کردیا ہے لیکن عام مسلما ن جو ان کے نزدیک ملازدہ ہے ،اس تحریک ) قادیانیت ( کے مقابلہ میں حفظ نفس کا ثبوت دے رہا ہے۔
٭رواداری کی تلقین کرنے والے اس شخص پر عدم رواداری کا الزام لگا نے میں غلامی کرتے ہیں جو اپنے مذہب کی سرحدوں کی حفاظت کرتا ہے۔
٭قادیانی نظریہ،ایک جدید نبوت کے اختراع سے قادیانی افکار کو ایک ایسی راہ پر ڈال دیتا ہے کہ اس سے نبوت محمدیہ کے کامل واکمل ہونے کے انکار کی راہ کھلتی ہے ۔